چئیرمین کرکٹ بورڈ ایران کے دورے پر وزیر خارجہ بن کر جاتا ہے
ایران کے دورے پر وزیرخارجہ سعودی پہنچتے تو وفاقی وزیر مذہبی امور بن جاتے ہیں
سعودیہ بیٹھ کر ہی وزرات داخلہ محکمے کو میسج کر دیتے کہ راستے بند کر دو
وزارتوں کے ساتھ کھلواڑ کے بعد وزیر دفاع کی سفارش کو چونا لگنا ہی تھا
آپ سب خود زمہ دار ہیں کوئی اور نہیں
منقول 😅
یومِ تکبیر کی اصل کہانی، جو تاریخ نے چھپا لی
سب کچھ تیار تھا… سائنسدان موجود تھے، میزائل تیار تھے، یورینیم بھی موجود تھا… مگر مسئلہ صرف ایک تھا:
“میزائل میں یورینیم ناپنا کیسے ہے؟”
پھر ایک دن ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اخبار میں 1992 ورلڈ کپ کے ساتھ عمران خان کی تصویر دیکھی… ہاتھ میں شیشے جیسی خوبصورت ٹرافی
ڈاکٹر صاحب فوراً سمجھے:
“بس! یہی پیمانہ چاہیے تھا!”
فوراً نواز شریف کو فون کیا:
“میاں صاحب، وہ گلدان فوراً بھجواؤ… قوم کا مستقبل اس پر کھڑا ہے!”
نواز شریف نے لاہور سے اسی ٹرافی کی شمع والی کاپی بنوائی تاکہ خان صاحب کو شک نہ ہو… جبکہ اصل ٹرافی خاموشی سے ڈاکٹر قدیر کے حوالے کر دی گئی
جیسے ہی ٹرافی پہنچی، ڈاکٹر قدیر نے اسی پیمائش سے یورینیم بھرنا شروع کیا…
اور اعلان ہوا:
“پاکستان اب ایٹمی دھماکوں کے لیے تیار ہے!”
آج بھی ہر میزائل میں یورینیم اسی ورلڈ کپ ٹرافی کی پیمائش سے ڈالا جاتا ہے
لیکن عظمت دیکھیں…
خان صاحب کو سب پتہ تھا… مگر کبھی ٹرافی واپس نہیں مانگی۔
قوم کیلئے اپنی محبوب ترین چیز قربان کر دی 💔
اتنی حب الوطنی شاید ہی کسی میں دیکھی ہو 😭
یہ بھی حقیقت ہے کہ جب خان صاحب کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے برطانیہ جاتے تھے، تو واپسی پر جرابوں میں ایٹم بم کے پر��ے اور یورینیم بھر کر لاتے تھے
اصل اسلامی بم کا خالق کون؟
میرا قائد۔ میرا کپتان۔ امتِ مسلمہ کا سپہ سالار۔
خان صاحب نے تو مشورہ دیا تھا:
“چاغی کیوں جا رہے ہو؟ بنی گالا میں ہی ٹیسٹ کر لو…”
مگر نواز شریف بغضِ عمران میں بلوچستان چلا گیا 😔…
یومِ تکبیر پر خان صاحب کو کریڈٹ نہ دینا سراسر زیادتی ہے۔
پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی اصل روح:
🏏 + ☢️ + 🧦 = بانی