@AliTallat1 علی بھائی آج تحریک لبیک یا رسول اللہ پاکستان کے چھوٹے چھوٹے لڑکوں کو گرفتار کیا گیا ہے غازی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پاک پر عرس منانے کی وجہ سے ، ان لوگوں کو یہی درد ھے کہ تحریک لبیک یا رسول اللہ پاکستان لڑکوں کی جماعت ھے عاشقاں رسول کی جماعت ھے محب وطن پاکستانیوں کی ھے
@Qzia5701Zia@Bhaiak5s تحریک لبیک یا رسول اللہ پاکستان الحمد للّٰہ رب العالمین پارہ پارہ نہیں ہوئی یہ آپکی خواہش ضرور ھے جو کہ پوری نہیں ہو رہی تو نفسیاتی طور پر ہمارے لڑکوں کو یہ باور کروانا چاہ رہے ہو کہ تحریک پارہ پارہ ہو گئ ھے اپنی حد میں رہو اور الحمد للّٰہ اہلسنت آج بھی ہمارے ھیں کل بھی ہمارے
@Bhaiak5s ایسا ھی ھے حضور اللہ رب العزت بس توفیق کامل عطاء فرمائیں اہلسنت کو کم از کم خود کو تو مظبوط کر لیں حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت ناموس کی پہرہ داری کریں لبرل سیکولرز کے خلاف میدان عمل میں آئیں
سب کو خیال رہے کہ یہ
TIR
نام کی کوئی سیاسی یا سماجی یا فلاحی تنظیم نہیں ہے بلکہ یہ اہلسنت والجماعت کے اکابرین نے ایک نارمل اصلاحی موومنٹ بنائی ھے جس کے تحت اصلاح و تربیت کے لئیے ملک بھر میں کنونشنز ھوں گے باقی اہلسنت کی سیاسی جماعت
TLP
ھے میری جان 🫡
گزشتہ رات مزار غازی علم الدین شہید پر لبیک یا رسولاللہ کا نعرہ لگانے پانچ لڑکے گرفتار
پھر کہتے ہیں لبیک والے کدھر ھیں
یہاں ھیں لبیک والے
اہلسنت والجماعت کے اکثریت نوجوان لڑکے تحریک لبیک یا رسول اللہ پاکستان کے کارکنان ھیں
@ShaoorMedia@shoaib_madni
سب کو دھیان میں رہے کہ یہ ٹی آئی آر نام کی کوئی پارٹی نہیں ہے بس یہ ایک قسم کی موومنٹ ھے جیسے آج کل شعور والے مدنی بھائی نے ایک چلائی ہوئی ہے شب بیداری والی تو یہ ویسے ھے
باقی اہلسنت والجماعت کو پتا ہے کہ سیاسی جماعت ایک ھی ھے وہ ھے تحریک لبیک یا رسول اللہ پاکستان ❤️
یاد رکھ لینا جہاں سے گستاخ سر اٹھائے گا وہیں لبیک والے اس گستاخ کو زمین میں گاڑ کے رکھ دیں گے
قائد اہلسنت سربراہ و امیر تحریک لبیک یا رسول اللہ رہبر معظم حضرت علامہ حافظ سعد حسین رضوی دامت برکاتہم العالیہ
31 اکتوبر۔ یوم حضرت غازی علم الدین شہید رحمۃ اللہ تعالی علیہ۔
تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ علامہ حافظ سعد حسین رضوی نے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے حالیہ ریمارکس کی سخت مذمت کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ ان کی جماعت نے فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کیا تھا، اس لیے اس کے خلاف نظرثانی اپیل دائر کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔
سعد رضوی کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی غازی علم الدین شہید اور ملک ممتاز قادری کے مقدمات میں کیے گئے عدالتی فیصلوں کو تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔ انہوں نے عدلیہ پر زور دیا کہ وہ اپنے فیصلوں کو اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھالے، کیونکہ جب تک عدالتی فیصلے شریعت سے ہم آہنگ نہیں ہوں گے، وہ انہیں تسلیم نہیں کریں گے۔