انا لله وانا اليه راجعون
ایک عہد تمام ہوا، ایک تاریخ رقم کرنے والی شخصیت ہم سے جدا ہوگئی۔
سپہ سالارِ ختمِ نبوت، حضرت مولانا عبد الرحمن باوا صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ
#سپہ_سالار_ختمِ_نبوت
انا لله وانا اليه راجعون
ایک عہد تمام ہوا، ایک تاریخ رقم کرنے والی شخصیت ہم سے جدا ہوگئی۔
سپہ سالارِ ختمِ نبوت، حضرت مولانا عبد الرحمن باوا صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ خالقِ حقیقی سے جا ملے
سپہ سالارِ ختمِ نبوت، حضرت مولانا عبد الرحمن باوا صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ
#سپہ_سالار_ختمِ_نبوت
یہ حکومت ، حکومت نہیں ہے۔ یہ ارینجمنٹ ہے یہ ارینجمنٹ عوام کا فیصلہ چھین کر کیا گیا ہے ۔ کوئی بھی چپن کدو آپ کو اس کی تکمیل کی مدت بتائے تو اسے دفع ماریں یہ ارینجمنٹ تین بار کے وزیراعظم ، دوسری بار کا صدر ساری سیاسی جماعتیں پلس اسٹیبلشمنٹ بمقابلہ عوام ہے۔ ارینجمنٹ مدت سے زیادہ بھی چل جاتے ہیں اور یکلخت ختم بھی ہوجاتے ہیں ۔ فی الوقت ڈاکوؤں نے زندگی حرام کی ہے اپنے مسئلے کے حل پر توجہ دیں ۔ آمدنی میں اضافے کا سوچیں اور ممکنہ بچت کی تدبیر کریں ۔ حکومت نے دانت آپ کی گردن پر گاڑ رکھے ہیں وہ آپ کا سوچ ہی نہیں سکتی۔
قرآن نے سود لینے سے منع کیا لیکن پاکستان کا آدھا بجٹ سودکی نذر ہورہا ہے۔ ہم بجٹ کا 50 فیصد اللہ اور رسول ﷺ سے جنگ پر خرچ کر رہے ہیں
ہندو سینیٹر دنیش کمارسود کے خلاف بول پڑے، سود سے متعلق قرآن کی آیات بھی پڑھ دیں
محرم الحرام کسی ایک مذہب کا نہیں بلکے پوری امّت مسلمہ کا عظیم مہینہ ہے
اللّه پاک ہمیں صحیح معنوں میں صحابہ اکرامؓ و اہلبیتؓ کے نقش و قدم پر چلنے والا بنا دے۔
آمین
پنجاب کی ایک محترمہ وزیر صاحبہ فرماتی ہیں تنخواہوں اور پینشن کے لیے پیسے نہیں ہیں۔۔۔
سوال صرف اتنا سا ہے۔۔۔۔۔
اا ارب کے جہاز کے لیے پیسے کہاں سے آئے۔۔۔؟
400 سے زائد اراکین اسمبلی، وزراء، مشیروں کی تنخواہوں اور مراعات کے لیے اربوں روپے کہاں سے آئے۔۔؟
ججز کی مراعات کے لیے اربوں
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی ہوئی ہے خام تیل 75 ڈالر فی بیرل تک آگیا ہے جبکہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا دور دور تک کوئی نشان نہیں ہے، یاد رہے جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور پاکستان کے پاس ایک مہینے کا اسٹاک بھی پڑا ہوا تھا پھر بھی فوراً پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روہے فی لیٹر اضافہ کر دیا تھا۔اب وزارت خزانہ وزارت پیٹرولیم ،اوگرا سمیت سارے سوئے ہیں اور وزیر اعظم شہباز شریف صاحب کے دل پر پیٹرول مہنگا کرنے والا پتھرا ویسے ہی پڑا ہوا ہے۔
جس ملک میں ساڑھے سات کروڑ عوام غربت کی سطح سے بھی نیچے چلی جائے، اس ملک میں حکومتی وزیر مشیر چھ چھ کروڑ کی سرکاری گاڑیاں رکھیں، تو یہ باعث شرم اور عوام کی بے بسی و مفلسی سے مذاق ہے۔ کسان اتحاد کے صدر خالد محمود کی پریس کانفرنس
علم کی روشن شمع کو بجھانے والو۔۔۔۔۔۔
شیخ ادریس شہید کے خون کا قطرہ قطرہ روشن شمع بن کر تمھاری علم دشمنی اور پاکستان دشمنی پہ قہر بن کر ٹوٹےگا
علم کی شمعیں بھی ہمیشہ ذندہ باد رہیں گیں
اور پاکستان بھی ہمیشہ ذندہ باد رہے گا
انشاءاللہ العزیز
🪔🕯️🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🕯️🪔
پٹرولیم مصنوعات پر لوٹ مار جاری ہے، کوئی پوچھنے والا نہیں، جب مہنگا ہوا تو عوام پر دوگنا بوجھ ڈال دیا اب جبکہ سستا ہوا ہے تو حکومت عوام کو ریلیف دینے میں جتنی دیر کررہی ہے اتنی دیر لوٹ مار جاری ہے
پنجاب حکومت کا ریسٹورنٹس میں ڈیجیٹل ادائیگیوں پر سیلز ٹیکس 5 فیصد سے بڑھا کر 8 فیصد کرنے کا مجوزہ اقدام کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ایک طرف معیشت کو دستاویزی بنانے اور ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز کے فروغ کی بات کی جاتی ہے، دوسری طرف انہی ادائیگیوں کو مزید مہنگا کیا جا رہا ہے۔
ایسے اقدامات عوام کو کیش کی طرف واپس لے جائیں گے, جو مالی شفافیت اور ڈیجیٹلائزیشن کے اہداف کے برعکس ہو گا۔
پاکستان میں تقریباً ہر مافیا کامیابی سے اپنی اپنی دیہاڑی لگا رہا ہے اس کی دیکھا دیکھی حکومت بھی پیچھے کہاں رہنے والی پیٹرولیم مصنوعات بجلی گیس میں حکومت مافیا سے بھی چار ہاتھ آگے نکل کر کھابے لگانے میں مصروف ہے جس حکومت نے مافیا کو لگام دینی تھی وہ خود عوامی استحصال کر رہی ہے
عمران خان کے دور میں جب پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی 17 روپے تھی تو شہباز شریف نے قوم کو کہا کہ اس نظام کے خلاف جنگ کرکے انقلاب لانا ہوگا ،اب فی لیٹر پر ٹیکس تقریباً 170 روپے ہے ، تو اب عوام کو کیا کرنا چاہیے ؟؟؟
وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف صاحب تیل کی قیمتیں 80 بیرل سے بھی نیچے آگئی ہیں
اب دل سے وہ بھاری پتھر اتار دیں جس کو رکھ کر آپ نے قیمتیں بڑھائی تھیں۔
اور پیٹرول کی قیمتوں میں کم از کم 120 روپے کمی کا اعلان کردیں
سہیل وڑائچ نے آج محسن نقوی کے بیان کا جواب دیا ہے ویسے یہ دونوں انتہائی قریبی دوست ہیں
وڑائچ صاحب کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت پانچ بجٹ دے چکی ہے کوئی بھی منتحب حکومت پانچ سال کے لیے آتی ان پانچ کے پانچ بجٹ میں حکومت نے عوام سے لیا ہی ہے دیا کچھ نہی تو کیا انہوں نے نصف صدی رہنا ہے جو ان کے زوال کی بات نا کریں ؟