عوامی نیشنل پارٹی کے سیکرٹری برائے خارجہ امور سردار حسین بابک، مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان کے ہمراہ بخیریت امریکہ کے شہر فلاڈیلفیا پہنچ گئے، جہاں اے این پی امریکہ کے صدر ڈاکٹر بشیر نے اپنی کابینہ کے ہمراہ ان کا پُرتپاک استقبال کیا۔
مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان 24 اکتوبر کو اے این پی امریکہ کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کریں گے۔
#ANPUSA
"ون یونٹ کی خفیہ دستاویز میں چودھری محمد علی نے لکھا : پنجاب؛ سرحد کی بجلی، بلوچستان کے کوئلے و گیس اور سندھ کے وسائل کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اس لئے پاکستان پر حکمرانی پنجاب کی ہونی چاہیے ـ
اگر آپ نے یہ خفیہ دستاویز نہیں پڑھی تو مجھے بتا دیں میں اس کی ایک فوٹو اسٹیٹ کاپی آپ کو بھیج دوں گا ـ پاکستان ٹوٹنے کے باوجود پنجابیوں کی یہ ذہنیت آج بھی برقرار ہے اور وہ ابھی بھی پاکستان کے مامے بننے کی کوشش کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے"
ولی خان کا حنیف رامے کے نام کھلا خط
جولائی 1987 ـ روزنامہ جنگ لاہور۔
ھم تو اپنے ماں دھرتی پختونخوا وطن پر ہزاروں سالوں سے آباد ہیں،اور رہینگے، ھم اس کی والی وارث ہیں،
لیکن اگر اپکو شوق ہے تو لگادیں باڑ مارگلہ کی پہاڑیوں میں۔۔۔
آپ جیسے سیاسی بدبودار اور بدزبان شخص جو پچھلے ایک مہینے سے جو زہر اگل رہے ہیں،تو صاف ظاہر ہے کہ آپ سیاسی طور پر یتیم ہوچکی ہے،تو خود کو سیاست میں ریلوینٹ رکھنے کیلے مسلسل پختونخوا کے پختونوں پر بھونک رہے ہیں، آپکی سیاست اسٹبلشمنٹ کی مرہون منت تھی، ورنا گلی محلے کی الیکشن بھی نہیں جیت سکتے، آپ جرنیل شاہی کے بعل بچہ تھے اور ہے۔۔۔۔۔۔۔اسلیے تو کھل کر نسل پرستی کرکے نفرت پھیلا رہے ہو،
نئے صوبوں کی خواہش آخر کس کی ہے؟ وزیرِ داخلہ کس کے نمائندے ہیں؟ آج کی پریس کانفرنس میں، وزیرِ داخلہ کی تقریر پر ردِعمل نہ دینے کے اعلان کے باوجود، نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے زور دیا۔
آخر یہ سسٹم چلا کون رہا ہے؟ ہر ادارے میں کس ادارے کے حاضر سروس یا ریٹائرڈ افسران موجود ہیں؟ اس کے باوجود ہر ناکامی کی ذمہ داری سیاسی شخصیات پر ڈال دی جاتی ہے۔
عوام کو دھوکہ نہ دیا جائے۔ سرکار بھی آپ ہیں، سسٹم بھی آپ ہی ہیں۔ اگر کل کوئی "کاکروچ" نکلتے ہیں تو ان کا نشانہ بھی آپ ہی ہوں گے، کیونکہ سب جانتے ہیں کہ یہ سسٹم کس کا ہے اور کس کے مرہونِ منت چل رہا ہے۔
اس سسٹم میں شامل تمام حکومتوں سے، خواہ وہ وفاقی ہوں یا صوبائی، یہی گزارش ہے کہ اس نظام سے خود کو الگ کریں۔ آپ کو ویسے بھی صرف برائے نام اختیارات دیے گئے ہیں۔ جن کا یہ سسٹم ہے، وہی اس کی کامیابی اور ناکامی کی ذمہ داری بھی قبول کریں اور اسی کا کریڈٹ بھی لیں۔
From Bacha Khan to Khan Abdul Wali Khan, Asfandyar Wali Khan, and Aimal Wali Khan, the struggle for peace, democracy, justice, and the rights of our people continues. The mission lives on, and so does our commitment to serve our nation.
#MyRedFlag