👈 *مجھے یہ اتنا دلچسپ لگا کہ اگر آپ اسے نہ پڑھیں تو واقعی افسوس ہوگا:*
بہت سی بیماریاں دراصل بیماریاں نہیں ہوتیں بلکہ عمر بڑھنے کا ایک قدرتی عمل ہوتی ہیں۔ ایک ہسپتال کے ڈائریکٹر نے بزرگ افراد کو یہ مشورے دیے:
آپ بیمار نہیں ہیں، آپ کی عمر بڑھ رہی ہے۔ بہت سی ایسی حالتیں جنہیں آپ بیماری سمجھتے ہیں، حقیقت میں بیماری نہیں ہوتیں بلکہ یہ آپ کے جسم کے بڑھاپے کی علامات ہیں۔
1. کمزور یادداشت لازمی طور پر الزائمر نہیں ہوتی؛ یہ بڑھتی عمر کے دماغ کا ایک حفاظتی طریقہ ہے۔ یہ دماغ کی عمر بڑھنے کی علامت ہے، بیماری نہیں۔ اگر آپ اپنی چابیاں کہیں رکھ کر بھول جائیں لیکن بعد میں خود ڈھونڈ لیں، تو یہ ڈیمنشیا نہیں ہے۔
2. آہستہ چلنا اور ٹانگوں یا پاؤں کا غیر متوازن ہونا فالج نہیں بلکہ پٹھوں کی کمزوری ہے۔ اس کا حل دوا نہیں بلکہ مسلسل حرکت میں رہنا ہے۔
3. بے خوابی بیماری نہیں بلکہ دماغ کے معمولات میں تبدیلی ہے۔ نیند کے انداز میں فرق آ جاتا ہے۔ نیند کی گولیاں استعمال نہ کریں۔ لمبے عرصے تک ان پر انحصار گرنے اور ذہنی کمزوری کے خطرات بڑھا دیتا ہے۔ بزرگ افراد کے لیے اچھی نیند کا بہترین علاج دن میں دھوپ لینا اور باقاعدہ سونے جاگنے کا وقت رکھنا ہے۔
4. جسم میں درد اور تکلیف لازمی طور پر گٹھیا نہیں بلکہ اعصابی نظام کے عمر رسیدہ ہونے کا ایک قدرتی ردعمل ہے۔ بہت سے بزرگ کہتے ہیں: “میرے ہاتھ پاؤں میں ہر وقت درد رہتا ہے، کیا یہ گٹھیا ہے یا ہڈیوں کی بیماری؟” ہڈیاں کمزور ضرور ہوتی ہیں، مگر 99٪ جسمانی درد بیماری نہیں بلکہ اعصاب کی سست رفتار کی وجہ سے درد کا زیادہ محسوس ہونا ہے۔ اسے سنٹرل سینسِٹائزیشن کہا جاتا ہے، جو عمر رسیدہ افراد میں عام جسمانی تبدیلی ہے۔ اس کا علاج ورزش ہے، دوا نہیں۔
5. کولیسٹرول کا کچھ زیادہ ہونا ہمیشہ خطرناک نہیں۔ بزرگ افراد میں کولیسٹرول تھوڑا زیادہ ہو سکتا ہے کیونکہ انہوں نے زیادہ عمر گزاری ہوتی ہے۔ کولیسٹرول ہارمونز اور خلیوں کی جھلی بنانے کے لیے ضروری مادہ ہے۔ اگر کولیسٹرول بہت کم ہو جائے تو قوتِ مدافعت متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی طرح بزرگ افراد میں بلڈ پریشر کی قابلِ قبول حد 150/90 mmHg تک ہو سکتی ہے، جبکہ نوجوانوں کے لیے 140/90 ہوتی ہے۔ بڑھاپے کو بیماری نہ سمجھیں۔
6. بڑھاپا بیماری نہیں بلکہ زندگی کا ایک لازمی سفر ہے، جس سے لطف اندوز ہونا چاہیے جب تک ممکن ہو۔
بزرگ افراد اور ان کے بچوں کے لیے چند باتیں:
1. یاد رکھیں کہ ہر تکلیف بیماری نہیں ہوتی۔
2. بہت سے بزرگ خوفزدہ رہتے ہیں۔ میڈیکل رپورٹس یا اشتہارات سے مرعوب نہ ہوں۔
3. اولاد کے لیے سب سے اہم کام صرف والدین کو ہسپتال لے جانا نہیں بلکہ ان کے ساتھ چہل قدمی کرنا، دھوپ میں بیٹھنا، کھانا کھانا، باتیں کرنا اور تعلق قائم رکھنا ہے۔
بڑھاپا دشمن نہیں۔ یہ دراصل یہ کہنے کا ایک طریقہ ہے:
“میں کچھ اور عرصہ جینا چاہتا ہوں۔”
لیکن سستی اور جمود اصل دشمن ہیں۔ صحت مند رہیں۔
ایک کینسر کے ڈاکٹر نے کہا:
1. درمیانی عمر 50 سال سے شروع ہو کر 70 سال تک رہتی ہے۔
2. سنہری دور 70 سے 80 سال تک ہوتا ہے۔
3. بڑھاپا 80 سے 90 سال تک ہوتا ہے۔
4. طویل عمری 90 سال سے شروع ہو کر زندگی کے اختتام تک رہتی ہے۔
5. بزرگ افراد کا سب سے بڑا مسئلہ تنہائی ہے۔ میاں بیوی عموماً ایک ساتھ وفات نہیں پاتے؛ ایک پہلے چلا جاتا ہے۔ پھر کسی وقت بیوہ یا بیوہ مرد خاندان پر بوجھ محسوس ہونے لگتے ہیں۔ اسی لیے دوستوں سے رابطہ قائم رکھنا، مل بیٹھنا اور گفتگو کرتے رہنا بہت ضروری ہے تاکہ انسان خود کو تنہا محسوس نہ کرے۔
میری ذاتی رائے یہ ہے کہ اپنی زندگی پر اختیار نہ کھوئیں۔ یعنی یہ فیصلہ خود کریں کہ کب اور کس کے ساتھ باہر جانا ہے، کیا کھانا ہے، کیا پہننا ہے، کس کو فون کرنا ہے، کب سونا ہے، کیا پڑھنا ہے، تفریح کیسے کرنی ہے، کیا خریدنا ہے اور کہاں رہنا ہے۔ کیونکہ اگر انسان یہ سب آزادی سے نہ کر سکے تو وہ دوسروں پر بوجھ بن جاتا ہے۔
کراچی کی تباہی پر آنے والی ڈاکیومنٹری کو لوگوں نے دیکھا بھی اور بہت پسند بھی کیا، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ہماری اگلی ڈاکیومنٹری کس موضوع پر ہے؟
ایک ایسی پالیسی جس پر بھٹو سے لے کر عمران خان تک، اور ایوب خان سے لے کر پرویز مشرف تک، سب متفق رہے۔
کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ وہ کون سی پالیسی ہے؟
دیکھنا نہ بھولیے، آج شام 7 بجے۔
جب یہ بات کی جاتی ہے کہ ہر ڈاکٹر کے کچھ پسندیدہ برانڈز ہوتے ہیں اور وہ ہمیشہ اُسی برانڈ کی دوائیاں لکھتا ہے، تو اس کے جواب میں اکثر کہا جاتا ہے کہ ضروری نہیں ڈاکٹر یہ سب لالچ میں کرتے ہوں۔ ممکن ہے کچھ برانڈز پر انہیں واقعی اعتماد ہو۔
لیکن آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اس معاملے پر باقاعدہ تحقیق ہو چکی ہے، اور اُس تحقیق میں جو باتیں سامنے آئیں، وہ چونکا دینے والی ہیں۔ جانیے ہماری ڈاکیومنٹری میں، لنک کمنٹس میں موجود ہے-
🚨BREAKING: For the first time, the original Pakistani cypher — cable I-0678, the document that triggered the removal of former Pakistani Prime Minister Imran Khan — is being released in full by Drop Site.
اسلام آباد میں 21 گھنٹے کے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ایران کا سخت بیان سامنے آ گیا:امریکیُ جریدے وال سٹریٹ جرنل لکھتا ھے ۔۔
"امریکی دشمن، جو کہ گھٹیا، بدنیت اور بے ایمان ہے، اس نے مذاکرات کی میز پر وہ حاصل کرنے کی کوشش کی جو وہ جنگ کے ذریعے حاصل نہ کر سکا۔
ایران نے ان شرائط کو مسترد کرنے اور اپنے وطن کے مقدس دفاع کو ہر ممکن ذریعے سے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، چاہے وہ فوجی ہو یا سفارتی۔"
یہ بیان اُس وقت سامنے آیا جب J.D. Vance ایئر فورس ٹو میں سوار ہو رہے تھے، اور اس میں امریکہ کو "گھٹیا، بدنیت اور بے ایمان" کہا گیا۔
ایرانی مؤقف کے مطابق امریکہ نے مطالبہ کیا تھا کہ ایران افزودہ یورینیم حوالے کرے اور آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری چھوڑ دے۔
ایران نے دونوں مطالبات کو مسترد کر دیا۔
آئی آر جی سی نے کبھی ان شرائط کو قبول کرنے کا ارادہ ہی نہیں کیا تھا، اور "ہر ممکن ذریعے سے مقدس دفاع" کی زبان اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ ایران کے فیصلوں میں فوجی قیادت دوبارہ غالب آ چکی ہے۔
Mohammad Bagher Ghalibaf مذاکرات میں میناب کے شہید بچوں کی تصاویر لے کر آئے۔
آئی آر جی سی کا وفد علیحدہ پہنچا۔
86 عہدیداروں نے 21 گھنٹے طویل مذاکرات میں شرکت کی۔
اور آخر میں، ایران کے اصل فیصلہ سازوں نے یہ طے کیا کہ امریکہ کی پیشکش اس نقصان کے مقابلے میں قابلِ قبول نہیں تھی جو امریکہ نے پہنچایا۔
جب پاکستانی کرکٹرز نے اپنے محسن عمران خان کو انعام کے لالچ میں اذیت ناک لمحے سے دوچار کیا۔۔۔عمران خان نے اپنی کتاب" میں اور میرا پاکستان" میں لکھا ہے:۔
"۔۔۔آسٹریلیا سے وطن واپس آتے ہوئے جب سنگا پور میں ہم رکے تو پاکستانی سفیر نے شوکت خانم کے لیے مجھے چیک دیا۔ میرا خیال ہے کہ تب کھلاڑیوں کو یہ احساس ہونے لگا کہ انعام تو دراصل انہیں ملنا چاہیے تھا۔ پھر ہم لاہور پہنچے جہاں شہر کے تاجروں نے سترہویں صدی کے مغل بادشاہ شاہ جہاں کے تعمیر کردہ شالیمار باغ میں ہمارے اعزاز میں استقبالیے کا اہتمام کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ہسپتال کے لیے کچھ رقم انہوں نے اکٹھی کر رکھی ہے۔ میں ششدر رہ گیا جب ٹیم اس تقریب سے احتجاجا اٹھ کر چلی گئی۔ زندگی میں کتنے ہی حادثے مجھ پر گزرے ہیں۔ میری ماں کی موت، اشرف الحق کی زبانی مشرقی پاکستان کے قتل عام کی تفصیل، کھیل کے زمانہ عروج میں ٹانگ ٹوٹ جانا لیکن ایسی اذیت مجھے کبھی نہ پہنچی تھی۔ یہ وہ کھلاڑی تھے، جن کے انتخاب اور تربیت میں میرا حصہ تھا۔ میں بری طرح مایوس ہوا۔ انعامات ہمیشہ برابر تقسیم کیے جاتے ۔ اگر کوئی مین آف دی میچ ہو تب بھی کھلاڑیوں کو حصہ دیا جاتا۔ تقریباً دس گیارہ برس سے میں مین آف دی سیریز چلا آرہا تھا۔ ہر بار ہر انعام میں نے تقسیم کیا۔ اکثر کھلاڑیوں نے بعد میں معافی مانگی۔ بعض نے کہا کہ دوسروں نے انہیں گمراہ کیا۔ میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ 1992ء کی فتح کے بعد لالچ کے بیج بوئے گئے ۔ سب کو 90 ہزار پاؤنڈ فی کس ملے۔ کبھی کسی کھلاڑی نے اتنی دولت نہ کمائی تھی۔۔۔"
Aina Wazir from Waziristan, what a talent! She has made it to X. I promise that if she is utilised properly and provided with all the necessary facilities, she will one day lead Pakistan’s women’s team. She just needs the right platform. Do it!
جب آپ اپنے مخالف کے پاس کوئی اسپیس نہیں چھوڑتے تو پھر وہ ایک ایسا ہتھیار استعمال کرتا ہے جو ایٹم بم سے بھی زیادہ خطرناک ہوتا ہے 👇🏼 مکمل پوڈ کاسٹ نیچے دیے گئے لنک پر
غیر معمولی صورتحال میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق عمران خان نے ہر قسم کی ڈیل کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ انہوں نے گزشتہ روز اپنے بچوں سے بھی بات کی۔
اطلاعات ہیں کہ انہیں ہسپتال منتقل کرنے کے لیے کل رات تک کوششیں جاری رہیں اور اس مقصد کے لیے مختلف سطحوں پر رابطے کیے گئے۔ تاہم مبینہ طور پر یہ کہا گیا کہ منتقلی کی صورت میں کسی قسم کی گفتگو نہیں کی جائے گی، جسے عمران خان نے قبول نہیں کیا۔ انہوں نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ “کچھ بھی ہو جائے، میرا مؤقف آخری سانس تک وہی رہے گا۔
ذرائع یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ حکومت کے بعض اہم حلقوں میں ان کی صحت کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے، اور بعض افراد نے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ “یہ شخص مٹی کا نہیں بنا۔
ان تمام دعوؤں سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا ہے کہ گزشتہ رات منتقلی کا فیصلہ زیر غور آیا تھا، مگر عمران خان نے کسی ممکنہ ڈیل کے تحت ہسپتال جانے سے انکار کر دیا۔
جبران نیاز پاکستان میں ماسٹرز کرنے کے باوجود 5 ہزار کی انٹرن شپ کر رہے تھے، پھر انہوں نے امریکا جانے کا فیصلہ کیا، اور آج انہوں نے بلین ڈالر کمپنی کھڑی کر دی۔۔۔ ہم نے ان سے پوچھا کہ کیا یہ پاکستان میں ممکن تھا؟ دیکھیں، انہوں نے کیا جواب دیا۔
مکمل پوڈکاسٹ کا لنک کمنٹس میں موجود ہے لازمی دیکھیں
پریس ریلیز
رمضان المبارک 1447 ہجری کے چاند کی رویت سے متعلق پیش گوئی
اسلام آباد — فروری 2026ء
اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیر ریسرچ کمیشن (سپارکو) کے مطابق رمضان المبارک 1447 ہجری کا نیا چاند 17 فروری 2026ء کو شام 5 بج کر 01 منٹ (پاکستانی وقت) پیدا ہوگا۔
18 فروری 2026ء کو غروبِ آفتاب کے وقت چاند کی عمر تقریباً 25 گھنٹے اور 48 منٹ ہوگی، جبکہ ساحلی علاقوں میں غروبِ آفتاب اور غروبِ قمر کے درمیان وقفہ تقریباً 59 منٹ متوقع ہے۔
فلکیاتی پیمانوں کی بنیاد پر 18 فروری 2026ء کی شام ننگی آنکھ سے چاند نظر آنے کے امکانات بہت روشن ہیں۔ اس بنا پر یکم رمضان المبارک 19 فروری 2026ء کو ہونے کا قوی امکان ہے۔
رمضان المبارک کے آغاز کا حتمی اعلان مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی پاکستان معتبر شہادتوں کی بنیاد پر کرے گی، جو اس معاملے میں واحد مجاز ادارہ ہے۔
جب آپ نے سیکنڈ ڈویژن میں میٹرک کیا ہو۔
لوئر سیکنڈ ڈویژن میں FA پاس کیا ہو۔
دو بار فوج میں شمولیت کیلئیے ISSB دیا ہو مگر دونوں بار ریجیکٹ ہوجائیں۔
پھر ائیرفورس میں ٹیکنیشن بھرتی ہوجائیں۔
اچانک قسمت کھلے۔ OTS Mangla کھل جائے تاکہ فوج سے ریجیکٹ والے OTS میں ایپلائی کرسکیں
پھر آپ ائرفورس کمانڈنگ آفیسر کی سفارش پر اپلائی کریں۔سیلیکٹ ہو جائیں مگر ساری زندگی آپکو ہر جگہ ہر محفل میں ایک ائیر مین پکارا جائے۔
ہر کمانڈنگ آفیسر آپکی رپورٹ میں لکھے کہ شدید inferiority کمپلیکس کا شکار ہیں۔
جب آپکو رشتہ اسلئیے انکار ہو جائےکہ آپ فوج کے اصلی PMA والے آفیسر نہیں بلکہ OTS کی پیداوار ہیں۔اور سابقہ ائیرمین ہیں۔
جب آپ اچھے خاندان میں شادی کرنے کی خاطر اپنا مسلک چینج کر لیں اور بعد میں نام کیساتھ بیوی کی نسبت سے سید لکھنا شروع کریں۔
جب آپ ریٹائرمنٹ کی ڈیٹ آگے کروانے کیلئیے اپاہج بیٹی کو استعمال کریں۔
جب بیٹی کا علاج کروانے کے بہانے UK جائیں اور نواز شریف سے خفیہ ملاقاتیں کریں۔
وہ آپ کیساتھ ڈیل کے تحت آپکو ریٹائرمنٹ کے 2 دن بعد آرمی چیف COAS لگا دے۔
بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا تو انڈیا نے ہمارے چہروں پر بم برسائے اور کہیں اوکھلی میں سر دئیے چھپے رہے تب مہاشے کی کی قسمت پھوٹی اور انہوں نے نور خان ائیر بیس پر حملہ کر دیا اس پر ہمارے ائیر مارشل کے حکم سے ہمارے شاہینوں نے پروازیں بھریں اور بھارتی فضائیہ کا بھرکس نکال دیا لیکن اس فتح کو آپ نے کیش کرایا اور از خود فیلڈ مارشل بن بیٹھے اور خوف کا یہ عالم ہے کہ تامرگ استثناء لے لیا جو خالد بن ولید جیسے سپہ سالار کو بھی حاصل نہیں تھا
تو سمجھ جائیں کہ تمام کمپلیکس کا بدلہ اب آپ پوری قوم سے لیں گے۔
اب آپ تمام حسرتیں آخری موقع سمجھ کر پوری کریں گے۔
#منقول
قاسم خان سوری ان فائر 🔥 🔥
پہلے ہی vlog میں عاصم منیر کی دھلائی کردی!
قاسم سوری کو بہت پہلے یوٹیوب پر آنا چاہیے تھا, ایسا دبنگ بےباک بندہ کھل کر بول سکتا ہے!!