پاکستان کی بدقسمتی کہ اسے لبرل بھی جعلی ملے
جن کے نذدیک اگر سب پاکستانی ننگے ہو جائیں تو پاکستان ترقی کے تمام ریکارڈ توڑ دے گا۔
مزید کسر رہ گئی تو شراب پر سے پابندی ہٹا دیں۔
تف ہے اس سوچ پر نہ کوئی گہرائی نہ گیرائی بس ہوس پرستی اور بس !
@Veracious_pk بھائی آپ نے نے پھر ملک پھرا نہیں منڈی بہاولپور رحیم یارخان ہارون آباد منڈی یزمان کمالیہ ساہیوال میں تو صرف دس پندرہ سال پہلے تک شہری سڑکیں اینٹوں کی تھیں
لاہور میں صدر سے دوگیج تک اینٹوں کی سڑک صرف تیس سال پہلے تک تھی۔
میں کوئی تعمیرات کا ماہر نہیں ہوں لیکن پچیس سال پہلے تک ہماری گلیاں بلکہ کچھ سڑکیں بھی اینٹوں سے بنی ہوتی تھیں کوئی پائپ وغیرہ ڈلنے کے بعد بھی دوبارہ ویسی ہو جاتیں
پانی کے چھڑکاؤ سے ٹھنڈی ہو جاتیں شاید کنکریٹ کی گلیاں بنانے میں زیادہ بہتری ہو لیکن میرے خیال میں تو وہی بہتر تھیں۔
بات سے بات نکلتی ہے، ظاہر جعفر کی پھانسی برقرار رہنے سے یاد آیا وہ ایاز امیر صاحب کے بیٹے نے بھی تو اپنی بیوی سے بھاری رقم چھین کر اس کو ڈمبل مار کے قتل کیا تھا، اس کا مقدمہ کس سطح تک پہنچا ہے؟
اینویں ای یادآ گیا
جیسے ہی یہ خبر وائرل ہوئی کی ٹرمپ کی بیٹی اور یہودی داماد البانیہ کا جزیرہ خرید کر وہاں ایپسٹین جیسی عیاشیاں بنانا چاہ رہے وہاں شدید ترین احتجاج شروع ہو چکا ہے یہ البانیہ کے لوگ مطالبہ کر رہے کہ اسرائیل ہمارے ملک سے نکل جائے ہماری زمین فار سیل نہی ہے
ہم پنجابیوں کو سبسڈی نام کی بھیک نہ دیں ہمیں ہمارا حق چاہیے۔
ہم ان تمام افراد کا بل ادا کرتے ہیں جو بجلی چوری کر کے مفت ونڈو اے سی چلاتے ہیں۔ ہم سے پورا بل لیں کوئی سبسڈی نہ دیں لیکن چوروں کی وصولی ہم سے نہ کریں
ہم پنجابیوں کو سبسڈی نام کی بھیک نہ دیں ہمیں ہمارا حق چاہیے۔
ہم ان تمام افراد کا بل ادا کرتے ہیں جو بجلی چوری کر کے مفت ونڈو اے سی چلاتے ہیں۔ ہم سے پورا بل لیں کوئی سبسڈی نہ دیں لیکن چوروں کی وصولی ہم سے نہ کریں
ہم پنجابیوں کو سبسڈی نام کی بھیک نہ دیں ہمیں ہمارا حق چاہیے۔
ہم ان تمام افراد کا بل ادا کرتے ہیں جو بجلی چوری کر کے مفت ونڈو اے سی چلاتے ہیں۔ ہم سے پورا بل لیں کوئی سبسڈی نہ دیں لیکن چوروں کی وصولی ہم سے نہ کریں
ہم پنجابیوں کو سبسڈی نام کی بھیک نہ دیں ہمیں ہمارا حق چاہیے۔
ہم ان تمام افراد کا بل ادا کرتے ہیں جو بجلی چوری کر کے مفت ونڈو اے سی چلاتے ہیں۔ ہم سے پورا بل لیں کوئی سبسڈی نہ دیں لیکن چوروں کی وصولی ہم سے نہ کریں
ہاہاہاہا
جہاں شادی کا ادارہ ہی موجود نہیں رہا وہاں کزن میرج پر پابندی۔
جہالت کے سر پر سینگھ نہیں ہوتے جن ممالک کا نام لیا یہ بنیادی طور پر عیسائی ریاستیں تھیں وہاں کزن میرج کی اجازت پہلے ہی نہ تھی۔
سویڈن کی پارلیمنٹ نے ایک نیا قانون منظور کیا ہے جس کے تحت فرسٹ کزن اور قریبی رشتہ داروں کے درمیان شادی پر پابندی لگا دی گئی ہے ناروے پہلے ہی کزن میرج پر پابندی لگا چکا ہے اور برطانیہ بہت جلد کزن میرج پر پابندی لگانے والا ہے۔چین میں کزن میرج پر مکمل پابندی ہے امریکہ کی بہت سی ریاستوں میں بھی کزن میرج پر پابندی ہے۔ لگتا ہے دنیا کے بہت سے ممالک کزن میرج پر پابندی لگانے کا قانون بنانے والے ہیں کزن میرج سے بچوں میں جینیٹک بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے پیدائشی مسائل اور کمزور صحت کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں ذہنی یا جسمانی معذوری کا رسک بڑھ سکتا ہے
دھشتگردی کے معاملات میں پھنس جانے والی عورتیں، دھشتگردوں کو جنسی خدمات پیش کرتی ہیں اور پھر اسی جال کے تحت، جان سے جاتی ہیں۔ بلوچ دھشتگردی اک پرانی حقیقت ہے۔ ریاست کا اس معاملہ پر اک طویل عرصہ نرم رویہ رکھنا، اس انفیکشن کو بڑھاتا چلا گیا۔ خاہمخواہی "بلوچ روایات" کے تحت ماہل اور شاری جیسی عورتوں کو قانونی دائرے سے باہر رکھا گیا۔ ابھی بہرحال امید ہے کہ بلوچ دھشتگردی کے تمام نر اور مادہ جانوروں کو، ان کے معیار کے مطابق ہی ٹریٹ کیا جائے۔
آپ ظلم کر رہے ہو، سلمان راجہ
جناب میں اپنی ڈیوٹی کر رہا ہوں، کانسٹیبل گلگت پولیس
ان کی ویڈیو بناؤ، سلمان راجہ
ساتھ کوئی اچھا سا گانا لگانا رکو میں زرا پیچھے سے آتا ہوں سلوموشن میں ویڈیو بنانا، کانسٹیبل
آپ غیر سنجدہ ہو رہے ہیں، سلمان راجہ
کانسٹیبل! جناب آپ کے منہ سے بات اچھی نہیں لگتی میں اپنی ڈیوٹی کر رہا ہوں آپ نے سہیل آفریدی نے علیمہ نے مذاق بنایا ہوا ہم کانسٹیبل لیول کے بندوں کے سامنے ایسے اکڑ کے بات کرتے ہو جیسے یہ نظام ہم چلا رہے ہوتے،
جو یہ سسٹم چلا رہے ان سے تو راتوں کو جا کر ملتے ہو،
اور ہم غریبوں کے سامنے شیرشاہ سوری بن جاتے ہوئے،
یہ ویڈیو بنا کہ جن یوتھیوں کو مطمئن کرنا ہوتا وہ کم عقل ہیں ہم نہیں جو ان حرکتوں کو سمجھتے نا ہوں....!!!
پوری زندگی جمہوریت جمہوریت کے نعرے لگاتے اور ماریں کھانے کے بعد یہ بات اچھی طرح سمجھ آ گئی ہے کہ ہر ملک کا اپنا معروض ہے اور یہ والی جمہوریت نامی چڑیا پاکستان کے لیے نہیں ہے۔
بلکہ یہ پورے مشرق میں کسی کے لیے بھی نہیں ہے۔
بھارت جمہوریت سے توبہ کے لیے مثالی ریاست ہے
ایک تو پاکستانیوں کو پتہ نہیں یہ بات کب سمجھ آئے گی کہ
ہمارے خطے کے مزاج میں جمہوریت ہے ہی نہیں ۔
اور دوسرا ہمارے حالات ایسے نہیں ہیں کہ ہم فوج کو بالکل سسٹم سے آؤٹ کرکے ریلوے کی طرح کا ادارہ بنا کر رکھیں۔
کیونکہ ہماری سیاسی ایلیٹ بھی فوج کی طرح اتنے جوگی نہیں کہ اس ملک کو اکیلی چلاسکے۔
اور دیکھیں تو جس آئیڈیل جمہوریت کا ہم راگ الاپتے ہیں وہ تو کوئی سیاسی جماعت خود اپنے اندر پیدا نہیں کر سکی تو ملک میں انہوں نے امب جمہورئت نافذ کرنی۔
تھوڑے لکھے کو بہت جانیں ۔ کمنٹس میں گالم گلوچ کرکے اپنے نسب کا راز فاش مت کریں ۔
ہمارے گھر ان گنت صدیوں سے انہیں چلچلاتی دھوپ اور گرمیوں میں آرام دہ محفوظ پناہ گاہیں تھے۔
پھر ہم سے جدت کے نام پر ٹیکنالوجی کے نام پر وہ مکان چھینے گئے تو ہم بجلی کی دہائی دے رہے ہیں۔
گھر میں تہ خانہ آج بھی اے سی اور ہیٹر کی ضرورت ختم کر دیتا ہے اتنا تو ہم گھر بناتے کر سکتے ہیں۔
منقول از ہوم ڈیلیوری بوائے
** ہوم ڈیلیوری کا مطلب بیڈرُوم ڈیلیوری ہرگز نہیں ہے !**
میں ان تمام بھائیوں اور بہنوں سے ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتا ہوں جو بلڈنگ کی چوتھی منزل پر بیٹھ کر رائیڈر کو کہہ رہے ہوتے ہیں بھائی اُوپر رُوم تک آ جاو ۔ یار ہم بھی انسان ہیں ۔
500 کا آرڈر کروا کر خرید تو نہیں لیا آپ لوگوں نے ہمیں، کم از کم اتنا کر لو کہ بھائی ایک دو فلور آپ آجاو ایک دو ہم آجاتے ہیں ۔ یہ کوئی طریقہ ہے ۔۔
آپ سے اتنا نہیں ہوتا تو سوچو ہم پہ کیا گزرتی ہوگی؟ اوپر سے آپ لوگ یہ دھمکیاں بھی دیتے ہو
"آرڈر واپس لے جاو ،نہیں آتے تو کمپنی کو شکایت لگاتے ہیں "
کچھ انسان کے بچے بنو یار ، مہربانی کرو ۔۔۔
@ShamaJunejo میری بیٹی پیدا ہوئی تو میری کل ماہانہ آمدن بیس ہزار تھی تب میں نے ڈیڑھ لاکھ کی مٹھائی بانٹی تھی۔
االلّٰہ کی قسم ڈیڑھ کروڑ کی اوقات ہوتی ڈیڑھ کروڑ بھی خیرات کرتا