جب شواہد بول رہے ہوں لیکن سماعت خاموش ہو!
ذرا تصور کیجیے ایک ایسے انسان کا جو انتہائی قبیح اور ناقابلِ تصور فعل کا ارتکاب کرے—ایک ایسا فعل جو کسی بھی صاحبِ ضمیر انسان کے دل کو دہلا دے: قرآنِ مجید کی بے حرمتی اس انداز میں کہ اس پر مشت زنی جیسا ناپاک فعل کیا جائے۔
لیکن یہیں بات ختم نہیں ہوتی۔ وہ شخص نہ صرف اس گھناؤنے جرم کا ارتکاب کرتا ہے، بلکہ خود اپنی ویڈیوز بناتا ہے اور پھر انہیں مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپلوڈ بھی کرتا ہے۔
ایسا شخص محض تصور نہیں، حقیقت میں موجود ہے۔
اس کا نام وزیر گل ہے۔
یہ مجرم ایک طویل عرصے تک یہ سب کچھ کرتا رہا۔ بالآخر، ریاستی اداروں کی انتھک محنت—جس میں بڑی تعداد میں افرادی قوت اور سینکڑوں گھنٹوں کی مسلسل کوششیں شامل تھیں—کے بعد اسے گرفتار کیا گیا۔
اس کے بعد مقدمہ قانون کے مطابق چلا۔
شواہد پیش کیے گئے۔ صرف وہ ویڈیوز ہی نہیں جنہیں اس نے خود بنایا اور پھیلایا تھا، بلکہ ایک آزاد اور سائنسی بنیاد پر کیا گیا ڈی این اے ٹیسٹ بھی عدالت میں پیش کیا گیا۔
یہ ڈی این اے ٹیسٹ پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی نے کیا۔ یہ ایک ایسا ادارہ ہے جو اپنی ساکھ، نتائج اور پیشہ ورانہ معیار کے لیے جانا جاتا ہے، اور جو اسکاٹ لینڈ یارڈ سمیت متعدد بین الاقوامی اداروں کے ساتھ کام کر چکا ہے۔
عدالت کے سامنے تمام شواہد موجود تھے۔
چنانچہ وہی فیصلہ سامنے آیا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔
وزیر گل کو سزائے موت سنائی گئی۔
اس کے بعد اس نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی، اور وہ 20 نومبر کے اس ہولناک دن عدالت پہنچ گیا۔ اس دن چار ملزمان اور بھی تھے اور ان پانچوں کو اکٹھے ہی جج کے سامنے پیش کیا گیا۔
ان پانچ میں سے صرف ایک ملزم کو چند منٹ کے لیے سنا گیا۔ مگر کسی ناقابلِ فہم وجہ کی بنا پر، عدالت نے پانچوں کو بری کر دیا۔
جی ہاں، آپ نے درست پڑھا۔
وزیر گل کے خلاف موجود شواہد کا کوئی جائزہ نہیں لیا گیا- اس کے مقدمے میں کوئی سماعت نہیں ہوئی۔
اور پھر…
وہ آزاد کر دیا گیا۔
کیوں؟
کل یعنی 15 دسمبر 2025 کو اس کی رہائی ہے۔ ہم اپنے احتجاج سے آسمان کو سر پر اٹھا لینا چاہتے ہیں اور حکومت کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ اس سے پہلے کہ آسمان ہم پر گر جائے، آنکھیں کھولو کہ اِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِیْدٌ!
کہاں ہے او آئی سی @OIC_OCI ؟؟؟
کہاں ہیں مسلم۔حکمران اور جرنیل؟؟؟
اس سردی میں غزہ میں اپنے بھائیوں،بہنوں اور معصوم بچوں کو یاد رکھو،انہیں اپنی دعاؤں میں شامل کرو، جہاں تک ہو سکے ان کی مدد کرو، ان کا ذکر کرو، اور ان کے لیے سہارا اور طاقت بنو۔
@Pak_PalForum
#BreakingNews: Israeli occupation forces have kidnapped three farmers, including a six-year-old child, while they were working in the fields of Kafr al-Labad, east of Tulkarm.
#palestine#Israel#farmers
Israel is expanding the “yellow line” and continuing violations. Israel is steadily tightening its control over Gaza’s map.
These violations have been ongoing for a long time, yet no action has been taken by mediators or the international community. In the name of security, Israel is increasing its control, and despite the presence of the U.S. during the Trump administration or peace plan agreements, no strict measures or even statements were issued by them. Despite all these facts, the Trump administration’s claim that the Gaza ceasefire is going very well is pure hypocrisy.
To end oppression, it is essential to stop the oppressor and hold them accountable. What is being called a “ceasefire” is actually a process in which violations continue, the perpetrators carry on their attacks, and the so-called peacemakers, instead of stopping this and establishing peace, are siding with the oppressors. The truth is being completely ignored.
#Trump #IsraeliTerrorism #YellowLine #Gaza #ceasefireviolation #PeacePlan
خشوع و خضوع کیساتھ سجدہ کر چکنے کے بعد اسرا ئیل کیطرف سے امت مسلمہ کو قبولیت کی پہلی سلامی پیش کی گئی ہے۔۔۔۔
اخے فلسطینیوں کی جانیں بچانے کیلئے تھوڑا سا جھکے ہیں
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی حالیہ قرارداد، جو ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے، ایک ایسا منصوبہ جو غزہ کی عوام کی نمائندگی نہیں کرتا کے خلاف ہم ڈٹ کر کھڑے ہیں۔
ہم پاکستان کے ریاستی نمائندے کی جانب سے اس قرارداد کے حق میں ڈالے گئے شرمناک اور شریکِ جرم ووٹ کی بھی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔
پاکستانی عوام غزہ پر کسی بھی بیرونی تسلط کے نفاذ کو مسترد کرتے ہیں اور مزاحمت کو غیر مسلح کرنے کی تمام کوششوں کو رد کرتے ہیں۔
مقام: پریس کلب اسلام آباد
وقت: 3 بجے سہ پہر
تاریخ: ہفتہ، 22 نومبر
@CMShehbaz@anwaribrahim پاکستانی حکومت کی بے عملی اور معلومات کی کمی تشویشناک ہے۔ مبہم بیانات، پریس ریلیز اور ٹویٹس کے سوا تاحال سابق سینیٹر مشتا ق احمد خان کی محفوظ رہائی کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ سامنے نہیں آیا فوری ایکشن پلان جاری کیا جائے۔
#ReleaseSenatorMushtaq
پاکستانی حکومت کی بے عملی اور معلومات کی کمی تشویشناک ہے۔ سابق سینیٹر مشتا ق احمد خان کی محفوظ رہائی کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ سامنے نہیں آیا۔ پاکستانی حکومت کی سنجیدگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری، شفاف اور واضح ایکشن پلان جاری کیا جائے۔
#ReleaseSenatorMushtaq
@KhawajaMAsif پاکستانی حکومت کی بے عملی اور معلومات کی کمی تشویشناک ہے۔ مبہم بیانات، پریس ریلیز اور ٹویٹس کے سوا تاحال سابق سینیٹر مشتا ق احمد خان کی محفوظ رہائی کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ سامنے نہیں آیا۔ پاکستانی حکومت کی سنجیدگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ۔
#ReleaseSenatorMushtaq