In light of media reports today about arrests made in Crewe, UK, please note that the organisation that goes by the name of "Ahmadi Religion of Peace and Light (AROPL)" has no connection whatsoever with the Ahmadiyya Muslim Community.
کچھ پان اور قوام کے بارے میں۔ غالب امکان ہے کہ یہ تحریر عبدالحلیم شرر صاحب کی ہے.
تمباکو میں پتی کی صلاح سے پہلے جس کا سہرا ہمارے مکرم دوست منشی سید احمد حسین صاحب کے سر ہے-اصلاح کی ایک اور کامیاب کوشش کی گئی- وہ یہ کہ تمباکو کی پتی اور ڈنٹھلوں کو خوب اچھی طرح ابال کر ...
Welcome to the hierarchy of grief. Some lives come with active verbs. Others arrive in the passive voice, subordinate clauses, and the rhetorical fog of “alleged"
https://t.co/zogHpjP11g
ایک پیر فرتوت کا جادوئی قلم
پیر مہر علی شاہ گولڑوی نے سو سال عمر پائی۔ انہوں نے فاتح قادیانیت کے طور پر شہرت پائی جس کی وجہ لاہور کا ایک جلسہ تھا جس کی بابت مشہور ہے کہ انہوں نے قلم کو حکم دیا کہ تفسیر لکھ۔ اور قلم نے لکھنا شروع کر دیا۔1/20
ایک پیر فرتوت کا جادوئی قلم
پیر مہر علی شاہ گولڑوی نے سو سال عمر پائی۔ انہوں نے فاتح قادیانیت کے طور پر شہرت پائی جس کی وجہ لاہور کا ایک جلسہ تھا جس کی بابت مشہور ہے کہ انہوں نے قلم کو حکم دیا کہ تفسیر لکھ۔ اور قلم نے لکھنا شروع کر دیا۔1/20
As a 14-year-old boy, Abdus Salam, gained the highest marks ever recorded for the Matriculation Examination at University of the Punjab.
In 1979, he shared the #NobelPrize in Physics for contributions to the electroweak unification theory.
Learn more: https://t.co/Q1tmaJQLBq
مولانا وحید الدین خان اور جاوید احمد غامدی صاحب کی مثال اس ٹیکسی ڈرائیور کی سی ہے جو مسافر کو منزل کے پاس لا کر چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ آگے خود ڈھونڈ لیں گے۔
ان مسافروں سے گذارش ہے کہ ان دو علماء کو سیٹلائٹ نیویگیٹر پر اعتقاد نہیں۔ اس لئے تکے لگا کر منزل کے آس پاس بھٹک گئے ہیں ۔
شیخ نور محمد احمدیہ جماعت سے چند سال منسلک رہے، مگر 1902ء میں ایک واقعے کے بعد انہوں نے علیحدگی اختیار کر لی۔ روایت کے مطابق ان کی ایک بیٹی کے جنازے میں احمدی احباب کی عدم شرکت پر دل آزاری ہوئی، جس کے باعث وہ جماعت سے الگ ہو گئے
بتایا جاتا ہے کہ شیخ نور محمد نے بانی جماعت احمدیہ کے ہاتھ پر بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں شمولیت اختیار کر لی تھی
جون 1897ء میں قادیان جلسے میںبھی شرکت کی اور ایک روپیہ بطور چندہ پیش کر کے اپنی والہانہ عقیدت کا اظہار کیا
شیخ نور محمد ( والد علامہ اقبال)قاضی سلطان دربار آوان شریف کے مرید تھے جو قادریہ سلسلہ سے تعلق رکھتے تھے ۔اسی بنا پر قبال بھی بچپن سے سلسلہ قادریہ میں بیعت کئے ہوئے تھے۔عین ممکن ہے کہ شیخ نورمحمد نے اپنے قوائے روحانی کی نشوونما کے لئے چلہ کشی کی ریاضت بھی کی ہو۔بعض اوقات اقبال خود بھی باری کے بخار کے مریضوں کو پیپل کے پتوں پر قرآنی آیات قلم سے لکھ کر دیتے تھے جس کے چاٹنے سے مریض کا بخار اتر جاتا تھا ۔اپنے بچپن میں راقم( جاوید اقبال)نے انہیں پیپل کے پتوں پر ایسا تحریر کرتے ہوئے دیکھا تھا ۔اس قسم کے روحانی علاج کرنے کی اجازت ممکن ہے انہوں نے اپنے والد سے حاصل کی ہو ۔
زندہ رود ۔،صفحہ 64ازڈاکٹر جاوید اقبال