Development Practitioner by choice |Economic, Social & Political rights|Governance| Rights Based Activism| Hunzai| Foodie| Nature lover @GilgitBaltistan
پیپلز پارٹی پارلیمانی بورڈ جس میں پنجاب سے ایسے سیاستدان شامل ہیں جو خود پارٹی کے لیے نشست جیتے بغیر خیراتی سیٹ پر ہے انہون نے واقعی میں مخصوص نشستوں کو خیراتی نشست بنایا تاکہ ہر دفعہ گلگت جانے پر پکنگ پر آسائش اور بہتر رہیں۔ عوام کا سخت ردعمل۔ بدترین فیصلے
ویلڈن مسلم لیگ نواز۔ کم از کم پارلیمانی بورڈ خواتین کی مخصوص نشستوں پر منتخب کرنے کے حوالے بہترین فیصلے کرنے پر عوام کی پزیرائی کے مستحق ہے۔ آپ نے اس سیٹ کی legitimacy کی پرواہ کرتے ہوئے، بلیک میل ہوئے بغیر منصفانہ علاقائی نمائندگی اور دیرینہ سیاسی ورکرز کو پیراشوٹ پر فوقیت دی۔
ویلڈن مسلم لیگ نواز۔ کم از کم پارلیمانی بورڈ خواتین کی مخصوص نشستوں پر منتخب کرنے کے حوالے بہترین فیصلے کرنے پر عوام کی پزیرائی کے مستحق ہے۔ آپ نے اس سیٹ کی legitimacy کی پرواہ کرتے ہوئے، بلیک میل ہوئے بغیر منصفانہ علاقائی نمائندگی اور دیرینہ سیاسی ورکرز کو پیراشوٹ پر فوقیت دی۔
بلا تبصرہ!!!
الیکشن میں جو جو تھرڈ اور فورتھ رینک پر آئے ہیں، اگر گئیر نہ بدلی تو کھائی میں گر سکتے ہیں، وہ بھی ریورس میں۔۔۔ 😄چالاکی کم اور جمہوری رویہ رکھیں
ویسے یہ “موٹی گئیر” کون سی ہوتی ہے؟ 😆😆
With due respect, if you or commission is genuinely concerned about addressing locals compliances in constituencies then why neglected such concerns in 2024 from your own people in punjab. People of GB gave ppp a mandate, it should be respected.
گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے تقریباً 28 فی صد اور مسلم لیگ ن نے 22 فی صد ووٹ حاصل کیے ۔۔ غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کیمطابق پی پی پی نے 10 اور مسلم لیگ ن نے 6 نشستیں جیتیں
جبکہ دو آزاد امیدوار مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ تھے
پیپلز پارٹی کے چئیرمین اچھی طر ح جانتے ھیں کہ اعلٰی مسلم لیگی قیادت نے الیکشن کے بعد 72 گھنٹے کے اندر از خود رابطہ کر کے صدر زرداری اور انھیں پیپلز پارٹی کو گلگت بلتستان اسمبلی میں سنگل لارجسٹ پارٹی تسلیم کرتے ھوۓ حکومت سازی میں حمایت کرنے کا عندیہ دیدیا تھا
مسلم لیگ ن کا مقصد GB کو ھارس ٹریڈنگ اور سیاسی سودے بازی سے بچانا تھا
اسکے باوجود ppp قیادت کی جانب سے مسلم لیگ پر الزام تراشی یا توھین آمیز رویہ اختیار کرنیکا کوئ جواز تھا نہ ھے ۔۔
15 جون کو چند حلقوں میں ھونیوالے جزوی انتخابات کروانے کی مکمل ذمہ داری مقامی شکایت کنندگان اور الیکشن کمشن پر ھے ،مسلم لیگ ن کے ایک حلقے کے نتائج کو بھی چیلنج کیا گیا ھے ،
کراچی کی مقامی حکومت حاصل کرنے کیلئے ھر حربہ استعمال کرنے والے اور ھماری ضمانت پر MQM کے ساتھ کیے گئے وعدوں سے پھرنے والے مسلم لیگ ن کو لاھور میں حکومت سازی کے طعنے نہیں دے سکتے ۔۔۔
ھم PPP قیادت کی بہت عزت کرتے ھیں لیکن احترام کی یک طرفہ ٹریفک نہیں چل سکتی ۔!!!
گزارش یہی ھے کہ ---- اتنی نا بڑھا پاکئ ِ داماں کی حکایت
@ShujaaAzmi Wont work because power gravitates towards those with existing political capital and lets be real the ones who have that capital are venomous ethnofascists.
مخصوص نشست کا انتخابی حلقہ پورا صوبہ ہوتا ہے، فہمیدہ کا ہنزہ میں رہائش نہ رکھنے کی وجہ سے ہنزہ سے تعلق ختم نہیں سکتا لہٰذا اپنے بغض اور احساس کمتری میں کسی قابل خاتون لیڈر کا راستہ نہ روکیں۔ ایسے مرد اور عورتیں جو روپیہ پیسہ بانٹ سکتا ہے ہوٹلوں میں کھلا سکتے ہیں انہیں اپنا لیتے
Overall vote bank increased in Hunza, hopefully PPP leadership may consider a competent and dedicated Woman leader for govt at least. As list already submitted so not possible to elect on reserved seat @BBhuttoZardari@bercha_i@ABhuttoZardari
Overall vote bank increased in Hunza, hopefully PPP leadership may consider a competent and dedicated Woman leader for govt at least. As list already submitted so not possible to elect on reserved seat @BBhuttoZardari@bercha_i@ABhuttoZardari
@24NewsHD اس بونگے دانشور کی بیگم جو لباس پہنتی ہے کچھ اس سے کوئر لیول اور مائنڈ سیٹ اسے فحاشی سمجھتے ہیں اور جس پروفیشن سے یہ اور اسکی بیگم کما رہے ہیں وہ ہے ہی حرام۔ پھر مریم نواز پہلے دونوں پر پابندی لگائیں
پاکستان پیپلز پارٹی نے کل مجموعی ووٹ کا 30 فیصد لیا ہے جبکہ مسلم لیگ نون نے 22 فیصد۔ استحکام پاکستان 8 فیصد ووٹ۔۔۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے چوبیس جنرل نشستوں میں سے دس اور پاکستان مسلم لیگ نون نے چھ نشستیں لی ہیں جبکہ استحکام پاکستان نے کوئی نشست نہیں جیتیں
@MaleehaManzoor@BBhuttoZardari@marvi_memon Madam, people of GB have a great memory, they knew, ppp stood for them since 70’s and whatever they achieved in terms of legislative power coz of ppp. There might be strong loopholes in your bill they might be rejected. Thanks for respecting voters choice
گلیوں اور سڑکوں کی گندگی باآسانی صاف کیا جا سکتا ہے لیکن ذہنوں کی گندگی، بغض، اور رویوں کی وحشت صدیوں بعد بھی ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ کراچی پروگریسو لوگوں کا شہر ہے، ہر نسل، علاقے، جنس، معاشی حیثیت کا انسان پناہ لیا ہوا ہے، بس ہنزہ کراچی کے نقش قدم پر چلیں کسی کے لیے زمین تنگ نہ کریں
ان آزاد امیدواروں کی جیت پر فخر کیسا، جو حلقے سے آپکی پارٹی کے منشور/مینڈیٹ کے خلاف ووٹ لے کر جیتی ہیں۔ انکے ووٹرز نے آپکے مینڈیٹ کے خلاف امیدوار کو ووٹ دیا اور امیدوار نے مفاد کی خاطر اکیلے آپکی جماعت جوائین کیں ایسے نظام پر فخر نہیں ہریشانی ہونی چاہیے، ووٹرز کے ساتھ ناانصافی
پچھلے 48 گھنٹے میں تواتر کے ساتھ سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر مسلم لیگ ن کو GB انتخابات میں بڑی شکست ھونے کا تاثر درست نہیں ھے
مسلم لیگ ن نے چھ نشستیں جیتی ھیں جبکہ ھمارے حمایت یافتہ دو آزاد امیدوار ڈاکٹر اسد شفیق ( گھانچے )جی بی 24 اور سیٹھ انور ( گھانچے ) جی بی 23 کامیاب ھوۓ ھیں ،
پیپلزپارٹی 10 اور مسلم لیگ ن 8 کے نمبرز پر کھڑی ھیں ۔۔
پیپلز پارٹی نے انتخابی مہم ھم سے بہت پہلے شروع کی، GB میں انکا تنظیمی ڈھانچہ ھم سے بہتر تھا، انکی مرکزی قیادت وھاں دو ماہ سے مصروف عمل تھی ، انکی مرکزی قیادت کی جانب سے مہیا کردہ اخراجات کا بے محابا استعمال کیا گیا ، انھیں اخراجات کی کوئ فکر نہیں تھی ،
مسلم لیگ ن حسب ِ روایت کافی تاخیر سے حرکت میں آئ ، کوئ پارٹی فنڈ دستیاب نہیں تھا ، مقامی اندرونی گروپنگ نے پہلے ھی صورتحال کمزور کر رکھی تھی جسکی طرف مرکز نے کبھی خاطر خواہ توجہ نہیں دی ، امیدوار موجود تھے لیکن electable s بہت کم تھے ،
دوسری طرف پی ٹی آئ کے ووٹرز کی بڑی تعداد نے اپنی جماعت کو میدان میں نہ پا کر مسلم لیگ ن کی بجاۓ ppp کو ووٹ دیا
بڑھتی ھوئ مہنگائ نے بھی Pml N کی مقبولیت پر اثر ڈالا
اس سب کے باوجود آٹھ نشستیں جیت لینا، کامیاب عوامی جلسے ، ریلیز ، کارنر میٹنگز کا انعقاد کرنا جن میں ھزاروں افراد نے شرکت کی ، تقریباً ھر حلقے میں موثر انتخابی مہم چلا کر متاثر کُن ووٹ حاصل کرنا بڑی کامیابی ھے ، ھمارے چند امیدوار بہت ھی کم مارجن سے ھارے ۔۔۔
برادرم امیر مقام ، کیپٹن صفدر ، مرتضے جاوید عباسی ، ڈاکٹر عباد ، عابد رضا کوٹلہ خصوصی شاباش کے مستحق ھیں ، یہ لوگ دن رات محنت کرتے رھے ۔۔
میری راۓ میں پارلیمانی نظام چلانے کیلئے مسلم لیگ ن حکومت سازی میں ppp سے تعاون کرے لیکن کوئ وزارت نہ لے ،
گلگت بلتستان میں Pml N کیلئے اپوزیشن کا کردار ادا کرنا زیادہ بہتر ھو گا ۔۔
لیپ ٹاپ اسکیم، مفت سولر پینلز، موبائل ہیلتھ وین۔۔۔
انصافی نشست کی جعلی نوٹیفیکشن کا ششکہ، بجلی کے منصوبے کا ششکہ، ائیر پورٹ کی اکیسٹنشن کا ششکہ اور کئی درجن وعدے۔۔
دوجنوں وفاقی وزراء کے کمپین میں شرکت۔۔۔
پھر بھی اس طرح کے بیانات💁
بالکل!! گلگت بلتستان کے عوامی مسائل دوسرے خطوں سے مختلف نہیں ہے لیکن بنیادی اور اہم مسئلہ اسکی آئینی شناخت اور ایوان کی خود مختاری کا ہے، اس حوالے سے جو پیش رفت ہوئی ہے وہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت۔وفاق میں پی ٹی آئی ہو یا پی ایم ایل این عوام پیپلز پارٹی کا انتخاب کرئے گی۔
جماعت اسلامی کو گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کی کامیابی پر حسد نہیں کرنا چاہیے۔ پیپلز پارٹی ایک قومی جماعت ہے جس کے گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور ملک بھر کے عوام سے نسل در نسل مضبوط تعلقات ہیں۔
گلگت بلتستان کے عوام نے ترقی کے لیے پیپلز پارٹی کا انتخاب کیا ہے۔ عوام باشعور ہیں اور جانتے ہیں کہ کون خدمت کر رہا ہے اور کون صرف تنقید برائے تنقید۔ حافظ صاحب کی روزانہ پریس کانفرنس میں کوئی نئی بات نہیں ہوتی، صرف عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔