"بلوچستان کا اہم ترین زمینی راستہ، جو کراچی کو خضدار، قلات اور کوئٹہ سے منسلک کرتے ہوئے تفتان اور کچلاک چمن تک جاتا ہے، اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہے۔ کھڈکوچہ میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے عوام کی نقل و حرکت ناممکن ہو کر رہ گئی ہے۔ ٹرین کی سہولت دستیاب نہیں ہے اور شاہراہیں کرفیو کے باعث بند ہیں۔ دن کے اوقات میں سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپیں جاری رہتی ہیں، جبکہ رات کے وقت شاہراہوں پر رہزن اور لٹیرے عوام کو لوٹتے ہیں۔ فضائی سفر کا یہ عالم ہے کہ کوئٹہ سے کراچی یا اسلام آباد کا ہوائی ٹکٹ دبئی کے ٹکٹ سے بھی زیادہ مہنگا ہو چکا ہے۔
ایسے ناگفتہ بہ حالات میں غریب عوام سفر کیسے کریں؟ روزگار اور کاروبار سے وابستہ افراد کے لیے مواصلات کا بنیادی ذریعہ یہی سڑکیں ہیں۔ جب ٹرین کی سہولت موجود نہ ہو، شاہراہیں ب��د ہوں، اور ہوائی سفر عوام کی استطاعت سے باہر ہو، تو لوگ آخر کہاں جائیں؟ اس ب��ترین صورتحال کو بیان کرنے کے لیے اردو لغت کے سخت ترین الفاظ بھی ناکافی معلوم ہوتے ہیں۔"
غیر جمہوری نمائندوں کا عوام سے عدم تعلق
"عوام کا درد صرف وہی نمائندہ محسوس کر سکتا ہے جو عوام کے درمیان سے ہو اور ان کے حقیقی ووٹوں سے منتخب ہو کر آئے۔ جو لوگ غیر جمہوری ہتھکنڈوں (جیسے فارم 47) یا مقتدر حلقوں کی آشیرباد سے اقتدار میں لائے جاتے ہیں، وہ ہمیشہ اپنے سرپرستوں ہی کی بولی بولتے ہیں۔ ان کا عوام سے کوئی حقیقی تعلق یا واسطہ نہیں ہوتا؛ وہ نہ عوام کی خوشی میں شریک ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کے غم میں۔ ان نمائندوں کی حیثیت محض نام کی حد تک 'عوامی' ہوتی ہے۔"
اسلام آباد کی بے حسی اور س��اسی ارادے کا فقدان
"وفاقی دارالحکومت (اسلام آباد) میں بلوچستان کے مسائل کو سمجھنے کی نہ تو فہم و فراست ہے اور نہ ہی کوئی سیاسی ارادہ (Political Will)۔ جیسا کہ مشہور مقولہ ہے کہ 'جہاں چاہ، وہاں راہ'، مگر افسوس کہ حکمرانوں میں اس 'چاہ' کا مکمل فقدان ہے۔ آپ ان کے ساتھ گھنٹوں مذاکرات کر لیں، انہیں نواب نوروز خان سمیت بلوچستان کی پوری تاریخ سنا دیں، وہ لاپتہ افراد (Missing Persons) کے دکھ پر زار و قطار آنسو بھی بہا لیں گے، مگر آخر میں ان کا روایتی سوال یہی ہوتا ہے کہ 'آخر بلوچستان کا مسئلہ ہے کیا؟'
ہم نے پارلیمان میں انتہائی تفصیل کے ساتھ ان کے سامنے تمام حقائق، اعداد و شمار اور وضاحتیں پیش کی ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں ہے کہ ان میں سمجھنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو بین الاقوامی سطح پر ایران اور امریکہ، یا ایران اور خلیجی ممالک کے تنازعات میں ثالثی کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن جب بات بلوچستان کے سنگین اور حقیقی مسائل کے حل کی آتی ہے، تو وہ دانستہ طور پر چشم پوشی اختیار کر لیتے ہیں۔"
سربراہ بی این پی مینگل اختر جان مینگل
@sakhtarmengal
لوگ کہتے ہیں کہ یہ جنازوں پر سیاست کر رہے ہیں۔
اللہ پاک نے کہا ہے کہ قصاص میں تمہاری زندگی ہے۔ ہم کس سے قصاص لیں؟ تم ہمیں صبح شام مارتے ہو کیونکہ تمہارے پاس بندوق ہے؟ حکومت بزور قوت تمہاری ہے۔ غاصب ہو تم۔
بریکنگ ۔ بریکنگ۔بریکنگ۔۔
مولانا نے فوج سے معافی کا مطالبہ کر دیا۔۔۔
میرا مطالبہ ہے کہ جس فوج اور جس جنرل نے جس دفتر سے میرے خلاف اور میری جماعت کے خلاف پروپیگنڈا کمانڈ کیا ہے اسکو معافی مانگنی ہوگی۔۔
،۔۔مولانا فضل الرحمان
سن لو ‘سرنڈر نہیں ہونگا طالبان کے پاس ISI چیف کیوں گیا ؟
شہدا کی بات کرنے والوں تم نے فوجی شہدا کے جنازے ہندئوں کو دئیے ؟
تم نے شہدا کی توہین کی ہے ‘ جرم کو چھپا نہیں سکتے ۔۔۔
دہشتگردوں کو کون بناتاہے ؟
معافی جنرل کو مانگنی ہوگی ‘ پیچھے نہیں ہٹے گے
قوم ‘ عوام ‘ میڈیا ‘ شہدا کے خاندانوں کو گمراہ کرنیکی کوشش ؟
‘ ملک بھر میں جاکر عوام کو سچ بتا��ونگا ‘ میرا دعویٰ برقرار ہے
خیبر پختونخواہ اور بلوچستان حکومت کی پیشکش مسترد کیوں کی ؟
مولانا فضل الرحمٰن نے خفیہ اجلاسوں کے راز کھول دئیے
دنیا میں پاکستان کو اکھیلا کس نے کردیا ہے ؟ چین نے درخواست مسترد کی ؟
ٹرمپ نے جب سپہ سالار کو good men کہا تو ؟
پولیس نے فوج کیساتھ ملکر لڑنے سے انکار کردیا ؟
سیاسی گرفت کو مضبوط بنانے کیلئے شہدا کے خون کو ایندھن کے طور پر استعمال ؟
عوام کو لشکر بنانے پر مجبور کیوں کررہے ہو
فوج سائیڈ پر ہو جائے پولیس کو اختیار کیوں نہیں دیتے ؟
پاکستان کو اس حال تک کس نے پہنچایا ہے ؟
سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلا کنونشن سے تہلکہ خیز خطاب
Maulana Fazlur Rehman Explosive Speech in Islamabad Lawyers Convention on Army ISI Taliban and Martyrs 🔥🚨
#MaulanaFazlurRehman #JUIF #Islamabad
آئی ایس آئی اور ایم آئی کو سیاست سے مکمل طور پر دستبردار ہونا ہوگا۔ پشتونوں کو ان کے وسائل پر اولین حق کا انٹرنیشنل ضمانت فراہم کرنا ہوگا۔
امریکہ اور یورپ کو بتانا ہوگا کہ اگر وہ میرے وطن میں کوئی منصوبہ کرنا چاہتے، تو اس میں میرا حصہ لازمی ہوگا، کیونکہ میں اس کا حقیقی مالک ہوں۔
"5 اگست کو پاکستان کے تمام اضلاع میں، عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی آزادی کے لیے، ان کے ساتھ مل کر جلسے جلوسوں کیلئے تیاریاں شروع کردیں۔ تحریک انصاف، پشتونخوا، جمیعت علمائے اسلام اور دیگر تمام پارٹیاں مل کر تیاری کریں۔میری پاکستان تحریک انصاف کے ساتھیوں سے گزارش ہے کہ وہ تیاری پکڑے اور اس تحریک کو چلانے کے لیے اپنی تمام صلاحیت کو استعمال کریں اور اس ج��وجہد کو مسلسل اس نہج پر لے کے جائیں جہاں ہم پاکستان میں آئین کی بحالی اور تمام سیاسی اسیران کی رہائی تک پہنچے"۔
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے اج اپوزیشن لیڈر اور چیئرمین پختونخوا ملی عوامی پارٹی محمود خان اچکزئی سے انکی رہائش گاہ پر وفد کے ساتھ ملاقات کی۔
اس موقع پر بی این پی کے مرکزی سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ،
مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل ملک نصیر شاہوانی، ڈسٹرکٹ کوئٹہ آرگنائزر حاجی وحید لہڑی، مرکزی سیکرٹری جنرل بی ایس او سمند بلوچ، شفیع مینگل، عادل شاہوانی، بہاول مینگل، شکیل بلوچ، اور دیگر موجود تھے۔
سردار اختر جان مینگل اور محمود خان اچکزئی کے درمیان ملک اور خصوصاً بلوچستان کے مختلف سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر پی کے میپ کے رہنمائوں نواب ایاز جوگیزئی، رحیم زیارتوال، قہار خان، سید لیاقت آغا، ڈاکٹر حمید اچکزئی، کبیر افغان، سید شرف آغا، اور دیگر موجود تھے۔
اپوزيشن لیڈر، تحریک تحفظ ائین پاکستان کے سربراہ، پشتونخوامیپ کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے اج کوئٹہ کے ایوب اسٹیڈیم میں شہدائے زیارت کے نماز جنازہ میں شرکت کی جس میں ہزاروں سوگواروں شہداء کے لواحقین اور کوئٹہ کے عوام مختلف و سیاسی پارٹیوں کے کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی
سانحہ مانگی زیارت کے7 پولیس اہلکاروں کی نماز جمازہ کوئٹہ میں ادا کردی گئی،قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی کی شرکت،شہداء کے لواحقین کا زیارت واقع�� کے خلاف گزشتہ کئی روز سے دھرنا جاری تھا۔
میں اپنی صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اپ لوگ اس کے متعلق وہی لائن لیں جو عمران خان کی لائن ہے ہم سب اپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے بے شک اس میں حکومت خیبر پختونخواہ کی قربانی دینی پڑے ہزار دفعہ دیں .
ہم حکومت کے لیے نہیں ائے ہیں ہم نے یہ الیکشن جن بنیادوں پہ لڑا تھا جن اصولوں پہ لڑا تھا جن اصولوں کی بنیاد پہ لوگوں نے ہمیں ووٹ دیا ہے ہمیں اس طرف متوجہ ہونا پڑے گا
ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی
دہ پښتونخوا ملي عوامي پارټى چيرمين تحريک تحفظ آئين پاکستان سربراه اپوزيشن ليډر محترم مشر محمود خان اڅکزي او ده ګوند مرکزي سیکرټري نواب ایاز خان جوګيزی ده زيارت شهيدانو پرلت ته وينا وکړه
"5 اگست کو پاکستان کے تمام اضلاع میں، عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی آزادی کے لیے، ان کے ساتھ مل کر جلسے جلوسوں کیلئے تیاریاں شروع کردیں۔ تحریک انصاف، پشتونخوا، جمیعت علمائے اسلام اور دیگر تمام پارٹیاں مل کر تیاری کریں۔میری پاکستان تحریک انصاف کے ساتھیوں سے گزارش ہے کہ وہ تیاری پکڑے اور اس تحریک کو چلانے کے لیے اپنی تمام صلاحیت کو استعمال کریں اور اس جدوجہد کو مسلسل اس نہج پر لے کے جائیں جہاں ہم پاکستان میں آئین کی بحالی اور تمام سیاسی اسیران کی رہائی تک پہنچے"۔محمود خان اچکزئی
وزیراعلیٰ کو جلدی ہے کہ یہ جنازے دفنائے جائیں، حکومت جوڈیشل کمیشن بناتی ہے تو چیف سیکرٹری، سیکرٹری داخلہ، ڈپٹی کمشنر کو ہٹایا جائے، محمود اچکزئی
https://t.co/xIewzJfVzw
#Balochistan#Quetta#Ziarat@MKAchakzaiPKMAP
ہم اللہ کی دی ہوئی ان نعمتوں کی حفاظت کیسے کریں؟ اس نازک دور میں سب سے اہم کام یہ ہے کہ مہربانی فرما کر تمام پشتون میری بات غور سے سنیں۔ میں ہر جگہ جاتا ہوں اور پشتونوں کے درمیان گھومتا پھرتا ہوں۔ چترال سے لے کر بولان تک کا یہ پورا پشتون وطن ہے، حتیٰ کہ ہمارے وطن میں پشتونوں کے ساتھ ساتھ دیگر اقوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھی ایک بہت بڑا قومی جرگہ درکار ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم تین چار دن کے لیے اکٹھے بیٹھیں، ایک دوسرے کے دکھ درد سنیں اور مل کر یہ فیصلہ کریں کہ بھائی! پاکستان میں آپ کی مرضی ہے کہ ہمیں برابری کے ساتھ رکھنا ہے یا پھر یہاں سے نکالنا ہے؟
اگر ہمیں برابری کے ساتھ رکھنا ہے، تو پاکستان کے ساتھ ہمارا آئینی رشتہ اور حیثیت واضح کی جائے۔ پشتون اس ملک کے برابر کے شہری ہوں گے؛ پنجابی، سندھی، بلوچ اور دیگر تمام اقوام کے بالکل برابر۔ ملک میں پارلیمنٹ سپریم ہونی چاہیے، اور فوج و قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔ پارلیمنٹ ہی تمام فیصلے کرے گی اور ریاست کا ہر ادارہ عوام کا خادم ہوگا۔ تمام مسائل کا آئینی حل نکالا جائے گا اور بلوچستان کے وسائل پر پہلا حق وہاں کے مقامی بلوچوں کا ہونا چاہیے کیونکہ ہم نہ تو لڑائی چاہتے ہیں اور نہ ہی ہم جنگ کے حامی ہیں، لیکن ہمارے ساتھ ایسا ناانصافی پر مبنی سلوک بھی مت کیا جائے۔
ہم طویل عرصے سے ایک نہ ختم ہونے والی جنگ کا سامنا کر رہے ہیں جہاں ہمارے اپنے لوگ اور پیارے مارے جا رہے ہیں اور ہمارے لیے نقل مکانی کرنا اور بے گھر ہونا بہت آسان بنا دیا گیا ہے۔ سوات کی بیس لاکھ سے زائد کی ابادی کا حال دیکھیں جہاں پہاڑوں پر نامعلوم مسلح افراد بھی فائرنگ کرتے ہیں اور دوسری طرف سے فوج بھی گولیاں چلاتی ہے، اور پھر اس پورے سوات کو ایک ہی مہینے میں، چلچلاتی گرمی کے دوران بے گھر کر کے مردان کے کیمپوں میں پھینک دیا جاتا ہے۔ اسی طرح محسود قبیلے پر دہشت گردی کا الزام لگا کر ان کے پورے علاقے کو بے گھر کر دیا گیا، حالانکہ ان غریبوں نے سالہا سال کی محنت اور ایک ایک دو دو کروڑ روپے خرچ کر کے پہاڑوں پر اپنے گھر بنائے تھے۔ انہوں نے جہازوں سے بمباری کر کے ہزاروں مکانات مسمار کر دیے۔ دہشت گرد تو پہاڑوں ��ور غاروں میں چھپے ہوئے تھے، لیکن مسمار غریبوں کے گھروں کو کیا گیا۔ یہی حال شمالی وزیرستان کا کیا گیا جہاں کے شاندار اور بڑے تجارتی بازاروں کو بمباری سے اڑا دیا گیا اور اب وہاں کے لوگوں کے پاس تن کے کپڑوں کے علاوہ کچھ نہیں ب��ا۔
ان برباد شدہ بازاروں کو مسمار کر کے اب وہاں کرکٹ گراؤنڈ بنا دیے گئے ہیں جہاں کرکٹ کھیلی جا رہی ہے، جو کہ ہمارے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ ہمارے چالیس سے زائد بے گناہ لوگ شہید ہو چکے ہیں، جبکہ ہم نے کبھی ملک کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھائے۔ عزیزو! اب بات بالکل واضح ہو چکی ہے اور یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ ہمیں مل بیٹھ کر ایک قومی جرگہ کرنا ہوگا اور دنیا کے سامنے اپنا موقف رکھنا ہوگا۔ ہم امریکہ، فرانس، چین اور پوری دنیا کو بتائیں گے کہ یہ کس قسم کی حکومت ہے جو ہمارے وطن کو تباہ کر رہی ہے۔ آپ بھی حقیقت جانتے ہیں اور میں بھی، کہ ان لوگوں نے عوامی ووٹ سے نہیں بلکہ پیسے اور طاقت کے بل بوتے پر اقتدار حاصل کیا ہے۔ ہم کمزور نہیں ہیں اور ہم اپنا یہ مقدمہ پوری دنیا کے سامنے پیش کر کے رہیں گے۔
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی