کرائم انویسٹی گیٹر فرخ خان نے فائل کھولی اور سر ہلایا۔
“جرم بہت باریک ہے جناب۔ خون نہیں، چاقو نہیں، صرف ایک نرم سی مسکراہٹ اور آکسفورڈ اسکالرشپ کی ویڈیو۔”
اس نے فائل کے صفحے پلٹے:
دستیاب مستند حوالوں کے مطابق جہانگیر ترین گروپ کے دو بیگاس پاور پلانٹس (JDW Unit-II اور Unit-III) کو:
• 2023-24 کے آس پاس ایک سال میں تقریباً 1.86 ارب روپے کیپسٹی چارجز ملے (میڈیا رپورٹس میں Unit-II کو 1.09 ارب اور Unit-III کو 77 کروڑ بتایا گیا)۔
• جے ڈی ڈبلیو کی آفیشل سالانہ رپورٹ (30 ستمبر 2025) کے مطابق “Fixed Energy Price” (جو کیپسٹی سے متعلق فکسڈ حصہ ہے) 2024-25 میں 70 کروڑ اور 2023-24 میں 1.68 ارب رہا۔
• 2020 کی سرکاری انکوائری رپورٹ میں انہی دو پلانٹس کا پانچ سالہ اضافی منافع تقریباً 4 ارب بتایا گیا تھا۔
پانچ سال کی مکمل اور قطعی مجموعی رقم سرکاری طور پر ایک جگہ موجود نہیں۔ لیکن جو کچھ دستاویزی طور پر سامنے ہے، وہ یہ بتاتا ہے کہ یہ ادائیگیاں “ٹیک-آر-پے” معاہدوں کے تحت ہوئیں — یعنی پلانٹ کھڑا رہے تو پیسہ ملے، بجلی بنے یا نہ بنے۔
فرخ خان نے سگریٹ بجھائی اور آہستہ سے بولا:
“اب دیکھو اس باریک واردات کا حسن۔
ایک طرف قومی خزانے اور صارف کے بل سے پیسہ نکلتا ہے۔ دوسری طرف وہی پیسہ، تھوڑا سا چھان کر، ‘سخاوت’ بن کر باہر آتا ہے۔
جنوب پنجاب کے ایک لڑکے کو آکسفورڈ بھیج دیا جاتا ہے۔ کیمرہ چلتا ہے۔ مسکراہٹیں پھیلتی ہیں۔ لوگ کہتے ہیں ‘واہ، کیا انسانیت ہے’۔
حقیقت یہ ہے کہ جو نظام اس ‘سخاوت’ کو ممکن بناتا ہے، وہی نظام پہلے عوام کی جیب سے وہ پیسہ نکال چکا ہوتا ہے۔
یہ صدقہ نہیں۔ یہ ری سائیکلنگ ہے۔
حاتم طائی کی قبر پر لات نہیں ماری گئی۔ حاتم طائی کو صرف ایک نیا لباس پہنا دیا گیا ہے — آکسفورڈ کا۔
اور سب سے باریک بات یہ ہے کہ عام آدمی اس لباس کے نیچے چھپے ہوئے معاہدے کو نہیں دیکھ پاتا۔ وہ صرف مسکراہٹ دیکھتا ہے۔”
فرخ خان نے فائل بند کی۔
“جرم مکمل ہو چکا ہے۔ ثبوت موجود ہیں۔ سزا؟
ابھی تک صرف ویڈیو کی تعریفیں ہیں۔”
میرا کیس ملک پرویز اقبال اُموی یڈووکیٹ نے ہینڈل کیا۔ایک سال پہلے بھی انہوں نے ہی ہینڈل کیا تھا ملک صاحب ہزاروں ورکرز کی ضمانت کروانے کے علاؤہ سینکڑوں کے جیل ٹرائل اور کیسز فری میں لڑ رہے ہیں ۔ اس کیلئے جہاں اپنی پریکٹس قربان کردی وہیں قیادت کی طرف سے انہیں صفر سپورٹ ملی
وہ نہیں کہیں گے مگر میں جانتا ہوں کہ چار سال کی اس جنگ میں انکی مالی حالت اتنی تباہ ہو چکی ہے کہ ان کیلئے باقی ماندہ کیسزلڑنا ممکن نہیں رہا
۹ مئی کے اہم ترین چھ مقدمات کا ٹرائل ابھی بینڈنگ ہے جن میں روزانہ کی بنیاد پر دہشت گردی عدالتوں میں پیش ہونا اس کے علاوہ جیل ٹرائل میں جانا شامل ہے
پوزیشن یہ ہے کہ انہوں نے تھک کر سلمان اکرم راجہ ' بیرسٹر گوہر اور شیخ وقاص اکرم کو خط لکھا جواب میں سلمان راجہ نے کوئی جواب نہیں دیا ۔ بیرسٹر گوہر نے ٹویٹر پر بلاک کردیا اور شیخ وقاص اکرم نے علیمہ آپا سے رابطے کا کہا
یہ فرض تو پارٹی قیادت کا ہے کہ ان کو فنانشلی سپورٹ کرے اور پارٹی سے محبت کرنے والے لوگ جو صاحب حیثیت ہیں وہ ملک صاحب کی مدد کریں تاکہ وہ کم از کم ان مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے میں کامیاب رہیں۔اور وہ ورکر جو تحریک انصاف کے لیے جیلوں میں قید ہیں یا وہ اپنے ٹرائل فیس کر رہے ہیں ان کے لیے کوئی مشکلات پیدا نہ ہوں
قانون کے میدان میں ان جیسے جنگجو کم ہی ہونگے مگر ایک جنگجو بھی خالی پیٹ آخر کب تک لڑ سکتا ہے
@salmanAraja@BarristerGohar@SheikhWaqqas@SHABAZGIL
جیل میں ایک حکایت پڑھی
ایک پردیسی سخت سرد موسم میں کسی شہر میں داخل ہوا تو کتے حملہ آور ہو گئے اس نے پتھر اٹھا کر مارنا چاہا تو پتھر زمین میں یوں دھنسے تھے کہ پتھر نہیں اکھاڑ پایا اس بے بسی میں اس نے پکارا
"این چه حرامزاده شهریست که سگها را گشادهاند و سنگها را بسته!"
(یہ کیسا عجیب شہر ہے جہاں کتوں کو آزاد چھوڑ دیا گیا ہے اور پتھروں کو باندھ دیا گیا ہے
حوالہ: گلستانِ سعدی
مصنف:سعدی شیرازی
باب: "در سیرتِ پادشاہاں"
اندازہ کریں، یہ خیبر پختون خوا کے حالات ہیں، صوبائی وزیر کی گاڑی پر فائرنگ کر کے روکا جا رہا ہے، گرفتار کیا جا رہا ہے۔ تحریک انصاف کو چاہیے کارکنوں/عوام کو بچائے، لانگ مارچ کو ملتوی کر دیں۔ اپنے صوبے میں نہیں چل رہی تو باقی کیا چلے گی
Cricket legend Imran Khan is rotting to death in a tiny jail cell in Pakistan. It's time Britain used its influence to help free him
https://t.co/Yf5eCx2fAi
🔷 نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسمِ مبارک کے معجزات
◆ نبیؐ کریم کے جسمِ اطہر سے نہایت پاکیزہ اور خوشگوار خوشبو آتی تھی۔
◆ آپؐ کا پسینہ انتہائی خوشبودار تھا اور اسے خوشبو کے طور پر محفوظ کیا جاتا تھا۔
◆ آپؐ کے پسینے کے قطرے موتیوں کی طرح چمکتے تھے۔
◆ آپؐ کا جسمِ مبارک نہایت نرم و لطیف تھا، حتیٰ کہ ریشم سے بھی زیادہ نرم محسوس ہوتا تھا۔
◆ آپؐ کی ہتھیلیاں کشادہ اور نرم تھیں۔
◆ آپؐ کے مبارک ہاتھ کے لمس میں شفا اور برکت تھی۔
◆ آپؐ کے لعابِ دہن میں شفا اور برکت تھی۔
◆ آپؐ کے لعابِ دہن سے حضرت علی علیہ السلام کی آنکھ خیبر کے موقع پر فوراً شفا یاب ہوئی۔
◆ آپؐ کے مبارک ہاتھ کے لمس سے بعض بیماروں کو شفا ملتی تھی۔
◆ آپؐ کے مبارک بالوں میں برکت تھی اور صحابہ انہیں تبرکاً محفوظ کرتے تھے۔
◆ آپؐ کے موئے مبارک اور پسینے کو خوشبو اور تبرک کے لیے محفوظ کیا جاتا تھا۔
◆ آپؐ کے مبارک جسم سے لگے ہوئے کپڑوں اور چادروں سے بھی تبرک حاصل کیا جاتا تھا۔
◆ آپؐ کے مبارک ہاتھ سے پانی میں برکت ظاہر ہونے کے واقعات منقول ہیں۔
◆ آپؐ کے مبارک ہاتھ سے کھانے میں برکت ظاہر ہونے کے واقعات منقول ہیں۔
◆ آپؐ کے مبارک منہ کے لقمے میں برکت تھی
◆ آپؐ کے بدنِ مبارک پر مکھی کبھی نہیں بیٹھتی تھی۔
◆ آپؐ کی مبارک آنکھیں نیند میں بھی بیداری کی طرح دیکھتی تھیں۔
◆ آپؐ کے مبارک کان نیند میں بھی بیدار رہتے اور سنتے تھے۔
◆ آپؐ اپنے پیچھے اسی طرح دیکھ سکتے تھے جس طرح سامنے دیکھتے تھے۔
◆ آپؐ کا سایہ زمین پر نہیں پڑتا تھا۔
◆ آپؐ کے دونوں شانوں کے درمیان مہرِ نبوت کا مبارک نشان موجود تھا۔
◆ آپؐ کا رنگ سفیدی مائل سرخ تھا۔
◆ آپؐ کا چہرۂ مبارک نہایت نورانی اور تاباں تھا۔
اور آپؐ کے چہرۂ مبارک کی تابانی چودھویں رات کے چاند کی مانند تھی۔
◆ آپؐ کا چہرۂ مبارک بہت خوبصورت، متناسب اور پُررونق تھا۔
◆ آپؐ کی پیشانی کشادہ تھی۔
◆ آپؐ کی آنکھیں بڑی، کشادہ اور سیاہ تھیں۔
◆ آپؐ کی پلکیں لمبی تھیں۔
◆ آپؐ کی بھنویں گھنی، لمبی اور خوبصورت تھیں اور آپس میں ملی ہوئی تھیں۔
◆ آپؐ کی ناک ناک ستواں اور خوبصورت تھی۔
◆ آپؐ کا دہن کشادہ اور خوبصورت تھا۔
◆ آپؐ کے دانت چمکدار، خوبصورت اور قدرے جدا جدا تھے۔
◆ آپؐ کے رخسار ہموار اور نرم تھے۔
◆ آپؐ کے بال نہ بالکل گھنگریالے تھے نہ بالکل سیدھے، بلکہ قدرے لہردار تھے۔
◆ آپؐ کے سر کے بال بعض اوقات کانوں کی لو تک پہنچتے تھے۔
◆ آپؐ کی داڑھی گھنی تھی۔
◆ آپؐ کی گردن صاف، روشن اور خوبصورت تھی۔
◆ آپؐ کا سینہ کشادہ تھا۔
◆ آپؐ کے کندھے چوڑے اور دونوں کندھوں کے درمیان فاصلہ زیادہ تھا۔
◆ آپؐ کی ہڈیاں اور جوڑ مضبوط تھے۔
◆ آپؐ کا جسم مضبوط، بھرپور اور متناسب تھا۔
◆ آپؐ کا پیٹ سینے کے ساتھ متناسب تھا۔
◆ آپؐ کے سینے سے ناف تک بالوں کی ایک باریک لکیر تھی۔
◆ آپؐ کے سینے اور پیٹ پر اس لکیر کے علاوہ بال نہیں تھے۔
◆ آپؐ کے بازوؤں، کندھوں اور سینے کے بالائی حصے پر بال موجود تھے۔
◆ آپؐ کے بازو لمبے اور متناسب تھے۔
◆ آپؐ کی ہتھیلیاں کشادہ تھیں۔
◆ آپؐ کے پاؤں مضبوط اور قدرے بھرے ہوئے تھے اور پاؤں کے تلوے گہرے اور مضبوط تھے۔
◆ آپؐ کا قد نہ بہت لمبا تھا نہ پست، بلکہ درمیانہ اور متناسب اور بلندی مائل تھا۔
◆ آپؐ کا جسم نہ بہت دبلا تھا نہ فربہ، بلکہ معتدل اور متناسب تھا۔
◆ آپؐ چلتے تو مضبوطی اور وقار کے ساتھ سر جھکا کر قدم اٹھاتےتھے۔ اور چلنے کا انداز ایسا تھا جیسے بلندی سے نیچے اتر رہے ہوں۔
◆ آپؐ جب کسی طرف متوجہ ہوتے تو پورے جسم کے ساتھ متوجہ ہوتے تھے۔
◆ آپؐ کے بدنِ مبارک کی ساخت انتہائی متوازن اور کامل تناسب والی تھی۔
◆ آپؐ کی ظاہری ہیئت ایسی حسین تھی کہ دیکھنے والے آپؐ کو بے مثال قرار دیتے تھے۔
◆ آپؐ جس حیوان یا سواری پر سوار ہوئے، وہ اپنی پوری زندگی میں نہ کمزور ہوا نہ بوڑھا ہوا۔
◆ آپؐ سخت چٹان پر قدم رکھتے تو اس پر قدم کا نشان ظاہر ہو جاتا تھا، جبکہ نرم ریت پر قدموں کے نشان نہیں بنتے تھے۔
◆ آپؐ کے سامنے آنے والے پرندے اور جانور ادب و احترام سے سر جھکا دیتے تھے۔
◆ آپؐ کے لیے حشرات اور زہریلے جانور نقصان کا باعث نہیں بنتے تھے۔
◆ آپؐ ولادت ہی سے پاکیزہ اور مختون تھے۔
◆ آپؐ کو بچپن، جوانی اور بڑھاپے ہر حالت میں کامل جسمانی قوت و طہارت حاصل رہی۔ اور جسمِ اطہر پر نجاست اور ناپاکی طاری نہیں ہوتی تھی۔
نمودِ آدم سے پہلے احمد، رسول ہوگا یہ طے ہوا تھا
اسی کی خاطر جہاں کا ہر، عرض و طول ہوگا یہ طے ہوا تھا
دعا جو مانگو کبھی خدا سے، ہمیشہ یہ بھی خیال رکھنا
درود میں ہی لپیٹا جملہ، قبول ہوگا یہ طے ہوا تھا
💐آپ سب کو عید میلاد الصادقين علیہ السلام بہت بہت مبارک ہو💐
نظام کے ٹھیکیدار بہت آسانی سے کہہ دیتے ہیں سسٹم collapse ہو گیا
ان بے شرموں کو یہ نہیں پتا کہ عوام کے اوپر کیا گزرتی ہے ۔ ستر سال سے پاکستان کو اپنے مفاد کے لئے تجربہ گاہ بنایا ہوا ہے
#ناحق_قید_کے_3سال#مزاحمت_سے_انقلاب_آئے_گا .
علیم ڈار کرکٹ ایمپائر نگ سے ریٹائرمنٹ لینے کے بعد خاموش اپنی زندگی گزار سکتا تھا لیکن علیم ڈار نے انسانیت کی خدمت کرنا اپنا فریضہ جانا اور اس کے لیے انتھک محنت کر رہے ہیں
زندگی جہنم ہے
اُس مزدور، اُس ریڑھی والے، اُس غریب، اُس عام شہری کی جو تقسیم ہند کے بعد اُس پار ہے یا اِس طرف۔
زندگی گَلزار ہے
حکمرانوں، اُن کے کاسہ لیسوں، اشرافیہ، سول و فوجی کریٹس کی، خواہ سرحد کی اُس طرف ہیں یا اِدھر۔
اور اِس پر بولتے جو چند ہیں
سب شرپسند ہیں
دُشمن کے ایجنٹ ہیں
چاہے انڈیا میں ہوں یا پاکستان میں۔
کسی بزرگ نے کہا تھا کہ ایک دفعہ انکا ایک بیل اچانک سے مر گیا تو دوسرے دن کیا دیکھتا ہوں سارے کے سارے گاؤں والے اپنے اپنے بیلوں کی جوڑیاں لے کر میرے کھیتوں میں ہل چلانے لگ گئے تاکہ مجھے بیل کے مرنے کا دکھ کم ہو
وہ بھی ایک زمانہ تھا اج ایک ایسا دور آگیا ہے کہ ہر کوئی انتظار کرتا ہے کہ سامنے والے کو کچھ نقصان ہو صرف میرا بھلا ہو!!