ابھی تک مر چکے ہوتے تمہارے باپ، آئی سی یو کا ایک دن کا خرچہ 20 ہزار ہے۔
چن چن کر مصطفی کمال جیسے بے حس،بدمعاش، بیشرم، نا اہل،بے غیرت اور مسترد لوگوں کوایسٹیبلشمنٹ نے فارم 47 پر عوام پر مسلط کیا ہوا ہے
صُوبہ اسلام آباد کے رہائشی ۔۔۔
صدر
وزیر اعظم
نائب وزیر اعظم
سینیٹ چیئرمین
سپیکر قومی اسمبلی
چیف جسٹس پاکستان اور ججز
چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت اور ججز
چیف جسٹس اسلام آباد اور ججز
وزیر صحت
وزیر داخلہ
وزیر خارجہ
وزیر دفاع
وزیر تعلیم
فیلڈ مارشل/چیف آف ڈیفنس فورسز/آرمی چیف
ائیر چیف مارشل
نیول چیف
ڈی جی آئی ایس آئی
چیف الیکشن کمشنر
100 سینیٹرز
336 ممبران قومی اسمبلی
کمشنر
ڈپٹی کمشنر
سی ڈی اے چیئرمین
آئی جی پولیس
درجنوں وزیر/مشیر
دسیوں درجن سینئیر بیوروکریٹس
جس دن ان سب کے بچے اسلام آباد کے سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرنا شروع کر دیں اور ان کا علاج اسلام آباد کے دونوں سرکاری ہسپتالوں میں ہونا شروع ہو جائے تو سارے پاکستان میں حالات بہتر ہو جائیں گے۔ پھر جتنے چاہے صوبے بنا لیں۔
مائیں اپنے بچوں کو نو ماہ اس لئے کوکھ میں نہیں رکھتیں کہ کسی کی غفلت کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہی وہ زندہ جل جائیں، وفاقی دارالحکومت میں 14 نومولودوں کا جاں بحق ہونا انسانی تاریخ کا ایک بدترین سانحہ ہے، جن کی امیدوں کے چراغ روشن ہوتے ہی بجھادئیے گئے، وہ بے بس باپ انصاف مانگ رہے ہیں۔
@GFarooqi I always agree with you. But the truth is that army officers or soldiers are not allowed to open fire even their guns should be pointed to the ground. @GFarooqi you are on their side. That's why they have more power so they can do whatever they want to do with ordinary people
The controls mark “an alarming step” in Pakistan’s “narrowing space for press freedom,” said Patricia Gossman of Human Rights Watch, calling for them to be “immediately reversed”.
https://t.co/5lh9aHDBdB