پنجاب میں شہروں کی خوبصورتی بہت خوش ائیند کام ہے۔ ایک ارکیٹکٹچر کے طالم علم اور فنکار کہ حیثیت سے میرے تین اعتراضات پیں۔
1- دکانوں کے نام اردو رسم الخط میں بھی ہونے چاہیے تھے۔
2- ڈیزاین موناٹنس (یکجہتی) ہیں۔ ان میں تنوع بھی ہونا چاہیے۔
3- سبز پودے اور درخت لگانے چاہیے۔۔اور لینڈ اسکیپ ڈیزاینر بھی ٹیم میں ہونا چاہیے۔
جن لوگوں نے مغربی پاکستان میں حکومت بنوانے کے لئے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا نعرہ لگا دیا تھا وہ باقی کے پاکستان میں حکومت چھیننے کے لئے کچھ بھی کر سکتے ہیں، اور کر بھی رہے ہیں۔
دوہزار اکیس کی بات ہے۔۔جنرل باجوہ کا “اُمتِ مسلمہ کے عظیم قائد” پر پریشر تھا کہ پنجاب میں گُڈ گورنس کے لیے عثمان بزدار کی جگہ علیم خان کو وزیراعلی بنایا جائے۔۔۔بانی تحریکِ انصاف نے وعدہ کیا لیکن بعد میں بشری بی بی اور جنرل فیض حمید کے حکم پر اپنا وعدہ پورا نہ کیا۔۔۔۔جنرل باجوہ نے اپنی ہتکِ عزت کا بدلہ لینے کے لیے اپنے انڈر کام کرنے والی خفیہ ایجینسی کو حکم دیا کہ عثمان بزدار،اُن کے عزیزواقارب اور اُن کی حکومت کی کرپشن اور بد انتظامی کو عوام کے سامنے اُجاگر کیاجائے۔۔۔۔!!!!!
فوج کی خفیہ ایجینسی کے ایک کرنل کی ذمہ داری لگی اور اُس نے صحافیوں میں سے اپنے خاص الخاص درمیانے درجے کے صحافی اورمہرے کی ذمہ داری لگائی کہ اُس وقت کی بزدار حکومت اور بزدار فیملی و عزیز اقارب کی آتما رول کے رکھ دو۔۔۔۔ایجینسی بزدار حکومت اور عثمان بزدار کی فیملی کی کرپشن،بد انتظامی اور غبن کے تمام حقائق،راز اور ثبوت فراہم کرتی تھی اور وہ مہرہ صحافی کیمرے کے سامنے طوطے کی طرح رٹا رٹایا بیانیہ اور کرپشن کے ثبوت پیش کر دیتا تھا۔۔۔۔2021 میں بانی تحریکِ انصاف کی مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے خلاف عوام کی اتنی نفرت اور بے اعتنائی تھی کہ اُس مہرے صحافی کے وی لاگ ہاتھوں ہاتھ،کانو کان اور آنکھوں آنکھ سنے اوردیکھے جانے لگے۔۔۔۔۔!!!!
بانی تحریک انصاف اُس مہرے صحافی سے سخت پریشان ہو گئے اور اُس کی شکایت جنرل فیض حمید سے کی۔۔۔اُس نے آئی ایس آئی کے ذمہ داران کی ڈیوٹی لگائی۔۔۔اُنہوں نے ہاتھ کھڑے کردیے۔بانی تحریکِ انصاف نے شہباز گل،فیصل جاوید اور شہزاد اکبر اور پنجاب میں فواد چوہدری کے سفارشی غیر تجربہ کار اور ناپختہ مشیر اطلاعات کی ذمہ داری لگائی کہ سوشل میڈیا پر اُس صحافی کا مقابلہ کریں اور عثمان بزدار اور اُن کی فیملی پر لگائے جانے والے الزامات کا جواب دیں۔لیکن وہ سارےناکام ہوگئے۔۔۔۔۔!!!!
ایک دن مجھے بانی تحریک انصاف اور وزیراعظم کا ڈائریکٹ فون آیا اور مجھے کہاکہ کہ میں نے عثمان بزدار اور اُن کے پرنسپل سیکریٹری طاہر خورشید کو کہا ہے کہ فیاض چوہان کے علاوہ کوئی اور اُس مہرے صحافی کے الزامات کا جواب نہیں دے سکتا۔۔تو آپ اُن دونوں کے ساتھ بیٹھ کر پوری تیاری کے ساتھ ایک وی لاگ کر کے اُن تمام الزامات کا جواب دو۔۔۔۔!!!!
خیر میں اپنی ذمہ داری کے تحت اُس صحافی کے الزامات کا جو جواب دینا تھا وہ دیا۔۔۔۔۔۔!!!!!
اِس پوری تفصیل سُننے کے بعد۔۔۔۔آپ تمام دوست جاننا چاہتے ہونگے کہ فوج کی ایجینسی کا وہ تابعدار صحافی کون تھا۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟ جناب یہ وہ صحافی تھا جس نے جنرل باجوہ کی اطاعت گزاری کے بعد حالات وواقعات کا عمرو عیار اور ابن الوقت کی طرح اندازہ لگا کر پینترا بدل کر جنرل فیض حمید اور عثمان بزدار کے اُنہی آقاؤں اور ماسٹرز کی جھولی میں بیٹھ کر موٹر سائیکل سے لینڈ کروزر اور لوئر مڈل کلاس سے ارب پتی کا سفر طے صرف چار سالوں میں طے کیا۔۔۔۔۔!!!!!
آج وہ نوسر باز پاکستان کی سادہ لوح عوام اور دنیا کےسب سے مظلوم،عقل ودانش اور فہم وفراست سے محروم گروہ “یوتھیا چیپلن” کو پاک فوج کے پاکستان سیاست اور میڈیا میں مداخلت کے مضمرات سے آگاہ کرتا ہے۔۔اور۔۔۔پاک فوج کے خلاف فیک نیوز اور جعلی پراپیگینڈاکے ذریعے نفرت پیدا کرنا اپنا فرض اولین سمجھتا ہے۔۔۔۔!!!!!
جو فوج کی ایجینسی کا کرنل اُسے ڈیل کررہا تھا وہ میرا رشتے دار تھا۔۔۔۔بقول اُس کے یہ صحافی سارا دن ہمارے دفتر کے اردگرد گھومتا رہتا تھا اور ہر قسم کی ڈیوٹی لینے کا طلبگار رہتا تھا۔۔۔!!!!!
حاصل وصول۔۔فوج کے جونئیر افسران کے گھٹے گوڈھے دبا دبا کر میڈیا میں جوان ہونے والا وہ صحافی پچھلے چار دنوں سے اپنے دوسرے صحافیوں اور اینکرز کو تڑیاں لگا رہا ہے کہ وہ فوج سے خوف زدہ اور مرعوب ہیں اور وہ صحافت کے میدان کا وہ دلنشین مور ہے کہ جس نے ہمیشہ فوج کی سیاست اور میڈیا میں مداخلت پر جی گویرا کے انداز سے مخالفت کی ہے۔۔۔۔۔!!!!!!
بد قسمتی یہ نہیں ہے کہ وہ اِس منافقت اور ابلیسیت کا مرتکب ہورہا ہے۔۔۔۔بلکہ لطیفہ یہ ہے کہ یوتھیے اُسے “امام خمینی کا جوائی” اور “نیلسن منڈیلا کی پرجائی” سمجھ کر اُس کے وی لاگ سُنتے ہیں۔۔۔۔!!!!!!!!!!
یوتھیوں کو وہ سقراط اور بقراط کوئی اور نہیں۔۔بلکہ وہ گیلا تیتر ہے جس کے ٹکر کا کوئی اور شخص نہیں اور جو مر جائے گا کٹ جائے لیکن اپنا ملک پاکستان نہیں چھوڑے گا۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!
منافقت زندہ باد۔۔۔۔۔عیاری پائندہ باد
جب تک آخری یوتھیا اِس زمین پر موجود ہے۔۔۔اِس زمین سے نوسربازوں،نوٹنکیوں اور مادر”پِدروں”کی شہنشاہی قائم ودائم رہے گی۔۔۔۔!!!!!
آپ نے اکثر شادی شدہ حضرات کو یہ کہتے ہوئے سنا ہو گا کہ " دفتر سے کام کے بعد بہت زیادہ تھکاوٹ ہونے کی وجہ سے جب گھر لوٹتا ہوں تو بیگم کو ہشاش بشاش دیکھ کر ساری تھکان دور ہو جاتی ہے" ۔۔۔حقیقت یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو خوش دیکھ کر اطمینان
یہ انتہائی اہم ایشو ہے اس پر پہلے بھی بات ہوتی رہی ہے کہ ہم اپنے شہروں میں درخت لگاتے بھی ہیں تو دبئی کی نقل کرکے کبھی کھجور تو کبھی الٹا فانوس۔ حالانکہ اس مٹی کے اپنے مقامی درخت نا صرف آسانی سے اگ جاتے ہیں بلکہ وہ چرند پرند کاnatural habitatبھی ہیں ۔یورپ اور دبئ کی نقل ہر چیز کا بیڑہ غرق کر رہی ہے۔
میں روز دوران ڈیوٹی کوئی پونے دو سو مریض اوسطاً بھگتاتا ہوں۔ ان میں سے پچاس فیصد سے زیادہ مریض آ کر مسئلہ نہیں بتاتے، خواہش بتاتے ہیں
کسی کو سر درد کا شٹی شکین کرانا ہے
کسی کو پیٹ کی الٹرا سونڈ سکرین کرانی ہے کیونکہ معدہ گینس بناندا اے
کسی کو طاقت کی ڈرپ لگانی ہے
کسی کو کوئی
یہاں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ 9مئی کو عمران خان کو جس طرح کالر سے پکڑ کر اٹھایا گیا اس پر خوش نہیں ہونا چاہیے تھا؛ عمران خان جتنا بھی فوج کے کاندھوں پر سوار ہو کر آیا تھا، جتنا بھی فاشسٹ تھا اور جتنا بھی متعصب تھا لیکن سابق وزیراعظم کے ساتھ یہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔
بظاہر سننے میں👇🏼
@SohaibBherthMPA@MaryamNSharif سر اس روڈ پر درمیان میں لگائے گئے divider بلاکس مختلف ہیوی ٹریفک کے ٹکرانے/لگنےکی وجہ سے ٹیڑھے میڑھے ہوکر alignment خراب کر چکے ہیں جو انتہائی خطرناک حادثے کا سبب بن سکتے ہیں۔ سڑک کے افتتاح سے پہلے مُکمل جانچ پڑتال ضروری ہے پلیز
@muzamil_45 اور کُچھ دِنوں/سالوں کے بعد اس ہسپتال کو بھی محکمانہ روایات کے مُطابق آؤٹ سورس تو نہیں کردیا جائے گا؟؟؟
یہاں پر کام کرنے والوں کو نوکری کی کیا گارنٹی ہوگی؟؟؟
نئے لوگ نئی جگہ پر ابھی ٹرینڈ ہوتے نہیں ہیں تو وہاں سے اچھی جگہ بھاگنے کی کرتے ہیں