🚨بیرسٹر گوہر سہیل آفریدی کے حق میں بول پڑے
سہیل آفریدی نے کچھ غلط نہیں کیا، انہوں نے لانگ مارچ کیا تھا۔ حکومت نے ان کے ساتھ جو سلوک کیا، وہ غلط تھا۔ گوہر خان
پنجرے میں بند کیا ہوا تھا ایمان مزاری اور ہادی علی کو، ہمیں دور سے دیکھنے کی اجازت دی گئی، یہ کیا کُت خانہ مچایا ہوا ہے اس ملک میں، یہ کوئی ریاست ہے؟ شیریں مزاری
تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی قیادت پشاور پہنچ گئی۔ محمود اچکزئی، علامہ ناصر عباس، اختر جان مینگل اور سینیٹر مشتاق نے گورنر راج کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی
عمران خان گرفتار
بشری بی بی گرفتار
علیمہ خان گرفتار
نورین نیازی گرفتار
ڈاکٹر عظمی خان گرفتار
حسان نیازی گرفتار
قاسم زمان گرفتار
شرجیل نیازی گرفتار
شاہ محمود قریشی گرفتار
ڈاکٹر یاسمین راشد گرفتار
عالیہ حمزہ گرفتار
حماد اظہر گرفتار
میاں محمود الرشید گرفتار
اعجاز چوہدری گرفتار
عمر سرفراز چیمہ گرفتار
وزیر اعلی سہیل آفریدی گرفتار
شاہد خٹک گرفتار
جنید اکبر گرفتار
خالد خورشید گرفتار
عبداللطیف چترالی گرفتار
صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد علی اغوا
صوبائی وزیر فضل شکور اغوا
صاحبزادہ حامد رضا گرفتار
فردوس رائے گرفتار
صنم جاوید گرفتار
فلک جاوید گرفتار
عبدالسلام آفریدی گرفتار
محمد ریاضُ گرفتار
سلطان روم گرفتار
یامین خان گرفتار
محمد اعظم خان گرفتار
فتح الملک ناصر گرفتار
داوڑ کنڈی گرفتار
بابر سلیم سواتی گرفتار
1500 کارکنان ایک دن
اور 1000 کارکنان ایک دن میں گرفتار
14* کارکنان 26 نومبر کو شہید
25 کارکنان 9 مئی کو شہید
8 کارکنان جیل میں علاج نا ہونے کے سبب شہید
1200 کارکن زندگی موت کی کشمکش میں ہیں تاحال مختلف انجریوں کا شکار ہیں
قاسم سوری جلا وطن
ڈاکٹر شہباز جلاوطن
ہمارے جیسے کئی لوگ جلاوطن
کئی کے رشتے ٹوٹ گئے
کئی تاحال لاپتہ
سلمان اور جہانگیر دوبئی میں گرفتار
سینکڑوں پاسپورٹ بلاک
سینکڑوں شناختی کارڈ بلاک
سینکڑوں کاروبار تباہ
بس کر دو یار ہزاروں گھر اجڑ گئے ہیں لوگوں کی زندگیاں آسان کرو ایک جماعت سے ایسا سلوک کیوں کر رہے ہو پاکستان پر رحم کرو
باوثوق ذرائع کی خبر ہے کہ پولیس کے سپاہیوں کی وردیاں فوجیوں کو پہنائی جائیں گی اور فوجی اہلکاروں کو کہا گیا ہے کہ پولیس ہر ہمیں اعتبار نہیں آپ نے اس لانگ مارچ کا بندو بست کرنا ہے، فوجی کمانڈروں کی یہ ڈیوٹی نہیں ہے کہ عوام پر ظلم کریں۔ فوج آئینی، قانونی اور اخلاقی طور پر پابند ہے کہ غیر آئینی اور غیر قانونی کام سے انکار کرے آپ کا یہ کام نہیں ہے کہ سیاسی کارکنوں کو فکس کرنے کے لیے اپنے بندوں کو یونٹس سے فارغ کر کے انہیں پولیس کی وردیاں پہنائیں، ملزمان کا ٹریک ریکارڈ دیکھتے ہوئے بہت حد تک ممکن ہے کہ یہ یہی حرکت کر سکتے ہیں، عالمی قانون اور انٹرنیشنل کورٹ کے دائرہ کار کے لحاظ سے ہر فوجی کمانڈر پابند ہے کہ اپنی چین آف کمانڈ کے اندر کسی بھی غیر اخلاقی اور غیر انسانی سلوک کا زمہ دار ہو گا، جینیوا کنونشن اور انسانی حقوق کے قوانین ہوتے ہیں جس کا اطلاق پاکستان کے اندر بھی ہوتا ہے اس کی کوئی بھی اگر خلاف ورزی ہو گی تو پوری چین آف کمانڈ زمہ دار ہو گی یہ نہیں ہو گا کہ صرف فیلڈ مارشل زمہ دار ہو گا نیچے والا کپتان بھی زمہ دار ہو گا، یہ بہت خطرناک صورتحال ہے پولیس کی ٹریننگ ہوتی ہے پبلک سے ڈیل کرنے کی، فوج کی کوئی ٹریننگ نہیں ہوتی، ایک فوجی کی پبلک ڈیلنگ میں کوئی تربیت نہیں ہوتی، جب آپ اس قسم کا کھیل کھیلنے کی کوشش کریں گے تو خدا نخواستہ کوئی Disaster ہو سکتا ہے اور یہ پاکستان کو آگ لگانے والی بات ہے۔
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLaw