قلبِ مُضطر کو کہیں تیرے سِوا چین نہیں
بھر گئی اب تو زمانے سے طبیعت میری!
والد صاحب کو آج ہم سے دور گئے دوسال ہوچکے ہیں😢
اللہ پاک انکی مغفرت فرمائے درجات بلند فرمائے آمین 🤲🏻
کیوں لوگ ہم پر اور ہمارے سیکریٹریز کی تنخواہوں اور لاکھوں روپے کی مراعات پر بات نہی کریں گے
یہ پنجاب میں 80 فیصد بچیاں ہیں جو ایم ایس سی ایم فل ہیں اور کیئر گیور رکھ کر 8 ہزار تنخواہ دیتے ہیں
ایم پی اے امجد علی جاوید پنجاب اسمبلی کے ایوان میں محکمہ تعلیم پر برس پڑے
اب تو نون لیگ کے اپنے رکن اسمبلی امجد علی جاوید بھی شرمندہ کر رہے کہ ایم اے ایم ایس سی کرنے والی بچیوں کو 8ہزار تنخواہ دے رہے یہ تو اس اسمبلی کے بنائے کم سے کم اجرت والے قانون کے بھی خلاف ہے
وزیرتعلیم کوئی شرم کوئی حیا ؟
آٹھ ہزار تنخواہ مذاق ہے
واہ کیا مُلک ہے MA/MSC کرنے والی بچیاں آٹھ ہزار تنہواہ لے رہی ہیں جبکہ BISP کے لیے آٹھ سو ارب روپے ؟
وزیراعلی پنجاب @MaryamNSharif صاحبہ آپ کو یہ معاملہ دیکھنا چائیے کون پنجاب کی پڑھی لکھی بہن بیٹیوں کے ساتھ یہ سلوک کر رہا ہے ؟ آٹھ ہزار روپے نہیں مطلب سیرسیلی ؟
پنجاب میں ایم اے، ایم ایس سی کرنے
والی بچیوں کو ماہانہ 8 ہزار روپے تنخواہ پر اسکولوں میں رکھا گیا ہے،
کم از کم تنخواہ کے قانون کی خلاف ورزی کی گئی، 8 ہزار روپے تو رکشہ کا کرایا ہو گا۔ MPA ن لیگ امجد علی جاوید
پنجاب میں ایم اے اور ایم ایس سی پاس خواتین اساتذہ کو صرف 8 ہزار روپے ماہانہ پر بھرتی کیے جانے کا انکشاف۔ کم از کم اجرت کے قانون کی خلاف ورزی پر ن لیگ کے ایم پی اے امجد علی جاوید نے کہا کہ “8 ہزار روپے تو صرف رکشے کے کرائے میں ہی خرچ ہو جاتے ہیں۔
پنجاب میں ایم اے، ایم ایس سی کرنے والی بچیوں کو ماہانہ 8 ہزار روپے تنخواہ پر اسکولوں میں رکھا گیا ہے، کم از کم تنخواہ کے قانون کی خلاف ورزی کی گئی، 8 ہزار روپے تو رکشہ کا کرایا ہوگا، امجد علی جاوید
پنجاب میں ایم اے اور ایم ایس سی پاس بچیوں کو نجی اسکولوں میں صرف 8 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر ملازمت دی جا رہی ہے، جو کم از کم اجرت کے قانون کی خلاف ورزی ہے۔ ن لیگ کے رکنِ پنجاب اسمبلی امجد علی جاوید نے کہا کہ 8 ہزار روپے تو صرف رکشے کے کرائے میں ہی خرچ ہو جاتے ہیں۔
@RaziTahirPak سکول میں کیئر گیور ہیں جو 8 8 سال سے چھوٹی کلاس کو پڑھاتے ہیں
انکی سیلری پہلے 4 ہزار تھی پھر 8 ہزار ہوئی اور 2،3 سالوں سے 8 ہزار روپے ہی ہے
پنجاب میں ایم اے، ایم ایس سی کرنے والی بچیوں کو ماہانہ 8 ہزار روپے تنخواہ پر اسکولوں میں رکھا گیا ہے، کم از کم تنخواہ کے قانون کی خلاف ورزی کی گئی، 8 ہزار روپے تو رکشہ کا کرایا ہو گا۔ MPA ن لیگ امجد علی جاوید
پنجاب میں ایم اے اور ایم ایس سی پاس خواتین اساتذہ کو صرف 8 ہزار روپے ماہانہ پر بھرتی کیے جانے کا انکشاف۔ کم از کم اجرت کے قانون کی خلاف ورزی پر ن لیگ کے ایم پی اے امجد علی جاوید نے کہا کہ “8 ہزار روپے تو صرف رکشے کے کرائے میں ہی خرچ ہو جاتے ہیں۔
پنجاب میں اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین کو صرف 8 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر اسکولوں میں تعینات کیے جانے پر سوالات اٹھ گئے۔ ن لیگ کے ایم پی اے امجد علی جاوید نے کہا کہ یہ کم از کم اجرت کے قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے، کیونکہ 8 ہزار روپے تو آمدورفت کے اخراجات بھی پورے نہیں کرتے۔
پنجاب میں ایم اے، ایم ایس سی کرنے والی بچیوں کو ماہانہ 8 ہزار روپے تنخواہ پر اسکولوں میں رکھا گیا ہے، کم از کم تنخواہ کے قانون کی خلاف ورزی کی گئی، 8 ہزار روپے تو رکشہ کا کرایا ہو گا۔ MPA ن لیگ امجد علی جاوید
پنجاب میں ایم اے، ایم ایس سی کرنے والی بچیوں کو ماہانہ 8 ہزار روپے تنخواہ پر اسکولوں میں رکھا گیا ہے، 8 ہزار روپے تو رکشہ کا کرایا ہو گا۔ MPA ن لیگ امجد علی جاوید
Amjad Ali Javed #WomenEmployment#Punjab#SchoolTeachers#PakistanEducation
🚨پنجاب اسمبلی میں ن لیگ کے امجد علی جاوید نے اپنے ہی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں MA اورMSc پاس بچیوں کو سرکاری اسکولوں میں صرف 8 ہزار روپے ماہانہ پر بھرتی کیا جا رہا ہے، جو کم از کم اجرت کے قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 8 ہزار روپے تو آج کل صرف رکشے کے کرائے میں خرچ ہو جاتے ہیں، ایسے میں اتنی کم تنخواہ پر کسی تعلیم یافتہ خاتون سے کام لینا انصاف نہیں۔