یہ سندھ کا وکیل پاکستانی عوام کو دھمکی لگا رھا ھے کہ ان کی لاشیں گرائینگے۔اس ویڈیو کو ذیادہ سے ذیادہ اپنے اکاؤنٹس سے شیئر کریں تاکہ پولیس اس کو گرفتار کرے۔
دادو وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ صاحب کا علاقہ جہاں تعلیم اتنی آگے جا چکے ہے کے اب بھینسیں بھی سکول داخل کی جاتی ہیں اب یہ معلوم نہیں دروازے کے باہر جھانکنے والی بھینس طالب علم ہے یا استاد۔
حلب / شام
ترکی تقریبا 500 سے زائد جدید سٹیلتھ ٹیکنالوجی کی حامل آرمرڈ گاڑیوں جدید ھتیاروں سے لیس ٹینکوں اور فضائیہ کے ساتھ شام میں داخل۔۔۔
ترکی وہ قوم ھے جو بھولتی نہیں۔ بلکہ ھر بات یاد رکھتی ھے
آج اسرائیل کے سر پر آ بیٹھا ھے
جو مجوسی خوش تھے انکے ماتم کاوقت شروع ھوا چاھتا ھے
سندھ میں 35 کھرب روپئے 15 سالوں میں وفاق سے پہنچے چلیں کراچی تو چھوڑیں 15 سالوں میں لاڑکانہ ہی تبدیل ہو گیا ہوتا کشمور جیک آباد ، بدین ہی تبدیل ہو گیا ہوتا
کراچی صوبے کے مخالفت میں پیپلز پارٹی ، ن لیگ، تحریک انصاف ، سندھو دیشییے اور چھوٹے موٹے قوم پرست شامل ہیں۔
جبکہ اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے صوبہ بن جائے۔
کراچی کو بس یہ شخص دے دیں سر آپ کا کام آسان ہو جائے گا
اس کی آواز کے نیچے ہوں گے دفن سارے
اس کی ایک ہیلو اور کھیل ختم سارے
#کراچی
پیپلز پارٹی کے رہنما تیمور تالپور کھلے عام ریاستِ پاکستان کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "اگر سندھ کی تقسیم کی بات کی تو ایک اشارے پر پورا پاکستان بند ہو جائے گا اور سندھ کا بچہ بچہ خودکش بن جائے گا۔"
افسوسناک امر یہ ہے کہ جب سندھ میں "پاکستان نہ کھپے"، "پاکستان مردہ باد" کے نعرے لگتے ہیں، مغلظات بکی جاتی ہیں یا سندھو دیش کی ریلیاں نکالی جاتی ہیں، تب ان رہنماؤں کی زبان سے یہ نہیں نکلتا کہ "سندھو دیش کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا اور پاکستان کے لیے ہم کٹ مریں گے۔"
اگر پیپلز پارٹی واقعی ایک جمہوری اور عوامی جماعت ہوتی، تو اس کے رہنما آئین کی بالادستی کا درس دیتے۔ اس کے برعکس عام گلی محلوں اور ٹاک شوز میں خودکش حملوں، پرتشدد کارروائیوں اور ملک کو جام کرنے کی دھمکیاں دینا کھلم کھلا دہشت گردی اور ریاست کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔
انتظامی یونٹس یا کسی بھی آئینی و سیاسی موضوع پر اختلافِ رائے ہر شہری اور جماعت کا جمہوری حق ہو سکتا ہے، لیکن اس کی آڑ میں عوام کے بچوں کو پرتشدد راستوں پر دھکیلنا اور ملک کو یرغمال بنانے کا دعویٰ کرنا پاکستان میں قانون کی حکمرانی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
کراچی کا ایک عام اور لاچار شہری جب اپنے اوپر ہونے والے مظالم، پانی کی عدم فراہمی یا ناانصافی پر صرف آہ بھی بھرتا ہے، تو پوری ریاستی مشینری فوراً حرکت میں آ جاتی ہے اور پرچے کاٹ دیے جاتے ہیں۔ دوسری طرف جب کوئی بااثر سیاسی رہنما کیمروں کے سامنے بیٹھ کر ریاست کے وجود، امن و امان اور قانون کو سیدھا چیلنج کرتا ہے اور بچوں کو خودکش بنانے کی بات کرتا ہے، تو تمام ادارے مجرمانہ خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔
یہ دہرا معیار اس تلخ سوال کو جنم دیتا ہے کہ: کیا ملک کا قانون صرف کمزوروں کو دبانے کے لیے بنایا گیا ہے؟
مظہر عباس کراچی مخالف بیانیے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ کراچی میں ہونے والی زیادتیوں پر نہ کبھی وہ کھل کر بات کر سکے اور نہPPP کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ آج بھی کراچی کے ساتھ کھڑا نہ ہونا اسی رویے کا تسلسل ہے۔ ایسے میں اگر انہیںPPP کا پیڈ صحافی نہ کہا جائے تو پھر کیا کہا جائے؟
یہ حال ہے حیدرآباد پولیس کا ایک SHOا سکول کے بچوں کو گالیاں دے رہا ہے ۔ . . اس غلیظ نظام سے چھٹکارا صرف انتظامی تقسیم کے زریعے ہی ممکن ہے ۔ لسانی تقسیم فلاپ ہوچکی ہے
خیبر پختونخواہ کے دہشت گرد تو ہو گئے فتنۃ الخوارج اور بلوچستان کے دہشت گرد ہو گئے فتنہ الہندوستان، تو سندھو دیش والوں کو فنتۃ االاسرائیل کا نام دے دیں کیوں کہ داہری نسل کے بے شمار گندے انڈے اس وقت اسرائیل میں تعلیم حاصل کرنے کے علاوہ ان کی افواج میں بھی لڑرہے ہیں؟
کیا خیال ہے؟
🙏🙏🙏
قادر مگسی نامی جیب کترا کہتا ہے کہ صوبے کا نام لوگے تو غزہ بنادیں گے ، اردو بولنے والے 47 میں نانا نانی ، دادا دادی ، خاندان سب کٹواکر لٹواکر یہاں بیٹھے ہیں ۔ صوبے کی بات کرو گے تو آج پھر کاٹ دیں گے
انہیں بے شک لائسنس ٹو kill ملا ہوا ہے لیکن کیا اس license 2 kill کی تشہیر پر پیمرا کوئی نوٹس لے گا یا یونہی قتل کی دھمکیاں کھلے عام دی جاتی رہیں گی۔ پولیس تو ان کے گھر کی لونڈی ہے لیکن ایجنسیز سے اداروں سےرینجرز کے ٹھاکر بھائی سے اس کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کرنے کی درخواست ہے @SindhRangers
کیا حکومت کا عمران خان کو شفا اسپتال میں علاج کرانے کے عدالتی فیصلہ کو تسلیم نہ کرنا اسٹیبشلمنٹ کے خلاف اعلان جنگ ہے ؟
لگتا ہے ملک میں کچھ نیا ہونے جارہا ہے
اہالیان کراچی سے درخواست ہے کہ وہ صرف حالات پر نظر رکھیں جذباتی ہوکر اپنی رائے دینے کے بجائے صرف پوپ کارن کھائیں آپ سب سے ہلکے ہیں سب کا بس صرف آپ پر چلتا ہے پڑی لکڑی کو پڑا رہنے دیں اٹھائیں گے تو تکلیف ہی ہوگی اطراف میں مخبر بھی ہیں لہذا جو ہورہا ہے جیسا ہورہا ہے ہونے دیں آپ کی رائے سے نہ کسی نے فیصلے کرنے ہیں اور نہ ہی طے ہوجانے والے فیصلے تبدیل کرنے ہیں اس لیے اپنی دانشوری اپنے پاس ہی رکھیں تو آپ کے لیے بہتر ہوگا
جو اسکرپٹ پڑھ رہے ہیں ان کو پڑھنے دیں ان کی یہ ڈیوٹی ہے آپ کو ان اسکرپٹ پر باؤلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے اگر کوئی بڑے فیصلے ہونے بھی ہیں تو وہ آپ کی ضرورت و مشکلات کو دیکھ کر نہیں ہورہے اور نہ ہی ان فیصلہ سازوں کو آپ کی ضرورت ہے لہذا بلاوجہ کا ہوشیار بننے کی کوشش نہ کریں کچھ لوگوں کو شاید آپ کے جذبات کی شدید ضرورت ہے اپنے جذبات رضاکارانہ طور پر پیش نہ کریں بس آپ نے ایک کام کرنا ہے حالات پر نظر رکھنی ہے اور یہ دیکھنا ہے اگر کوئی نئے فیصلے ہوتے بھی ہیں تو اس میں آپ کے لیے خیر اور شر کے پہلو کتنے ہیں جہاں خیر ہو اس کو انجوائے کیجئے گا جہاں شر نظر آئے اس کے سامنے کھڑے ہونے کے بجائے پتلی گلی سے نکل جائیے گا باقی آپ کی مرضی
ہماری شکایت ایوارڈ کمیٹی کے سربراہ احسن اقبال سے ہے کہ آپ کو ایک اہم ذمہ داری سونپی گئی اور آپ اسے پورا کرنے میں بری طرح ناکام رہے۔2008 کے بعد ایوارڈز ٹکے ٹوکری ہونا شروع تھے ان کے تابوت میں آخری کیل اب ٹھوکا۔احسن اقبال ہمارے سرائیکی پیر نکلے جو بھی ان سے بچے کی دعا کرانے گیا اسے انہوں نے بیٹے کی ہی دعا دی۔ کبھی ایوارڈز لینے والوں کو رشک سے دیکھا جاتا تھا اب اسے دیکھ یا سن کر لوگ ہنستے ہیں اور ایوارڈ کو مذاق بنوانے میں احسن اقبال کا بڑا ہاتھ ہے۔
@CMShehbaz@NeoNewsUR@fawadnb@NasrullahMalik1@RabeeaSK@betterpakistan@MIshaqDar50@AyazSadiq122