I'm a Software engineer and currently working in F&A globals which is a medical billing and coding company. Also I have in political life. My idol is M.A Jinnah
علیمہ خان کی آواز بنیں 🚨
عمران خان کو ان کے blood test کے رپورٹ نہیں دئے جا رہے ہیں، کیا وجہ ہے کہ پمز ہسپتال کے رپورٹس کو چھپایا جا رہا ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران خان کو فوری فیملی اور ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں شفا انٹرنیشنل منتقل کر دیا جائے
#KhansIsolationIsACrime
قید تنہائی میں ڈالنے سے قبل وکلاء، اراکین اسمبلی اور پارٹی قیادت کے لیے احکامات تھے عدالتوں کے باہردھرنا دیں جب تک انصاف نہیں ملتا۔ ان سب کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر یاد کراچکا ہوں۔ وکلاء کے نام بھی سخت پیغام تھا اور کیوں نہ ہوتا پارٹی عہدوں سے لیکر اسمبلی ٹکٹ اور بار الیکشن تک عمران خان کے نام پر لڑے جاتے ہیں لیکن خان صاحب کے احکامات کے باوجود عدالت کے باہر مستقل، بمع اراکین اسمبلی دھرنا نہیں دیا جا سکتا؟ پہلے بارش تھی، پھر رمضان تھا اب گرمی ہے۔۔
خان صاحب کی بیماری، ڈرون حملے،آپریشن، بدلتے ہوئی بین الاقوامی حالات،پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے،بے جا ٹیکسسسز، مہنگائی کے تناظر میں تحریک چلانے کی صلاح۔ صرف صوبہ نہیں ملک بند کرنے کا پلان،عمران خان کی صحت کے معاملے پر متحرک ہونے کی درخواست، ایوانوں سے استعفوں کے زریعے حکومت سے legitimacy واپس لینے کے لیے سب سے پہلے اپنے استعفیٰ کی پیشکش۔۔۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمران خان کی اسیری کا زمہ دار ان میں سے کوئی فرد نہیں بلکہ بین الاقوامی اسٹیبلیشمنٹ کی ایماء پر برسرپیکار عاصم منیر، قانونی و غیر قانونی طور پر اس کے ماتحت آنے والے ادارے اور اسکے اشاروں پر ناچنے والی سیاسی قوتیں ہیں۔ مگر کیا عمران خان اپنی ذات کے لیے مقید ہے کہ اس کی رہائی کے لیے اپنی پوری قوت سے کوشش کرنا بھی کسی کا فرض نہیں ہے؟ قیادت سے لیکر قوم تک کسی کا بھی نہیں؟
تحفظ آئین پاکستان مہینوں بعد ایک بیٹھک منعقد کرنے کا فیصلہ خود کر سکتی ہے،سی ایم جلسے کا اعلان اور پھر ملتوی خود کر سکتا ہے، اراکین اسمبلی شادیوں اور دعوتوں میں مخالفین کے ساتھ بیٹھنے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں، مارکوپولو بن کر دنیا کے چکر لگانے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں،سیاسی کمیٹی خود کو “محب وطن” ثابت کرنے کے لیے ایمرجنسی اجلاس بلا سکتی ہے،تنظیمیں عہدوں کے نئے نئے نوٹیفیکشن کرسکتی ہیں،صوبائی حکومت فارم ۴۷ وزیراعظم اور صدر کے ساتھ بیٹھ سکتی ہے، کور کمانڈر ہاؤس کا رخ کر سکتی ہے لیکن جب عمران خان کا سوال ہو تو سیاسی کمیٹی کا جواب ہوتا ہے تحفظ آئین پاکستان، ان کا جواب ہوتا ہے پی ٹی آئی قیادت، قیادت فیملی کا نام لیتی ہے اور پھر سی ایم پر بات آجاتی ہے اور یہی سلیم اللہ سے کلیم اللہ اور کلیم اللہ سے سلیم اللہ چلتا رہتا ہے۔تو جب سارے فیصلے اپنے طور پر کیے جا سکتے ہیں تو تحریک کا فیصلہ کیوں نہیں؟ محض اس کے لیے عمران خان کی ہدایت درکار ہے اور جہاں عمران خان کی ہدایات میسر ہیں وہاں حیلے بے شمار ہیں۔ مان لیتے ہیں کہ منزل ایک ہے لیکن طریقہ کار مختلف ہے تو ایک دن کے نوٹس پر آپ سب ایک چھت کے نیچے بیٹھ کر مشترکہ اجلاس بلا کر عملی جدوجہد کا فیصلہ کر سکتے ہیں اور ادھر ہی مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد بھی ہوسکتا ہے۔ چل�� یہ بھی مان لیتے ہیں کہ زیادہ تر تحریک کے حق میں ہیں تو کچے دھاگے توڑنے کے لیے اجلاس کو لائیو نشر کیجئے ویسے بھی کونسا ایٹم بم کا فارمولہ ڈسکس ہونا ہے تو جو بھی رکاوٹ ہوگی قوم خود اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ان کا بھی احتساب کر لے گی۔
ہمیں تو گراونڈ ریلئٹی نہیں معلوم ناں تو بس پبلکی مشورہ دے دیا کیونکہ خان صاحب کی بیماری کے وقت میں ��ے ایک وائس نوٹ میں وہ تمام تجاویز دہرائے جو میں قیادت کو بارہا بھیج چکا تھا، نا ہی کوئی کال دی نا ہی کوئی فیصلہ کیا لیکن خان صاحب کے لیے کچھ کرنے کے بجائے مجھے قیادت و صوبائی حکومت نے پیغام بھجوایا کہ آپ کے ایک وائیس نوٹ سے تحریک کو Irreversible نقصان ہوا ہے۔ سیریسلی؟ اور یہ میرے ساتھ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔۔
تین سال بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے وہ بھی ناحق اسیری اور عمران خان جیسا لیڈر۔ چار سال مجھے ہوگئے پہلے دربدر اور پھر مستقل اور پھر روپوشی بھی ایسی کہ کوئی ایک ہفتہ بھی نہ گزار سکے۔ آج صرف مل بیٹھ کر ایک جہد مسلسل کی گزارش کر رہا ہوں اگر نہیں ہو رہا آپ سے تو جیسا آپ ہمارے بیانیہ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے ہم آپ کی غفلت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ اور یہ جو کرنل سے مل کر ایک دوسرے کو مشورے دیتے ہو کہ خان تو جیل میں ہی رہے گا مراد سعید تو پاگل ہے نہ اپنی پرواہ نہ کسی اور کی وہ تو جب بھی نظر آیا مارا جائے گا اپنی زندگی کیوں خراب کرتے ہو تو اتنا کہوں گا اللہ آپ کو مزید ��سانیاں دے لیکن ہمارے مقصد ہماری جدوجہد اور ہماری زندگیوں کی قیمت پر نہیں بالکل بھی نہیں۔ کوئی فیصلہ کیجیے-
“اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے ججز بشریٰ بی بی کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ انہیں دن کے 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، اور پورے ہفتے میں مجھ سے ملاقات کے محض 30 منٹ دئیے جاتے ہیں، اور اکثر تو اس ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اسلام میں عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔
جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے” -
ناحق قید سابق وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنے بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران پیغام
(21 مارچ، 2026)
“The judges in this country should be ashamed of themselves. Time and time again we have gone to the judiciary. But they have sold their souls for their paid personal privileges. They have sold their integrity. They know they cannot break me, so they turn to my wife. How they can allow this inhumane treatment to Bushra BiBi, simply to blackmail me. She spends 24 hours a day in isolation, except for 30 minutes with me per week - and even that is often ignored. It is unislamic to harm women, children and the elderly - and their motives are plain and clear. The judges are responsible for the justice in a society. They should be ashamed of themselves.”
Illegally Incarcerated Former Prime Minister of Pakistan, Imran Khan, speaking to his sons on phone from Adiala Jail - (March 21, 2026)
۲/۲
آخری بات، ”میں اکیلا ہوں“ اُس رات عمران خان کا کہا آخری جملہ نہیں تھا، انہوں نے کہا؛ ”یہ میری کور ٹیم ہے، اگر یہ ہی حق میں نہیں ہے میں باہر والوں کا تو مقابلہ کرسکتا ہوں، میں اپنے لوگوں سے تو نہیں لڑ سکتا“۔ یہاں عمران خان نے خدانخواستہ سرینڈر نہیں کیا، تاریخ دیکھ رہی ہے، عمران خان نے سرینڈر نہیں کیا۔ عمران خان نے اپنی صفوں سے لڑنے سے انکار کیا (مگر ہم کیا کررہے ہیں شب و روز؟)۔ عمران خان نے اپنوں سے لڑنے سے انکار کرکے قوم کے اصل دشمنوں کا پردہ چاک کیا، پھر جو جو عمران خان کے نظریے کا بوجھ اٹھانے کی ہمت نہیں رکھتے تھے وہ الگ ہوتے گئے۔ آگے بھی ہوتے جائیں گے۔ میں اس وقت اپنی رائے میں غلط نہیں تھا، مگر عمران خان کا حتمی فیصلہ تاریخ نے درست ثابت کیا (اور اسی لیے میں ہمیشہ لیڈر کی فہم اور فیصلے کو اپنی سوچ پر فوقیت دینے پر زور دیتا ہوں، چاہے اس کی پشت پر محرکات اور وقتی اثرات کچھ بھی ہوں)۔
کتابیں، تاریخ، واقعات صرف اس لیے نہیں تحریر اور بیان کیے جاتے کہ حقائق سامنے لائے جائیں ان کا ایک مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ ہم ان سے سبق حاصل کریں۔ سیکھیں دوسروں کے تجربے سے، ان کے صحیح اور غلط فیصلوں سے۔ میری گزارش ہوگی کہ آپ اس تحریر کو بھی اس تناظر میں دیکھیں۔
ابھی تک عموماً بُک سٹورز کتاب رکھنے پر تیار نہیں ہیں، ماسوائے چند ایک کے۔ ہم اپنے ذاتی نیٹ ورکس کے زریعے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو فراہمی یقینی بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔
اور انشاء اللہ جلد ہی آپ کو اس کا ای ورژن بھی میسر ہوگا۔
زمانہ طالب علمی سے دہشتگردی کے خلاف جنگ کے عام آدمی پر اثرات اور ریاست کے دوغلے کردار پر لکھنا ��روع کیا۔ تفصیل میں جائے بغیر، نومبر ۲۰۲۵ میں پرننٹنگ کے لیے روابط کا آغاز کیا تاہم ہر جگہ سے انکار ہوا۔ بلآخر ایک دوست جو اس وقت خود بھی مشکلات کا شکار ہیں نے مدد پر آمادگی ظاہر کی اور بہت تگ و دو کے بعد تقریباً پانچ ماہ کی مکمل رازداری میں کی محنت سے یہ پراسس مکمل ہوا۔ میرے لیے یہ انتظار نہایت تکلیف دہ تھا کیونکہ میرا مقصد ملک کو ایک اور جنگ میں دھکیلنے والوں کے خلاف بروقت تنبیہہ کرکے مزید جنازے روکنا تھا جس کا حتمی آغاز ضلع خیبر کے علاقے تیرہ سے ہونے جارہا تھا۔ تین سال پہلے جس جنگ کی پیشنگوئی کی تھی آج وہ شروع ہوچکی ہے۔ آج اگر ان حالات میں بھی مالاکنڈ نسبتاً پرامن ہے تو الحمدللہ ہماری بروقت امن تحریک اس کا وسیلہ بنی۔آپ کہیں گے پرانی باتیں نہ دہراؤ مگر جب مجھے روپوش ہونا پڑا تو درخواست کی کہ اب اس تحریک کا بیڑہ آپ اٹھائیں اپنے لوگوں کی آواز بنیں۔ آج جب افغانستان کے ساتھ جنگ چھیڑ دی گئی ہے تو میں یاد دلاؤں گا کہ میں نے کہا تھا کہ آپ کی دہلیز تک ایک اور جنگ لائی جارہی ہے اور آپ کی لاشوں پر بیانیے بنیں گے۔
اللہ کے حکم سے اپنے کارکنان کے ساتھ مل کر خان صاحب کی گرفتاری کی پہلی کوشش کی ناکامی سے لے کر کتنی مرتبہ وارن کیا ہے کہ پاکستانیو! اپنا فیصلہ کرو آپ نے مرسی کا مصر بننا ہے یا اردگان کا ترکی؟ آپ نے عمران خان کی زندگی پر ہونے والی ہر اٹیمپٹ کی ناکامی کے بعد تالیاں پیٹ کر میری واہ واہ تو کرلی۔ داد تو دے دی۔ میری بات کو کتنی سنجیدگی سے لیا؟ عمران خان کی زندگی کو لاحق خطرات تین ماہ پہلے سے نہیں ہیں، تین سالوں سے اس منصوبے پر کام ہورہا ہے۔ یہ میں پہلی دفعہ نہیں بتا رہا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت آئی آپ کبھی ایک کے کبھی دوسرے کے بیانات پر شادیانے بجاتے رہے میں نے نہیں جھنجھوڑا کہ عمران خان بین الاقومی طاقتوں کے مفادات کی راہ میں کھڑا ہے؟ ان کی لفظی کاروائیوں پر نہ جائیں، عمران خان ان کے منصوبوں میں فٹ نہیں بیٹھتا۔ رجیم چینج آپریشن میں شامل کردار اپنی طاقت کو طول دینے کے لیے سب داؤ پر لگانے کو تیار ہیں، اور آپ نے دیکھا سب داؤ پر لگا بیٹھے ہیں۔
نومبر ۲۰۲۴ میں ڈی چوک میں سامنے سے گولیاں سے ماری گئی��، اکتوبر ۲۰۲۵ میں مریدکے میں قتلِ عام ہوا یہ معمولی واقعات تو نہیں تھے لیکن دیدہ دلیری سے ہوئے کیونکہ بین الاقوامی ایجنڈے پر عمل درآمد کے بدلے مکمل چشم پوشی کی کمٹمنٹ ہوئی تھی۔
اسرائیل کے حوالے سے پالیسی پر آپ کو بارہا بتایا۔ کسی نے تعریف کی کسی نے تنقید کی�� کسی نے جلی کٹی سنائیں۔ کسی نے اپنے گریباں میں جھانکے بغیر دشنام طرازی کی۔ رُک کے غور شاید ہی کسی نے کیا۔
نومبر ۲۰۲۵ میں واضح ہوگیا کہ گھر کی دہلیز تک ایندھن پہنچا تو پہلے دیا گیا تھا، اب آگ بھڑکائی جانی تھی۔ تیرہ سے آپریشن کے آغاز کا ارادہ ہوچکا تھا۔ افغانستان کے ساتھ جنگ کی راہ ہموار کی جارہی تھی۔ نظریاتی سرحدوں کا سودا الگ ہورہا تھا۔
یہاں یہ بھی یاد دلا دوں کہ جب مجھ جیسے آباد علاقوں کے پختونوں کو آپریشن کی ہولناکیوں کا اندازہ بھی نہیں تھا عمران خان اس وقت اپنے لوگوں کو پرائی جنگ میں جھونکنے کے خلاف اٹھنے والی اکلوتی آواز تھا۔ یہ مشن میرے لیڈر کا تھا۔ ابسولوٹل�� ناٹ کا فیصلہ میرے لیڈر کا تھا، کہ پاکستان کی سرزمین کسی بھی بیرونی طاقت کے مفادات کے لیے کسی ہمسایے کے خلاف نہیں استعمال ہوگی۔
میں نے صرف ان عناصر سے پردہ اٹھایا ہے جنہیں عمران خان کے اس کردار سے تکلیف تھی۔ جو ان کے موقف کے سبب ان کی جان کے درپے ہیں۔ جوں جوں بین الاقوامی قوتوں کی فرمان برداری اور غلامی میں انکے ساتھ کمٹمنٹس پورے ہو رہے ہیں یوں یوں عمران خان کی زندگی کو خطرہ بڑھ رہا ہے۔ یوں یوں پاکستان کا وجود خطرے میں پڑ رہا ہے۔ میرا کام وارن کرنا تھا میں نے کردیا، ایک مرتبہ پھر۔ فیصلہ کل بھی آپ کو کرنا تھا، فیصلہ آج بھی آپ کو کرنا ہے۔
۱/۲
بریکنگ نیوز 🚨
سپورٹس دنیا کا نمبرون چینل sky sports عمران خان کے علآج پر ڈاکومنٹری جاری کرچکا!
عمران خان کے لیے پوری دنیا آواز ��ٹھا رہی!🛑
اسکو پھیلائیں 🛑 بار بار بار
جولائی ۲۰۲۱افغانستان سے امریکی انخلاء؛ چیلنجز اینڈ اپرچونٹیز، وزیر اعظم عمران خان میٹنگ بلاتے ہیں، عسکری قیادت کی رائے میں صورت حال خانہ جنگی کی طرف جاتی دکھائی دے رہی ہے جس میں اپنے اتحادی دوست ��فغان طالبان کو بہر طور سپورٹ فراہم کرنی ہے۔
اگست ۲۰۲۱، کابل سے امریکی انخلاء ہوتا ہے، پاکستان کے سیکورٹی ادارے حکومت سازی میں مگن دکھائی دیتے ہیں۔ دنیا کی لعن طعن کا رُخ پاکستان کی جانب ہوجاتا ہے لیکن وزیراعظم عمران خان کابل میں محصور شہریوں کو سیف ایگزیٹ مہیا کرکے پاکستان کے لیے بڑی سفارتی کامیابی حاصل کرتے ہیں۔
نومبر ۲۰۲۱، عسکری قیادت کی جانب سے وزیراعظم عمران خان اور کابینہ اراکین کو پاکستانی طالبان (المعروف دہشت گرد، المعروف خوارج، المعروف فتنہ الہندوستان) کی آبادکاری کا پلان پیش کیا گیا۔ جس کی کابینہ اراکین نے بھرپور مخالفت کی اور وزیر اعظم نے ایسے کسی بھی منصوبے پر عملدرآمد سے انکار کردیا۔
دسمبر ۲۰۲۱، وزیر اعظم عمران خان افغانستان میں جنم لینے والی غیر یقینی صورتحال پر او آئی سی کا ہنگامی اجلاس طلب کراتے ہیں اور اسلامی ممالک کو افغانستان کو درپیش انسانی المیے سے آگاہ کرتے ہوئے برادرانِ اسلام (یعنی مظلوم افغان عوام) کی مدد کے لیے متحد ہونے کی اپیل کرتے ہیں۔
آنے والے دنوں میں اسپیکر قومی اسمبلی کی سربراہی میں افغان طالبان قیادت اور پاکستانی حکام کے مابین متعدد ملاقاتیں ہوئیں، وزارت مواصلات اور دیگر محکموں کی جانب سے براستہ افغانستان تجارت اور دیگر منصوبوں کے متعلق شدومد سے پلاننگ کا آغاز ہوا، خود میں نے روس،افغانستان، چین اور دیگر وسطی ایشیاء ممالک کی کنیکٹوٹی کے حوالے سے میٹنگز چئیر کیں۔
مارچ ۲۰۲۲، اسلام آباد میں او آئی سی ممالک کا افغانستان کے مسئلے پر ایک اور اجلاس منعقد کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان اقوامِ عالم کو افغانستان میں ابھرتی ہوئی صورتحال سے خبردار کرتے ہوئے مل بیٹھ کر بہتری کا ایسا راستہ نکالنے کا کہتے ہیں جس سے افغانستان کے شہریوں کی فلاح اور افغانستان کے پڑوسی ممالک اور عالمی دنیا کا امن ممکن ہو۔
جون ۲۰۲۲، عمران خان کی حکومت کے خاتمہ کے بعد پی ڈی ایم کی کٹ پُتلی حکومت کے سامنے عسکری حکام کی جانب سے وہی پلان پیش کیا جاتا ہے جس کی نومبر ۲۰۲۱ میں وزیراعظم عمران خان نے اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ، فوری منظوری دے دی جاتی ہے۔
جون ۲۰۲۲، عسکری حکومت کی جانب سے افغانستان وفد بھیج کر طالبان (المعروف دہشت گرد، المعروف خوارج، المعروف فتنہ الہندوستان) کی آبادکاری کے منصوبے پر عملدرآمد کا آغاز ہوتا ہے۔
ج��لائی ۲۰۲۲، میں اس منصوبے کے خلاف عوام کو متحرک کرتا ہوں۔ مجھ پر غداری کے مقدمے ہوتے ہیں، فساد پھیلانے کے فتوی لگتے ہیں اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ پھر درون خانہ رابطے کرکے پہلے حجتیں، تاویلیں اور پھر واپس بھیجنے کی گارنٹیز دی جاتی ہیں اور واپس بھیج بھی دیا جاتا ہے۔
اگست ۲۰۲۲، عبوری حکومت کے دوران عسکری سرکردگی میں ان طالبان (المعروف دہشت گرد، المعروف خوارج، المعروف فتنہ الہندوستان) کی پاکستان میں باقاعدہ آبادکاری کا آغاز ہوتا ہے اور عسکری سرکردگی میں اسلحے سمیت خیبر پختونخواہ کے جنوبی اضلاع میں آباد کیا جاتا ہے۔
پھر ان ہی کاروائیوں کا آغاز ہوتا ہے جن کو بنیاد بنا کر ۲۰۰۴ سے ۲۰۱۷ تک خیبر پختونخواہ اور باقی پاکستان کو تختۂ مشق بنایا گیا۔
پھر ٹرمپ کی امریکی اسلحہ کے بیان اور بگرام ائیر بیس دینے سے طالبان کے انکار میں ہمارے جرنیلوں کو وہ سنہری موقع مل جاتا ہے جس کے وہ انتظار میں تھے۔ پاکستان میں پناہ گزین افغان شہریوں کا غیر انسانی انخلاء شروع ہوتا ہے، بارڈر پر تجارت بند کردی جاتی ہے، افغانستان پاکستان کے امن کا اولیں دشمن قرار پاتا ہے، تندو تیز بیانات اور فضائی حملوں سے اس دشمنی کو مزید مستحکم کیا جاتا ہے۔
نتیجہ اس سے کچھ مختلف تو نہیں ہونا تھا جو ۱۹۷۰ سے ۲۰۱۰ تک ہوا مگر کیا سبب تھا کہ ۲۰۲۲ میں بھی اسی رُول بُک کو فالو کرنا مناسب سمجھا گیا؟ ��ہ سوال میں تو چار سال سے پوچھ رہا ہوں اب اگر منہ سے جھاگ اڑاتے، جنگ کے طبل بجاتے اور سوال اٹھانے والو کو وطن دشمنی کے فتوی بانٹنے والوں کی گیس لائیٹنگ میں آئے بنا آپ بھی پوچھ لیں کہ کیونکر اپنے جوانوں، اپنے اور پڑوسی ملک کے معصوم شہریوں کی زندگیوں، اپنے ملک کے امن اور استحکام سے اس بے دردی سے کھیلا گیا تو شاید آپ کا مستقبل گذشتہ سے کچھ مختلف ہوجائے۔
جو ہو رہا ہے، جو بساط بچھائی گئی ہے صرف بیرون آقاؤں سے کی جانے والی کمٹمنٹس کے مطابق فرد واحد کی طاقت کو دوام دینے کے لیے ہو رہا ہے چاہے وہ غزہ ہو یا افغانستان۔ یہ نہ کل پاکستان کی لڑائی تھی، نہ یہ آج پاکستان کی لڑائی ہے۔
قاسم خان کا BBC پر انکشاف 🚨
ہمیں دو بار خبر ملی تھی کہ آپ کے والد جیل میں وفات پا چکے ہیں، اس وقت میرے والد کی زندگی کو خطرہ ہے اور ہم اس سے بہت پریشان ہیں
#ImranKhanNotSafeInAdiala
جس طرح کی طِبی دہشت گردی عمران خان کے ساتھ کی گئی، اور اس پر جیسے ان کے ذاتی معالجین اور فیملی کے بغیر جو عسکری رپورٹس میڈیا پر چلائی گئیں اس سے مزید تشویش ناک صورت حال جنم لے رہی ہے۔ عمران خان اس وقت ریاست کی تحویل میں ہیں جہاں مسلسل اُن کی زندگی سے کھیلا جا رہا ہے۔ آخر کس چیز کو چھپایا جا رہا ہے؟
کنٹرولڈ چیک اپ، کنٹرولڈ انفارمیشن، کنٹرولڈ میڈیا ۔ جس سے زندگی کو خطرہ ہے، جن کی وجہ سے اس نہج پر پہنچے ان ہی کی بات پر یقین کیا جائے؟
اس سے قبل عمران خان پر وزیرآباد میں قاتلانہ حملہ کروایا گیا ان کو گولیاں لگیں، اللہ نے اُن کی زندگی کی حفاظت کی لیکن اس وقت بھی بیانیے بنائے گئے، لمحوں میں آئی ایس آئی نے میڈیا کو ویڈیو بیانات بھجوانا شروع کر دئیے۔
فوجی قیادت کے کہنے پر آئی ایس آئی نے ایک افغانی کو خان صاحب کو مارنے کا ٹاسک دیا، جب میں نے پریس کانفرنس میں اس سازش کا پردہ فاش کیا تو آئی ایس آئی اسلام آباد سیکٹر نے پریس کلب میں ایک افغانی کی پریس کانفرنس رکھوائی اور شام کو پرائم ٹائم ٹی وی پروگرام میں بیانیے کے لیے بھجوایا گیا۔ میں نے کسی کا نام نہیں لیا تھا، مگر یہ جانتے تھے کس کا ذکر ہورہا ہے۔
صوابی میں ہیلی کاپٹر گرانے کا پلان اکسپوز ہوا جس کے لیے ڈبل ایجنٹ ہائیر کیا گیا تھا، جو بعد میں مارا گیا۔ اس کے بعد ہیلی کاپٹر میں غلط فیول بھروایا گیا اور رپورٹ آج تک سامنے نہ آسکی۔ اٹھارہ مارچ کو ڈیتھ ٹریپ بچھایا گیا اور جب ناکام ہوا تو پولیس افسر کو گالیاں دی گئیں کہ عمران خان کیسے بچ کر نکل گیا۔اس کے علاوہ متعدد کوششیں ہوئیں۔
گزشتہ تین سال سے عمران خان جیل میں ہیں اور مسلسل ان کی صحت کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے۔ عسکری خبریں چلوانے والا میڈیا یہ کیوں بُھول رہا ہے کہ آپ پاکستان کے سب سے عظیم بیٹے عمران خان کی زندگی سے کھیلنے میں حصہ دار بن رہے ہو؟ عمران خان کی صحت کے حوالے سے سوال اٹھانے کو سیاست کا نام کیسے دیا جا سکتا ہے؟ کیوں ان کے ڈاکٹرز سے ملاقات نہیں ہو رہی؟ کیوں ان کی فیملی سے ملاقات نہیں ہو رہی؟ کیوں انہیں ہسپتال نہیں منتقل کیا جا رہا؟
آخر ایسا کیا گیا ہے جس کو چھپایا جا رہا ہے؟
ہاں خان صاحب نے جب جیل میں عاصم لاء اور ذہنی مریض کا ذکر کیا تو عاصم منیر نے سب کے سامنے کہا کہ عاصم لاء ہے تو ہے، اب بتاتا ہوں عاصم لاء اور ذہنی مریض کیا ہوتا ہے۔
اسی غصے میں ڈی چوک میں خون ریزی کا اقبال جرم کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ بتایا تھا سنگجانی سے آگے مت بڑھو، کیا اکھاڑ لیا صرف ہم سے ��وگ ہی مروائے نا۔ ”پھر کوشش کریں اسلام آباد آنے کی، اس دفعہ اٹک پل پر کھڑے ہوکر ماریں گے، ویسے بھی ڈی چوک میں مروا تو دئیے“۔
تو کیا اس غصے میں ہی کچھ ایسا کیا گیا ہے، جس کو چھپایا جا رہا ہے؟
Deeply appreciative of Greg Chappell for raising his voice for my father.
It is heartening to see global cricketing leaders call for dignity and justice while he remains in solitary confinement for nearly 1000 days, having lost approximately 85% of the vision in his right eye, and still denied proper medical care and access to his doctors and family.
Thank you Greg, and all those who have stood beside him.
https://t.co/wbq0qlyoPN