@abidlatif20@AthSal01 الحمدللہ میرے والد صاحب بھی انسپکٹر تھے ایک ہی گھر ہے گاؤں میں وہی آبائی زمین ہے ایک انچ بھی زمین نہیں خریدیں کوئی گاڑی نہیں لی اور کوئی عام پولیس آفیسر نہیں تھے محکمہ میں ایک نام تھا اور الحمدللہ ہم مطمئن ہیں کہ ہمارے والد صاحب ایماندار آدمی تھے
پاکستان زندہ باد،غیر ملکی سیاح
نہیں افغانستان زندہ باد ہم خیبرپختونخوا اور سوات کو افغانستان کا حصہ بنائیں گے،سوات اور خیبرپختونخوا افغانستان کا حصہ ہے،افغان طلبہ
آپ پاکستان کو پسند نہیں کرتے تو اسلام آباد یونیورسٹی پڑھنے کیوں آئے ہو؟
یہ وجہ ہے ان طلبہ کو پاکستان سے نکالنے کی
تمغے کا حقدار تو بس دنبہ چکی ہے جو نیازی کو 35 منٹ پہلے ہی شفا پہنچا چکا تھا اصل TC تو اسے کہتے ہیں تجھے تمغہ اے چاپلوسی پختونخواہ کے جاہل سیلا پریدی سے ملنا چائیے 😂😂
میری شفا اسپتال کے ایک ڈاکٹر سے بات ہوئی جو پمز میں عمران خان کے معائنے کے دوران وہاں موجود تھے ۔
وہ بتاتے ہیں کہ جب عمران خان کا معائنہ کیا جارہا تھا تو انہوں نے اپنے کمرے اور انتظامات سے متعلق سوال کیا جس پر ان کو آگاہ کیا گیا کہ آپ کو چیک اپ کے بعد واپس اڈیالہ جانا ہے
جس پر عمران خان حیران رہ گئے اور سوال کیا کہ کیوں ؟ مجھے تو 16 ستمبر تک اسپتال میں رہنا تھا
اس پر عمران خان کو بتایا گیا کہ زیشان عزیز ، صدیق جان ، شہباز گل اور عمران ریاض نے بتایا ہے کہ آپ نے علاج کرانے اور اسپتال منتقل ہونے سے انکار کردیا تھا
اور بڑی مشکلوں سے آپ کو منایا گیا اور آپ صرف چیک اپ کرائیں گے اور واپس اڈیالہ جائیں گے صرف اسی شرط پر تو آپ علاج کیلئے راضی ہوئے ۔ اس لئے آپ کیلئے کوئی کمرہ یا انتظامات نہیں کئے گئے
راوی بتاتے ہیں کہ اس موقع پر عمران خان نے ان چاروں کے متعلق جو کچھ کہا اگر وہ سامنے آجائے تو یہ شرم سے ڈوب مریں ۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ 2030 -40 میں جب بھی عمران خان رہا ہوا وہ ان کے گھر کی خواتین کو کھا جائے گا ۔
زرداری صاحب نے کہا تھا کہ جیل دو سال بعد اپنا آپ دیکھاتی ہے عمران صاحب کی میڈیکل رپورٹ گواہی دے رہی ہے کہ تیسرے سال میں ان کے اعصاب جواب دے رہے ہیں ان پر پینک اٹیک ہو رہے ان کا سٹریس اور انگزایٹی لیول ہائی ہے یہ سب نفسیاتی توڑ پھوڑ کی کیفیات ہوتی ہیں یہ نارمل ریکشن ہے کسی کو بھی لمبی قید میں ڈال دو وہ اسی کیفیت میں جائے گا آزادی سے محرومی چھوٹا صدمہ نہی ہوتا ہے
وہ دن میں تین دفعہ Lexotanil لے رہے ہیں اس گولی کا ایک عصر یہ ہوتا سارا دن نیم غنودگی میں رہتی انسان الرٹ نہی رہتا یاداشت کمزور ہو جاتی چکر آتے ڈاکٹرز اس کو لینے کے بعد ڈرائیونگ اور مشین چلانے سے منع کرتے ہیں
شوٹر فیضان بٹ کے بھائی ریحان بٹ اور والد فیاض بٹ کی پولیس مقابلے میں ہلاکت پر پولیس اہلکاروں کو ’’واصلِ جہنم‘‘ اور دہشت گردوں کو ’’شہید‘‘ کہنے والا ٹک ٹاکر موسیٰ علی بٹ مبینہ طور پر رات 3 بجے فیصل آباد میں اپنے گھر سے اٹھا لیا گیا۔
موسیٰ بٹ نے چند روز قبل پولیس، وزیراعلیٰ مریم نواز اور سہیل ظفر چٹھہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انتہائی نامناسب زبان استعمال کی تھی۔
دوسری جانب اس کے بھائی عمر حیات نے ویڈیو میں اداروں سے معافی مانگتے ہوئے موسیٰ بٹ کو ایک موقع دینے اور رہا کرنے کی اپیل کی ہے۔
یہ پین کا ل ن خود بہت بڑا حرامی ھے
ایک سوچ سمجھ کی گئ بات کو بار بار سلپ اف ٹنگ بول رھا
جاتے جاتے شہباز شریف پر جملہ کس گیا
اسکو بھی تلاش کرکے چھتر پھیرنے چاھئیں
یہ شخص متحدہ عرب امارات میں ہے ۔ یہ کس طرح کی زبان استعمال کررہا ہے ۔ پاکستانی حکام کو UAE سے رابطہ کرنا چاہیے ۔ ان کے قوانین ایسی ویڈیوز بنانے اور نشر کرنے کی اجازت نہیں دیتے اس کو بھی ڈیپورٹ کراکر سرکاری مہمان بنایا جائے۔
چھوٹے موٹے "چول" تو خیر بہت سے انسان ہوتے ہیں۔۔۔
مگر کسی کے یوتھڑ یا یوتھن بن کر، شدید ترین چول پرو میکس ہونے میں اسکے والدین کی بددعاؤں اور اہلِ خانہ کی لعنتوں کے علاوہ اسکی ذاتی کاوشیں بھی ضرور شاملِ حال رہی ہوتی ہیں۔
ورنہ اس قدر بیڑا غرق ہونا عام حالت میں ممکن نہیں۔
😆😆😆
حاجی مستان (مستان مرزا) ممبئی (سابقہ بمبئی) کی تاریخ کی ایک معروف اور متنازع شخصیت تھے، جنہیں 1960ء اور 1970ء کی دہائیوں میں بمبئی کا پہلا "انڈرورلڈ ڈان" یا "اسمگلر کنگ" مانا جاتا تھا۔
ابتدائی زندگی
حاجی مستان 1926ء میں تمل ناڈو کے ضلع تھیرووارور میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام مستان مرزا تھا۔ غربت کی وجہ سے ان کا خاندان ممبئی منتقل ہو گیا، جہاں انہوں نے ابتدائی دنوں میں اپنے والد کے ساتھ سائیکلوں کی مرمت کا کام کیا اور بعد میں بمبئی کی گودی (کرال ڈی زیک / بمبئی پورٹ) پر قلی کے طور پر کام شروع کیا۔
اسمگلنگ اور انڈرورلڈ کا عروج
گودی پر کام کے دوران ان کا رابطہ ایسے لوگوں سے ہوا جو غیر قانونی سامان کی نقل وحرکت میں ملوث تھے۔ 1950ء اور 1960ء کی دہائی میں بھارت میں سونے اور غیر ملکی اشیاء پر سخت پابندیاں اور بھاری ڈیوٹی عائد تھی:
سونے اور الیکٹرانکس کی اسمگلنگ: انہوں نے دبئی اور خلیجی ممالک سے سونا، چاندی، اور غیر ملکی گھڑیاں و الیکٹرانکس بمبئی لانے کا ایک بڑا نیٹ ورک قائم کیا۔
غیر تشدد پسندانہ انداز: روایتی گینگسٹرز کے برعکس، حاجی مستان خود تشدد یا قتل و غارت میں راست طور پر ملوث نہیں ہوتے تھے۔ وہ معاملات کو پیسوں، سیاسی اثر و رسوخ اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر یقین رکھتے تھے۔
معاہدہ: انہوں نے بمبئی کے دیگر دو بڑے ڈانز—کریم لالا اور وردرامن مدلیار—کے ساتھ مل کر شہر کے علاقوں اور کاروبار کی تقسیم کا معاہدہ کیا تاکہ آپسی تصادم سے بچا جا سکے۔
سیاست اور معاشرتی تاثر
حاجی مستان نے غریبوں کی مالی مدد کر کے اور مذہبی و فلاحی کاموں میں حصہ لے کر عوام میں "رابن ہڈ" کا امیج بنایا۔
1975ء میں ملک میں نافذ ہونے والی ایمرجنسی کے دوران انہیں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا۔
جیل سے رہائی کے بعد، انہوں نے جے پرکاش نارائن کی تحریک سے متاثر ہو کر اسمگلنگ کی دنیا چھوڑنے کا اعلان کیا اور مکہ مکرمہ جا کر حج کیا، جس کے بعد وہ "حاجی مستان" کے نام سے مشہور ہوئے۔
بعد میں انہوں نے "دلیت مسلم اقلیت سُراکشا مہا سنگھ" نامی سیاسی تنظیم کی بنیاد رکھی تاکہ اقلیتوں اور پسپادہ طبقات کے حقوق کے لیے کام کر سکیں۔
بالی ووڈ پر اثرات
حاجی مستان کو بالی ووڈ فلموں، ہیروئنوں اور سفید رنگ کا شدید شوق تھا۔ وہ ہمیشہ سفید کپڑوں میں ملبوس رہتے اور سفید مرسڈیز گاڑی استعمال کرتے تھے۔
1975ء کی مشہور فلم "دیوار" میں امیتابھ بچن کا کردار (وجے) حاجی مستان کی زندگی سے متاثر ہو کر لکھا گیا تھا۔
2010ء کی فلم "ونس اپان ا ٹائم ان ممبئی" میں اجے دیوگن کا کردار (سلطان مرزا) بھی حاجی مستان کی شخصیت پر مبنی تھا۔
وفات
حاجی مستان کا انتقال 25 جون 1994ء کو ممبئی میں دل کا دورہ پڑنے سے ہوا۔
یہ بیغرت عمرانی گندی نسل سعودی عرب میں بیٹھ کر پاکستانی وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کو قتل کی دھمکیاں دے رہا ہے.
سعودی حکام سے گزارش ہے اس بیغرت کی گندی نسل کے خلاف سعودی قوانین کے مطابق سخت کاروائی کریں۔۔اسکا پاسپورٹ کینسل کرنا چاہیئے
@MojKsa_EN@NCA_KSA@Aamn_ksa@MojKsa
اور ناظرین زہریلے یوتھیے نے یہ ویڈیو اپنے اکاؤنٹ سے ڈیلیٹ کردی ہے لیکن مورخ پرامید ہے کہ سعودی حکام سعودی قوانین کے مطابق اس یوتھیے کو وہیں واپس تُن کر ائیں گے جہاں سے یہ گندہ غلیظ نطفہ دائی کے ہاتھ لگا تھا
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته،
نفيدكم بأن هذا الشخص مقيم في المملكة العربية السعودية ويحمل الجنسية الباكستانية، وقد ظهر في مقطع فيديو وهو يوجّه تهديدات بالقتل إلى رئيس وزراء باكستان وإلى المشير، كما عبّر في حديثه عن نيته في تنفيذ ذلك.
وعليه، نلتمس من الجهات الحكومية والأمنية المختصة في المملكة العربية السعودية التكرم بالنظر في هذا الأمر، والتحقق من محتوى المقطع واتخاذ الإجراءات النظامية والقانونية اللازمة بحقه، في حال ثبوت ما نُسب إليه، وتطبيق العقوبات المقررة وفقًا للأنظمة والقوانين المعمول بها في المملكة.
إن مثل هذه التهديدات تُعد أمرًا خطيرًا قد يمس الأمن والسلامة العامة، ونأمل من الجهات المختصة التعامل معها بكل جدية،
واتخاذ ما يلزم لمنع تكرار مثل هذه التصرفات مستقبلًا.
والسلام
@MOISaudiArabia@security_gov@pss_ar@KSAmofaEN