امریکی باکسنگ کوچ کے اخلاق سے متاثر ہو کر 45 افراد نے اسلام قبول کر لیا
امریکی باکسنگ ٹرینر اور معروف کوچ جیمز علی بشیر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے، ویڈیو میں وہ بتا رہے ہیں کہ اپنی انفرادی کوششوں سے 45 افراد کو دائرہ اسلام میں داخل کیا۔ ابتدا میں جیمز علی بشیر اپنے خاندان میں اکیلے مسلمان تھے، تاہم بعد ازاں انہوں نے اپنے اخلاق، طرزِ زندگی اور دعوتی انداز کے ذریعے اسلام کا پیغام اپنے قریبی رشتہ داروں تک پہنچایا۔ وقت کے ساتھ ان کی کوششوں کے نتیجے میں خاندان کے 45 افراد نے اسلام قبول کر لیا۔
پولیس کی موجودگی میں یتیم بچے پر تشدد کرنے والا یہ بدمعاش کون ہے ؟
کیا اس بدمعاش کو گرفتار کرکے ان کا سافٹ وئیر اپڈیٹ کیا جائے گا ؟
کیا اس پولیس اہلکار ��میت پولیس کی گاڑی میں آنے والے تمام پولیس اہلکاروں کو سبق سکھانے کیلئے گھر بھیج دیا جائے گا تاکہ دیگر کیلئے عبرت کا نشان بن جائیں یا
پھر اس شہر ناپرسان میں حکومت تماشہ دیکھتے رہی گی
پٹرول کی قیمتیں بڑھاتے ہوئے دن دگنی رات چگنی قیمتیں بڑھائی جاتی ہیں اور جب پٹرول کی قیمتیں کم کرنی ہوں تو اس وقت رفتار سنیل جیسی ہو جاتی ہے
اس حکومت کو کبھی بھی عوام کی بہبود مقصود نہیں ۔۔یہ ظالم تھے ظالم ہیں اور ظالم رہیں گے ۔۔ کم از کم پٹرول کو واپس ان قیمتوں پر لائیں جہاں سے پٹرول بڑھانا شروع کیا تھا
ذرا تصور کیجیےجب صحافیوں کو ان کے کیمروں کے سامنے پولیس تشدد کا نشانہ بنا رہی اُن علاقوں میں عام شہریوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہوگا جہاں انٹرنیٹ ��وبائل سروسز تک بند ہوں دنیا کی نگاہ وہاں نہ پہنچ سکے
صحافی رخسار قصور صرف اتنا ہے کہ انہوں نے کشمیر کمیونٹی کے احتجاج کی کوریج کی
کچہ سٹاپ نالہ میں ڈوبنے کے واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی
بچہ کو کم عمر بچے نے دھکا دیا
والدین عوام علاقہ اور متعلقہ ادارہ جس نے نالہ کو کور نہ کیا ان سب کی غفلت کے باعث
ریسکیو 1122 کے 100 کے لگ بھگ آفیسر اہلکار ڈی او صبغت اللہ تین دن تین رات تک دس کلو میٹر سے لمبے علاقے کے نالوں کی چھانتے رہے اور نعش نالہ لئی سے بر آمد کر لی
ریسکیو 1122 کے اہلکار بلا شبہ ہیرو ہیں
لیکن والدین اب کہاں کھڑے ہیں جو انتظامیہ ریسکیو کو کوستے رہے تین دن
@CMComplaintCell@Marriyum_A@MaryamNSharif@CommissionerRwp
شوہر نے پہلی بار تشدد نہیں کیا ، بھائی کے مطابق وہ پہلے بھی بازو توڑ چکا ہے , کوٹری میں گھریلو تشدد سے زخمی ہونے والی 25 سالہ علینہ، جس کی تین سالہ بیٹی ہے ،اسپتال میں دم توڑ گئی۔ شوہر عطا الرحمان کے تشدد سے علینہ آئی سی یو میں زیر علاج تھی، دماغی چوٹوں کی وجہ سے سرجری کی 👇
یہ ہے آم کا جوس، مینگو جوس کے نام پر کیمیکل ملا گند بیچا جا رہا ہے ۔
لاری اڈوں سرکاری ہسپتالوں اور سرکاری سکولوں کے باہر یہ ریڑھ��وں والے کھڑے ہوتے ہیں ۔ آم صرف دکھانے کے لئے رکھے ہوتے ہیں ۔ باقی سب کیمیکل ہوتا ہے۔
فو�� اتھارٹی والے ستو پی کر سوئے ہوتے ہیں !
جنگ سے پہلے پیٹرول جس قیمت پر تھا، اس سے نیچے جائے گا تو ریلیف، ورنہ یہ ڈھکوسلے ہیں۔ خطے کے ممالک سے موازنہ کریں تو شہباز شریف اور ان کے حواریوں کو شرم آنی چاہیے۔ یہ ڈیڑھ سو روپے لیٹر پیٹرول کو بھی مہنگا کہتے تھے۔ طارق متین
#pakistan@tariqmateen
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
😭ہائے رے غربت...
ہائے رے معاشرے...
ایک 17 سالہ معصوم بچی، تنزیلہ...
صبح سویرے ماں کے ہاتھ سے روٹی اٹھا کر، آنکھوں میں خواب لیے گھر سے نکلی تھی۔ "بیٹی جلدی آجانا..."
ماں نے آواز دی تھی۔
وہ مسکرا کر بولی تھی، "جی ماں،
آج کچھ زیادہ مزدوری کر کے لاؤں گی۔"
لیکن وہ واپس نہ آئی... اب وہ مٹی تلے سو رہی ہے۔
قبر کی ٹھنڈی مٹی نے اس کے چھوٹے سے جسم کو گلے لگا لیا ہے۔
کوٹ مومن کی گلیاں آج بھی اس کی آواز ڈھونڈ رہی ہیں۔
ماں کی سسکیاں آسمان کو چیر رہی ہیں۔
باپ کی آنکھیں سوکھ گئی ہیں، مگر آنسو دل کے اندر بہہ رہے ہیں۔
وہ بار بار قبر کے پاس بیٹھ کر سر پیٹتا ہے اور ��س ایک ہی جملہ دہراتا ہے: "
میری بیٹی کے ساتھ کیا ہوا تھا...؟"
تصور کرو...
ایک غریب گھر کی چھت، جہاں رات کو ماں بیٹی کے کپڑوں کو سینتی ہوئی رو رہی ہے۔
بہن بھائی کھانا کھانے بیٹھتے ہیں تو تنزیلہ کی جگہ خالی پڑی ہوتی ہے۔
باپ رات بھر آنکھیں بند نہیں کر پاتا، کیونکہ ہر بار آنکھیں بند کرتے ہی اس کی بیٹی کی مسکراہٹ نظر آتی ہے۔ عدالتی حکم پر قبر کھولی گئی...
اس معصوم لاش کو پھر سے دھوپ میں نکالا گیا۔
فرانزک ٹیسٹ کے لیے نمونے لیے گئے۔
اب پوری قوم سانس روکے بیٹھی ہے۔
اگر اس بچی کے ساتھ ظلم ہوا ہے تو...
ایک غریب کی بیٹی کا خون بھی خون ہے!
انصاف کا بول بالا ہونا چاہیے۔ ...
سچ سامنے آجانا چاہیے۔ تنزیلہ اب واپس نہیں آئے گی۔
اس کی ہنسی، اس کی امید، اس کی چھوٹی سی دنیا سب مٹی ہو گئی۔
مگر انصاف ضرور آنا چاہیے۔
ایک معصوم بچی کی روح آج آسمان سے چیخ رہی ہے...
کیا کوئی سن رہا ہے؟
ٹاور لگاؤ ورنہ پانچ کروڑ دو ۔
خوش آمدید نئے پاکستان میں
مبارک ہو پاکستانیو۔ حکومت پاکستان نے آپ کے لیے ایک نئی سکیم نکالی ہے۔ نام ہے ترقی۔ کام ہے جائیداد چھیننا۔ طریقہ ہے قا��ون سازی۔
قومی اسمبلی نے 11 جون کو ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن امینڈمنٹ بل 2026 پاس کیا  اور اتنی خاموشی سے پاس کیا کہ گھر والوں کو بھنک تک نہ پڑی۔
سیکشن 27 بی کے تحت پچاس ملین روپے یعنی پانچ کروڑ تک جرمانہ ان لوگوں پر لگایا جا سکتا ہے جو ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی تنصیب میں رکاوٹ ڈالیں یا تاخیر کریں۔  رکاوٹ کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے اپنا دروازہ بند رکھا۔ تاخیر کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے جلدی ہاں نہیں کہی۔
سوچیں ذرا۔ آپ نے سات پشتوں کی کمائی لگا کر ایک گھر بنایا۔ ایک دن ایک صاحب آئے اور کہا کہ ہم نے یہاں ٹاور لگانا ہے۔ آپ نے کہا بھائی یہ میرا گھر ہے۔ انہوں نے کہا ہاں جانتے ہیں لیکن قانون ہمارے ��اتھ ہے۔ اب آپ کے پاس دو راستے ہیں۔ یا تو گھر دے دو یا پانچ کروڑ دو۔ تیسرا راستہ یہ ہے کہ اگلا انتخاب آنے پر ووٹ دینا مت بھولنا۔
اس قانون کے تحت جائیداد کے مالک سرکاری اور نجی اداروں سمیت سب کو ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی تنصیب کے لیے جگہ یا رسائی دینا لازمی ہو گا۔  یعنی آپ کا گھر آپ کا ہے صرف اس وقت تک جب تک کسی کمپنی کو ٹاور نہ لگانا ہو۔ جیسے ہی ٹاور کی ضرورت ہوئی آپ کی ملکیت ایک قانونی لطیفہ بن جاتی ہے۔
اور سب سے دلچسپ بات کیا ہے؟ یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ کمپنیوں سے ٹیلی کام انفراسٹرکچر کے بدلے کوئی فیس کرایہ یا معاوضہ نہیں لیا جا سکتا۔  یعنی آپ کی جگہ بھی جائے معاوضہ بھی نہ ملے اور اوپر سے جرمانہ بھی دیں۔ خدمت کا یہ انداز دیکھ کر تو ڈاکو بھی شرما جائیں کیونکہ ڈاکو کم از کم آپ کا وقت ضائع نہیں کرتے۔
اب آتے ہیں شزا فاطمہ صاحبہ کی طرف جو اس بل کی پیش کار ہیں۔ آئی ٹی وزیر ہیں۔
سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز نے واضح کیا کہ انٹرنیٹ کی توسیع شہریوں کے حق ملکیت کی قیمت پر نہیں ہونی چاہیے اور ترقی قانون انصاف اور شفافیت کے مطابق ہونی چاہیے۔  شکر ہے کہ سینیٹ میں ابھی کچھ ضمیر باقی ہے۔ سینیٹ کمیٹی نے بل پر مزید غور ملتوی کر دیا اور نجی جائیداد کے حقوق کے بارے میں ��اضح تحفظات اور ریگولیٹری اختیارات کی سخت تعریف طلب کی۔ 
لیکن سوال یہ ہے کہ یہ بل قومی اسمبلی سے اتنی آسانی سے کیسے گزر گیا؟ جواب سادہ ہے۔ جب اپوزیشن کو بائیکاٹ کرنے کی عادت ہو اور حکومت کو موقع ملے تو ایسے بل رات کے اندھیرے میں نہیں بلکہ دوپہر کی دھوپ میں بھی خاموشی سے پاس ہو جاتے ہیں
یہ بل شزا فاطمہ خواجہ نے سینیٹ میں پیش کیا اور چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے اجازت دی کہ اسے بجٹ سیشن میں پیش کیا جائے۔  لیکن سوال یہ ہے کہ وزارت قانون نے اس بل کو کلیئر کیا یا نہیں؟ کابینہ میں اس پر بحث ہوئی یا نہیں؟ وزیراعظم کو معلوم تھا یا نہیں؟ شزا فاطمہ نے کمیٹی میں کہا کہ کافی مشاورت ہو چکی ہے اور بحث کا وقت گزر گیا اب بل منظور کرو۔ 
یعنی جو سوال پوچھے وہ وقت ضائع کر رہا ہے اور جو منظور کرے وہ ترقی پسند ہے۔ یہ وہی منطق ہے جو کہتی ہے کہ مریض سے پوچھے بغیر آپریشن کر دو کیونکہ ڈاکٹر کو دیر ہو رہی ہے۔
اب آتے ہیں انوشہ رحمان صاحبہ کی طرف جو اس وقت سینیٹر ہیں اور پن��اب میں ڈیجیٹل معیشت پر لیکچر دیتی ہیں۔ ان کے شوہر شبیر خان ٹیلی کمیونیکیشن موبائل لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے سابق رکن ہیں۔  جب میڈیا نے 2014 میں رپورٹ کیا کہ ٹیلی کام وزیر کے شوہر کو ٹیلی کام کمپنی کے بورڈ میں بٹھایا گیا ہے تو اسے مفادات کا ٹکراؤ قرار دیا گیا اور وزیراعظم نے استعفیٰ منظور کیا۔ 
نیب نے 3G اور 4G لائسنسوں کی مبینہ غیر قانونی تقسیم میں انوشہ رحمان کے خلاف تحقیقات کا دائرہ بڑھایا اور الزام لگایا کہ قومی خزانے کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا جبکہ ٹیلی کام کمپنیاں اربوں کا منافع کماتی رہیں۔ 
یعنی ایک طرف وہی پارٹی ہے جس کے دور میں ٹیلی کام سیکٹر میں قو��ی خزانے کو نقصان کے الزامات لگے۔
دوسری طرف وہی سیکٹر ہے جسے اب نئے قانون کے تحت شہریوں کی جائیدادوں تک بلا روک ٹوک رسائی ملنے والی ہے۔ اور درمیان میں ہے عوام جو ابھی تک سوچ رہے ہیں کہ یہ ڈیجیٹل پاکستان بن رہا ہے یا ڈیجیٹل قبضہ۔
دنیا میں جب بھی کوئی حکومت نجی جائیداد کے حق کو ختم کرتی ہے تو وہ اسے ترقی کا نام دیتی ہ��۔ سوویت یونین نے زمینیں لیں تو اجتماعیت کا نام لیا۔ ہم ٹاور لگا رہے ہیں اور ڈیجیٹل مستقبل کا نام لے رہے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ سوویت یونین نے کم از کم جرمانہ نہیں لگایا تھا۔
پاکستان کے آئین میں حق ملکیت ایک بنیادی حق ہے۔ جب آپ کسی شہری کو یہ کہیں کہ تیری جائیداد تیری مرضی سے تیری نہیں ہے تو آپ آئین کی نہیں کسی اور چیز کی پیروی کر رہے ہیں۔
یہ واقعہ بڑا ہی درد ناک ہے
یہ رحیم یار خان کی اسلامیہ یونیورسٹی کی طالبات کا آپس میں مار پٹائی بال کھنچنے کا منظر ہے
کیا اب یونیورسٹیوں سے ایسے مناظر بھی دیکھنے کو ملا کریں گئے
کہاں گیا شعور تعلیم اخلاق کردار سب ختم نظر آنے لگے ہیں
والدین غم سے نڈھال 🥲بچے کا مستقبل تباہ کر دیا گیا..
.ایک معصوم بچہ، جس کی آنکھوں میں خواب تھے،
مستقبل کی طرف بڑھ رہا تھا...
لیکن ایک ڈاکٹر کی غفلت نے اس کے پورے وجود کو ہمیشہ کے لیے زخمی کر دیا۔
7 سال بعد پہلی اولاد پیدا ہوئ تھی
جب والدین خوشی سے بچے کا علاج کروا رہے تھے،
تو اس ڈاکٹر نے اس کے نازک عضو کو کاٹ دیا۔ اب 7 سال بعد جب بچہ بڑا ہو رہا ہے،
اس کی زندگی کی خوشیاں غم میں بدل گئی ہیں۔
وہ کبھی باپ نہیں بن سکے گا،
کبھی مکمل مرد نہیں بن سکے گا۔
اس کا مستقبل، اس کی شادی،
اس کی اولاد، اس کی پوری زندگی...
سب کچھ ایک لمحے کی لاپرواہی میں تباہ
ہو گیا۔
کیا یہ صرف ایک غلطی ہے؟
نہیں!
یہ ایک ق تل ہے۔
معصوم بچے کی معصومیت کا ق تل۔
اس کے خوابوں کا ق تل۔
اس کے والدین کی امیدوں کا ق تل۔
والدین کی آنکھوں میں آنسو ہیں،
دل میں درد ہے،
اور معاشرے میں خاموشی۔
کیا ہم اس ڈاکٹر کو صرف معافی مانگ کر چھوڑ دیں گے؟
کیا اس بچے کا خون صرف کاغذوں پر رپورٹ بن کر رہ جائے گا؟
اے اللہ!
اس بچے پر رحم فرما۔
۔#MedicalNegligence
#JusticeForInnocentChild
#بچوں_کے_حقوق
#ڈاکٹر_کی_