ہم 2دنوں سے اسلام آباد میں کھبی کورٹ ہسپتال کھبی پولیس اسٹیشن وکلا بار جہاں بھی جاتے ہیں ایک سوال ہمارے کانوں کو بہت گراں گزر رہی ہے وزیر اعظیم چیف جسٹس نگران حکومت کا تعلق بلوچستان سے ہے تو آپ لوگ یہاں اتنے لاچار اور بے بس کیوں ہو ؟ ہمارے بجائے یہ سوال اُن کیوں نہیں کیا جاتا؟
ہم 2دنوں سے اسلام آباد میں کھبی کورٹ ہسپتال کھبی پولیس اسٹیشن وکلا بار جہاں بھی جاتے ہیں ایک سوال ہمارے کانوں کو بہت گراں گزر رہی ہے وزیر اعظیم چیف جسٹس نگران حکومت کا تعلق بلوچستان سے ہے تو آپ لوگ یہاں اتنے لاچار اور بے بس کیوں ہو ؟ ہمارے بجائے یہ سوال اُن کیوں نہیں کیا جاتا؟
Glimpses of rally from Turbat where people numbering in thousands have come out against the state terrorism, extra judicial killings and fake encounters and enforced disappearances. From Makuran to DG Khan, not a single area remains where people have not taken to roads against state’s brutal policies. From Kech to Hub, Karachi, Khuzdar, Surab, Dera Bugti, Dera Ghazi Khan, Taunsa, Shaal and every other region have come out in protests. While entire Kech district is on shutter down strike today.
#MarchAgainstBalochGenocide
تھانے سے تمام خواتین اس وقت رہا ہوچکی ہے اور وہ رہائش گاہ کی طرف جارہے ہے، جبکہ میل ساتھی ابھی تک گرفتار ہے بشمول ظہیر بلوچ کے جسکے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی جاری،
بلوچستان بھر میں احتجاجی شیڈول جاری کیا جاچکا ہے، جبر و تسلط کے خلاف انصاف کے حصول تک جدوجہد جاری رہے گا
I was the oldest amongst my sisters, so I had to be strong for everyone. I would pray that my father would come back. There was a hope that he would be back. I kept on holding onto the hope that life would be normal again,” Mahrang said. “But that never happened
یہ بچی شارول اپنی ماں سیما بلوچ کی گرفتاری کے بعد سے مسلسل رو رہی ہے
سیمہ بلوچ تمام مظاہرین کے ساتھ 20گھنٹوں سے گرفتار ہے اور اسکی چھوٹی بیٹی اسکی راہ دیکھ رہی ہے۔
سیمابلوچ کے بھائی شبیر بلوچ کو 2016 سے جبری گمشدگی کے بعد لاپتہ کیا گیا ہے اب اس شیرخوار بچی سے بھی جدا کیا گیا ہے
یہ بچی شارول اپنی ماں سیما بلوچ کی گرفتاری کے بعد سے مسلسل رو رہی ہے
سیمہ بلوچ تمام مظاہرین کے ساتھ 20گھنٹوں سے گرفتار ہے اور اسکی چھوٹی بیٹی اسکی راہ دیکھ رہی ہے۔
سیمابلوچ کے بھائی شبیر بلوچ کو 2016 سے جبری گمشدگی کے بعد لاپتہ کیا گیا ہے اب اس شیرخوار بچی سے بھی جدا کیا گیا ہے
اسلام آبادمیں پرامن احتجاج کرنے والی معصوم بلوچ ماؤں بہنوں ، بزرگوں اور نوجوانوں کی گرفتاریاں اور ان پر تشدد کھلا ظلم ہے ۔
پاکستان میں فریاد کرنا بھی جرم ہے
بلوچوں کی نسل کشی بند کرو
Watch my video TikTok
https://t.co/mOKUgsDX66
#BalochGenocide#MarchAgainstBalochGenocide
#BalochLongMarch2Islamabad
اس دفعہ شہر اقتدار اسلام آباد کی فضاؤں میں اجنبیت کا احساس شدت کے ساتھ دلایا گیا
کل رات اس امید کے ساتھ ہم دھرنے کے مقام پر بیٹھے تھے کہ ہمیں سنا جائے گا اب بار بار دماغ میں یہ سوال منڈلا رہا ہے
ہم کون ہیں ؟ اپنوں کے ساتھ تو ایسا سلوک نہیں جاتا۔۔!
#MarchAgainstBalochGenocide