Horrifying footage appears to show police firing directly at PTI protesters, leaving civilians wounded. Why? Demanding the release of their elected political leader and standing by democracy.
Those responsible for ordering and carrying out this brutality must be held accountable. Relentless bloodshed and fearmongering from Asim Munir’s petrified regime. Scared people often lash out with the most cruel brutality, and that’s what we’re seeing here. A man terrified to lose power, and terrified of his own people’s will.
The world must watch and take action. We absolutely must take a united stand against tyranny and evil.
🚨خیبر باڑہ بازار احتجاج سے نوجوان کی دہائی۔
ڈی پی او صاحب اپکے کارکنان ہمارے اوپر سیدھی فائرنگ کر رہی ہے شدید انسو گیس شیلنگ کر رہی ہے جس سے ہمارا ایک کارکن زخمی ہو چکا ہے۔ اہم گورنر راج کے خلاف پر امن احتجاج کر رہے تھے جو کہ ہمارا ائینی اور قانونی حق ہے۔
نادر بلوچ نے فیصل واوڈا کی جئی تئی پھیر دی ۔۔
آپ نے 13 سال کی بات کی شہباز شریف حکومت نے معیشت کی تباہی کے علاوہ کیا کیا ہے غریب کو مہنگائی کی چکی میں پیس کر رکھ دیا ہے ایک دھیلے کی اس ملک میں سرمایہ کاری نہیں آئی ۔۔
To those who believe stability can be achieved by ousting an elected provincial government, concentrating power and discarding democratic freedoms, Pakistan’s history stands testimony to how disastrous that path has been for the country and the people.
رجیم چینج کی رات عمران خان کے الفاظ تھے، ”اللہ الحق ہے۔ سچ کا خدا ہے”۔
ارشد شریف نے کہا، ”عمران خان نے بہت بڑا کام کیا۔ سب کو ایکسپوز کردیا“۔
گذشتہ مدت میں بہت بار سُنا میں نے، ”مراد سعید کے لڑکے“، ”مُراد سعید کے لڑکوں نے عمران خان کو بیچ دیا“، ”ُمراد سعید کے لڑکوں نے عمران خان سے غداری کی“۔ اللہ گواہ ہے مراد سعید کی کوئی ٹیم نہیں۔ مراد سعید خود محض عمران خان کی مرہون منت ہے۔ پھر بھی مجھے فخر ہے کہ “مراد سعید کے لڑکوں نے“ اپنے لیڈر عمران خان کی طرح حکومت قربان کردی اپنی قوم کا سودا نہیں کیا۔ عمران خان سے ملاقات کے بدلے پختونوں کے خون کی بلی مانگنے والے ہوس پرست درندوں کے سامنے سرینڈر نہیں کیا۔ جس طرح عمران خان نے رجیم چینج کی رات ہر نام نہاد محب وطن، ہر زبان و کلام کے جمہوری، ہر دکھاوے کے وطن پرست کے چہرے سے نقاب نوچا تھا آج اُس کی ٹیم نے بھی ان غاصبوں کو مجبور کردیا کہ اپنے گھناؤنے منصوبوں کے ساتھ کھل کر سامنے آئیں اور قوم کے سامنے اپنے لفظوں میں اقرار کریں کہ عمران خان کے نام پر بنی حکومت۔ اس کے منتخب کردہ وزیر اعلی کا جرم اپنے لوگوں کی زندگیوں کو اقتدار پر مقدم رکھنا تھا۔ قوم اپنے غداروں کے چہرے دیکھ اور جان چکی ہے۔
مجھے ہمیشہ سے اس بات کا یقین رہا ہے کہ عمران خان کی زندگی کی ضمانت، اس امر میں پوشیدہ ہے کہ ہم عمران خان کے نظریے کو اس طرح رپلیکیٹ کریں کہ یہ گمان ذائل ہوجائے کہ عمران خان کو قید رکھ کر، اسے دنیا سے کاٹ کر اس جدوجہد کو روکا جاسکتا ہے۔ آج ہم نے ثابت کردیا ہے کہ سلاخوں کے پیچھے سے بھی عمران خان اپنی قوم کا سودا کرنے سے انکاری ہے۔ کہ عمران خان کی خاموشی بھی ان درندوں کی سب چھنگاڑوں پر بھاری ہے۔ کہ عمران خان ایک نسل کو عمران خان بنا چکا ہے۔
🚨🚨
جرنیل صاحبہ کی زندگی پر ڈرامہ بنایا گیاتھا تاکہ یہ نوجوان نسل خصوصاً لڑکیوں کے لیے رول ماڈل بن کر قابلِ تقلید کردار بن جائیں۔ لیکن موقع ملتے ہی موصوفہ ایک غیر جمہوری عمل میں حصہ دار بن گئیں اور اب وہ ورثہ چھوڑیں گی کہ جس نوجوان نسل نے نگار جوہر بننا تھا وہ آج توبہ توبہ کررہی
وہ کہتے ہیں ناں کہ ایک تصویر ایک ھزار الفاظ کے مضمون برابر ہوتی ہے۔ A picture is worth a thousand words
وزیر اعظم کا عہدہ تو پہلے ہی بے وقعت ہو چکا مگر اب صدرِ ممککت اور ایوان صدر کے عہدے کی اوقات یہ ہو گئی ہے کہ ایک شخص آستینیں چڑھا کر صدرِ مملکت اور سپریم کمانڈر آف آرمڈ فورسز کو اُسکے دستخطوں کی جگہ دکھا رہا ہے۔ ایوان صدر اور صدرِ مملکت کے آس پاس لوگوں کا کوئی ڈریس کوڈ یا یا ڈیکورم نہیں۔ کیا ہمارے وزیر داخلہ کسی دوسرے ملک کے سربراہ کے پاس ایسے آستینیں چڑھا کر جا سکتے ہیں؟ ویڈیو دیکھ کر یوں لگ رہا تھا کہ جیسے دستخط نہ ہونے کی صورت میں قانون کا دایاں لمبا ہاتھ حرکت میں آئے گا۔ شاید اسی لیئے مرکزی دھارے والے میڈیا کو وہ ویڈیو چلانے سے روکا بھی گیا تھا۔ اُس ویڈیو اور اس تصویر میں یہ لگ رہا تھا کہ زرداری صاحب کو ایڈوائس شھباز شریف نہیں محسن نقوی دے رہے ہیں۔ معلوم نہیں نقوی صاحب وزیر اعظم سے کون کون سی فائلوں پر ایسے ہی آستینیں چڑھا کر اور پاس کھڑے ہو کر دستخط کراتے ہونگے ؟
مگر ایسا تب ہوتا ہے جب آصف زرداری جیسا سیاستدان خود کو صدرِ مملکت سے زیادہ پیپلز پارٹی کا چیئرمین سمجھتا ہے۔ کچھ دن پہلے وزیر داخلہ صاحب نے ن لیگ کے صدر شھباز شریف کی موجودگی میں بھی منتخب نمائندوں کی دفتروں میں عدم دستیابی کے بارے لیکچر دیا تھا جس پر وزیر اعظم شھباز شریف نے تالیاں بھی بجائی تھی۔
Sohail Afridi, Junaid Akbar and other young PTI leaders have written their names in history for the courage & boldness with which they have faced the might of the state. Imran Khan must be immensely proud of their struggle.
گورنر راج اور ایمر جنسی سے جڑی تلخ تاریخ سے سبق حاصل کرنے کی بجائے ماضی کی غلطیوں کو دہرایا جا رہا ہے۔ گورنر راج کے نام پر ایک سیاسی جماعت کے خلاف آپریشن سے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی ختم نہیں ہو گی۔ شہباز شریف کی حکومت عمران خان فوبیا کی قیدی بن چکی ہے۔ یہ قیدی حکومت پاکستان کو سول آمریت کی طرف دھکیل چکی ہے۔ اس حکومت کو عمران خان فوبیا سے رہا ہونا ہے اور بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم حسینہ واجد کے انجام سے سبق سیکھنا چاہئے۔
https://t.co/eYcct47Z8z
اس وقت پشاور یونیورسٹی کے پرل لان میں موجود ہے۔طلباء جمع ہورہے ہیں اور ہم انشاءاللہ یہ گورنر راج ان کیلئے آخری اقتدار ثابت کریں گے
عوام گھروں سے نکلے یہ آپریشن کے نام پر جمہوریت پر شب خون مارا گیا ہے