راولپنڈی کی سیکورٹی کے لئے اسے فوج کے حوالے کیوں کیا جاریا ہے۔ یزید کو موت کا خوف کیوں ہے اور کس سے ہے؟
میں آپ سے درخواست کروں گا کہ اس پروگرام کو دیکھیں، سمجھیں اور دوسروں کو بھی سمجھائیں۔ عاصم منیر پاکستان توڑنے کی طاقت حاصل کررہا ہے جوڑنے کی نہیں۔
https://t.co/3MmQbYwZEh
انٹرنیشنل میڈیا 🚨
گزشتہ رات سپریم کورٹ کے آرڈر کے باوجود عمران خان کو دوسرے ہسپتال لے جایا گیا اور پھر وہاں سے دوبارہ جیل لیکر گئے جس پر عمران خان کی فیملی ناراض ہے۔
چلو اتنا تو ہوا جن لوگوں کو قائداعظم کی ایمبولینس خراب کرنے والی بات پر یقین نہیں تھا، رات انہیں بھی یقین آ گیا ہوگا.
ایک بار پھر تاریخ دہرائی گئی ہے بس کردار بدل گئے ہیں
میرے خیال میں پچھلے تین سالوں میں، ہم میں سے بہت سے لوگوں نے جو عمران خان کی resilience، انکی mental strength اور انکی جدوجہد کو جانتے ہیں، کبھی نہ کبھی مذاقا یہ ضرور سوچا ہوگا۔
ہم اپنے circle میں بھی کہا کرتے ہیں کہ اگر کبھی ہم کوئی سرنگ کھود کر اڈیالہ جیل کے اندر تک پہنچ جائیں، کسی طرح عمران خان کے cell تک پہنچیں اور انھیں نکالنے کی کوشش کریں، تو مجھے پورا یقین ہے کہ خان الٹا سلاخوں سے لپٹ جائے گا اور کہے گا:
"میں نے اس طرح نہیں جانا۔ تم لوگ بھی اندر آؤ۔ ادھر بیٹھو۔"
اور شاید ہمیں بھی وہیں بٹھا کر لیکچر دینا شروع کر دے کہ بھائی، جدوجہد اس طرح نہیں کی جاتی!
کیونکہ وہ کوئی ایسا راستہ اختیار نہیں کرے گا جس پر انکی 30 سال کی جدوجہد پر کوئی داغ لگے۔ کوئی اسے ڈیل کہے، کوئی NRO کہے، کوئی سمجھوتہ کہے وہ یہ قیمت ادا نہیں کرے گا۔
رات کا دکھ اپنی جگہ ہے۔ تکلیف اپنی جگہ ہے۔ فکر اپنی جگہ ہے۔ لیکن شاید آج ایک بار پھر یہ بات ثابت ہوگئی کہ خان وہی ہے جسے ہم اپنے دل اور دماغ میں جانتے ہیں۔
ہم سوچ رہے تھے کہ اگر ہم سرنگ کھود کر عمران خان کو نکالنے پہنچے تو شاید وہ سلاخوں کو پکڑ کر ہمیں ہی روک لے گا اور کہے گا:
"تم بھی ادھر آؤ۔ سارے ادھر بیٹھو۔ اور سیکھو کہ اپنے اصولوں پر کھڑے ہو کر جدوجہد کیسے کی جاتی ہے۔"
اور سچ پوچھیں تو شاید یہی چیز انھیں عمران خان بناتی ہے۔
اللہ عمران خان کے لیے، انکے گھر والوں کے لیے، انکی بہنوں اور انکے بچوں کے لیے بہت آسانیاں پیدا کرے۔
ہم شاید کبھی پوری طرح سمجھ ہی نہ سکیں کہ اتنی آزمائشوں کے درمیان اپنے اصولوں پر کھڑے رہنے کے لیے کتنا دل جگرا چاہیے ہوتا ہے اور کتنی غیرت چاہیے ہوتی ہے۔
اللہ انھیں اور ان جیسے ہر انساں کو ثابت قدم رکھے۔
آمین۔
(از @enigmaakh )
میرے مالک کا حکم ہوا تو ان سب پر ایک ایک کر کے چھکا لگے گا۔ اس فوج نے پاکستان بننے سے لے کر آج تک صرف اپنے ملک کے شہریوں کو مارا ہے، جب جب دشمن سے مقابلہ ہوا کبھی پتلونیں چھوڑ کر بھاگے تو کبھی اپنے ہلاک شدہ فوجیوں کی لاشیں لینے سے انکار کیا۔ ڈھاکہ میں آج تک ان غداروں کی پتلونیں بازاروں میں لٹکی ہوئی ہیں، یہ صرف نہتے بلوچوں، پشتونوں اور کشمیریوں کو شہید کر سکتے ہیں۔ جب جب دشمن سگ مقابلہ ہوا تب تب مار کھائی، ملک توڑا، ہزارو میل کا رقبہ بھارت کے آگے ہارا لیکن اتنے بے غیرت ہیں کہ آج بھی خود کو محب وطن کہتے ہیں۔
In this poetic warning against tyranny and injustice, PTI New York’s Coordinator @AmjadNawazUSA states that true resilience cannot be shattered by oppression, and the rising tide of public discontent will inevitably overcome those who subvert the constitution and the rule of law.
#StopTortureOnNationalHero
ان چہروں کو یاد رکھیں۔
یہ صرف اُن لوگوں کا ایک چھوٹا سا نمائندہ گروہ ہے جنہوں نے پاکستانی ریاست کی جبر و قہر کی طاقت کو @ImranKhanPTI کے خلاف، پاکستانی عوام کے خلاف، اور بالآخر خود پاکستان کے خلاف استعمال کیا۔
بندوقیں اور گولیاں۔ تشدد اور مارپیٹ۔ اغوا۔ غیر قانونی قید۔ اذیت و تشدد۔ قتل۔ قتلِ عام۔ سیاسی انتقام اور ظلم و ستم۔
جج اس تصویر میں شامل نہیں۔ اور نہ ہی وہ بہت سے دوسرے لوگ جو اس پورے نظام کا حصہ رہے ہیں۔
لیکن ہر غیر قانونی حکم، ریاستی جبر کے ہر اقدام، ہر سیاسی قیدی، اور @ImranKhanPTI کو توڑنے کی ہر کوشش کے پیچھے حکم، شراکتِ جرم اور ذمہ داری کی ایک پوری زنجیر موجود ہے۔
اور اس پورے نظامِ جبر کے سب سے اوپر عاصم منیر کھڑا ہے۔
عہدے بدل جاتے ہیں۔ حکومتیں گر جاتی ہیں۔ کمان ختم ہو جاتی ہے۔ حالات بدل جاتے ہیں۔
لیکن ذمہ داری ختم نہیں ہوتی۔
ان کے عہدے ختم ہو جائیں گے۔ ان کا اختیار چھن جائے گا۔ لیکن ریاستی طاقت اپنے ہاتھوں میں ہوتے ہوئے انہوں نے جو کچھ کیا، اس کا ریکارڈ باقی رہے گا۔
ایک دن پاکستان اِن سب سے، اور ان جیسے بہت سے دوسروں سے، ایک سادہ سوال ضرور پوچھے گا:
جب ریاست کی طاقت تمہارے ہاتھوں میں تھی، تم نے اُس طاقت کے ساتھ کیا کیا؟
اور پھر، عہدہ کوئی بھی ہو، رتبہ کوئی بھی ہو، وردی کوئی بھی ہو یا سیاسی حیثیت کچھ بھی ہو، ہم انہیں قانون کے مطابق، منصفانہ، شفاف طریقے سے، اور قانون جس قدر سخت سزا کی اجازت دیتا ہے، اُس حد تک سزا دلوائیں گے۔
کیونکہ ریاستی طاقت کے ناجائز استعمال کا احتساب کیے بغیر پاکستان صرف اسی ظلم اور جبر کو نئے ناموں، نئے چہروں اور نئی وردیوں کے ساتھ دوبارہ پیدا کرتا رہے گا۔
ان چہروں کو یاد رکھیں۔
ان عہدوں کو یاد رکھیں۔
ان احکامات کو یاد رکھیں۔
خان صاحب کی بہنوں کو اب انٹرنیشنل پریس کے سامنے سوال اٹھانا چاہیے کہ ان پر عدالت کی جانب سے لگائی گئی پابندیاں جائز اور ان پر عملدرآمد لازمی ہے تو کیا حکومتی فریق اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے پابند نہیں؟
ضروری تو نہیں کے 27 ستمبر کو ہی مارچ ہو
موجودہ حالات کے مطابق اسی اگست میں نکلنا چاہیے
اتنی کوتائیاں کیوں
خدا کی قسم بعد میں پچھتاوگے
پر پھر پچھتانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا
ہاں البتہ نقصان ہوگا بہت زیادہ ہوگا ناقابل تلافی ہوگا
What is happening to @imrankhanPTI is an abuse on every conceivable level.
Passively monitoring the situation is plainly not enough. It is time for active diplomacy.
-An urgent letter to Foreign Secretary Ed Miliband
عمران خان ابھی صرف ہسپتال منتقل ہوا ہے، مگر پاکستانیوں کی خوشی دیکھ کر لگتا ہے جیسے آزادی کی خبر آنے والی ہو۔ 🇵🇰❤️
سوچیں، جس دن کپتان واقعی آزاد ہو کر وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھے گا، اُس دن پاکستان میں خوشی کا کیا منظر ہوگا؟ 🥹💚
آواز اٹھائیں 🚨
سبین یونس جو ہر وقت اڈیالہ جیل کے باہر خان صاحب کی بہنوں کے ساتھ موجود ہوتی ہے اسے گھر آدھی رات کو گھر سے اغوا کیا آج کئی دن ہو گئے ، سوشل میڈیا سبین یونس کی رہائی کے لئے بھرپور آواز اٹھائیں وہ ایک نہتی معصوم عورت ہے
#ہر_دل_سے_دعا_خان_کے_نام