یہ اس ملک کے ایک صوبے کی ہائیکورٹ کا چیف جسٹس کہہ رہا ہے
میں نے اپنے آپ پر بڑا جبر کیا، اپنے بچوں پر کیا، فیملی پر کیا لیکن آپ کے اس بھائی کو کوئی خرید نہ سکا، پشاور ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس ابراہیم خان
اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججز نے اس پر باقاعدہ رپورٹ کیا مگر بجائے اس پر سپریم کورٹ کوئی ایکشن لیتی ان ججز پر ایک ٹاؤٹ مسلط کر دیا اور ان کے تبادلے کر دئے گئے
ایسے ملکوں میں کون انویسٹمنٹ کریگا
@anon6543217k3f@SabeeKazmi786 Bhai tery ko ku mirchi lag rh h, kehny dy jisny jo kehna! Azad mulk k azad bashindy hn har kisi ko haq h apni bt karny ka!
یَعْلَمُ خَآىِٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ
وہ خیانت کرنے والی نگاہوں کو جانتا ہے اور (ان باتوں کو بھی) جو سینے (اپنے اندر) چھپائے رکھتے ہیں۔
(غَافِر - الْمُؤْمِن, 40 : 19)
@soldierspeaks Bhai saary gandu mily huy hn, khan bechary ko kia pata tha k pathan b ghaddaar punjabi b ghaddaar sala bharosa kary b to kispy? Kuch hi pak roohain milien aur wo jailo me sarr rh hn wahi marr jaain gi ye awam kuch nh kary gi bc is awam k liye at keast insan ko apna kuch b sac nh
آپ ایسا کریں نا کہ ڈاکٹر شہباز گل کو گڈ بوائے سہیل آفریدی کی جگہ سی ایم لگوا دیں اور پھر ان سے یہ ڈیمانڈ کریں کے پاکستان آئیں اور تحریک سنبھالیں۔ نا آئیں تو ملکر ان کا بائیکاٹ کریں گے۔
بیرسٹر گوبر کی عمران خان کی سیٹ پر بیٹھنے کی اتنی جرات ایسے ہی نہیں ہوئی، اسے باقاعدہ کہا گیا ہے کہ اب یہ پارٹی تمھاری ہے ہم چاہیں تو تمھیں شہباز شریف کی طرح وزیراعظم بھی بنا سکتے ہیں مگر شرط سادہ سی ہے ہمارا کام کرتے رہو پارٹی کو بیوقوف بتاتے رہو۔
DGISPR نے اسلام آباد کے علاقے کے 25 وائس چانسلرز کو بلایا اپنے دفتر میں اور کہا کہ تم لوگوں کو ان بچوں کو محب وطن بنانا ہو گا اور ساتھ محب وطن بنانے کے نسخے بھی بتائے سارے خاموشی سے سنتے رہے صرف ایک وائس چانسلر بولا تو اس کو ایسی چپیڑ پڑی کہ وہ بھی خاموش ہو گیا ! ہود بھائی ۔۔
کوئی بھی احتجاج ہو کوئی بھی سیاسی معاملہ ہو اس میں سب سے گھٹیا کردار ہماری پنجاب پولیس ادا کرتی ہے
پنجاب پولیس کبھی ادارہ بن ہی نہیں سکی
اگر وہ ایک ادارہ ہوتی تو کبھی بھی مظلوموں پر ظلم نہ کرتی
برطانیہ میں بسنے والے کشمیری تھوڑی سی کوشش کرکے برطانوی یونیورسٹیز میں تھوک کے حساب سے پڑھنے والے فوجی افسران کے بچوں کے ریکارڈز نکلوائیں اور فسطائیت اور مظالم کو جواز بنا کر متعلقہ یونیورسٹیز سے انکے داخلے اور ویزے ختم کروانے کی کوشش کریں۔
اسکے جو نتائج نکلیں گے اس پر ادارہ ہذا کا شکریہ ادا کرنا مت بھولیے گا۔
5 نئے صوبے مطلب 5 نئے وزارِ اعلی 5 نئے گورنر۔ 5 نئے سیکریٹیریٹ۔ ہر صوبے میں کم از کم پندرہ وزرا مطلب 75 نئے وزیر۔ 75 نئے چیف سیکریٹیریز۔
ہر وزیرِ اعلیٰ کی نئی 7 Series BMW۔ ساتھ چار پروٹوکول کی لینڈ کروزرز۔
مطلب 5 BMWs. اور 20 لینڈکروزرز۔
پھر ہر وزیر کی نئے گاڑی۔ کم از کم ٹویوٹا Fortuner. مطلب 75 نئی Fortuners. ہر وزیر کے ساتھ کم از کم دو پروٹوکول کی گاڑیاں مطلب 150 مزید نئی گاڑیاں۔
چیف سیکریٹیرز۔ پولیس چیف۔ ججز اور دوسرے محکمے اور اسٹاف اور اُن کی مراعات تو بالکل الگ ہی موضوع ہے۔
سادہ سا حل ہے کہ تمام اختیارات لوکل گورنمنٹ کو دیدیں۔ اربوں روپے بھی بچا لیں اور لوگوں کی مشکلات کا حل اُن کے دروازے تک بھی لے آئیں۔
مگر جب تک ہم شاہانہ اور عیاش حل نہیں ڈُھونڈیں گے ہم کیسے ثابت کریں گے کہ ہم پاکستانی اشرافیہ ہیں۔