اب لوگ عمرہ ویزہ کا بھی غلط استعمال کررہے ہیں ۔ 3 پاکستانی مسافر عمرے پر جارہے تھے لیکن ان کے پاس بحرین اور جمہوریہ پلاؤ کے بھی ویزے تھے ۔ وہاں سے آسٹریا نکل جانا تھا ۔ لیکن مشکوک رویے کی وجہ سے پکڑے گئے ۔
ویسے یہ بھی اللہ کی شان ہے کہ مفتی عبدالواحد قریشی نے ڈیرہ اسماعیل خان کے جس پارک میں اللہ وسایا صاحب کا احتساب کیا، اس کا نام ’’حق نواز‘‘ ہے
الحمدللہ، پہلے دن سے ہم نے اس معاملے پر زیرو ٹالرنس رکھی، احباب نے برا بھلا کہا، گالیاں دیں، تبرے پڑھے، لیکن ہم اپنے موقف پر ڈٹے رہے
آج میرے اللہ کا کرم ہوا کہ بڑے بڑے بزرگ علماء کرام اور اہلِ علم نہ صرف اس کتاب کا رد کر رہے ہیں بلکہ توبہ اور رجوع کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں
ہمارا مسئلہ ناموسِ رسالت ﷺ اور ناموسِ صحابہ و اہلِ بیتِ اطہارؓ ہے۔ کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں۔ آج اللہ وسایا صاحب اس پر معافی مانگ کر رجوع کر لیں تو ہم دل سے ان کی عزت کریں گے
تقریباً دوستوں پر اب یہ بات کھل چکی ہے کہ کتاب میں تجاوز کیا گیا ہے، سوائے حبُّ اللہ وسایا میں مارے ان چند نابغوں کے، جنہوں نے ذہن بنا لیا ہے کہ ہم نے ہر حال میں اپنے بابے کی ہر بات کا دفاع کرنا ہے، خواہ مقابلے میں صحابہ کرامؓ کی ذواتِ مقدسہ ہوں یا رسول اللہ ﷺ کا فرمانِ مبارک
بس ہمارا بابا اوپر رہے، باقی سب خیر ہے!
اللہ تعالیٰ ہی ہدایت دے
بڑوں بڑوں کے انجام بہت بھیانک دیکھ رہا ہوں، میرا رب کب، کس کو ہدایت دے اور کب، کس سے ہدایت چھین لے، یہ اسی کے فیصلے ہیں
گوکہ ہمارے ہاں پڑھایا جاتا ہے کہ امام ابوحنیفہؒ جیسی قدآور علمی شخصیت نے بھی بعض مسائل میں اپنے سابق قول سے رجوع کیا، لیکن بات جب خود پر آتی ہے تو رجوع ہمیں موت لگتا ہے، کیونکہ یہاں مسئلہ علم کا نہیں، نفس، خودی اور انا کا بن جاتا ہے
یعنی امام ابوحنیفہؒ جیسی شخصیات تو اپنے قول سے رجوع کرسکتی ہیں، مگر آج کا مولوی اپنے کسی قول سے رجوع کرے؟ یہ منصبِ علم کی توہین جو ٹھہری! آخر بابے کی بات غلط کیسے ہوسکتی ہے؟
حد ہے اور بے حد ہے
میری تو اب بس یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارا خاتمہ ایمان پر فرمائے
آمین
آفتاب نذیر
کچھ غلطیوں کی معافیاں نہیں ہوا کرتیں۔۔
اجتماعی غلطیوں کے کفارے ہوا کرتے ہیں۔۔
62 روپے لٹر پٹرول تھا جب لالہ سراج الحق نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ گیا تھا۔
نواز شریف کو نااہل کروا کر یہودی ایجنٹ @ImranKhanPTI کو بٹھایا تھا جس نے صرف 3 سال میں 72 سالوں جتنا قرضہ لے کر ملک کا بھٹہ بٹھا دیا۔
مفتی عبدالواحد قریشی
نہیں سر آپ نے سب سے بڑا غلط کام ’’پنجاب الیکشن‘‘ کے فیصلے کو متنازع بنا کر کیا۔ ایک فیصلہ 2-3 سے آیا تھا، آپ نے اور جناب منصور علی شاہ نے نوٹ لکھ کر اُسے 3-4 کی بحث میں بدلا، نتیجے میں 90 روز میں الیکشن ہی نہ ہوئے۔ آپ بھٹو کی پھانسی پر نہیں، اپنے فیصلوں پر معذرت کریں
آئین میں درج ہے کہ تحریک عدم اعتماد پر ۱۴ روز میں ووٹنگ لازمی ہے۔ اور اس دوران اسمبلیاں نہیں توڑی جاسکتیں۔
آئین فوجی آمر توڑے تو غلط ہے
آئین کوئی الیکٹڈ لیڈر توڑے تو کیسے صحیح ہے؟
عمران خان نے آئین توڑا تھا۔ اس وقت کی پرو عمران عدلیہ نے اس کو رعایت دی ۔
آئین بتائیں جج صاحب۔
سولہ کروڑ اس نے استعفے کے بعد واجبات لیے اور بیس لاکھ پینشن ہے اور کہہ رہا کہ میں نے ایمان مزاری کی ضمانت غیر قانونی کی تھی اس آپ عدلیہ کا کردار دیکھ لیجیے
ہر ہفتے شہباز حکومت ان کی مراعات تنخواہ بڑھا دیتی ہے
یاد ماضی
نوازشریف کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کا تو کچھ حصہ بھی عمران خان کے ساتھ نہیں ہوا۔ نواز شریف کو ججوں نے کسی ٹرائل کے بغیر سزا بھی سنادی تھی۔ ویڈیو ثبوتوں سے بچنے کیلئے آصف کھوسے نے تفصیلی فیصلہ دیا۔ نوازشریف کیخلاف عدلیہ کو استعمال کیا اور ججز کو ہائی جیک کیا گیا۔مطیع اللہ جان
لیں جی اطہر من اللہ نے اعتراف کردیا ہے کہ انہوں نے بطور جج غیرقانونی کام کیا ہے۔ سوچیں تحریک انصاف کے لیے بطور سپریم کورٹ جج کتنے غیرقانونی فیصلے دیے ہونگے۔ ان جیسوں ججوں کی ان ہی حرکتوں کی وجہ سے آئینی ترامیم کی ضرورت پڑی تھی۔ وقت ثابت کررہا ہے کہ کون ٹھیک تھا کون غلط۔ جو غلط تھے وہ اب اپنے منہ سے اعتراف کررہے ہیں۔
یہ باتیں صدیق جان “ دنبہ چکی “ ثمینہ پاشہ جیسے لاتعداد سھیل آفریدی کے پالتو آپ کو نہیں بتائیں گے
180 ارب روپے کی کرپشن ہو گئی میڈیا خاموش کسی چینل پر کوئی پروگرام نہیں کیونکہ یہ پنجاب نہیں ہے
17 ارب کا منصوبہ 63 ارب پر پہنچایا گیا
41 ارب کا منصوبہ 64 ارب پر پہنچایا گیا
59 ارب کا منصوبہ 122 ارب پر پہنچایا گیا
پاکستان میں ہر محکمہ ہی فرعون بنا ہوا ہے ٹرانسفارمر کا ایک فیز اُڑ گیا اس لڑکے نے ویڈیو بنائی کی واپڈا والے ٹھیک نہیں کر رہے یہ کرنے سے فرعون صفت ایس ڈی او ناراض ھو گیا اور ٹرانسفارمر ہی اُتار کر لے گیا اب یہ بیچارا ایس ڈی او سے معذرت کی ویڈیو بنا رہا
لگتا ہے کہ اس بار مولانا مخالف ٹیم کو پویلین واپس بھجواۓ بغیر بیٹھنے والے نہیں جس تسلسل کے ساتھ وہ خوف کے بت پیروں تلے روندتے جا رہے ہیں اس کے آفٹر شاکس پاکستان کی سیاست بدل کر رکھ دیں گے بشرطیکہ باقی سیاسی لیڈر شپ بھی اب مصلحت اور خوف کی فضاء سے نکلنے کا حوصلہ پیدا کرے
لاہور میں اپنے خطاب میں مولانا نے ایک بار پھر اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں کو ملک دولخت ہونے کا ذمہ دار قرار دے دیا کہتے ہیں
"ملک تمہاری پالیسیوں کی وجہ سے ٹوٹا ہے، اور لطیفے کی بات ہے، یہی ہماری فوج کی حکومت تھی، چار صوبوں کو ایک صوبہ کیا گیا، ون یونٹ لگا دیا گیا۔ مغربی پاکستان چار صوبوں والا، اب وہ صرف ایک صوبہ کہلائے گا، صوبہ مغربی پاکستان، یہ بھی اسی فوج کی سوچ تھی۔
اور آج ان چار صوبوں کو توڑا جا رہا ہے، ٹکڑوں ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے، یہ بھی ہماری فوج کی سوچ ہے۔"
#ستمبر7_یوم_ختم_نبوت
@juipakofficial@JUIAnswersBack@MoulanaOfficial