ایک سال سے بابا جی کی مزار مسجد بند ہے دونوں شہزادے لاپتا ہیں کئی شوریٰ ارکان لاپتا کارکن دربدر اور کئی جیلوں میں قید ہیں۔ مگر سرور شاہ صاحب مہینوں بعد صرف ایک ویڈیو بیان دے کر خاموش ہو جاتے ہیں۔ کیا یہی ہماری شوری کی حکمت عملی ہے کیا لوگوں نے قربانیاں اس دن کے لیے دی تھیں
لاہور ہائیکورٹ: حافظ سعد حسین رضوی اور حافظ انس حسین رضوی کے بازیابی کیس کی سماعت آج مورخہ 27 اکتوبر کو جسٹس جواد ظفر کی عدالت میں ہوگی 11 بجے شروع ہو گی۔
گزشتہ سماعت پر عدالت نے وزارتِ داخلہ اور FIA سے رضوی برادران کی گمشدگی کے متعلق رپورٹس طلب کی تھیں
قائدین 378 روز سے جبری گمشدگی کا شکار ہیں۔
مفتی منیب الرحمان صاحب پہلے بھی چندہ خوروں کو باور کرا چکے ہیں کہ مساجد فتح کرنی ان پر قبضے کرنا چھوڑ دو
مدنی منھے و منھیاں کہاں چھپے ہوۓ ہیں؟زبانیں گنگ، ہاتھ کمزور پڑ چکے ہیں
#ملنگ_قبیلہ
یہ کائنات اور اسکی روشنی حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پاک مبارک آنکھوں سے نکلی چمک کی وجہ سے روشن ہے
اس کائنات کے خالق اللہ رب العزت ہمارے لیڈر حضرت علامہ حافظ سعد حسین رضوی دامت برکاتہم العالیہ کو رہائی عطاء فرمائیں
ہمارے سپریم لیڈر بابا جی رحمت اللہ علیہ کے وسیلے
12 ماہ سے زائد کا وقت بتاتا ہے کہ علامہ حافظ سعد رضوی پر ڈھایا جانے والا ظلم صرف اور صرف تحفظ ناموسِ رسالتﷺ اور فلسطین کی حمایت کے جرم میں ہے۔ لبیک کے غازیان حق کی خاطر ہر ریاستی ستم سہ رہے ہیں۔ حکومت اور عدلیہ یزید بننے سے باز آئے اور سعد حسین رضوی اور انس حسین رضوی کو رہا کرے۔
حضرت علامہ شفیق امینی صاحب کدھر ھیں وہ تو رکن شوری و مرکزی رہنما ھیں انکی تو خانقاہ بھی کھلی ہوئی ہے مدرسہ بھی چل رہا ہے پورے خیبرپختونخوا کے کارکنان آزاد ھیں تو آپ خود کدھر ھیں
@Kpk92X
کب سامنے آئیں گے؟
#Release_Saad_Hussain_Rizvi#TLP
حضرت علامہ حافظ سعد حسین رضوی پاکستانی نوجوانوں کی امید ھیں پاکستان کی تیسری بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ کو فلفور منظر عام پر لا کر آئیں و قانون کی بالادستی کو قائم کیا جائے
ماشاءاللہ ماشاءاللہ الحمد للّٰہ رب العالمین آج ٹوئٹر پر بہت اکثریت تحریک لبیک یا رسول اللہ پاکستان کے شہزادے ایکٹو ھیں سبحان اللہ
اللہ رب العزت آپ تمام کو اجر عظیم عطا فرمائیں
ان شاءاللہ ایسے ھی اتحاد و اتفاق کے ساتھ چلنا ہے اور اپنے امیر کی رہائی کے لیے آواز بلند کرنی ہے
@ShakirAwan88 امیر تحریک لبیک یا رسول اللہ پاکستان سے کروڑوں پاکستانیوں کو امیدیں وابستہ ھیں
حضرت علامہ حافظ سعد حسین رضوی ایک چمکتے ہوئے سورج کی طرح ھیں آپکی چمک کو بے تاب یہ عظیم پاکستانی قوم کے ستارے انتظار میں ھیں
جلد از جلد قانون و آئین کی بالادستی قائم کرتے ہوئے جبری گمشدگی ختم کریں
لاہور ہائیکورٹ: حافظ سعد حسین رضوی اور حافظ انس حسین رضوی کے بازیابی کیس کی سماعت کل مورخہ 27 اکتوبر کو جسٹس جواد ظفر کی عدالت میں ہوگی۔
گزشتہ سماعت پر عدالت نے وزارتِ داخلہ اور FIA سے رضوی برادران کی گمشدگی کے متعلق رپورٹس طلب کی تھیں۔ تحریک لبیک پاکستان کے قائدین 378 روز سے جبری گمشدگی کا شکار ہیں۔
پاکستان کی بقا و سلامتی آئین و قانون کی بالادستی سے ھی ممکن ھے
ریاست پاکستان کے معزز اداروں کو چاہئے کہ جلد از جلد امیر تحریک لبیک یا رسول اللہ پاکستان حضرت علامہ حافظ سعد حسین رضوی دامت برکاتہم العالیہ کو منظر عام بر لایا جائے انکی جبری گمشدگی کا ختم کیا جائے وہ شہری ھیں ملک کے
پاکستان کی سب سے بڑی مذہبی اور تیسری بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ حضرت علامہ حافظ سعد حسین رضوی جبری گمشدگی کا شکار ھیں
پاکستان کے معزز شہریوں کی جبری گمشدگی ریاست پاکستان کی بقا و سلامتی کے لیے ہر گز ٹھیک نہیں ہے
حکومت پاکستان جو چاہئے کہ آئین و قانون کی بالادستی کو قائم کریں
🚨⚠️
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد ظفر کل 27 اکتوبر کو سربراہ تحریک لبیک علامہ سعد حسین رضوی اور ان کے برادرِ اصغر کی مبینہ جبری گمشدگی کے خلاف دائر بازیابی کی درخواستوں پر سماعت کریں گے۔ عدالت نے گزشتہ سماعت پر وزارتِ داخلہ اور ایف آئی اے سے جامع رپورٹس طلب کر رکھی تھیں۔
درخواست گزار کے مطابق دونوں رہنما گزشتہ 378 روز سے لاپتہ ہیں، جنہیں فوری بازیاب کرانے کی استدعا کی گئی ہے۔