بھائی یہ سعودی لوگ نہیں۔
یہ لوگ افریقی ہیں اور گلیوں میں سامان بھیجتے ہیں۔ پولیس کو دیکھتے ہی یہ لوگ بھاگتے ہیں کیونکہ یہ غیر قانونی ہیں۔ پولیس اور بلدیة والے اس کو پکڑتے ہیں۔
نورین خان نیازی کے ساتھ مولانا فضل الرحمان کو نوٹس نہیں بھیج سکتے تو بھارتی وزیر خارجہ کو نوٹس بھیج دیں جو بتا رہے ہیں کہ "ہم نے حملے سے پہلے پاکستان کو آگاہ کیا تھا اور پاکستان نے بہاولپور کا مدرسہ خالی کروا لیا تھا"
پاکستان نے پتہ ہونے کے باوجود اس حملے کو روکا نہ اس دعوے کی تردید کی۔
کیا یہ انڈرسٹینڈنگ نہیں تھی ؟
پاکستان کے مشہور اینکر تجزیہ نگار کالم نگار افتاب اقبال آفتاب اقبال کی سابقہ اہلیہ ثمن شیخ کے وہ دل دہلا دینے والے سنسنی خیز انکشافات جنہوں نے ٹی وی اسکرین کے پیچھے چھپے ظلم اور فنکاروں کی تذلیل کا سارا کچا چٹھا کھول دیا ہے ۔
حال ہی میں دیے گئے انٹرویو میں ثمن شیخ نے کہا
میں سمجھتی ہوں کہ اگر مجھے کوئی نایاب ہیرا ملے تو میں اس کی کھوج کا کریڈٹ خود لوں نہ کہ دوسروں کی ریسرچ پر اپنا نام چمکاؤں۔ اس شو کی واحد اچھی بات صرف اس کی ریٹنگ تھی ورنہ وہاں کوئی خاص بات نہیں تھی۔
وہاں کام کرنے والے کامیڈینز کی تذلیل اور سستے جملوں کا تبادلہ مجھ سے بالکل برداشت نہیں ہوتا تھا۔ میرا غصہ اسی بات پر تھا کہ فنکاروں کی عزتِ نفس کو وہاں بری طرح کچلا جا رہا تھا۔ انہوں نے مجھے کبھی بدتمیزی سے نہیں بلایا کیونکہ میں پہلے ہی ان سے زیادہ شہرت اور لائم لائٹ میں تھی۔
آپ مجھے شو میں بلائیں اور بولنے کا موقع ہی نہ دیں تو میں کسی صورت آپ کی عزت نہیں کروں گی۔ وہ شو کے پروڈیوسر ہیں اور جانتے تھے کہ ریٹنگ کے لیے ہر فنکار کے مداحوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
مجھ جیسی مصروف گلوکارہ کو انہوں نے سولہ سولہ گھنٹے فلیٹ سیٹ پر بغیر کچھ گائے بٹھائے رکھا۔ میں گھنٹوں کے حساب سے چارج کرتی ہوں اور یہاں میرا پورا پورا دن برباد کیا جا رہا تھا۔ ساری ریکارڈنگ کے بعد جب شو آن ائیر ہوا تو میرا بولا ہوا واحد جملہ بھی کاٹ دیا گیا۔ انہوں نے مجھے پورے شو میں ایک گونگی گڑیا بنا کر بٹھائے رکھا جو سراسر زیادتی تھی۔
میں نے ارشد صاحب کو فون کر کے کہا کہ آپ کے کہنے پر آئی تھی لیکن یہاں مجھے ذہنی طور پر مارا جا رہا ہے۔ ہم دوپہر کو اٹھتے ہی گاڑی میں بیٹھ جاتے اور رات کے چار بجے واپسی ہوتی لیکن آن ائیر کچھ بھی دکھائی نہ دیتا۔ یہ سب کے ساتھ ہو رہا تھا لیکن میرے ساتھ اس لیے زیادہ ہوا کیونکہ میرا ایک تراہنہ ان دنوں بہت وائرل تھا۔
میں نے آفتاب صاحب سے واضح کہا کہ مجھے بولنے کا شوق نہیں بس مجھ سے میرے گانے ریکارڈ کروائیں۔ انہوں نے مجھ سے گانے گوانے کے بجائے خاموش بٹھانا شروع کر دیا اور میرا فون تک ضبط کر لیا۔ میرا فون اس لیے لے لیا گیا تاکہ میں سیٹ سے اپنی کوئی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر نہ کر سکوں۔ دنیا جہان سے کٹ کر میں پورا مہینہ وہاں ذلیل ہوتی رہی اور لوگ مجھے فون ملا ملا کر تھک گئے۔
وہاں روزانہ صرف دال پکتی تھی جبکہ پروڈیوسرز کی چہیتی لڑکیوں کے لیے باہر سے برگر منگوائے جاتے تھے۔ آفتاب صاحب اور ان کی فیملی کے لیے گھر کا خاص کھانا آتا تھا اور باقی سب کے حصے میں صرف دال آتی تھی۔ میں بھوک اور کمزوری کی وجہ سے اکثر وہیں سیٹ پر بے ہوش ہو جاتی تھی کیونکہ میں وہاں کا کھانا نہیں کھاتی تھی۔
ایک دن جب میں نے اپنا فون آن کیا تو خاندان والوں کی طرف سے پچاس سے زائد مس کالز موجود تھیں۔ مجھے معلوم ہوا کہ میری تائی کے جوان بیٹے کا انتقال ہو چکا ہے اور اب جنازے میں شرکت کا وقت بھی نکل چکا ہے۔ میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی اور میں نے غصے میں آ کر آفتاب صاحب کے دفتر کے باہر احتجاج شروع کر دیا۔
میں نے وہاں اونچی آواز میں ان کا سارا کچا چٹھا کھولا اور واضح کیا کہ میں ڈرنے والی لڑکی نہیں ہوں۔ وہ اندر بیٹھے سب سنتے رہے لیکن ان میں باہر نکل کر مجھ کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ میں نے ان سے کہا کہ مجھے نہ تمہاری شہرت کی ضرورت ہے اور نہ ہی تمہارے پیسوں کی بس میرا حساب کرو۔
وہ پچھلے دروازے سے چپکے سے نکل گئے حالانکہ اخلاقی طور پر billing انہیں میری پریشانی کا حال پوچھنا چاہیے تھا۔ اگر ان کے دل میں چور نہ ہوتا تو وہ مرد بن کر سامنے آتے اور میری بات کا جواب دیتے۔ وہاں موجود بابو رانا اور دوسرے لوگ دوغلی پالیسی چلا رہے تھے اور مجھے پرسکون رہنے کا مشورہ دے رہے تھے۔
میں نے اپنی گاڑی کی چابی لی اور ان سے کہا کہ میں ابھی پولیس بلا کر تمہارا وہ حال کروں گی جو کبھی کسی نے نہ کیا ہو۔ وہاں موبائل سگنل نہیں تھے ورنہ میں نے اسی وقت فیس بک پر لائیو جا کر ان کا اصل چہرہ دنیا کو دکھا دینا تھا۔ وہ بندہ ذاتی طور پر اچھا انسان نہیں ہے بس اس کی ریٹنگ کا جادو چل رہا ہے جو جلد ختم ہو جائے گا۔
ان کا یہ تکبر اور غرور ایک دن پاش پاش ہوگا کیونکہ وہ اپنے ملازمین سے بھی بدتر سلوک فنکاروں کے ساتھ کرتے ہیں۔ میں پیسے کو اپنا خدا نہیں مانتی اور نہ ہی ایسی ریٹنگ کی بھوکی ہوں جو مجھے اپنی عزت بیچ کر ملے۔
یہ لوگ نام نہاد سوشل میڈیا اسٹارز کو لا کر ہمارے سینیئر اور باصلاحیت فنکاروں کے برابر بٹھا دیتے ہیں۔
اسی بے حسی کی وجہ سے میں نے پچھلے تین مہینوں سے ان کے چینل پر کوئی پرفارمنس نہیں کی۔ آفتاب اقبال کا شو چھوڑنے والے آغا ماجد سلیم البیلا اور ہنی البیلا جیسے تمام فنکار اسی ظلم کا شکار ہوئے ہیں۔
سننے میں یہ آ رہا ہے کہ جب فیلڈ مارشل صدر بن جائیں گے تو بے رحمانہ احتساب کریں گے صرف اسی صورت میں وہ عوام کی ہمدردیاں حاصل کر سکیں گے تمام فائلیں موجود ہیں اربوں کھربوں روپیہ دبئی اور لندن بھیجا گیا 35ہزار بیوروکریٹ ہیں جن کے پاس دوہری شہریت ہے وہ بھی ختم کی جائے گی ! کنور دلشاد