إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ
بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کے بدل بدل کے آنے جانے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں
سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ - 190
نَزَّلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَنْزَلَ التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ
اس نے (اے محمدﷺ) تم پر سچی کتاب نازل کی جو پہلی (آسمانی) کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور اسی نے تورات اور انجیل نازل کی
سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ - 3
وَقَالَ لِلَّذِي ظَنَّ أَنَّهُ نَاجٍ مِنْهُمَا اذْكُرْنِي عِنْدَ رَبِّكَ فَأَنْسَاهُ الشَّيْطَانُ ذِكْرَ رَبِّهِ فَلَبِثَ فِي السِّجْنِ بِضْعَ سِنِينَ
اور دونوں شخصوں میں سے جس کی نسبت (یوسف نے) خیال کیا کہ وہ رہائی پا جائے گا اس سے کہا کہ اپنے آقا سے میرا ذکر بھی کرنا لیکن شیطان نے ان کا اپنے آقا سے ذکر کرنا بھلا دیا اور یوسف کئی برس جیل خانے میں رہے
سُورَةُ يُوسُفَ - 42
حاسد لوگوں کو اپنی نعمتوں سے زیادہ آگاہ نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ نظرِ بد لگنا برحق ہے، اور حاسدوں سے احتیاط اور حسنِ تدبیر کے ساتھ معاملہ کرنا ضروری ہے۔
ابن مفلح الحنبلي رحمه الله
( الآداب الشرعية (٥٥٥/٣)
لا حول ولاقوۃ إلا باللہ کے فضائل
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ��رضامندی کے حصول، آخرت کی ابدی ودائمی نعمتیں پانے، جنت میں بلند درجات حاصل کرنے اور کم وقت میں زیادہ ثواب حاصل کرنے کے لیے مختلف اعمال واذکار بیان فرمائے ہیں، اور انہیں کرنے کی ترغیب وتاکید کی ہے۔ انہی اذکار و اوراد میں سے ایک ’’لا حول ولا قوۃ إلا باللہ‘‘ کا ورد ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں اس کلمہ کے بہت فضائل وارد ہوئے ہیں، یہ کلمہ دنیا و آخرت کی بہت سی نعمتوں کے حصول کا ذریعہ ہے، لہٰذا ذیل میں اس کے فضائل ذکر کیے جارہے ہیں۔
لا حول ولا قوۃ إلا باللہ کا مفہوم
لا حول ولا قوۃ إلا باللہ کا ترجمہ اس طرح کیا جاتا ہے کہ :’’گناہوں سے بچنے کی طاقت اور اچھے اعمال کرنے کی قوت صرف اللہ تعالیٰ ہی کے ذریعہ ہے۔‘‘
اس کلمہ کے معنی ومفہوم میں غور کیا جائے تو واضح ہوگا کہ اس کلمہ کے ذریعے بندہ اپنی صلاحیت، لیاقت اور قدرت کی نفی کرتا ہے، ہر خوبی واچھائی کا اپنی ذات سے انکار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف اپنی محتاجی ظاہر کرتا ہے، اور اپنی عاجزی وانکساری کا برملا اقرار اور اپنی بےبسی ولاچاری کا کھلے الفاظ میں اعتراف کرتا ہے۔ اور بزبانِ حال کہتا ہے کہ اے اللہ! میں ایک عاجز وکمزور بندہ ہوں، مجھے گناہوں سے بچنے اور اچھے اعمال کرنے کی توفیق عطا فرما؛ کیونکہ آپ کے علاوہ کوئی نہیں جو انسان کو گناہوں اور برے کاموں سے بچاسکے، اور نیک اعمال کرنے کی قوت دے سکے۔
الغرض یہ کلمہ یعنی ’’لا حول ولا قوۃ إلا باللہ‘‘ الفاظ کے اعتبار سے مختصر ہے، لیکن اس کا مفہوم بہت وسیع ہے، اور اللہ تعالیٰ حمد وثناء کو عمدہ طریقہ سے اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ اسی وجہ سے احادیثِ مبارکہ میں لا حول ولا قوۃ إلا باللہ کا کثرت سے وِرد کرنے کی بہت تاکید آئی ہے۔
لا حول ولا قوۃ إلا باللہ جنت کا خزانہ
متعدد احادیث مبارک�� میں لا حول ولا قوۃ إلا باللہ کو جنت کا خزانہ کہا گیا ہے، چنانچہ بخاری شریف وغیرہ میں حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک سفر میں تھے، جب وہ کسی بلندی پر چڑھتے یا کسی وادی میں اُترتے تو باآوازِ بلند تکبیر کہتے، یہ دیکھ کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:
’’أيہا الناس ��ربعوا علی أنفسکم، فإنکم لا تدعون أصم ولا غائبا، ولکن تدعون سميعًا بصيرًا۔‘‘
ترجمہ: ’’اے لوگو! اپنے اوپر نرمی کرو، کیونکہ تم کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکارتے، بلکہ تم اس کو پکار تے ہو جو سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔‘‘
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ فرماکر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اس وقت میں اپنے دل میں ’’لا حول ولا قوۃ إلا باللہ‘‘ کہہ رہا تھا تو آپ نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا نام لے کر فرمایا کہ اے عبداللہ بن قیس!
’’ألا أدلک علی کلمۃ ہي کنز من کنوز الجنۃ؟ لا حول ولا قوۃ إلا باللہ‘‘(۱)
ترجمہ: ’’میں ت��ہیں ایسا کلمہ نہ بتاؤں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے، وہ ’’لا حول ولا قوۃ إلا باللہ‘‘ ہے۔‘‘
اس حدیث شریف میں ترغیب دی گئی ہے، جس طرح انسان کی کوشش اور خواہش ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ خزانہ جمع کرے؛ تاکہ دنیا میں خوشحال اور عیش وراحت سے زندگی گزارے، اسی طرح انسان کو چاہیے کہ وہ اس کلمہ یعنی ’’لا حول ولا قوۃ إلا باللہ‘‘ کا کثرت سے ورد کرے، تاکہ آخرت میں ابدی راحت نصیب ہو، جنت میں اعلیٰ درجات اور زیادہ نعمتوں کا حصول ہو۔
’’لا حول ولا قوۃ إلا باللہ‘‘ جنت کا ��روازہ
’’لا حول ولا قوۃ إلا باللہ‘‘ کی ایک فضیلت یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جنت کا دروازہ کہا ہے، چنانچہ مشہور صحابی حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے فرزند قیس بن سعد سے روایت ہے کہ ان کے والد نے انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت پر مامور کیا تھا۔ وہ فرماتے ہیں کہ: ایک مرتبہ میں دو رکعت نماز پڑھ کر فارغ ہوا اور لیٹنے لگا تو اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور مجھے متوجہ کرکے فرمایا:
’’ألا أدلک علٰی باب من أبواب الجنۃ؟ قلت: بلٰی؟ قال: لا حول ولا قوۃ إلا باللہ۔‘‘ (۲)
ترجمہ: ’’کیا میں تمہیں جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے کے متعلق نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لا حول ولا قوۃ إلا باللہ۔‘‘
اور یہی فضیلت حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں بھی ہے۔ (۳)
ایک دوسری حدیث میں مزید یہ بات بھی آئی ہے کہ جب بندہ ’’لا حول ولا قوۃ إلا باللہ‘‘ کہتا ہے تو اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’أسلم عبدي واستسلم‘‘ یعنی میرے بندے نے فرمانبرداری کی اور سرِ تسلیم خم کیا۔
یقینا اللہ ان مؤمنوں سے بڑا خوش ہوا جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کررہے تھے، اور ان کے دِلوں میں جو کچھ تھا وہ بھی اللہ کو معلوم تھا، اس لئے اُس نے اُن پر سکینت اُتار دی، اور اُن کو اِنعام میں ایک قریبی فتح عطا فرمادی۔
﴿سورۃ الفتح، ۱۸﴾
اور اللہ نے تمہیں پیدا کیا ہے پھر وہ تمہاری روح قبض کرتا ہے، اور تم میں سے کوئی ایسا ہوتا ہے جو عمر کے سب سے ناکارہ حصے تک پہنچا دیا جاتا ہے، جس میں پہنچ کر وہ سب کچھ جاننے کے بعد بھی کچھ نہیں جانتا۔ بیشک اللہ بڑے علم والا، بڑی قدرت والا ہے۔
(سورۃالنحل ، ۷۰)
اللَّهُ الَّذِي أَنْزَلَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ وَالْمِيزَانَ ۗ وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِيبٌ
خدا ہی تو ہے جس نے سچائی کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اور (عدل وانصاف کی) ترازو۔ اور تم کو کیا معلوم شاید قیامت قریب ہی آ پہنچی ہو
سُورَةُ الشُّورَىٰ - 17
سب سے اچھی بات کتاب اللہ اور سب سے اچھا طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے اور سب سے بری نئی بات (بدعت) پیدا کرنا ہے(دین میں) اور بلاشبہ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ آ کر رہے گی اور تم پروردگار سے بچ کر کہیں نہیں جا سکتے۔
(صحیح بخاری، ۷۲۷۷)
ام المؤمنین عائشہ ؓ نے فرمایا،
قریش زمانہ جاہلیت میں عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے، پھر رسول اللہ ﷺ نے بھی اس دن روزہ کا حکم دیا یہاں تک کہ رمضان کے روزے فرض ہو گئے ، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس کا جی چاہے یوم عاشورہ کا روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔
(بخاری : 1893)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”ساری امت جنت میں جائے گی سوائے ان کے جنہوں نے انکار کیا۔“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! انکار کون کرے گا؟ فرمایا ”جو میری اطاعت کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو میری نافرمانی کرے گا اس نے انکار کیا۔“.
(صحیح بخاری ، ۷۲۸۰)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز ( تہجد ) ہے“.
(جامع ترمذی،۴۳۸)
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
حسن اور حسین (رضی الله عنہما و عليهما السلام) جنتی جوانوں کے سردار ہیں، اور ان کے والد ان دونوں سے افضل ہیں.
ماجہ 118
(المستدرک للحاكم 4779، 4780)
🚨 خبردار! جسم میں کیلشیم کی کمی خاموشی سے آپ کی ہڈیوں، دانتوں، اعصاب اور دل کو نقصان پہنچا سکتی ہے!
اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ کیلشیم صرف ہڈیوں کے لیے ضروری ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ خطرناک اور اہم ہے۔
کیلشیم وہ بنیادی معدنی جز ہے جو:
✅ ہڈیوں اور دانتوں کو مضبوط بناتا ہے
✅ دل کی دھڑکن کو متوازن رکھتا ہے
✅ پٹھوں کو صحیح طریقے سے کام کرنے میں مدد دیتا ہے
✅ اعصاب کے ذریعے دماغ تک پیغامات پہنچاتا ہے
✅ جسمانی توانائی اور نیند کے نظام کو بہتر بناتا ہ��
⚠️ جب جسم میں کیلشیم کم ہونا شروع ہوتا ہے تو جسم اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے ہڈیوں سے کیلشیم نکالنا شروع کر دیتا ہے، اور یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بیماری خاموشی سے جنم لیتی ہے۔
جسم میں کیلشیم کی کمی کی 6 خطرناک نشانیاں
1️⃣ پٹھوں میں درد، کھچاؤ اور مروڑ
اگر رات کو سوتے ہوئے پنڈلیوں میں اچانک شدید مروڑ اٹھتا ہے یا چلتے پھرتے پٹھے اکڑ جاتے ہیں تو اسے معمولی مسئلہ سمجھ کر نظرانداز نہ کریں۔
2️⃣ ہاتھوں، پاؤں اور ہونٹوں کا سن ہونا
بار بار سوئیاں چبھنے جیسا احساس، انگلیوں کا سن ہو جانا یا ہونٹوں کے گرد جھنجھناہٹ اعصابی نظام میں کیلشیم کی کمی کی نشانی ہو سکتی ہے۔
3️⃣ ہڈیوں کی کمزوری اور فریکچر
اگر معمولی چوٹ سے ہڈی متاثر ہو جائے، جوڑوں میں مستقل درد رہے یا کمر جھکنے لگے تو جسم خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہے۔
4️⃣ ناخنوں کا ٹوٹنا اور جلد کا خشک ہونا
کمزور، بھربھرے ناخن، بے جان جلد اور بار بار خارش یا ایگزیما جیسی شکایات کیلشیم کی کمی سے جڑی ہو سکتی ہیں۔
5️⃣ دانتوں کی خرابی
دانتوں میں درد، حساسیت، مسوڑھوں کی کمزوری یا بچوں میں دانتوں کا دیر سے نکلنا بھی اس کمی کی اہم علامت ہے۔
6️⃣ ہر وقت تھکن اور بے خوابی
اگر آرام کے باوجود جسم تھکا ہوا محسوس ہو، چکر آئیں یا رات بھر نیند پوری نہ ہو تو اس کی ایک وجہ کیلشیم کی کمی بھی ہو سکتی ہے۔
کیلشیم کی کمی جسم کے کن حصوں کو متاثر کرتی ہے؟
🦴 ہڈیاں → کمزور اور کھوکھلی
🦷 دانت → حساس اور کمزور
💪 پٹھے → درد اور مروڑ
🧠 اعصاب → جھنجھناہٹ اور سن پن
💅 ناخن → بار بار ٹوٹنا
😴 عمومی صحت → تھکن، سستی اور بے خوابی
قدرتی طور پر کیلشیم کہاں سے حاصل کریں؟
🥛 دودھ، دہی، پنیر
🌿 پالک، بروکلی، شلجم کے پتے
🌰 بادام، سفید تل، چیا سیڈز
🐟 سارڈینز اور سامن مچھلی
سب سے اہم بات ⚠️
اگر جسم میں وٹامن ڈی کی کمی ہو تو کیلشیم مناسب مقدار میں کھانے کے باوجود بھی جذب نہیں ہو پاتا۔
☀️ روزانہ مناسب دھوپ لیں
🩺 ضرورت پڑنے پر وٹامن ڈی اور سیرم کیلشیم ٹیسٹ کروائیں
💊 ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر کیلشیم سپلیمنٹس استعمال نہ کریں
📢 یاد رکھیں!
پٹھوں کا مروڑ، ہاتھوں پاؤں کا سن ہونا، بار بار تھکن یا ناخنوں کا ٹوٹنا صرف معمولی علامات نہیں، یہ جسم کی خاموش فریاد بھی ہو سکتی ہیں۔
اپنی ہڈیوں کو کمزور ہونے سے پہلے سنبھال لیں، کیونکہ ایک بار ہونے والا نقصان اکثر مکمل طور پر واپس نہیں آتا۔
❤️ یہ معلومات دوسروں تک ضرور پہنچائیں، شاید کسی کی خاموش بیماری بروقت پکڑی جائے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے میرے صحابہ کو گالی دی اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو
السلسلہ صحیحہ حدیث ٣٥٨٥ -صحیح
طبرانی ١٢٥٤١ صحیح