”منہاج“؛ شرعی اعتبار سے قابل اعتماد، ادارہ جاتی سرپرستی کا حامل، اور امت کے نامور علمائے کرام کی تائید کے ساتھ... ایسی خدمات کے لئے جو ہر جگہ مسلمانوں کی ضروریات کو پورا کرتی ہیں۔
ایپلی کیشن ابھی یہاں سے ڈاؤن لوڈ کریں:
یہ فضل الرحمٰن جھک جائے گا، سرنڈر کر جائے گا؟ یاد رکھو! مجھے اپنے ماں باپ کے سرنڈر ہونے کے لیے نہیں جنا ہے۔
اور آپ اپنے شہداء کی بات کرتے ہو؟ مجھے سکھاتے ہو شہید کس کو کہتے ہیں؟ مجھے سکھاتے ہو شہید کا مقام کیا ہے؟ میں قرآن و سنت کا ایک طالب علم ہوں۔ میں شہید کے مقام کو جانتا ہوں۔
شہید کیا ہوتا ہے؟ جو شہید اپنے وطن کے لیے قربانی دیتا ہے، اس کی قدر و منزلہ کو میں جانتا ہوں۔ آپ مجھے اس کی قدر و منزلہ نہ سمجھائیں۔
میں تمہیں جانتا ہوں! کہ تمہاری نظر میں اپنے شہید کی کیا قدر و قیمت ہے؟ کیا بتا سکتے ہو؟ آج تک قوم کو تم نے بتایا کہ کارگل میں آپ کے کتنے جوان شہید ہوئے؟ اور آپ نے وہاں سے کتنے شہداء کے جنازے اصول کیے؟ ذرا بتاؤ تو سہی!
تم نے اپنے شہداء کو ہندوؤں کے سپرد کیا؟ اور وہاں سے ایک بیان آیا کہ ہم نے اسلامی طریقے سے ان کو دفن کر دیا۔ ان کی تعداد مختلف بتائی جا رہی ہے لیکن ہیں سیکڑوں میں۔
اپنے شہداء کے جنازے اصول کرنے کے لیے تیار نہیں ہو۔ تم نے اپنے جنازے ہندوؤں کے حوالے کیے؟ جرنیل شیر خان اگر ہمیں ملا، ہندوستان کے اصرار کے بعد ہم نے ان کا جنازہ اصول کیا ہے۔
اپنے شہداء کی توہین، ان کی تذلیل، ان کی تحقیر، جو تم لوگوں نے کی ہے، اب اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے شہداء کے کورٹ میں چھپنے کی کوشش کرتے ہو؟ ہم نے کوئی غلط بات نہیں کہی۔
پاکستان ایک ادارہ جاتی ملک ہے اور پوری دنیا میں۔ ادارے متعین ہیں، ان کا دائرہ کار متعین ہے، ان کا اختیار متعین ہے۔ اگر میں نے آپ کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کیا ہے، اگر میں نے آپ کو ان کے اپنے دائرہ کار اور اس دائرہ کار کے اندر ان کی صلاحیتوں کی طرف آپ کو متوجہ کیا ہے، تو میں اب بھی کہتا ہوں:
پالیسی ساز لوگوں! سپاہی نے تو آپ کا حکم ماننا ہے۔ پالیسی ساز تو آپ بڑے ہیں۔ میں آپ کی پالیسیوں سے اختلاف کر رہا ہوں۔ بڑے ادب و احترام کے ساتھ اختلاف کر رہا ہوں، لیکن آپ میرے بیان کی ازخود تشریح کر کے جو میری کردار کشی کرنا چاہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ فضل الرحمٰن جھک جائے گا...
کرک ، مہمند اور کولائی بائی پاس میں کشمیری مہاجرین کے کُل تین ووٹ ہیں تین ووٹوں کے لئے تین پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں اپر دیر میں دو چارسدہ میں تین اور بونیر میں صرف دو ووٹ ہیں پورے خیبر پختونخوا میں مہاجرین کے 680 ووٹ ہیں اسی لئے مہاجرین کی نشستوں پر دھاندلی پرانی روایت ہے