گنڈاپور کی وجہ شہرت صرف اتنی ہی تھی کہ اس نے فضل الرحمان کو ڈیرہ اسماعیل خان سے شکست دی۔ وہ ایک لابالی، جذباتی قسم کا پ��تون سیاستدان سمجھا جاتا تھا کہ جس کا کام اپنے گیٹ اپ کے ذریعے مخالفوں کو ڈرانا ہوتا ہے۔
پھر رجیم چینج کے بعد اس کی ثابت قدمی کی وجہ سے اسے گرفتار کیا گیا۔ اس کی تذلیل کرنے کیلئے اس کے لمبے بال کاٹے گئے۔ جب وہ ضمانت پر رہا ہوا تو اس نے کہا کہ بال دوبارہ آجائیں گے، لیکن جو دل میں نفرت بھری گئی، وہ ختم نہیں ہوگی۔
پھر عمران خان نے اسے وزیراعلی نامزد کرکے بہت سے لوگوں کو حیران اور مایوس کیا۔ فوج کو لگا کہ یہ شخص لیڈرشپ صلاحیت سے محروم ہے اور خیبرپختونخواہ میں پی ٹی آئی کا لانگ ٹرم اثررسوخ ختم کردے گا۔
اس دوران انصافیوں نے گنڈاپور پر تنقید جاری رکھی، اس کے اپنے ایم پی ایز اس کے خلاف کھڑے ہونے لگے۔ پھر اچانک عمران خان نے اسلام آباد جلسے سے قبل پیغام بھجوایا کہ گنڈاپور اس کا بندہ ہے اور وہ اس کے پیچھے پوری طرح سے کھڑا ہے۔
پھر اسلام آباد جلسے میں گنڈاپور نے فوج اور ن لیگ کے ساتھ وہ کیا جو شاید اس سے قبل صرف عمران خان ہی کرچکا تھا۔
جلسے کے بعد گنڈاپور کو دھمکیاں دی گئیں، اس سے معافی کا مطالبہ کیا گیا، اسے کہا گیا کہ اپنا وضاحتی بیان جاری کرکے معاملہ ختم کردے، اس نے سینہ ٹھوک کر کہا کہ وہ اپنی تقریر پر قائم ہے۔
آج گنڈاپور کا لاہور میں ہونے والا استقبال بتاتا ہے کہ وہ پنجاب میں مقبولیت کے اعتبار سے عمران خان کے بعد دوسرا بڑا لیڈر بن چکا ہے۔
جب آپ ثابت قدم رہتے ہیں، دلیری دکھاتے ہیں، عوام کے جذبات کے مطابق چلتے ہیں تو گنڈاپور جیسی کامیابی آپ کے قدم چومتی ہے۔
لاہوریوں کا شکریہ، جنہوں نے گنڈاپور کو عزت بخشی۔
گنڈاپور کا شکریہ، جس نے عمران خان کی سیلیکشن کو درست کردکھایا۔
کمپنی کا شکریہ، جس کی فسطائیت کی وجہ سے پی ٹی آئی کی لیڈرشپ مضبوط ہوتی جارہی ہے!!!
لاہور جلسے کے بارے میں الجزیرہ کی رپورٹ کا
آخری جملہ ۔۔۔ عمران خان کی رہائی مافیاز کی موت ہے وہ نظام بدلنے کی طاقت حاصل کرچکا ہے
سیاسی مقدمات درج کیے گئے بجلی کاٹ دی گئی انٹرنیٹ بند کیا گیا اور چند گھنٹے کے نوٹس پر عوام جلسہ گاہ پہنچے
جلسہ صرف گرا��نڈ میں نہیں تھا ۔۔۔۔جلسہ پورے لاہور میں تھا رنگ روڈ پر انسانوں کا سمندر تھا ۔۔ تبھی تو گھبرا کر بجلی کاٹنی پڑی اور پورے علاقے میں بجلی بند کر دی گئی انٹرنیٹ سلو کر دیا۔۔۔۔ لیکن ہم نے جلسہ کر دکھایا
#ھم_نے_جلسہ_کر_دکھایا
ان مناظر نے آج پنجاب ھکومت کی شلواریں ۔۔ پاجامے اور پینٹس گیلے کر دیے اسی لیے فوری طور پر جلسہ گاہ کی بتیاں بھجوائیں گئیں تاکہ علی امین گنڈاپور کہیں پھر دوبارہ نا کلا ٹھوک دے
آنکھوں دیکھا حال
آج جلسہ میں ایک عجیب کام ہوا
ایک پٹھان لڑکے سے گاڑی بیک کرتے ہوے پیچھے گزرتی نئی فارچونر میں جا لگی اچھا خاصہ ڈنٹ پڑ گیا اور رگڑ بھی میں نے سوچا اب پٹھان کی خیر نہیں فارچونر والا جھگڑا کرے گا پٹھان اتر کر جلدی سے پیچھے آیا اور معذرت کرنے لگا فارچونر والے ڈنٹ دیکھا اور پیاری بھری مسکراہٹ کے ساتھ بولا
جا ��یارے تو میرے خان کا مہمان ہے
❤️❤️
قاضی فائز عیسی نے آج کمرہ عدالت میں یزیدیت کی انتہا کر دی۔
اسلامک یونیورسٹی کی خاتون ریکٹر سمینہ ملک کو جبراً ایمبولینس اور ویل چئر پر کمرہ عدالت میں پیش کرایا جب وہ نیم بے خوشی کی حالت میں تھیں، پھر ان کے وکیل نے بحث کی تو پولیس والوں کی ذریعے دھکے مروا کر روسٹرم سے نکلوایا۔ بات یہاں تک نہیں رکی، پھر زبردستی ان کی ویل چئیر سامنے کروا کر ان کے سامنے مائک رکھوایا گیا لیکن وہ صحیح طریقے سے بول نہیں سکیں تو قاضی فائز عیسی نے کہا کہ یہ ڈامہ کر رہی ہے اس کو یہاں سے لے جاؤ۔
اس گھٹیا شخص کو اللہ ہی عزاب دے گا، انشاءاللہ ۔۔۔
الیاس چوہدری نامی MNA کے لوگ مجھے دھمکی آمیز غلیظ کالز اور میسیجز کل سے کر رہے ہیں۔ صرف اتنا بتانا چاہتا ہوں بھائی تو جن کے دم پر اچھل رہا ہے یہ سلسلہ زیادہ دن تک نہیں چلے گا۔ جو تو کر سکتا ہے کر لے۔ تیری دو نمبری اور ڈیل بیچ چوراہے پکڑی گئی ہے۔ لوٹا بن کر اب تو لوگوں کو مزید بے وقوف نہیں بنا سکتا۔
اوریا مقبول جان نے عاصم منیر سے پاکستانیوں پر ظلم اور بربریت ڈھانے پر اللہ کے حضور معافی مانگنے کا کہا تھا
جس کے بعد عاصم منیر نے اوریا مقبول جان کو گرفتار کروا دیا
" 21ستمبر لاہور کے جلسے میں ضرور شرکت کریں،
اپنے لیے اپنے بچوں کیلئے پاکستان کیلئے عمران خان کیلئے ناحق جو قید ہیں اُن کیلئے" لاہور جلسے کے حوالے سے پی ٹی آئی کارکن چندا وسیم خان کا ویڈیو پیغام
#LahoreJalsa
چیزیں آوٹ آف کنٹرول ہوگئی ہیں یہ ضیاء الحق کا زمانہ نہیں ہے ضیاء الحق کے زمانے میں ایک پی ٹی وی ہوتا تھا اور چار پانچ اخبار جن کو کنٹرول کرلیا جاتا تھا اب یہ جو سوشل میڈیا بنا ہے ان کی راتوں کی نیند حرام ہوگئی ہیں. ایاز امیر
میں ایک سیاسی قیدی ہوں۔۔میں بے قصور ہوں۔۔اللہ مجھے صبر سے جبر برداشت کرنے کی ہمت دے۔۔۔مجھے امید ہے انصاف میں دیر تو ہو سکتی ہے اندھیر نہیں ہوسکتی
شاہ محمود قریشی