موجِ ادراک میں ڈھلتا ہوا پانی ہوں میں
ایک کردار نہیں ،پوری کہانی ہوں میں
ڈھونڈنا مجھ کو کبھی دل کی نگاہیں لے کر
خشک پیڑوں پہ لکھی کوئی نشانی ہوں میں
تیری تکمیل کی بنیاد ہے میرے دم سے
تُو اگر شعر ہے تو مصرعہ ء ثانی ہوں میں
ہمیں تھے
جو تمہاری ان کہی باتوں کا بھی ادراک رکھتے تھے
یہ ہم تھے
جو تمہارے لفظ کی حُرمت کو
دل کی رحل میں رکھ کر
دعائے نیم شب کے ساتھ پڑھتے تھے
مگر شاید ہماری سب مناجاتیں
تمہارے دل کی بے روزن سماعت تک نہیں پہنچیں
مارا اسے جو زینت افلاک و زمیں تھا
مارا اسے جو خاتم قدر کا نگیں تھا
مارا اسے جو راز امامت کا امیں تھا
مارا اسے جو شاہنشہاہ دیں تھا
پہنچاتا تھا جو روزہ کشائی فقراء کو
ان روزوں میں زخمی کیا مہمان خدا کو
#شہادت_علیؑ_المرتضیٰ