سندھ میں استاد کا تبادلہ ہوا جوائننگ دینے پہنچا تو پیپلزپارٹی کی 19 سالہ دور حکومت کی لوٹ مار کرپشن کی وجہ سے اسکول کی جگہ موئن جودڑو کا کھنڈر دریافت ہوا ۔
سندھ کی نسلوں کو جاہل رکھنا سندھ کے مستقبل کا قتلِ عام کرنا اس کرپٹ مافیا کا سوچا سمجھا ایجنڈا ہے تاکہ وڈیرہ شاہی قائم رہے۔
ان سرکاری حرام خوروں نے پورےکراچی کو یرغمال بنارکھا ہے ۔ شہر کی گلیوں میں دو دو کی ٹولیوں میں ناکے لگا کر بائیک سواروں کو روکنا،سرِعام رشوت بٹورنا ان حرام خوروں کا روز کا معمول بن چکاہے۔پیپلزپارٹی نے وردی میں بھتہ خوروں کی فوج پال رکھی ہے۔
پورا شہر ان لٹیروں کے ہاتھوں یرغمال ہے۔
جون بانوے کے آپریشن کلین اپ سے پہلے، دوران اور بعد میں پیش آنے والے واقعات کے بارے میں میری کتاب “تاریخ کا قرض” کے بارے میں سینئیر صحافی و تجزیہ نگار عامر ضیاء کے ساتھ بے لاگ گفتگو
The Debt of History | MQM & the 1992 Operation | Amir Zia Full Podcast w... https://t.co/2NQgGg2S1n via @YouTube
اہلیان شہر پر لازم ہے کہ اپنی مدد آپ کے تحت چوکیداری نظام قائم کریں۔ بنا جذباتی ہوئے ہر قسم کی ہمدردی کو بالائے طاق رکھ کر ہر غیر مقامی پر کڑی نظر رکھیں۔ یاد رکھئے کہ آپ کی مدد کو نہ پہلے کوئی آیا نہ اب آئے گا۔ اپنا دفاع اور تحفظ آپ کا قانونی و آئینی حق ہے۔ #Karachi
انکے بابا نے صرف پاکستان بنتے دیکھا تھا تو یہ طعنہ زنی پر اتر آئے۔ کوئی انہیں بتائے جنہیں انکے بابا نے پاکستان بناتے دیکھا تھا وہ ہمارے اجداد تھے۔
ہمارے اجداد جب پاکستان بنا رہے تھے تب انکے اجداد ہندوؤں کی زمینوں و جائداد پر قبضے فرما رہے تھے جس کا یہ آج جھوٹا احسان جتانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ @IMonisJavaid #PPP
آخر ایسا کیوں ہے کہ جن علاقوں میں پیپلز پارٹی برسراقتدار ہے، وہیں ریاست دشمن اور دہشت گرد عناصر زیادہ متحرک نظر آتے ہیں؟
• کراچی: خوارجی حملے اور ملک دشمن جئے سندھ عناصر
• بلوچستان: فتنہ الہندوستان کی دہشت گرد کارروائیاں
• کشمیر: JAAC کی سرگرمیاں
یہ محض اتفاق ہے؟
یہ گدھے کی اولادیں پتہ نہیں کس خمار میں یہ باتیں کرلیتی ہیں۔کراچی کو کوئی دبئی سے کوئی پیرس سےملارہا ہے۔اور اب یہ گدھا۔
یہ کراچی کو جرائم کے لحاظ سے نیو یارک سے بہتر بتارہاہے،
یہ اتنا بتادےکیا نیویارک میں بھی شارٹ ٹرم کڈنیپنگ کرنے والے، رشوت خور سیاسی بھرتی شدہ پولیس والے ہیں؟
کراچی کو سندھ کا اٹوٹ انگ قرار دے کر تاریخ کو مسخ کرنے والے سندھی نسل پرست پہلے تاریخ پڑھیں۔ 1893ء کے عثمانی نقشے میں بلوچستان کے دو اہم شہر واضح درج ہیں: "کوراجی" (کراچی) اور قلات۔ جذبات نہیں، تاریخ اور مستند نقشے بولتے ہیں۔
https://t.co/eRAPfzwT48
کراچی کےبڑے اسپتال کے واش روم میں غریب کا بچہ پیدا ہو رہا ہے اور PPP کی وزیرِ صحت ڈاکٹرز کو کلین چٹ دے رہی ہیں! شرم کا مقام ہے، یہ ہے 19سالہ بدترین گورننس کا شاہکار؟ انسانیت کا جنازہ نکل چکا ہے، لیکن حکمرانوں کی بے حسی ختم نہیں ہوتی۔
ساری غلطی بچے ہی کی ہے باقی سب بے قصور ہیں ۔
بلکل @nadeem_nusrat بھائی کی اس کتاب سے ایم کیو ایم میں اتار چڑھاؤ اور کس نے کب کیا کردار ادا کیا پتہ لگے گا اس کتاب کا مطالعہ نئی نسل کو کرنا چاھیئے جن کو این کیو ایم کی تاریخ کے حوالے سے کچھ نہیں پتہ
#Karachi
اس کتاب کی کچھ جھلکیاں۔۔۔
دیباچہ
اس کتاب کا بنیادی مقصد کیا ہے؟
یہ کتاب غیرجانبدار ہے، اسکا مقصد کسی کی حمایت یا مخالفت نہیں
پیش لفظ
ایم کیو ایم میں "بغاوت" کا انکشاف
یہ کتاب پارٹی لٹریچر نہیں ہے
کردار کشی اور ذاتیات سے گریز
پہلا باب
پس منظر
دوسرا باب
الطاف حسین ایم کیو ایم میں ’’بغاوت‘‘ کا انکشاف کرتے ہیں
آفاق احمد، بدر اقبال اور عامر خان کا ایم کیو ایم سے اخراج
الطاف حسین کی ٹانگ پر گولی مارنے کی افواہیں
چوتھا باب
جلاوطنی کا آغاز
پانچواں باب
سعودی عرب میں مصروفیات اور قیام
سندھ کےمشیر داخلہ عرفان اللہ مروت کی جدہ آمد
پاکستان واپس جانے، نہ جانے کا فیصلہ
چھٹا باب
وزیر اعلی سندھ جام صادق علی اور ایم کیو ایم
شہزاد مرزا کا قتل
آفاق احمد اور عامر خان کی امریکہ سے اچانک واپسی اور پریس کانفرنس
وزیراعظم نواز شریف سے لندن میں ملاقات
وزیراعظم کی جانب سے الطاف حسین کو اسلام آباد لیجانے کی پیشکش
آپریشن کے بارے میں حکومتی دعوؤں اور بیانات میں تضاد
برطانیہ میں قیام جاری رکھنے کے مسائل
ساتواں باب
انیس جون ۱۹۹۲ کا آپریشن شروع ہوتا ہے
آپریشن کا آغاز
وزیراعظم نواز شریف سے لندن میں رابطہ کی کوششیں
صدرمملکت غلام اسحق خان سے رابطہ
وزیراعلی سندھ مظفرحسین شاہ اور ٰآئی جی سندھ پولیس معین الدین خان سے گفتگو
ایم کیو ایم روپوشی میں چلی جائے---
آٹھواں باب
ایم کیو ایم آپریشن کلین اپ کا مرکزی ہدف بن جاتی ہے
جنرل آصف نواز کی ایم کیو ایم کی قیادت سے وہ میٹنگ جو نہ ہوسکی
سینیٹر اشتیاق اظہر ایم کیو ایم کے ترجمان بن کر سامنے آتے ہیں صدرمملکت غلام اسحق خان سے دوبارہ رابطہ
جنگ لندن نے بھی نگاہیں پھیرلیں
ٹارچر سیل چلانے اور جناح پور کے الزامات
ذرائع ابلاغ میں منفی خبروں کا طوفان
میڈیا الزامات اور الطاف حسین کی علالت
نواں باب
نئی آزمائشوں کا آغاز
کارکنوں اور میڈیا سے رابطوں کے مسائل
موبائل فونز کی خریداری اور بلوں کی ادائیگی ایک مسئلہ
لندن میں پہاڑ جیسا فون بل اور قانونی نوٹسز
دسواں باب
لندن میں قانونی قیام جاری رکھنے کا چیلنج اور سیاسی پناہ کی درخواست
روزنامہ امن سے تاریخی رشتہ کا آغاز
ایچ اقبال اور پاکیشیا
گیارہواں باب
اراکین اسمبلی کی وفاداری کی تبدیلی ۔۔۔اسمبلیوں سے استعفے
اداروں کی جانب سے ایم کیو ایم کو مذاکرات کی دعوت
اراکین اسمبلی کو منظر عام پر لانے کی کوشش۔۔۔ایک رکن اسمبلی کے سر کی قیمت
بارہواں باب
تعطل کے بعد مذاکرات کا آغاز اورایک نیا بحران
امین الحق اور خالد ندیم کی گرفتاری اور حقیقی میں شمولیت
امین الحق اور خالد ندیم کی گرفتاری پر الطاف حسین کا غیرمعمولی ردعمل
تیرہواں باب
چئیرمین ایم کیو ایم عظیم احمد اچانک منظر عام پر آتے ہیں
عظیم احمد طارق نے ایم کیو ایم کی قیادت سنبھال لی
چودہواں باب
ایم کیو ایم کی بحالی یا نئی حقیقی: نئے کنفیوژن کا آغاز
الطاف حسین ’’مائنس‘‘ ہی رہیں گے
پندرہواں باب
ایم کیو ایم کی بحالی الطاف حسین کی ریٹائرمنٹ کے اعلان سے مشروط
سولہواں باب
اختیارات و ذمہ داریاں چیئرمین عظیم احمد طارق کے سپرد
حاجی کیمپ سے بنگلے تک کا سفر
بنگلے میں الطاف حسین کیخلاف نازیبا زبان کا استعمال
سترہواں باب
لندن کے حالات ۔ مالی چیلنجز
خلیل صدیقی اور میں لندن میں ملازمت کرتے ہیں
اٹھارواں باب
جنرل آصف نواز کا انتقال اور ایم کیو ایم کی بحالی
آصف نواز کی ایم کیو ایم دشمنی ۔۔۔ممکنہ وجوہات
جنرل آصف نواز سے معافی
انیسواں باب
رابطہ کمیٹی کا قیام، نئے آئین کی تشکیل
عظیم احمد طارق نے مرکزی کمیٹی کی سرگرمیاں معطل کردیں
عظیم احمد طارق سے بدتمیزی کا افسوسناک واقعہ
کچھ یادیں، کچھ باتیں - عظیم احمد طارق اور ایس ایم طارق
بیسواں باب
حالات ایک بار پھر بگڑنے لگے
عوام و کارکنوں سے آڈیو ٹیپس کے زریعہ رابطہ
بریگیدئیر امان اور کرنل عبید کی لندن آمد
بریگیڈئیر امان کی ڈاکٹر عمران فاروق سے کراچی میں ملاقات
انتخابات کی تیاریاں ۔ قربانیاں دینے والوں کو ٹکٹس دیئے جاتے ہیں
عامر خان اور امین الحق کی ایم کیو ایم میں واپسی کی خواہش
اکتوبر ۱۹۹۳ کے انتخابات، ایم کیو ایم بائیکاٹ پر مجبور
ایم کیو ایم کو صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کی دعوت ۔ رکاوٹوں کا عارضی خاتمہ
انتخابی جوش و خروش ۔ پولنگ اسٹیشنز پر عوام کا اژدھام
بینظیر کی وزارت عظمی اور ایم کیو ایم کیخلاف نئے آپریشن کا آغاز
اکیسواں باب
ڈاکٹر عمران فاروق کہاں روپوش رہے۔۔۔ اصل حقیقت
بائیسواں باب
انٹرنیشنل سیکریٹیریٹ کی ٹیم کا ناقابل فراموش کردار
ڈاکٹر بیرسٹر فاروق حسن کا ناقابل فراموش کردار
انٹرنیشنل سیکریٹریٹ کی ٹیم
اختتامیہ
اگست 2016 میں ایم کیو ایم کی تقسیم پارٹی کیلئے ایک بڑا سیاسی دھچکہ ضرور تھا, لیکن یہ پہلا بحران نہیں تھا کیونکہ ایم کیو ایم نے اس سے پہلے بھی متعدد بحرانوں کا سامنا کیا، جن میں 19 جون 1992 کا آپریشن کلین اپ بلاشبہ سرفہرست ہے- آج 34 برس کا طویل عرصہ گزر جانے کے بعد بھی اس آپریشن کا سامنا کرنے والے کسی بھی فرد کے ذہن سے اس دور کی ہولناک یادیں محو نہیں ہوتیں۔
اس آپریشن کا باضابطہ آغاز تو جون 1992 میں ہوا لیکن اس کے آثار 1991 سے ہی سامنے آنا شروع ہو گئے تھے۔ میں کراچی سے لندن تک اس دور کے بیشتر اہم واقعات کا شاہد ہوں اور میری کتاب “تاریخ کا قرض” ایم کیو ایم کی تاریخ کے اس اہم ترین دور کو محفوظ کرنے کی ایک کوشش ہے۔ یہ کتاب کافی عرصہ پہلے مکمل ہوگئی تھی لیکن کچھ وجوہات کی بنا پر اسے جاری نہیں کیا جاسکا۔ محترم مظہر عباس صاحب نے اس کتاب کے مسودے کا مطالعہ کرکے گزشتہ برس اس حوالے سے ایک ٹوئٹ کردی تھی، جس کے بعد بہت سے احباب نے کتاب کی فرمائش کی، اس لئےمیری کوشش ہے کہ پہلا ایڈیشن ان احباب کو بھیج سکوں جبکہ کوشش ہے کہ آن لائن پلیٹ فارمز پر بھی یہ کتاب جلد دستیاب ہوسکے۔
اس کتاب میں ذاتیات سے مکمل طور پر گریز کرتے ہوئے صرف واقعات پر توجہ دی گئی ہے۔ میری یہ پوری کوشش رہی کہ ان تاریخی واقعات کو پوری سچائی اور ایمان داری سے بیان کیا جائے، لیکن انسانی غلطی کا احتمال بہرحال ممکن ہے جسکے لئے پیشگی معافی کا خواستگار ہوں۔
قارئین اس کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بات ذہن میں رکھیں کہ یہ پارٹی لٹریچر نہیں بلکہ تاریخ کو محفوظ کرنے کی کوشش ہے۔
ایم کیو ایم اور متعلقہ موضوعات کے اس سلسلے کی اگلی جلدوں پر کام جاری ہے جنہیں جلد آپ کی خدمت میں پیش کیا جائے گا۔
جس جماعت کے شہید، لاپتہ و اسیر ہوئےہزاروں کارکنان نے قوم کی فلاح، مستقبل اور مقاصد کیلئے اپنی جانیں تک قربان کرنے سے دریغ نہیں کیا، آج وہ جماعت پیپلز پارٹی کے نسل پرستانہ اور مہاجر دشمن اقدامات پرمحض اسکی بی ٹیم بنی بیٹھی ہے: اراکین مرکزی کمیٹی
#Karachi#Pakistan#Sindh
عوام و کارکنان اس قیادت سے یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ عہدوں کی جنگ میں جس بھاگ دوڑ کا مظاہرہ کیا جارہا ہے وہ دیرینہ عوامی مسائل پر کیوں نظر نہیں آتی؟
غیر ذمہ دارانہ بیانات اور غیر ضروری تقاریر نے سیاسی مخالفین کو پارٹی کا مذاق بنانے کا موقع فراہم کیا: مرکزی کمیٹی
#Karachi
ایم کیو ایم پاکستان کی موجودہ اندرونی صورتحال ،جاری اختلافات اور محاذ آرائی انتہائی افسوسناک ہے: وائس آف کراچی
شہری سندھ تباہ و برباد ہو چکا ہے. شہریوں کوبجلی پانی میسر ہے، نہ تحفظ و روزگار۔ حالیہ بجٹ میں بھی شہری سندھ کو کچھ نہیں ملا : مرکزی کمیٹی
#Karachi#Pakistan#Sindh
اعلی تعلیم یافتہ نوجوان بھی فوڈ ڈلیوری اورمعمولی ملازمتوں پر مجبور ہیں۔ پارٹی عہدیداروں کی آپسی چپقلش کے باعث قیادت عوام میں اپنی قدر اور ساکھ کھو چکی ہے جبکہ پارٹی کا ووٹ بینک بھی شدید متاثر ہوا ہے۔ سنگین حالات میں جھگڑے مہاجر قوم سے کھلواڑ کے مترادف ہے: مرکزی کمیٹی
#Karachi
@prohibent@wajeehmqmuk بربادی تباہی دو قبرستان آباد ہوۓ ۔ہرزاروں کارکنان کی شہادت ہزاروں بہنیں بیوہ ہوئیں ہزاروں ماؤں کے اپنے لخت جگر گنواۓ ہزاروں معصوم بچے یتیم ہوۓ اور ان سب کو ان قربانیوں کے بدلے کیا ملا لاتعلقی سندھو دیش کے قائد بن گئے اب مہاجروں کا ان سے کیا تعلق ؟؟؟؟