فوجی پراڈکٹس کے بائیکاٹ کی مہم سوشل میڈیا پر تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے، پاکستان میں کاروبار کے سارے بڑے ادارے فوج خود چلاتی ہے کسی مقامی کمپنی کو کاروبار بڑھانے کا موقع ہی نہیں دیتی اور ہر کاروبار پر قابض ہے، اس مہم کا حصہ بنیں اور دوسرے لوگوں کو بھی آگاہی دیں کہ یہ کون کون سی چیزیں بناتے ہیں، ان کے چند کاروباروں میں فوجی جوس، فوجی دودھ ، فوجی دہی، فوجی کارن فلیکس، فوجی میوزلی، فوجی اوٹس، فوجی ساسیجز، فوجی برگرز، فوجی میٹ بالز، فوجی کوکنگ آئل، فوجی گھی، آٹا چکی وہیٹ فلور، فوجی فریش اینڈ فریز (ایف این ایف) ، فوجی سیریلز، فوجی میٹ، نورپور مصنوعات، خلافت بیوریجز، عسکری بینک، عسکری اسلامی بینک، عسکری سیکیورٹیز، عسکری جنرل انشورنس، عسکری لائف ایشورنس فوجی فاؤنڈیشن، شاہین انشورنس، عسکری کمرشل بینک، فوجی سیمنٹ، عسکری سیمنٹ، ایف ڈبلیو او کنسٹرکشن سروسز، ایف ڈبلیو او انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ، این ایل سی لاجسٹکس سروسز، این ایل سی ٹرانسپورٹیشن سروسز، فوجی فاؤنڈیشن کی کنسٹرکشن سروسز، عسکری کنسٹرکشن سروسز، فوجی آئل ٹرمینل اینڈ ڈسٹری بیوشن کمپنی فوجی فرٹیلائزر کمپنی (ایف ایف سی)، فوجی فرٹیلائزر بن قاسم (ایف ایف بی ایل)، سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل)، سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) وغیرہ وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔
#BoycottFaujiProducts
#FascismUnderAsimLaw
کل رات علیمہ خان کے گھر کے دروازوں کو کچھ اس طرح تھوڑا گیا ہے، یہ سارے ثبوت محفوظ رکھیں تاکہ کل کوئی Woman کارڈ استعمال نہ کرے۔
وقت ضرور بدلے گا ان شاءاللہ 🤞
#ستمبر27_مارچ_ہو_کر_رہے_گا
عمر میاں ، یہ علاج وغیرہ سب بہانے ہیں۔ ہم سب یہاں بھاگنا چاہتے ہیں۔ کم از کم میں تو یہ والا ایپی سوڈ لپیٹنا چاہتا ہوں۔ ہم نفرت ابلنے والے ، گالم گلوچ والے ، آگ لگانے والے لوگ ہی نہیں تھے۔ تھوڑی سیاست کرلی ، کہیں بھاشن دے لیا ، کہیں تقریر جھاڑ دی۔ کسی کو ٹرول کردیا۔ کسی سے فرضی سی محبت کرلی۔ کہانیاں گھڑ لیں۔ بس۔ جو کچھ ہماری فطرت تھا ہم اس کے خلاف جارہے ہیں۔ اسی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔
ہم تو پھول جیسے تھے
آگ سا بنا ڈالا
ہمارا سب کچھ ڈسٹربڈ ہے۔ فیملی ، ب��ے ، کاروبار ، دماغ ، نفسیات سب۔ شاید ہر نئے دن سب سے پہلا خیال یہ آتا کہ یہ کیا ہے؟ کیوں ہے؟ چلو بھاگ چلیں۔ چلو سب بند کردیں۔ اپنا کام کریں۔ شام کو تھوڑی سی جم۔ رات کو فیملی اور ویک اینڈ پر آوارہ گردی۔ لیکن نہیں ہوپاتا۔ کچھ لوگ ہم سے زیادہ تکلیف میں ، ہم سے زیادہ مصیبت میں ہیں۔ شاید ان کا خیال روک لیتا ہے ۔ شاید بزدلی کے طعنے روک لیتے ہیں۔ شاید اس سب کی عادت ہوگئی ہے۔ شاید دل کے کسی کونے میں یہ موجود ہے کہ ہم ابابیلوں نے ابرہہ کے ہاتھیوں کو شکست دینی ہے۔
اور ہم میں سے کوئی بھی ناگزیر نہیں۔ آپ کو یاد ہوگا ایک بار آپ کو کہا تھا کہ بابا کوڈا آج تک کا تحریک انصاف کے ہمدرد سوشل میڈیا کا سب سے بڑا انفرادی برینڈ ہے۔ ۔ لوگ بھول گئے۔ انہی کے اکاونٹ کا نام بدلا لوگ پہچانتے بھی نہیں۔ جیسے ہم ناگزیر نہیں ، ویسے ہی ہم اسٹیل کے بنے ہوئے بھی نہیں۔ ایک دھمکی ، ایک میسج ، ایک سنجیدہ خطرہ ہمیں سرینڈر کرنے پر مجبور کردے گا۔ ہم یہاں موجود بہت سارے لوگوں جیسے مضبوط نہیں ہیں۔
لیکن یہ طے ہے کہ جس جہنم میں فیصلہ سازوں نے اس ملک کو دھکیلا ہے اس میں یہ لوگ خود بھی گریں گے۔ کوئی عمر کوئی شبیر کوئی دوسرا تیسرا نہیں ہوگا تو کوئی چوتھا پانچواں ہوگا۔ ہم اگر جھک گئے یا بھاگ بھی گئے ��و یہ آگ جلتی رہے گی۔ نفرت ، غصے اور انا کی آگ۔ اور اس پر پٹرول چھڑکا جاتے رہے گا فیصلہ سازوں کی ناکامی ، نااہلی اور وحشت کا۔
کل اور آئیں گے پھولوں کی کھلتی کلیاں چننے والے
مجھے سے بہتر کہنے والے تم سے بہتر سننے والے
اہم ترین 🚨
صحافی ریان گرم نے امریکی ترجمان کو ایکسپوزڈ کر دیا۔ پاکستان میں عمران خان کا مقدمہ خفیہ چلایا گیا اور عمران خان کے وکلاء کو عدالت سے باہر رکھا گیا۔
عمران خان کے مقدمے میں کچھ بھی کینگرو کورٹ سے کم نہیں لگتا۔ تو وینزویلا کا معاملہ سیاسی کیوں ہے، لیکن جب پاکستان کی بات آتی ہے تو یہ پاکستانی عدالتوں کا معاملہ ہے؟
Cricket legend Imran Khan is rotting to death in a tiny jail cell in Pakistan. It's time Britain used its influence to help free him
https://t.co/Yf5eCx2fAi
قاسم خان کی گفتگو 🚨
اس وقت میں زیادہ پریشان ہوں کیونکہ آخری بار جب ہماری اپنے والد سے بات ہوئی تھی تو وہ اپنی آنکھ کے علاج اور دیگر قیدیوں کے ساتھ ہونے والے سلوک پر پریشان تھے۔
جیل میں حالات انتہائی خوفناک ہے، ہیپاٹائٹس کی وجہ سے جیل میں کئی اموات ہو چکی ہیں
علیمہ خان کی ٹویٹ 🚨
عمران خان کی جان اب شدید خطرے میں ہے!
عمران خان بار بار یہ تنبیہ کر چکے ہیں کہ: "وہ مجھے ویسے ہی مار دیں گے جیسے انہوں نے مصر میں مرسی کو مارا تھا۔"
اکتوبر 2025 میں مکمل تنہائی میں رکھے جانے سے پہلے عمران خان بالکل فٹ اور صحت مند تھے۔ دسمبر کے آخر تک، ان کی ایک آنکھ کی بینائی جانے لگی۔ جیل سپرنٹنڈنٹ کو بار بار یہ بتانے کے باوجود کہ وہ دیکھ نہیں سکتے، انہیں تقریباً دو ہفتوں تک طبی امداد سے محروم رکھا گیا۔ جب آخر کار ایک ڈاکٹر کو ان کا معائنہ کرنے کی اجازت دی گئی تو عمران خان کو بتایا گیا کہ اس تاخیر کی وجہ سے ان کی آنکھ کو مستقل نقصان پہنچ چکا ہے۔ ان کے سیل کے گرد کم از کم ایک درجن سی سی ٹی وی کیمرے موجود ہیں۔ ان کی نگرانی کرنے والے اداروں کو معلوم تھا کہ وہ ایک آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے۔ علاج میں مجرمانہ نیت کے ساتھ تاخیر کی گئی۔
اس کے بعد سے، جب کہ اڈیالہ جیل سے تقریباً کوئی بھی اصل معلومات باہر نہیں آنے دی جاتیں، ان کی صحت کے بارے میں میڈیکل رپورٹس اور مبینہ "اندرونی معلومات" جان بوجھ کر لیک کی جا رہی ہیں۔ جولائی کے آخر تک، سوشل میڈیا اچانک ایسے دعوؤں سے بھر گیا کہ ان کی صحت بگڑ رہی ہے، ان کے ہاتھ اور ہونٹ کانپ رہے ہیں، ان کا بلڈ پریشر غیر مستحکم ہے، اور طویل تنہائی ان پر ذہنی طور پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ ان رپورٹس کے ساتھ جعلی اور اے آئی (AI) سے تیار کردہ ایسی تصاویر بھی تھیں جن میں انہیں ویل چیئرز اور اسپتال کے بستروں پر دکھایا گیا۔
یہ بیانیہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟
کیونکہ ان کے اغوا کاروں کا خیال تھا کہ وہ ان انتہائی سخت حالات کا مقابلہ نہیں کر پائیں گے جن میں انہیں رکھا گیا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ وہ ٹوٹ جائیں گے، کہ آخرکار وہ پاکستان کے عوام کا ساتھ چھوڑ دیں گے اور خود کو بچانے کی کوشش کریں گے۔
انہوں نے ایسا نہیں کیا۔
جب انہوں نے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کر دیا تو انسانی رابطے سے مکمل طور پر کاٹ کر انہیں انتہائی درجے کی اذیت دی گئی، سوائے ان کی اہلیہ سے غیر باقاعدہ ہفتہ وار ملاقاتوں کے جو خود اسی جیل میں ہیں۔
پھر بھی وہ اب بھی ڈٹے ہوئے ہیں اور چونکہ وہ انہیں توڑ نہیں سکے، اس لیے اب انہوں نے عمران خان کی جسمانی اور ذہنی صحت کے بارے میں ایک جعلی بیانیہ اور جعلی پروپیگنڈا بنانا شروع کر دیا ہے۔
18 اگست 2026 کو، سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ ڈاکٹر عظمیٰ خان اور ان کے ذاتی ڈاکٹر ڈاکٹر فیصل سلطان کی موجودگی میں، عمران خان کو مکمل آزادانہ طبی معائنے اور علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے۔ اس حکم میں دو دن کی آخری تاریخ دی گئی تھی۔ انہیں 20 اگست تک منتقل کیا جانا چاہებя تھا۔ اس حکم پر تاحال عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
حکومت کیا چھپا رہی ہے کہ وہ آزادانہ طبی معائنے کی اجازت دینے کے بجائے سپریم کورٹ کی نافرمانی کرنے کو ترجیح دے رہی ہے؟
ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا کہ ہم دو واضح مطالبات کے ساتھ پرامن طور پر سڑکوں پر نکلی��:
سپریم کورٹ کے 18 اگست 2026 کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے، عمران خان کو مکمل آزادانہ طبی معائنے اور علاج کے لیے فوراً شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر، جنہوں نے القادر کیس میں 22 ماہ اور توشہ خانہ کیس میں 9 ماہ سے بشریٰ بیبی اور عمران خان کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت نہیں کی، وہ یا تو انصاف فراہم کریں یا اپنے عہدے سے ہٹ جائیں۔
مریم نواز جو پچھلے تین، چار دن سےسرکاری خرچے پر لندن کی سیر میں مصروف ہیں۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ مریم نواز جو اربوں روپے کا جہاز عوام کے پیسے سے لے کر ��ئی ہیں، اس کی صرف تین دن کی پارکنگ کا خرچہ 35 لاکھ روپے ہیں، جو آپ سب نے اور میں نے دیا۔
مریم کے جہاز کے فیول پر 78 لاکھ روپے خرچ ہو چکا ہے، جو میری اور آپ سب کی جیب سے ادا کیا گیا۔
صدر زرداری کے جہاز کا خرچہ بھی 58 لاکھ سے زائد بتایا جا رہا ہے۔ جو ظاہر ہے ہم سب نے دیا۔
یہ محمد مالک صاحب کی ARY پر رپورٹ کا خلاصہ ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ مریم نواز اور زرداری یہ پیسہ خود اپنی جیب سے ادا کر کے ثابت کر دیں کہ ان کو عوام کے پیسے پر نجی دورے کرنے کا کوئی شوق نہیں۔
ورنہ یہ باتیں تو سننی پڑیں گی کہ عوام کا پیسہ ناحق اپنی عیاشیوں پر ضائع کیا جا رہا ہے۔ اور عوام کے دل میں ان کے لئے نفرت مزید بڑھے گی۔
آئے دن پیٹرول اسی لئے مہنگا کر رہے ہیں تاکہ عوام ان کی عیاشیاں افورڈ کرے۔
بنو امیہ نے دین اسلام سے بغاوت کی
اور اپنا الگ اسلام بنا لیا
جسے بنو عباس نے مذہب اہلسنت کا نام دے دیا
مذہب اہلسنت میں آگے چار فقہی گروہ بن گئے
حنفی، مالکی ، شافعی اور حنبلی
حنفیوں میں آگے دو بڑے فرقے بن گئے
بریلوی اور دیوبندی
جبکہ باقی فقہی گروہوں میں سے وہابی نکل آئے
دیوبندی آگے مزید فرقوں میں تقسیم ہو گئے جیسا کہ حیاتی اور مماتی ،
جمعیت علماء ہند
جمعیت علماء اسلام (ف)
جمعیت علماء اسلام (س)
تبلیغی جماعت
جماعت اسلامی
دارالعلوم دیوبند سے وابستہ مدارس و حلقے
وفاق المدارس العربیہ سے وابستہ مدارس اور مختلف انتہا پسند گروہ جیسا کہ سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی، ٹی ��ی پی وغیرہ
وہابیوں کے بھی آگے مزید گروہ بن گئے جیسا کہ
جمعیت اہل حدیث
مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان
اہل حدیث یوتھ فورس
احسان الٰہی ظہیر گروپ
لکھوی گروپ
جماعت الدعوہ
القاعدہ، داعش اور خوراجی و ناصبی نظریات رکھنے والے کچھ گروہ وغیرہ
بریلوی فرقہ مزید چالیس کے قریب فرقوں میں تقسیم ہو چکا ہے ،بریلویوں کی رجسٹرڈ جماعتوں کی تعداد سترہ ہے جن میں بڑی جماعتیں یہ ہیں :
دعوتِ اسلامی
جمعیت علماء پاکستان (JUP)
سنی تحریک
تحریک لبیک پاکستان (TLP)
تحریک صراط مستقیم ( جلالی گروپ)
جماعت اہل سنت پاکستان
تبلیغ اسلامی وغیرہ وغیرہ
بالفرض کوئی شخص اگر دعوت اسلامی یعنی فرقہ عطاری�� کا حصہ ہے
تو وہ خود دیکھ لے کہ دین اسلام سے کتنا دور ہے ؟؟
دین اسلام :
اطیعواللہ و اطیعوالرسول،
اہل بیت رسول ﷺ اور قرآن
بس اتنا ہی ہے
جو کوئی دین اسلام میں داخل ہو جائے
اسے کسی مولوی ، کسی اعلی یا ادنی حضرت کی ضرورت نہیں رہتی ، کہ دین اسلام بھی کامل و اکمل ہے
اور دین اسلام کے ہادی و رہبر بھی کامل و اکمل ہیں
دین اسلام کو چھوڑ کر کسی فرقے کا حصہ بننا
دنیا و آخرت دونوں کی بربادی ہے
اسی لئے قرآن نے فرقہ پرستی سے منع فرمایا ہے
#دین_اسلام
اڈیالہ جیل سے ایک اور اہم خبر :
عمران خان کی پیچھلے ہفتے اپنی ہمشیرہ سے جیل میں گفتگو:
یہ ایک ٹریپ ہے ، مجھے ہسپتال لے کر جائے یا نا لے کر جائے ، مجھے رہا کروانے کا اعلان ہی کیوں نا کر دے ، سہیل آفریدی 27 کو لانگ مارچ لے کر اسلام آباد پہنچے ۔ جب تک میرا ڈائریکٹ میسیج نہیں آجاتا کوئی واپس نہیں جائے گا نا ہی باہر کوئی بھی لانگ مارچ کو منسوخ کر سکتا ہے نا ہی کوئی رد بدل کر سکتا ہے ، اس کا فیصلہ صرف میں کرونگا ۔
عمران خان نے لفظ “ٹریپ “ کا خصوصی ذکر ک��ا ۔
کوئی بھی 27 سے پہلے گرفتار نا ہو ، سب نے 27 کو احتجاج کے لیے نکلنا ہے اور 27 تک کسی بھی صورت گرفتاری نہیں دینی ، جو بھی گرفتار ہوا وہ جیل جاتے ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے
پنجاب سندھ اور بلوچستان بھی بھر پور مزاحمت دکھائے اور اپنے صوبے بند کرے اور جو 27 کو مزاحمت نا دکھا سکے وہ اپنے عہدے چھوڑ دے کیونکہ مجھے اس تحریک کے لیے بہادر لوگوں کی ضرورت ہے ۔
پاکستان میں اس وقت ملٹری ڈکٹیٹر شپ ہے، سب کچھ ان کے کنٹرول میں ہے، میرے والد جو پاکستان میں سب سے مشہور بندے ہیں ان کو ٹارچر کیا جا سکتا ہے تو عام آدمی کے ساتھ یہ ��یا کرتے ہوں گے؟ اگر کوئی اس رجیم کے خلاف احتجاج کرتا ہے تو اس کو گولیاں ماری جاتی ہیں۔ قاسم خان
نیٹ کھلنے پر یہ مناظر دیکھ کر بھی اگر ہم اپنی زندگی میں مشغول ہو گئے اس ظلم کے خلاف نا بول سکے وہی گندگی سیاست کے رواس شروع ہو گئے تو ہمیں ذندہ رہنے کا کوئی حق نہیں
قاسم خان سلیمان خان کا آسٹریلیا کے ادارے اے بی سی کو بھی انٹرویو ہوگیا۔۔۔۔
قاسم خان، سلیمان خان کا کہنا ہے کہ یہ ہمارے والد کو بزدل ، آمر سمیت یہ لوگ بیرونی دنیا میں جلاوطنی پر تیار ہیں لیکن ہمارے والد کبھی اس پر سمجھوتا نہیں کرسکتے۔