*تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر*
"ڈگری نہ ہونے کا غم، والدین کا لختِ جگر ہم سے جدا ہوگیا!"
لاہور – آج ہم دل گرفتہ ہیں، نہ صرف ایک اور جوان کی المناک موت پر، بلکہ ریاستی اداروں کی مسلسل بے حسی پر، جو ہمارے نوجوانوں کا مستقبل تاریک بنا رہے ہیں۔
علی، جو پمسٹ یونیورسٹی لاہور کیمپس کا ایم بی اے کا طالبعلم تھا، دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔ یہ وہی نوجوان تھا جس کے والدین نے بڑی امیدوں سے اسے اعلیٰ تعلیم دلوانے کے لیے اپنے خواب، اپنا پیٹ، اپنے بڑھاپے کا سہارا سب اس کی ڈگری سے وابستہ کر دیا تھا۔ مگر افسوس، جس ڈگری کے لیے اس نے دن رات محنت کی، وہی ڈگری ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کی غیر ذمہ داری اور عدم توجہی کی نظر ہو گئی۔
اس سانحے سے پہلے، ایک اور طالبعلم نے ڈگری کی نااہلی اور بے بسی کے عالم میں خودکشی کی، اور اب علی جیسا نوجوان اس نظام کی بےحسی کا شکار ہو کر اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا۔ کیا ہمارے حکمرانوں کو احساس ہے کہ ان کی لاپروائی، تاخیری حربے، اور سیاسی مصلحتوں کی قیمت ہمارے نوجوان اپنی جان دے کر چکا رہے ہیں؟
پمسٹ، ساوتھ ایشیا، نیوپورٹ، اور الخیر جیسے اداروں کے ہزاروں طلباء گزشتہ کئی سالوں سے ڈگریوں کی تصدیق نہ ہونے کی وجہ سے شدید ذہنی اذیت، مالی مسائل، اور سماجی دباؤ کا شکار ہیں۔ HEC، وزارتِ تعلیم، اور حکومت وقت نے عدالتی احکامات، قومی اسمبلی، سینیٹ اور وفاقی محتسب کی ہدایات کے باوجود آج تک ان طلباء کی داد رسی نہیں کی۔
ہم پوچھتے ہیں:
کب تک ہمارے نوجوان اس بےحسی کے نظام کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے؟
کیا کسی ماں کی فریاد سنی جائے گی جس کا جوان بیٹا صرف اس لیے مر گیا کہ اس کی ڈگری کو HEC نے تسلیم نہیں کیا؟
کیا یہ پاکستان کا وہی مستقبل ہے جس کا وعدہ قائداعظم نے کیا تھا؟
ہم مطالبہ کرتے ہیں:
1. تمام متاثرہ طلباء کی ڈگریوں کی فوری اور غیر مشروط تصدیق کی جائے۔
2. ان اموات اور خودکشیوں پر آزاد عدالتی تحقیقاتی کمیشن بنایا جائے۔
3. ذمہ داران – چاہے وہ HEC کے افسران ہوں یا یونیورسٹی مالکان – کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
4. متاثرہ والدین کو ریاستی سطح پر معافی، مالی امداد، اور عزت و احترام دیا جائے۔
یہ احتجاج صرف ایک ڈگری کا نہیں، یہ احتجاج ایک نسل کے مستقبل کا ہے۔
@CMShehbaz@bushraanjumbutt@SMasroorAhsan@FalakNazChitral@FawziaArshadPTI@afnanullahkh@KamranM69045926@Khalidaateeb90@hecpkofficial@EduMinistryPK@PakPMO
#ڈگری_دو_زندگی_دو
#HEC_کی_بےحسی
#نوجوانوں_کا_قتل_عام
#علی_ہم_شرمندہ_ہیں
@SenatePakistan@bushraanjumbutt@EduMinistryPK This Is Revolutionary Step by Madam Sanetor, History will remember her, 54 thousand families have been saved from chaos.
Thank you madam