Highly recommended
Evergreen concepts n importers
#Amazon#Electronic#Gadgets#Undelivered#Parcels
A#Amazon undelivered Parcels
Available on Bulk quantity as Per Kg
Original Amazon Packing
Limited stock so book your carton and enjoy amazon
Call 4 booking
Imran.03214166143
انا للہ وانا الیہ راجعون۔
ڈاکٹر سیتی حسماہ کی محبت بھری مسکراہٹ اور عمران خان کا ہاتھ تھامنے کا وہ خوبصورت لمحہ ہمیشہ یاد رہے گا۔
اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین 🤲
2024 کا الیکشن ایک انقلاب ہی تھا میں نے 10 الیکشن لڑے ہیں میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ کمپین نہ ہو امیدوار کا پتہ نہ ہو کامن نشان نہ ہو پولنگ ایجنٹ نہ ہو اور unknown امیدوار جیتنا شروع کر دیں اور بھی massive majority سے جیتے یہ انقلاب ہوتا ہے ! شاہد خاقان عباسی ۔
یہ ہے اصل روح عید میلاد النبی کی جو ایک "یہودی ایجنٹ" بیان کر رہا ہے
میں پورے پاکستان کے اسلام کے ٹھیکیدار نام نہاد مُلڑوں کو چیلینج کرتی ہوں کہ اس پائے کی کوئی تقریر فی البدیہہ کر کے تو دکھائیں
اگر آپ گھر بیٹھے کچھ بھی نہیں کر سکتے، نہ میسج لکھ سکتے ہیں، نہ ٹویٹ کر سکتے ہیں، نہ ری پوسٹ کر سکتے ہیں، تو عمران خان کے نام کا صدقہ شوکت خانم اسپتال کو دے دیں۔
اگر روزانہ کی بنیاد پر نہیں دے سکتے تو ہفتہ وار دے دیں، اور اگر ہفتہ وار نہیں دے سکتے تو ماہانہ دے دیں۔
لیکن جب بھی عمران خان کو یاد کریں، اس عظیم تحفے کو ضرور یاد کریں جو انھوں نے اپنی والدہ کے نام پر اس قوم کو دیا ہے۔ یہ تحفہ صرف ایک اسپتال نہیں ہے، بلکہ پوری قوم کے لیے امید، خدمت اور انسانیت کی بہترین مثال نشان بن چکا ہے!
https://t.co/lClB2P4ans
@SKMCH@Aleema_KhanPK@Noreen_KhanPK@DrUzma_KhanPK@Kasim_Khan_1999
عمران خان کی ایک خوبی مجھے بہت اچھی لگی،
میں نے عمران خان کے ایک قریبی دوست کے خلاف ٹیکس کا بڑا کیس نکالا،
اس دوست نے عمران سے شکایت کر دی، عمران خان نے مجھ سے کہا شبر کیس درست بنا کے غلط؟ میں نے کہا درست کیس بنا ہے،
عمران خان نے اپنے دوست کو کہا کیس بن گیا ہے جو کرنا ہے کر لو، شبر زیدی
خبردار رہو، آسمان و زمین جو کچھ ہے اللہ کا ہے - تم جس روِش پر بھی ہو اللہ اُس کو جانتا ہے - جس روز لوگ اُس کی طرف پلٹیں گے وہ انہیں بتا دے گا کہ وہ کیا کچھ کر کے آئے ہیں - وہ ہر چیز کا عِلم رکھتا ہے - النّور ٦٤
کینیڈا و امریکہ میں گھروں کی چھتوں
پر پانی کی ٹینکیاں کیوں نہیں ہوتیں ؟؟؟
کینیڈا آنے کے چند دن بعد ایک پاکستانی نے اپنے دوست
سے بڑی حیرت سے پوچھا:
"یار، ایک بات سمجھ نہیں آئی۔ یہاں کسی گھر کی چھت پر پانی کی ٹینکی نظر نہیں آتی، نہ موٹر چلتی دکھائی دیتی ہے۔ پھر پانی آتا کہاں سے ہے؟"
دوست مسکرایا اور بولا:
"یہی تو اصل فرق ہے۔ یہاں ہر گھر اپنا پانی نہیں سنبھالتا، بلکہ شہر یہ ذمہ داری اٹھاتا ہے۔"
پاکستان میں اکثر گھروں کی اپنی ٹینکی، موٹر اور پانی ذخیرہ کرنے کا الگ انتظام ہوتا ہے۔ لیکن کینیڈا میں یہ کام شہری حکومت کرتی ہے۔ پانی جھیلوں، دریاؤں یا زیرِ زمین ذرائع سے حاصل کیا جاتا ہے، جدید واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس میں اسے انتہائی سخت معیار کے مطابق صاف کیا جاتا ہے، پھر طاقتور پمپوں کے ذریعے ہزاروں کلومیٹر طویل زیرِ زمین پائپ لائنوں کے جال سے ہر گھر، اسکول، اسپتال، دفتر اور پارک تک پہنچایا جاتا ہے۔
وہ حیران ہو کر بولا:
"یعنی مجھے موٹر چلانے کی بھی ضرورت نہیں؟"
دوست ہنس کر بولا:
"نہ موٹر، نہ ٹینکی، نہ پانی ختم ہونے کی فکر۔ بس نل کھولو... پانی حاضر !"
لیکن اس کے ذہن میں ایک اور سوال آیا۔
"اچھا، جب سردیوں میں درجہ حرارت منفی 30 یا 40 ڈگری تک پہنچ جاتا ہے تو پانی جم کیوں نہیں جاتا؟"
دوست نے جواب دیا:
"کیونکہ پانی کی لائنیں زمین کے کافی نیچے بچھائی جاتی ہیں، فراسٹ لائن سے بھی نیچے، جہاں مٹی مکمل طور پر نہیں جمتی۔ گھروں کے اندر پائپ بھی گرم حصوں سے گزارے جاتے ہیں، اس لیے عام حالات میں پانی مسلسل بہتا رہتا ہے۔"
وہ ابھی بھی متاثر تھا۔
"اتنا بڑا نظام آخر سنبھالتا کون ہے؟"
دوست نے کہا:
"شہر کی میونسپل حکومت۔"
مثال کے طور پر صرف ٹورانٹو واٹر تقریباً 36 لاکھ افراد اور کاروباروں کو پانی فراہم کرتا ہے۔ ہر سال تقریباً 435 ارب لیٹر صاف پانی سپلائی کیا جاتا ہے، جبکہ تقریباً 400 ارب لیٹر استعمال شدہ پانی کو دوبارہ صاف کرکے ماحول میں واپس چھوڑا جاتا ہے۔
یہ کوئی معمولی منصوبہ نہیں۔ صرف ٹورانٹو نے اپنے پانی، سیوریج اور اسٹورم واٹر کے نظام کی بہتری کے لیے آئندہ برسوں میں 15 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا ہے، جبکہ اس پورے انفراسٹرکچر کی مالیت 90 ارب ڈالر سے بھی زیادہ سمجھی جاتی ہے۔
پھر اس نے پوچھا:
"کیا پورے کینیڈا میں یہی نظام ہے؟"
دوست نے جواب دیا:
"اصول تقریباً ایک ہی ہے، صرف پانی کا ذریعہ بدل جاتا ہے۔"
ٹورانٹو اپنا زیادہ تر پانی لیک اونٹاریو سے لیتا ہے۔
وینکوور پہاڑوں کے قدرتی ذخائر سے پانی حاصل کرتا ہے۔
کیلگری میں باؤ اور ایلبو ریور بنیادی ذریعہ ہیں۔
جبکہ مونٹریال زیادہ تر سینٹ لارنس ریور پر انحصار کرتا ہے۔
یعنی شہر بدل جاتا ہے، لیکن نظام وہی رہتا ہے: صاف پانی، جدید ٹریٹمنٹ پلانٹس، زیرِ زمین پائپ لائنیں اور چوبیس گھنٹے مسلسل سپلائی۔
لیکن اس کہانی کا سب سے دلچسپ حصہ ابھی باقی تھا۔
پاکستان میں ہم اکثر نلکے کا پانی پینے سے گھبراتے ہیں، فلٹر، کولر یا بوتل والا پانی استعمال کرتے ہیں۔ مگر کینیڈا میں صورتِ حال بالکل مختلف ہے۔
یہاں گھروں، اسکولوں، کالجوں، دفاتر، اسپتالوں، پارکوں اور عوامی مقامات کے نلکوں سے آنے والا یہی پانی براہِ راست پینے کے لیے محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ لاکھوں لوگ روزانہ یہی پانی پیتے ہیں، اپنی دوبارہ استعمال ہونے والی بوتل ساتھ رکھتے ہیں اور جہاں نل نظر آئے، وہیں بھر لیتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹورانٹو میں پانی کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے ہر سال ہزاروں نہیں بلکہ دسیوں ہزار لیبارٹری ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ پانی کو پلانٹ سے نکلنے کے بعد بھی مختلف مقامات پر مسلسل چیک کیا جاتا ہے تاکہ ہر نل تک محفوظ پانی پہنچے۔
اسی لیے بوتل والا پانی یہاں ضرورت نہیں بلکہ زیادہ تر سہولت، سفر یا ذاتی پسند کی چیز ہے۔ روزمرہ زندگی میں لوگوں کی اکثریت نلکے کا پانی ہی استعمال کرتی ہے۔
یہ سب دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ ترقی یافتہ ملک صرف اونچی عمارتوں، خوبصورت سڑکوں یا بڑی گاڑیوں سے نہیں بنتا۔
اصل ترقی وہ نظام ہوتے ہیں جن کے بارے میں لوگوں کو سوچنا ہی نہ پڑے۔
جب پانی وقت پر آئے، صاف ہو، محفوظ ہو، ہر موسم میں دستیاب ہو، اور ہر شہری کو برابر ملے، تو لوگ اپنی توانائی زندگی، تعلیم، کاروبار اور ترقی پر صرف کرتے ہیں، پانی جمع کرنے پر نہیں۔
ہم صرف نل کھولتے ہیں ... مگر اس ایک گلاس پانی کے پیچھے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری، ہزاروں کلومیٹر پائپ لائنیں، جدید ٹیکنالوجی، مسلسل نگرانی اور ہزاروں انجینئرز، سائنس دانوں اور ماہرین کی محنت کام کر رہی ہوتی ہے۔
کبھی کبھی ترقی کا راز اونچی عمارتوں میں نہیں، بلکہ زمین کے نیچے چھپے ہوئے ان مضبوط نظاموں میں ہوتا ہے، جنہیں ہم دیکھ بھی نہیں پاتے۔
بشکریہ: سہیل بلخی
کینیڈا
Sohail Balkhi
جن سے ہم الگ ہوے
(بھارت ) وہ بھی خوش
جو ہم سے الگ ہوے
(بنگلہ دیش) وہ بھی خوش
اور جنہوں نے ہمارا بٹوارہ کیا
(انگلینڈ)۔ وہ بھی خوش
بس ہم دنیا میں دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے
آج کل نماز کے موضوع پر بہت بحث ہو رہی ہے۔ ہر شخص اپنے موقف پر قائم ہے، مگر شاید ہم نے ایک بنیادی سوال پوچھنا ہی چھوڑ دیا ہے:
اگر انبیاء علیہم السلام کا اصل مشن صرف وہی مروجہ مذہبی رسوم ہوتیں جنہیں ہم آج دین کا مکمل تصور سمجھ بیٹھے ہیں، تو پھر ان کی اتنی شدید مخالفت کیوں ہوئی؟
قرآن بار بار بتاتا ہے کہ جب بھی کوئی رسول آیا، اس کی مخالفت معاشرے کے طاقتور طبقے نے کی۔ انہیں ستایا گیا، جلا وطن کیا گیا، اور بعض کو قتل تک کر دیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ آخر انبیاء ایسی کون سی چیز پیش کر رہے تھے جو ظالم نظاموں کے لیے خطرہ بن جاتی تھی؟
آج آپ دنیا کے بیشتر ممالک میں نماز پڑھ سکتے ہیں۔ آپ مسجد بنا سکتے ہیں۔ لوگ ایک نمازی کو عموماً اچھا اور قابلِ احترام انسان سمجھتے ہیں۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ نماز اسلام کا عظیم رکن ہے اور اس کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔
لیکن کیا دین صرف چند عبادات کا نام ہے؟
قرآن میں "اقامت" کا حکم صرف صلاۃ کے لیے نہیں آیا:
- أَقِيمُوا الصَّلَاةَ (نماز قائم کرو)
- وَأَقِيمُوا الشَّهَادَةَ لِلَّهِ (اللہ کے لیے گواہی قائم کرو) — الطلاق: 2
- وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ (عدل کے ساتھ وزن قائم کرو) — الرحمن: 9
- أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ (دین کو قائم کرو) — الشوریٰ: 13
- وَأَقِيمُوا وُجُوهَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ (ہر عبادت گاہ پر اپنا رخ درست رکھو) — الأعراف: 29
اگر "اقامت" کا مطلب صرف الفاظ کی ادائیگی یا انفرادی عمل ہوتا، تو کیا دین، عدل، گواہی اور معاشی انصاف بھی اسی طرح "پڑھ" کر قائم ہو جاتے؟
حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم نے ان سے یہ نہیں کہا تھا کہ "آپ کی نماز ہمیں رکوع و سجود سے کیوں روکتی ہے؟" بلکہ انہوں نے کہا:
«"کیا تمہاری صلاۃ تمہیں یہ حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے آباؤ اجداد کے معبودوں کو چھوڑ دیں اور اپنے اموال میں اپنی مرضی سے تصرف نہ کریں؟"»
یعنی انبیاء کی صلاۃ محض ایک عبادت نہیں تھی؛ وہ انسان کی فکر، اخلاق، معیشت اور اجتماعی زندگی پر اثر انداز ہوتی تھی۔
یہاں ایک بات واضح کر دوں: میرا ہرگز یہ مؤقف نہیں کہ مروجہ نماز کی نفی کی جائے۔ نماز اسلام کا ستون ہے اور میں خود بھی اسے زندگی کا اہم ترین حصہ سمجھتی ہوں۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم نے پورے دین کو صرف نماز، چند اذکار اور چند انفرادی عبادات تک محدود کر دیا ہے؟
ہم نے دین سے:
- عدل کو الگ کر دیا،
- نظامِ تعلیم کو الگ کر دیا،
- معیشت کو الگ کر دیا،
- اخلاقی تربیت کو الگ کر دیا،
- اجتماعی ذمہ داری کو الگ کر دیا،
- اور علم، تحقیق اور ترقی کو بھی دین سے جدا سمجھنا شروع کر دیا۔
اگر ایسا ہے، تو پھر ہمیں یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے:
کیا ہم دین کو قائم کر رہے ہیں، یا صرف دین کے ایک حصے پر عمل کر کے مطمئن ہو گئے ہیں؟
یہ تحریر کسی فرقے، عالم یا نمازی کے خلاف نہیں، بلکہ ایک دعوتِ فکر ہے۔
کیونکہ قرآن بار بار انسان کو سوچنے، سمجھنے اور تدبر کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
اور شاید آج امت کو سب سے زیادہ اسی چیز کی ضرورت ہے۔