کاش کوئی پراجیکٹ عمران خان پہ بھی ایک فلم بنا کر بتا دیتا کہ کیسے اس قوم و ملک کیساتھ کھیلا گیا۔ اور کیسے کیسے صحافیوں کو کروڑوں روپے دیکر بت تراشی پہ لگا دیا۔
رحمتہ اللعالمین، تمام انبیاء کے سردار، موجبِ کائنات، خاتم النبیین کے دل میں بھی شیطان😈 کا حصہ تھا🤦🏻♂️۔ واہ۔۔۔ اور اگر جبریل نہ نکالتے تو؟
ہم جیسے تو مفت میں بے نور راہوں میں مارے گئے۔ ہمارے دلوں میں شیطانی حصہ چھوڑ دیا گیا اور پھر سزاوار بھی ٹھہریں گے۔
مبارک مقام کی زیارت کریں۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ بچپن میں حضرت حلیمہ سعدیہؓ کے پاس تھے اور دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے، تو حضرت جبریلؑ آئے۔ انہوں نے آپ ﷺ کا سینہ مبارک کھولا، دل مبارک نکالا، اس میں سے ایک علَقہ (خون کا لوتھڑا) نکالا اور فرمایا:
"هَذَا حَظّالشّيْطَانِ مِنْكَ"
"یہ شیطان کا حصہ تھا جو تم میں تھا۔"
پھر آپ ﷺ کے دل کو سونے کے ایک طشت میں زمزم کے پانی سے دھویا، پھر اسے اپنی جگہ واپس رکھ دیا۔ حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ وہ بعد میں آپ ﷺ کے سینے پر اس سلائی/مخيط کا نشان دیکھا کرتے تھے۔ �l
Sunnah +1
حوالہ: صحیح مسلم، کتاب الایمان، حدیث 162 (بعض ترقیم میں 311/413 وغیرہ)۔
@CSMR786 رحمتہ اللعالمین، تمام انبیاء کے سردار، موجبِ کائنات، خاتم النبیین کے دل میں بھی شیطان😈 کا حصہ تھا🤦🏻♂️۔ واہ۔۔۔ اور اگر جبریل نہ نکالتے تو؟
ہم جیسے تو مفت میں بے نور راہوں میں مارے گئے۔ ہمارے دلوں میں شیطانی حصہ چھوڑ دیا گیا اور پھر سزاوار بھی ٹھہریں گے۔
بحریہ ٹاؤن فیز 7 میں واقع #WestMinisterSchool کے واقعے کے حوالے سے متاثرہ بچی کے والدین سے بات ہوئی۔ والدین نے سوشل میڈیا پر معاملے کی غیر معمولی تشہیر پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان کے مطابق معاملہ مبینہ طور پر Bad Touch تک محدود ہے، جسے وہ اسکول انتظامیہ کے ساتھ سنجیدگی سے اٹھا چکے ہیں۔ والدین کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں قانونی کارروائی کرنی ہے یا کوئی اور قدم اٹھانا ہے، اس کا فیصلہ وہ خود کریں گے۔ ان کے مطابق نہ ان پر کسی قسم کا دباؤ ہے اور نہ ہی کوئی دھمکی دی گئی ہے، اور وہ تمام پہلوؤں کو خود دیکھ رہے ہیں۔ ایسے میں اگر متاثرہ خاندان خود اس معاملے پر میڈیا یا سوشل میڈیا پر بات کرنے کے لیے تیار نہیں، بلکہ اسے اپنے طور پر دیکھ رہا ہے، تو غیر ضروری شور اور قیاس آرائیوں سے گریز ہی بہتر ہے۔ والدین کے مطابق جو بھی مناسب کارروائی ہوگی، وہ وقت آنے پر سب کے سامنے آجائے گی۔
پاکستان میں اسکول آج بھی نوے کی دہائی کے اصولوں پر چل رہے ہیں، ان سکولوں میں سواۓ بھاری بھرکم فیسوں کے کوئ بھی انتظامی اور اخلاقی زمہ داری لینے کیلے تیار نہیں !! یہاں بچے جب تک آپ کی آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں تب تک ہی وہ محفوظ ہیں !! خدا کبھی بھی کسی والدین کو اس ازیت میں نا ڈالے!!
بچوں سے جنسی زیادتی کے معاملات میں ماہرینِ نفسیات اور چائلڈ پروٹیکشن کے ماہرین کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جب کوئی بچہ یہ بتائے کہ کسی نے اس کے جسم کے نجی حصے کو نامناسب طور پر چھوا ہے تو اس کی بات کو نظرانداز یا محض خیالی بات کہہ کر رد نہیں کرنا چاہیے۔ بچے کی بات کو سنجیدگی سے لینا، اس کی حفاظت یقینی بنانا اور پھر غیر جانب دارانہ طریقے سے حقیقت معلوم کرنا ضروری ہے۔
خاص طور پر تین چار سال کے بچے کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ بالغوں کی طرح جنسی تصوراتی کہانیاں بنا رہا تھا، نفسیاتی طور پر درست مؤقف نہیں۔ اس عمر کا بچہ جنسی معاملات کو بالغوں کی طرح سمجھتا ہی نہیں۔ اگر وہ کسی واقعے کا ذکر کرتا ہے تو اس کی بات، اس کے الفاظ، حالات اور دیگر شواہد کو ماہرین کی مدد سے جانچنا چاہیے۔
جس کیس کا حوالہ دیا جا رہا ہے، اس میں دستیاب بیان کے مطابق بچی خود سے آ کر اچانک کسی “بیڈ ٹچ” کی شکایت لے کر نہیں آئی تھی۔ بچی کو اپنے نچلے حصے میں شدید درد تھا۔ ماں نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے دیکھا اور اس حوالے سے پوچھا کہ کہیں کسی نے اسے وہاں چھوا تو نہیں۔ اس سوال کے جواب میں بچی نے ایک واقعہ بیان کیا۔
اس لیے معاملے کو صرف یہ کہہ کر ختم نہیں کیا جا سکتا کہ “بچی نے خود سے تو کچھ نہیں کہا تھا” یا “شاید یہ اس کی خیالی بات ہو۔” ماہرین کے لیے یہ بھی اہم ہوتا ہے کہ بچی نے کیا بتایا، کس سوال کے جواب میں بتایا، سوال کس انداز میں کیا گیا، کیا اس سے بار بار پوچھا گیا، اور کیا کوئی جسمانی یا دوسرے شواہد موجود ہیں۔
اور پھر کچھ بہت بنیادی سوالات بھی پیدا ہوتے ہیں:
اگر اسکول میں متعلقہ وقت کی سی سی ٹی وی موجود تھی تو وہ فراہم کیوں نہیں کی گئی؟
اگر بچوں کے واش روم کے باہر دو بالغ مرد کام کر رہے تھے تو ان کی موجودگی اور وہاں تک رسائی کی مناسب تحقیقات کیوں نہ ہوں؟
کیا بچی کا مناسب طبی معائنہ ہوا؟
کیا اس سے کسی تربیت یافتہ ماہر نے غیر جانبدار انداز میں بات کی؟
کیا تمام متعلقہ افراد کے بیانات لیے گئے؟
پاکستان میں بچوں سے جنسی زیادتی کوئی ایسا ناقابلِ تصور واقعہ نہیں کہ ہر شکایت کے آغاز ہی میں یہ فرض کر لیا جائے کہ “ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔” بچوں کے تحفظ کا درست طریقہ یہ ہے کہ نہ بچے کی بات کو فوراً جھوٹ یا خیال قرار دیا جائے، نہ بغیر تحقیق کسی پر الزام ثابت سمجھا جائے۔
بچے کی بات سنیں، اسے محفوظ رکھیں، شواہد محفوظ کریں اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کریں۔
یہی بچوں کے تحفظ اور انصاف، دونوں کا تقاضا ہے۔
This is the school principal, and it’s not the first time complaints have been made against her. Yet she has the audacity to call a three year old girl’s account q“imagination” or a made-up story. A three-year-old doesn’t even have the cognitive capacity to fabricate such a complex story. Maybe learn basic child psychology before protecting the school’s reputation over a child.
بچیوں کو سروائیکل کینسر سے بچاؤ کی ویکسین لگنی تھی۔ محکمہ صحت کی مدد محکمہ تعلیم کر رہا تھا ۔ والدین اینٹیں لے کر کئی سکولز پر حملہ آور ہوئے تھے جب سکولز یا ادارے سرکار کے پاس ہوتے تب والدین اور عوام کا رویہ یہ ہوتا کہ سرکاری ادارے اور سرکاری ملازمین شودر ہیں۔ مسجد اور سرکاری اداروں سے ٹویٹیاں چوری کرنے والا بھی جوتے مارنے میں آگے ہوتا کہ جی ہمارے ٹیکس سے تنخواہ لے رہے۔ جب ادارے پرائیوٹ ہو جاتے پیسے لینے کے بعد۔ لے فیر عوام کو ان کی اوقات دکھاتے ہوئے۔
A 3 year old girl at Westminster International School Bahria, told her parents that a janitor touched her inappropriately. What’s absolutely appalling is that instead of the focus being on the child and how this was even allowed to happen, the school seems more concerned with protecting its reputation. First we hear the CCTV shows nothing, then that the footage isn’t available. Which one is it? We teach children about safe and unsafe touch, then when a child actually speaks, the adults start questioning whether she should be believed. Children cannot be responsible for creating their own safety. That is the adults job. Where were the protocols? Where was the supervision? If children aren’t safe at home, on the streets, or even inside their schools, where exactly are they safe? if an investigation finds that a child was abused because basic safeguarding failed, an FIR against one janitor is not enough. The school itself must be held accountable, and it should not be allowed to continue operating.
اصل مسلہ ہی تو تحقیق ہے والدہ نے پہلے سکول میں جا کر تحقیق ہی تو کرنے کی کوشش کی تھی مگر چونکہ سکول کا مالک ایک ایم این اے جس کا تعلق بھی حکمران جماعت سے تو پرنسپل نے معاملہ دبانے کی کوشش کی سی سی ٹی وی فوٹیج غائب کر دی اس کے بعد والدین نے احتجاج کیا ان کو بھی روکنے کی کوشش کی گئی اور سب تحقیق کا ہی تو مطالبہ کر رہے جو پرنسپل کرنے سے انکاری ہے اگر سکول بروقت تحقیق کر دیتا تو معاملہ وہیں ختم ہو جاتا
ہمارے ملک میں 18 مہینے کے بچے بچیاں ریپ کے بعد قتل ہورہے ہیں، اور ہم یہ گتھی سلجھانے کئ کوشش کر رہے ہیں کہ کیسے اپنے بچے کو گڈ یا بیڈ ٹچ کے بارے میں آگاہ کریں۔ اور اگر خوش قسمتی سے کوئی بچی اپنی ماں کو بیڈ ٹچ کے بارے میں بتائے تو بچے کو ہی غلط ثاپت کرنے کئ کوشش کی جارہی ہوتی ہے۔ ان خاتون سے کوئی پوچھے کہ بچیوں کے باتھ روم کے قریب میل اسٹاف کو دو منٹ کیلئے بھی وہاں آنے کی اجازت کیوں دے رکھی تھی؟ اور جب غلطی ہوگئی ہے تو ماننے کے بجائے الٹا اپنے رعونیت بھرے لہجے سے معاملہ بگاڑنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔
بحریہ فیز 7 میں واقع #WestMinisterSchool میں مبینہ ہراسانی کا شکار ہونے والی 5 سالہ بچی کی والدہ کو سنیں، کل اسکول انتظامیہ نے والدین کو میٹنگ کیلئے بلایا تھا، متاثرہ بچی کی والدہ کے مطابق اسکول انتظامیہ جھوٹ بول رہی ہے، کوئی ٹھوس کاروائی کے بجائے الٹا ہم پر ہی الزام لگا رہے ہیں۔
#BIG#BREAKING
National Commission on the Rights of Child (NCRC) sets September 14 (Monday) for public hearing of “Westminster International School Phase 7 Bahria Town Campus” in Islamabad
A notice in this regard has been issued by the authorities concerned besides alerting the school management and the parents of victim baby girl student.
Reportedly, a janitor had allegedly harassed a 5 year old girl student in washroom area of WM Intl School. The victim girl shared her ordeal with mother in night who brought the horrible matter into notice of school’s head mistress but she (principal) allegedly ignored the sensitivity of the case sparking unrest among parents and other students of the educational institution.
The notice issued by NCRC reads as “NOTICE FOR PUBLIC HEARING REGARDING THE CONCERN RAISED BY THE PARENT OF A MINOR STUDENT AT WESTMINSTER INTERNATIONAL SCHOOL, ISLAMABAD.
Please refer to your letter along with the formal submission of Westminster
International School dated 10" September 2026 on the subject cited above, whereby the school has forwarded a concern raised by the parent of a minor student and requested the Commission to review the matter in accordance with the applicable child protection framework. Receipt of the same is hereby acknowledged.
یہ سب مافیہ ہیں اور ہمارے بچوں کو صرف کمائی کے ذریعے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
میں بھگت چکی ہوں یہ سب خصوصا اپنی بیٹی کے حوالے سے جسے شدید ترین بولی کیا گیا کہ اس کی ذہنی صحت بہت متاثر ہوئی