جب تک عوام اس قابل اور منظم نہ ہو کہ ایک ادارے کی شکل میں اپنا حق لے سکے، صرف احتجاج سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
مڈل کلاس کو آگے آنا ہوگا، تب ہی عوام کا راج قائم ہوگا۔
اب عوام جب نکلے گی تو اپنا حق لے کر رہے گی، ان شاء اللہ۔
#عوام_راج#عوام_کا_راج#مڈل_کلاس
اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو اختیارات ملے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ اختیارات عوام تک پہنچے یا صرف صوبائی سیاسی خاندانوں کے ہاتھ مضبوط ہوئے؟
پنجاب میں برسوں سے نواز شریف خاندان کی سیاسی بالادستی، خیبر پختونخوا میں عمران خان کے نام کی سیاست، سندھ میں ’’بھٹو زندہ ہے‘‘ کے نعرے کے ساتھ زرداری خاندان کی حکمرانی اور بلوچستان میں قبائلی سرداروں کا اثر، کیا یہ اتفاق ہے کہ اقتدار صوبائی دارالحکومتوں سے آگے عام آدمی کی گلی، محلے اور یونین کونسل تک نہیں پہنچا؟
اٹھارویں ترمیم کا مقصد اختیارات کی منتقلی تھا، اختیارات کو صوبائی دارالحکومتوں میں منجمد کرنا نہیں۔ آئین کا آرٹیکل 140-A واضح طور پر سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتخب بلدیاتی نمائندوں کو منتقل کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔
اگر آئین موجود ہے تو بلدیاتی حکومتیں بااختیار کیوں نہیں؟
اگر عوام کے ووٹ سے منتخب نمائندے موجود ہوں تو پیسہ، اختیار اور فیصلہ سازی ان کے پاس کیوں نہیں؟
اگر آرٹیکل 140-A کی روح پر عمل نہیں ہونا تو پھر آئین میں یہ شق رکھنے کا فائدہ کیا ہے؟
اور سب سے بڑا سوال۔۔۔ کیا صوبائی سیاسی اشرافیہ واقعی اختیارات گلی، محلے اور یونین کونسل تک منتقل کرنا چاہتی ہے، یا اٹھارویں ترمیم کے بعد ملنے والے اختیارات کو اپنے اپنے سیاسی قلعوں میں محفوظ رکھنا چاہتی ہے؟
یہی وجہ ہے کہ آج نئے صوبوں اور نئے انتظامی یونٹس کی بحث کو صرف نقشوں اور حدود کی بحث نہیں ہونا چاہیے۔ اصل بحث اختیار کی تقسیم ہے۔ اگر بڑے صوبے عوام کو ریلیف نہیں دے رہے تو انتظامی یونٹس بڑھانے، حکومت کو آبادی کے قریب لانے اور اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے پر سنجیدہ قومی مکالمہ کیوں نہ ہو؟
عوام کو آپ کی اقتدار کی جنگ سے کوئی غرض نہیں۔ سیاسی ڈکٹیٹروں اور فوجی ڈکٹیٹروں کی لڑائی، اسٹیبلشمنٹ اور جمہوریت کی کشمکش، یہ تماشا ہم دہائیوں سے دیکھ رہے ہیں۔
اب نئی نسل کو بیانیہ نہیں، ڈیلیوری چاہیے۔
جسے آپ ’’چنزی‘‘ یا ’’کاکروچ‘‘ کہتے ہیں، وہ اتنی بے خبر نہیں۔ اسے آپ کی باہمی لڑائیاں، اقتدار کی بندر بانٹ اور نسل در نسل چلنے والی سیاست سب نظر آ رہی ہے۔ اسے تاریخ کی کتاب کھولنے کی بھی ضرورت نہیں؛ وہ اپنے اردگرد کی حقیقت دیکھ رہی ہے۔
اب سوال یہ نہیں کہ اقتدار کس خاندان کے پاس ہے۔
سوال یہ ہے کہ اقتدار عوام کے پاس کب آئے گا؟
اور اگر نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بنتے ہیں تو ان کا مقصد بھی یہی ہونا چاہیے: حکومت عوام کے قریب، اختیار عوام کے قریب، وسائل عوام کے قریب اور جواب دہی بھی عوام کے قریب۔
عوام کو ریلیف چاہیے، آپ کی اقتدار کی جنگ نہیں۔
بلال امین باجوہ ( پاکستان عوام راج تحریک)
#NewProvincesStrongPakistan
#نئے_صوبے_بناؤ_پاکستان_بچاؤ
#اب_سرعام_عوام_راج_ہوگا
@GovtofPakistan
https://t.co/lHSUzK877o
آبادی کے لحاظ سے نئے صوبوں کا قیام اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ اس سے نہ صرف انتظامی امور بہتر ہوں گے بلکہ مڈل کلاس کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ڈی سینٹرلائزیشن ہی عام پاکستانی کے مسائل کا اصل حل ہے! 📈📊 #اب_عوام_راج_ہوگا#نئے_صوبے_خوشحال_عوام
بے روزگاری سے تنگ آ کر قسطوں پر رکشہ چلا کر رزق کمانے والے گریجویٹ نوجوان کا روزانہ چالان کیا جاتا ہے، جبکہ کالے شیشوں والی سرکاری گاڑیاں الٹی سمت میں قانون کی دھجیاں اڑاتی نکل جاتی ہیں۔ قانون اب سب پر برابر لاگو ہوگا۔ ✊
@iqrarulhassan#اب_سرعام_عوام_راج_ہوگا
🏆 ٹاپ 10 پرفارمرز کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد! 🎉
آپ کی محنت، مستقل مزاجی اور عوام راج تحریک کے پیغام کو بھرپور انداز میں آگے بڑھانے کے جذبے کو سلام۔
یہ کامیابی صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ ہم سب کی مشترکہ جدوجہد کی کامیابی ہے۔
@iqrarulhassan
عوام راج تحریک بلوچستان کی اہم آن لائن میٹنگ
الحمدللہ، عوام راج تحریک بلوچستان کی اہم آن لائن میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں تنظیمی امور، آئندہ کے لائحہ عمل اور تحریک کے پیغام کو مزید مؤثر انداز میں عوام تک پہنچانے پر اہم مشاورت ہوئی۔
عوام راج — عوام کا اختیار، عوام کی قیادت!
یاد رکھیں... پاکستان میں مسئلہ کسی عوامی اصلاحات، مضبوط بلدیاتی نظام یا نئے صوبوں کی بات پر 95٪ محکوم عوام کو نہیں، 5٪ اشرافیہ کو ہوتا ہے۔ کیونکہ اختیار گلی، محلے اور عوام تک منتقل ہوتے ہی اشرافیہ کی اجارہ داری ختم ہونے لگتی ہے۔
فیصلہ اب محکوم عوام کرے گی، حاکم نہیں۔
#اب_سرعام_عوام_راج_ہوگا
تماشا دیکھیں !! جو لوگ تیس تیس، چالیس چالیس سال میں اپنی پارٹی میں جمہوریت نہیں لا سکے وہ بھی کہتے ہیں کہ ہم ملک میں جمہوریت کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔
یاد رکھیں صرف وہی پارٹی میں جمہوریت اور میرٹ لا سکتا ہے جو خود کسی عہدے پر قابض نہ ہو یا خود کسی عہدے کا امیدوار نہ ہو۔
@PTIofficial جِس مُلک میں نوجوان ڈگری ہاتھوں میں لے کر بھی بے روز گار ہوں غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہو اور حکمران اپنی مارا ت میں اضافہ کرتے جائیں اور حق کی آواز اٹھانے والے کی آواز دبا دی جائے امیر کے لیے الگ آور غریب کے لیے الگ قانون ہوں تو پھر آزادی کونسی اور کس کے لیے “#اب_عوام_راج_ہوگا
سالوں سے وڈیروں، جاگیرداروں اور کرپٹ نظام نے ہمیں لوٹا۔تعلیم مہنگی، نوکریاں غائب، انصاف صرف امیروں کے لیے!اب بہت ہو چکا!عوام راج تحریک — عام آدمی، مڈل کلاس، استاد، طالبعلم، مزدور اورنوجوانوں کی اپنی تحریک!یہ کسی ایک لیڈر کی نہیں، یہ ہم سب کی تحریک ہے۔#اب_عوام_راج_ہوگا