اقبال شاہ ایڈووکیٹ کا ماہرنگ بلوچ اور انکے رفقا کی جانب سے انکی رضامندی کے بغیر بطور سرکاری وکیل پیش ہونا افسوسناک عمل ہے جو پی ٹی آئی کی پالیسی کے برعکس ہے۔ اقبال شاہ ایڈووکیٹ کو مطلع کر دیا گیا ہے۔ پارٹی پالیسی کے خلاف اپنے اس قدم کے وہ خود ذمہ دار ہونگے۔
سینیٹر صاحب!
جعلی انقلابیوں کی صف میں شمولیت پر مبارک ہو۔
منگل کے روز اڈیالہ جیل کے باہر 10 ہزار کارکنان اکٹھے کرنے کی کال دی گئی ہے۔ آپ سینیٹر ہیں اور عمران خان کے نام، بیانیے اور عوامی مینڈیٹ کی بدولت سینیٹ تک پہنچے ہیں۔ سینیٹ میں آپ کی کارکردگی سے قوم بخوبی آگاہ ہے، اس لیے اگر اب اڈیالہ جیل کے باہر کارکنان لانے میں ہی اپنا کردار ادا کر دیں تو بڑی مہربانی ہوگی۔
میں اپنے الفاظ پر معذرت کر چکا ہوں، لیکن ایک سوال ضرور ہے۔ کیا دوسروں کی جانب سے مسلسل طنز، تضحیک اور کردار کشی بھی سوال کے زمرے میں آتی ہے؟ جو طوفانِ بدتمیزی ان لوگوں نے برپا کیا، کیا اسے سوال کہا جا سکتا ہے؟
جب یہ لوگ آپ سے سوال نہیں کرتے تو پھر کس بنیاد پر مراد سعید پر غداری کے فتوے لگاتے ہیں؟ مراد سعید اس تحریک کا ایک اہم اثاثہ ہیں۔ جو شخص ذاتی مفادات، مالی فوائد یا اپنے مذموم مقاصد کے لیے مراد سعید کا نام استعمال کرے گا، ہم اس کی مخالفت کرتے رہیں گے۔
ہم نے اپنے الفاظ پر معذرت کر لی، لیکن اصولی مؤقف سے پیچھے ہٹنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
ادنیٰ ورکرِ تحریکِ انصاف مراد خان
@soldierspeaks@MaidahMuhammad 14 جون – وزیرستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن
آج کا دن، 14 جون، وزیرستان کی تاریخ میں ایک سیاہ باب کی یاد دلاتا ہے۔ سن 2014 میں اس روز "آپریشن ضربِ عضب" کے نام پر دہشتگردی کے خاتمے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ کہا گیا کہ یہ ایک آخری اور فیصلہ کن کارروائی ہوگی جس کے بعد علاقے .....
These are the images of Pakistan that represent a “Clear & Present Danger” to the Liberal World Order, EU is fighting in Ukraine to defend - Why stay silent on Pakistan? @EUPakistan@EUCouncil@EUCouncilPress@kajakallas
Free Imran Khan! Imran Khan has been left to languish in a Pakistani prison cell for over three years. Today in the House of Commons I presented a petition calling for his release, as well as the release of all political prisoners in Pakistan.
لاہور کور کمانڈر کی فیملی کی 9مئی پر لیکڈ فون کال
کیسے عاصم منیر اپنے کور کمانڈر کو مروا کر الزام PTI پر لگا کر اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتا تھا،کور کمانڈر کی بارہا کالز پر بھی سیکورٹی نہ دی گئی
آج کشمیر میں رینجرز کا مارا جانا عاصم منیر کی سازش ہو سکتی ہے
@ahmad__bobak ایم این اے حاجی محمد اقبال آفریدی خیبر کے لاکھوں عوام کے منتخب نمائندہ ہیں۔ ان کی رکنیت کی معطلی اور اسپیکر ایاز صادق کی جانب سے اختیار کیا گیا رویہ لاکھوں ووٹرز کے مینڈیٹ کی توہین کے مترادف ہے
گلگت بلتستان کے انتخابات اور گذشتہ دنوں کوٹلی اور اس سے قبل راولاکوٹ میں دہرائے گئے ۲۶ نومبر اور مریدکے کی تاریخ سے ان عناصر کی خوش فہمی کا تو تدارک ہوگیا ہوگا جو سمجھتے تھے کہ خدائ کے دعویداروں کے سیاہ دلوں میں رحم کی کوئ رمق باقی ہوگی۔
اب اگر اپنے بھی شرک سے باز آکر ان پتھر دل صنموں سے بھلائ کی توقع چھوڑ کر اپنے بل پر کچھ کرنے کی ٹھان لیں تو شاید اس قوم کی تاریخ ہمیں اپنے غداروں میں نہ شمار کرے۔
عمران خان کی حکومت گرا کر، بہ زورِ طاقت اس کی پارٹی توڑ کر، پاکستان کی عوام سے ان کا اپنے حکمران چُننے کا حق چھین کر پاکستان میں جس عدم استحکام کی داغ بیل ڈالی گئی وہ سلسلہ دن بہ دن اور مزید واضح طور پر باقاعدہ وطن دشمنی ثابت ہورہا ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اس نہج پر عاصم منیر اور اس کے ماتحت کٹ پتلی حکومتیں پاکستان توڑنے کے ایجنڈے پر محرک ہیں۔ پورے پاکستان میں جس جبر کا ماحول گرم ہے اور نہتے کشمیریوں پر جس طرح گولیوں کی بوچھاڑیں کی گئیں جس کے باوجود وہ اپنے حقوق کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہیں، خیبر سے کراچی تک پاکستانی قوم کو کشمیر کے عوام کی آواز بن کر، ان کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرکے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر کسی جابر کی معرکہ آرائیوں کا شکار بننے سے روکنے کی سبیل کرنی چاہئے۔
آج عمران خان باہر ہوتا، آج عمران خان کو ان کے بنیادی انسانی حقوق میسر ہوتے اور ان کا پیغام باہر آسکتا تو انہوں نے یہی کرنا تھا۔ اس سے بڑھ کر کرنا تھا۔
میری اطلاعات کے مطابق پارٹی نے کل پارلیمان کے باہر احتجاج کی کال دی ہے ان سے بھی گزارش ہے کہ کشمیر کے ساتھ یکجہتی اور ملک کو بچانے کے لیے عمران خان کی رہائی پر گفتگو ہو۔ انشاءاللہ میرے حلقہ انتخاب میں، **۱۳ جون ۲۰۲۶ بروز ہفتہ دوپہر دو بجے مٹہ چوک** میں، کشمیر کی عوام کے ساتھ یکجہتی ان کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف اور ملک بچانے کے لیے، عمران خان کی رہائی کے لیےاحتجاجی مظاہرہ ہوگا۔ سوات کے تمام کارکنان اس میں بھرپور شرکت یقینی بنائیں۔
یاد رکھیے!
اگر ہم آج ایک دوسرے کا بازو نہ بنے تو یہ ایک ایک کرکے ہمیں ایسے ہی ماریں گے جیسے ۲۵ مئی ۲۰۲۲ سے لے کر ۲۶ نومبر ۲۰۲۴ تک تحریک انصاف کو مارا، جیسے مریدکے میں مارا، جیسے کوٹلی اور راولاکوٹ میں مارا۔ جیسے برسوں سے بلوچستان فاٹا اور خیبر پختونخواہ میں مار رہے ہیں۔
محترمہ یہ آپکی صحافت نہیں جس میں جھوٹ کے سوا کچھ نہ ہو ۔یہ ہم کشمیریوں کے حق اور سچ کی جدوجہد ہے
سچ تو یہ ہے۔یہ تحریک نہیں بلکے آپ کے سویٹ بوائے فیصل راٹھور کے دور کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہونے جا رہا ہے۔
ایک اور جھوٹ اور پروپیگنڈا مہم
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے خلاف ایک اور منظم جھوٹ اور پروپیگنڈا مہم سوشل میڈیا پر چلائی جا رہی ہے۔ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا نے صوبائی بجٹ میں کٹوتی کرکے وفاقی حکومت کو فنڈز دینے کا فیصلہ کیا ہے یا اس حوالے سے وزیرِ اعظم شہباز شریف کو کوئی یقین دہانی کروائی ہے۔ یہ دعویٰ سراسر جھوٹ، بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا نے آج واضح الفاظ میں کہا ہے کہ وہ عمران خان کی اجازت اور ہدایت کے بغیر ایسا کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے۔ متعلقہ اجلاس میں صوبائی وزیرِ خزانہ مزمل اسلم بھی موجود تھے۔ اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے مزمل اسلم نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا کہ اگر کسی کے پاس اس بات کا کوئی ثبوت موجود ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت وفاق کو کوئی فنڈ فراہم کر رہی ہے یا کسی قسم کی یقین دہانی کروائی گئی ہے تو وہ ثبوت عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ پروپیگنڈا بریگیڈ اس وقت اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر جھوٹ اور گمراہ کن بیانیہ پھیلا رہی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ سہیل افریدی نے اپنی سیاسی بصیرت اور حکمتِ عملی کے ذریعے وفاقی حکومت کو مؤثر انداز میں جواب دیا ہے، جس کے بعد ان کے خلاف مختلف محاذوں پر مہمات تیز کر دی گئی ہیں۔ اب پی ٹی آئی کا نام استعمال کرنے والے بعض عناصر بھی اسی پروپیگنڈا کا حصہ بن چکے ہیں۔
جھوٹ پھیلانا اور بے بنیاد الزامات لگانا ان لوگوں کا وطیرہ بن چکا ہے۔ میں اپنے تمام سوشل میڈیا دوستوں اور کارکنان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ایسے پروپیگنڈوں سے متاثر نہ ہوں اور ہر خبر کو تصدیق کے بعد ہی قبول کریں۔ جب تک عمران خان کی واضح ہدایت موجود نہ ہو، خیبر پختونخوا حکومت وفاقی حکومت کو کسی قسم کا مالی ریلیف فراہم نہیں کرے گی۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض قوم پرست جماعتیں بھی اس معاملے پر حقائق کے برعکس بیانیہ پیش کر رہی ہیں۔ حقیقت بالکل واضح ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا نے نہ کسی کو ایک روپیہ فنڈ دیا ہے اور نہ ہی ایسا کوئی وعدہ یا یقین دہانی کروائی ہے۔
مراد خان :::