28ویں ترمیم کا اب وقت آ گیا ہے چند دنوں میں آپ آئین میں بہتری دیکھیں گے۔ نمبر ہمارے پاس نہیں تھا لیکن اگر پی ٹی آئی مل جائے تو 300 کا نمبر حاصل کر لیں گے۔ پی ٹی آئی کے ساتھ بارگین بھی ہو سکتی ہے۔ ھم تحریکِ انصاف سے ووٹ مانگیں گے۔
وزیراعظم کے معاونِ خصوصی حذیفہ رحمان، 28ویں ترمیم بارے اھم خبریں دیتے ہوئے ۔۔!
@HuzaifaRehman_
👇👇👇 #GFG
” ایم کیو ایم نہ تو کمیونزم پر یقین رکھتی ہے، نہ سوشلزم پر یقین رکھتی ہےاور نہ ہی بے لگام کیپیٹل ازم پر یقین رکھتی ہے، ایم کیو ایم حقیقت پسندی اور علمیت پسندی پر یقین رکھتی ہے “
بانی و قائد جناب الطاف حسین نے 1990 میں ہی تحریک کی فلاسفی کو اپنے تاریخی انٹرویو میں قوم کے سامنے پیش کردیا تھا
(دیکھئے مکمل انٹرویو)
https://t.co/sPFBBV49rm
باپ دنیا سے چلاگیا، والدہ دوسری شادی کے بعد اپنے ساتھ نہ رکھ سلیں، رشتہ داروں نے قبول نہ کیا اور یتیم خانے میں داخل کروا دیا، لیکن پھر بھی پڑھائی جاری رکھی اور کام بھی سیکھنا چاہتا تھا، قسمت کے ڈھائے گئے ستموں کے باوجود جینا تو چاہتا تھا۔ لیکن ظالموں نے زندگی ہی چھین لی۔
اس پندرہ سالہ وسیم عباس کی ان تصاویر نے بہت رلایا ہے آج۔ 💔
سندھ میں بھی قومی پرچم اور ملکی سالمیت کو خطرات لاحق، بلاول سندھودیشی عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کب کریں گے؟
اگر خیبرپختونخوا میں تحریکِ انصاف پر طالبان دہشت گردوں کی پشت پناہی کی جا رہی ہے تو سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت پر بھی یہ سوال اٹھتا ہے کہ مبینہ طور پر ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث نسل پرست سندھودیشی عناصر کو پولیس پروٹوکول اور سرکاری سرپرستی کیوں حاصل ہے؟ بلاول بھٹو زرداری خیبرپختونخوا میں ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کی حمایت کرتے ہیں تو سندھ میں ملکی سالمیت اور قومی پرچم کے خلاف سرگرم سندھودیشی عناصر کے خلاف بھی اسی نوعیت کے مؤثر اقدامات اور بلاامتیاز کارروائی کا مطالبہ کب کریں گے؟ ریاست کی خودمختاری اور ملکی سالمیت کا تقاضا ہے کہ قانون کا اطلاق ہر صوبے اور ہر سیاسی جماعت سے وابستہ عناصر پر یکساں ہو۔
ماشاللہ ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے
صوبہ سندھ خیرپور 1184 ایل ایل بی کی ڈگریاں جعلی نکلنے کے بعد ڈاؤ یونیورسٹی کے ملازمین کی ڈگریاں بھی جعلی نکلیں۔5 ہزار سے زائد ملازمین میں سے 3400 کی ڈگریوں کی تصدیق نہ ہو سکی
اس سے قبل بھی ڈاؤ اسپتال و یونیورسٹی میں سیاسی بھرتیوں کا انکشاف ہو چکا
ٹنڈوالہ یار سندھ میں ڈیڑھ ماہ قبل مبینہ طور پر زبردستی مذہب تبدیل کرکے مسلمان کروانے اور شادی کروانے والی دو نابالغ ہندو لڑکیوں سیتا اور روپی کا عدالت میں زبردستی مذہب تبدیل کروا کر نکاح کیے جانے کا بیان۔ عدالت نے بچیوں کو واپس ماں باپ کے حوالے کردیا
کراچی میں وکلا کی جانب سے شہریوں کیخلاف ایف آئی آرز درج کرانے کے معاملے پر کراچی وکلا ایکشن کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر بیرسٹر حسن خان کا انکشاف۔۔ ایک وکیل نے 50 سے زائد جبکہ مجموعی طور پر 1700 سے زائد نہتے شہریوں پر ایف آئی آرز درج کی گئیں ہیں
#ZarayeNews#Karachi#KLAC
شاہ عبُدالطیف یونیورسٹی خیرپور میں ایل ایل بی کی 1225 ڈگریوں میں سے 1184 جعلی قرار دے دی گئی ہیں اکثر وکیل سندھ سے ڈگری لے آتے ہیں اب یہ 1184 وکیل جج بھی بن چکے ہوں گے دیگر اہم عہدوں پر بھی ہوں گے آپ ان سے ڈگریاں چیک کریں یہ متھے لگ جائیں گے ہڑتالیں شروع کر دیں گے
ایک دوست نے توجہ دلائی کہ یوں تو آپ بڑے الطافی فوجدار بنے پھرتے ہیں لیکن اس انٹرویو پر آپ نے کچھ نہیں لکھا خیر جو جواب انہیں خلوت میں دیا وہ یہاں جلوت میں نہیں دے سکتا لیکن ان کی خواہش کا احترام سر آنکھوں پر۔
یہ انٹرویو بتاتا ہے کہ الطاف حسین بھائی آج سے 36 برس پہلے اس قوم کو مرض بتا رہے تھے اور ساتھ ساتھ نسخہ بھی بتا رہے تھے لیکن اس قوم نے نفرت، تعصب میں قریبا چار دہائیاں برباد کر دیں لیکن الطاف بھائی کو نہیں سنا۔
1990 میں الطاف حسین نے جو کہا تھا، آج پاکستان کا تقریباً ہر عام آدمی سمجھ رہا ہے۔
اس انٹرویو میں وہ واضح طور پر کہہ رہے ہیں کہ پاکستان چند خاندانوں کی میراث نہیں۔ چاہے مارشل لا ہو یا جمہوری حکومت، چند چہرے اور چند خاندان اقتدار میں آتے رہتے ہیں، اور جب وہ ریٹائر ہوتے ہیں تو ان کی اولادیں ان کی جگہ لے لیتی ہیں۔ غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے اور وہ طبقہ جو اقتدار پر قابض ہے، امیر سے امیر تر۔ یہ باتیں آج صرف MQM کے حامی نہیں، بلکہ عام پاکستانی بھی دہراتے ہیں۔
اس کے علاوہ اس انٹرویو کے دیگر اہم پہلو یہ تھے
MQM کا فلسفہ نہ کمیونزم، نہ سوشلزم اور نہ بے لگام کیپٹلزم تھا۔ وہ حقیقت پسندی (Realism) اور عملیت پسندی (Practicalism) کی بات کر رہے تھے۔ یعنی صرف مسائل کا اعتراف کافی نہیں، ان پر عمل بھی ہونا چاہیے۔
جیسے پچھلی چار دہائیوں میں تمام جماعتیں غریبوں کی باتیں کرتی ہیں، مگر عملی طور پر انہیں آگے نہیں بڑھاتیں۔ MQM نے غریب بستیوں اور متوسط طبقے سے لوگوں کو منتخب کر کے اسمبلیوں میں بھیجا۔
الیکشن کے موسم میں لیڈر نظر آتے ہیں، دعوے کرتے ہیں، پھر پانچ سال غائب ہو جاتے ہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ امیدوار اسی حلقے کا ہو یا کم از کم وہاں کے لوگوں جیسا معاشی پس منظر رکھتا ہو، تاکہ مسائل کو خود محسوس کر سکے۔ مثال دی کہ مریض ہی اپنا درد صحیح بتاتا ہے، باہر والا نہیں۔
کروڑوں روپے خرچ کر کے منتخب ہونے والا شخص پہلے اپنے اخراجات واپس لینے کی کوشش کرتا ہے، جائز یا ناجائز طریقے سے۔ اس لیے غریبوں کو انتظار نہیں کرنا چاہیے کہ کوئی فرشتہ آ کر مسئلہ حل کرے گا۔ اللہ نے عقل، آنکھیں اور ہاتھ دیے ہیں، انہیں خود میدان میں آنا ہوگا۔
MQM نے اس وقت کی مثال دی کہ غریب بستیوں سے لوگ منتخب ہوئے جن کے پاس بینر بنانے کی استطاعت تک نہیں تھی، اخراجات عوام نے برداشت کیے۔ اگر پنجاب، سرحد، بلوچستان اور سندھ کے غریب و مظلوم طبقے متحد ہو کر یہی سوچ اپنائیں تو وہ بھی اپنے نمائندے اسمبلیوں میں بھیج سکتے ہیں۔
یہ انٹرویو آج بھی اس لیے سنا جاتا ہے کیونکہ اس میں جو بنیادی نکتہ (موروثی سیاست اور عام آدمی کی نمائندگی) اٹھایا گیا تھا، وہ وقت کے ساتھ زیادہ واضح ہو گیا ہے۔ باقی باتیں بحث طلب رہیں، مگر یہ نکتہ اب تقریباً ہر پاکستانی کی سمجھ میں آ چکا ہے۔
#AltafHussain #MQM #PakistanPolitics #خاندانی_سیاست
کیا ایم کیو ایم ناکام ہوئی ؟
کیا الطاف حسین کی یہ کامیابی نہیں کے آج طاقتور لوگوں کے اندر یہ سوچ راسخ ہو چکی ہے کہ اگر ان خاندانی راجدھانیاں جو مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام کے نام پر بن چکی ہیں ان کو ختم ہونا چاہئے اور ملک میں چھوٹے انتظامی یونٹ بننے چاہئیں۔
یہ بلاگ ان کے نام جو اکثر کہتے پائے جاتے ہیں کہ ایم کیو ایم سے مہاجروں کو کچھ نہیں ملا۔
صوبے بھی بننے ہیں ایڈمنسٹریٹو یونٹس بھی بننے ہیں، دسمبر تک اس کے اعلانات بھی دیکھ لیں گے اور سب سے پہلے کراچی وفاق کا حصہ بنے گا اور زرداری صاحب خود acknowledge کریں گے: مبشر لقمان
میری اپنی کار چوری ہو گئی
پولیس نے کچھ بھی نہیں کیا، بس رپورٹ لکھی اور کہا کہ انشورنس کلیم کرلیں۔
انشورنس آپ کو گاڑی کی قیمت کا ایک چوتھائی ملتی ہے
میں نے اپنی الفا رومیو کار تقریباً سینتالیس ہزار پاؤنڈ میں خریدی تھی لیکن مجھے انشورنس صرف ساڑھے تیرہ ہزار پاؤنڈ ملی۔ اور انشورنس ملنے کے دو ہفتے بعد اچانک کار ایک سڑک پر کھڑی مل گئی، لیکن کیونکہ وہ میری ملکیت نہیں رہی تھی تو انشورنس کمپنی کی ہوگئی اور اُسی کار کی پھر میں نے ایک ویب سائیٹ پر اٹھائیس ہزار پاؤنڈ قیمت دیکھی۔
تحریک انصاف کے سابق منسٹر علی ذیدی کا بڑا انکشاف 2019 میں سندھ کی حکومت گرانے کے لیے 11 میمبر کی ضرورت تھی اور PPP کے 21 میمبر تیار تھے فارورڈ بلاک کےلیے سنیے 👇
ایم کیو ایم کے بانی و قائد جناب الطاف حسین کا 1990 میں پاکستان ٹیلی وژن کو دیا گیا ایک تاریخی انٹرویو ۔جب یہ انٹرویو پی ٹی وی پر لائیو نشر ہوا تو ایسے سنا گیا کہ کراچی میں گلیوں میں ہر طرف سناٹا تھا،ہرگھر میں لوگ ٹی وی کے سامنے بڑے انہماک سے بیٹھے تھے اور جب انٹرویو ختم ہوا تو گلیوں میں جشن کا سماں تھا کہ کسی لیڈر نے نیشنل ٹی وی پر بیٹھ کر پہلی بار مہاجروں کا مقدمہ پوری قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس انٹرویو سے پاکستان کے عوام کو بھی ماجروں کا کیس سمجھنے میں مدد ملی۔
جناب الطاف حسین کا یہ انٹرویو جس پینل نے لیا تھا اس میں پاکستان کےممتاز صحافی ، شاعر، دانشور اور روزنامہ امن کے مدیر افضل صدیقی مرحوم، سینئر صحافی مجیب الرحمٰن شامی اور علیم الدین پٹھان شامل تھے۔
ان سینئر صحافیوں نے جناب الطاف حسین سے ایم کیو ایم کے منشور، شہری علاقوں (بالخصوص کراچی اور حیدرآباد) کےسیاسی و معاشی مسائل، مہاجر حقوق، اور ملک کی آئندہ قومی سیاست میں ایم کیو ایم کے متوقع کردار کے بارے میں سوالات کیے۔ جناب الطاف حسین نے مڈل کلاس قیادت کی اہمیت، صوبائی خودمختاری،کوٹہ سسٹم اور شہری حقوق پر ایم کیو ایم کے موقف کو پیش کیا۔
یہ انٹرویو سیاسی،نظریاتی اور فکری دلائل کے ساتھ تہذیب، شائستگی اور شستہ گفتگو کا شاہکار تھا۔ انٹرویو پیش خدمت ہیں۔ آپ بھی دیکھئے اور دوسروں کو بھی شیئر کیجیے۔
(دوسرے ٹوئیٹ میں انٹرویو کا پارٹ 2 بھی دیکھئے) 👇👇👇
1/2
کراچی کو پانی ملنے کی واحد امید یعنی K4 پراجیکٹ جو بیس سال سے التوا کا شکار ہے اسکی لاگت 64 کروڑ سے بڑھ کر 172 ارب روپے پہنچ چکی ہے۔ ان بیس سالوں میں سے پچھلے اٹھارہ سال سے کراچی پر PPP کی حکمرانی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق پانئ اور صحت و صفائی وہ بنیادہ ضرورت ہے جسے کم قیمت میں فراہم کرنا حکومت کا کام ہے۔ لیکن 50 فیصد کراچی کےعوام مہنگے داموں ٹیکنرز خریدنے پر مجبور ہے۔ یہ کیسی صوبائی حکومت ہے جو پانئ جیسی بنیادی ضرورت بھی پوری نہ کرسکی؟
یہ ضلع سانگھڑ ہے، جہاں پیر پگاڑا کے کرشمے اور جلوے دیکھنے کے لیے مرید پیدل چل کر آتے ہیں۔ یہ وہی ضلع سانگھڑ ہے جہاں کی ایک خاتون شازیہ عطا مری ارب پتی بن چکی ہیں، مگر اسی ضلع میں رہنے والے غریب اور بزرگ آج بھی پتھر کے زمانے جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
سب کچھ بدل گیا، مگر افسوس کہ سندھی قوم کی تقدیر نہیں بدلی!