بریکنگ نیوز 🚨جین زی چھا گئی، کمال ہوگیا۔ عمران خان پر ڈاکومنٹری بنا ڈالی 🔥🔥
بڑے بڑے دانشور سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ دس سالہ بچے نے 78 سالہ نظام کو چیر پھاڑ کر رکھ دیا۔ سارے ریکارڈ توڑ دیے۔ ایک ایک سیکنڈ قیمتی ہے، سب آخر تک دیکھو اور وائرل کردو۔ تُم ہار چکے ہو وہ اگلی تین نسلیں تیار کرچکا ہے۔
آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو جھکانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا گیا، بڑی سے بڑی آفرز دی گئیں، لیکن کپتان کا جواب ہمیشہ پاکستان کے مفاد میں تھا۔ انہوں نے ذاتی فائدے کے بجائے 3 بنیادی مطالبات سامنے رکھے:
پہلا مطالبہ: قید میں موجود تمام سیاسی رہنماؤں اور بے گناہ کارکنوں کو فوری رہا کیا جائے۔
دوسرا مطالبہ: ملک کے مستقبل کا فیصلہ عوام کو کرنے دیا جائے اور فوری شفاف الیکشن ہوں گے۔
تیسرا اصول: ہم اقتدار میں آ کر کسی سے بدلہ نہیں لیں گے، بلکہ ملک کو آگے لے کر جائیں گے۔
یہ ایک حقیقی مدبر (Statesman) کی نشانی ہے جو ذاتی عناد سے اوپر اٹھ کر ملک کا سوچ��ا ہے۔
"میں نے پولیس والوں کی بہت منتیں کیں کہ خدا کے لیے کھانے پینے کی چیزیں گھر لے جانے دیں، کیونکہ میرے گھر میں فاقوں کی نوبت آ چکی ہے، بیوی بھی حاملہ ہے۔ لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوئے اور کہا کہ کھانے پینے کی اشیا اور ادویات کو اپنے ہاتھوں سے ضائع کر دو، تب ہی جانے کی اجازت ملے گی۔"یہ الفاظ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے رہائشی نوید (فرضی نام) کے ہیں، جن کا تعلق پونچھ سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کے قریب واقع گاؤں عباس پور سے ہے۔ نوید اپنے خاندان کے لیے راولپنڈی سے آٹا، چاول، چینی، دالیں اور دیگر ضروری اشیائے خورونوش لے کر اپنے گاؤں جا رہے تھے۔یہ واقعہ بی بی سی کی ایک رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے۔نو محرم کے دن یہ الفاظ دل کو عجیب سی کسک دیتے ہیں۔ کربلا میں بھی اہلِ بیتِ رسولؐ پر پانی بند کر دیا گیا تھا۔ صدیاں گزر گئیں، زمانے بدل گئے، حکمران بدل گئے، مگر بھوک، پیاس اور بنیادی ضروریات کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی سوچ آج بھی کہیں نہ کہیں زندہ نظر آتی ہے۔
تاریخ صرف کتابوں میں نہیں دہرائی جاتی، بعض اوقات اس کی بازگشت مظلوموں کی سسکیوں میں بھی سنائی دیتی ہے۔
شاہ جی گل زندہ ہے!!!
جہلم جیل میں قریبا ایک ہفتہ دس دن ہوچکے تھے جب ہم نے فیصلہ کیا کہ اپنے بلاک سے نکل کر باقی ��یل میں تحریک انصاف کے ورکرز کی تعداد اور حالات معلوم کیے جائیں۔ ایک بلاک میں تین بیرک ہوتے ہیں۔ ہر بیرک میں عام طور پر 32 قیدی ہوتےلیکن تحریک انصاف کےچونکہ ہزاروں قیدی تھے اس لیے جیلوں میں جگہ کم پڑگئی تھی۔ اس لیے ہر بیرک میں 100 سے 115 قیدی ٹھونس دیےگئےتھے۔ جوایک دوسرےسےجڑے، کسی کاپیرکسی کاسر، کچھ الماریوں کےاوپر، بہت بڑی تعدادمیں برآمدوں میں اور کچھ واشروم کےاندر خشک جگہ پرسوجاتےتھے۔ دسمبر، جنوری شدید سردی تھی توہم نےپلاسٹک منگواکرجیل کے سلاخوں والے دروازےکھڑکیوں پرلگادیےتھے۔ زیادہ تعدادکی وجہ سےبہت سےلوگ رات میں ناسوپاتے تودن میں کہیں دبک کرنیندکرلیتےتھے۔ جیل میں بجلی بندنہیں ہوتی۔ بڑےسفیدبلبوں کی تندوتیزروشنی میں بیرک کسی فٹبال اسٹیڈیم کی طرح شبان�� روز چمکتا رہتاہے۔ اس لیےنیندکےلیےاندھیرےکےعادی دوست شروع دنوں میں تین تین دن بھی جاگے، حتی کہ سکون آگیا۔ خیرباہرجانےکےلیےمیں نےبلاک انچارج سےبات کی توحضرت سخت ناراض ہوئے۔ بات سن جواناں یہ پھپھو جی کاگھر نہیں۔ ہزار روپے کانوٹ دیاتوساتھ ایک دوست کوبھی جانےدیا۔ ایک تنبیہہ کی کہ سپریڈینٹ نےپکڑ لیا تومیں نےمکرجاناہے، خود بھگتنا۔ سپریڈنٹ سےچونکہ حال ہی میں ایک خطرناک مکالمہ ہوچکاتھا جس میں طرفین نےایک دوسرےسےبرےمستقبل کےوعدےکیےتھےاس لیےیہ اطمنان تھاکہ اس سےبراکچھ نہیں ہوسکتا۔ تفصیلات مرتب کررہاہوں، کتاب میں لکھونگا۔ جب روانہ ہوئے تومیں نے غالبا حاجی عصمت کوکہا کہ ایسےچلناجیسےجیل تمہارےباپ کی ہو۔ گھبراگئےتوپھرمارےجائینگے۔ چھ فٹ سےزائدکے حاجی عصمت کوپختونخواء کےقیدی "دینگ حاجی" یعنی لمبے قد و��لا حاجی کہتے تھے۔ ہم مختلف بلاک اور بیرکوں میں جاتےتوتمام قیدی جمع ہوجاتے۔ ان سب کومعلوم تھاکہ لیڈرشپ میں سےہم جہلم جیل میں قیدتھے۔ وہ مظلوم لوگ جیل کےاندرہمیں اپنامددگاراورم��کل کشاء سمجھتے۔ حاجی کومیں نےکہاسب کی تعداداورمسائل نوٹ کرنا۔ جیل میں نوٹ بک اورپین منگوانےپڑتے۔ ڈیڈھ دومہینےتک چونکہ ہماری جنرل ملاقات اوررسدوترسیل پرپابندی تھی اس لیےنوٹ بک کی جگہ حاجی سگریٹ کی ڈبی کوپھاڑکراس پرنہایت چھوٹی تحریرمیں ضروری معلومات لکھ رہےتھے۔ سب سےزیادہ مسئلہ بزرگوں اوربیماردوستوں کوتھا۔ سندھ کےمری صاحب جولگ بھگ 75سال کےتھےانکودل کاعارضہ لاحق تھا۔ مردان کےایک دوست غالبا نعمان کوتھروٹ کینسرتھا۔ مانسہرہ کےالطاف کومرگی کی بیماری تھی۔ شوگرکےمریض سب سےزیادہ تھے۔ کھانسی زکام اوربخاروالےلاتعدادتھے۔ جیل میں ہمارے بارہ سوسےچودہ سولوگ تھے۔ جگہ کی شدیدکمی تھی، تین نمبر بیرک میں واشروم ایک اور ڈیڈھ سوبندہ تھا۔ نئےجیل کےبرآمدےقیدیوں سےبھرےہوئےتھے۔ تحریک انصاف کےورکرزکےساتھ افغانی باشندوں کوبھی بڑی تعدادمیں اٹھایاگیاتھا۔ کم از کم تین ساڑھے تین سولوگ۔ انکے بابت آگےلکھونگا۔
ہم 5 نمبر بلاک پہنچ کر اپنے ��وئٹہ والے دوستوں سےمل رہے تھے اتنے میں ایک بزرگ نےمیرا دامن پکڑا اور بات سننے کوکہا۔ میں انکے سامنے بیٹھ گیا۔ شور بہت زیادہ تھا، ہر کوئی اپنا مسئلہ بتانا چاہ رہاتھا۔ بزرگ کا نام شاہ جی گل وزیر تھا۔ کس شہر سے تھے وہ اس وقت یاد نہیں آرہا۔ پریشان دک رہےتھے لیکن پراعتماد آوازسےبولےمجھے جیل کی ٹینشن نہیں لیکن شوگر کی ہے۔ شوگرمیرےپورےخاندان میں ہےاورسعودی میں میرے چھوٹے بھائی کی جان لےچکی ہے۔ میں جیل میں کیسے بچونگا؟ میں نےکہا اللہ ہمت دےگاکاکا(چچا)۔ آپ بالکل ٹھیک رہینگے۔ انہوں نےکہامیری گولیاں ختم ہوگئی ہیں کیسے ٹھیک ہونگا؟ میں نےانکےہاتھ سےگولیوں کےخالی پتےلیےاورکہاکہ میں منگوالونگا۔ انہوں نےسرپرہاتھ رکھااورہم نےباقی قیدیوں سےبات کی۔ میں نےوعدہ توکرلیاتھالیکن چونکہ ملاقات پرپابندی تھی اس لیےکچھ سمجھ نہیں آرہاتھاکہ جس جیل میں پولیس ہم سےبات تک نہیں کرتی وہاں میں جیل کےباہرسےگولیاں کیسےمنگواونگا؟ ایک ڈاکٹرصاحب اورایک ڈسپینسر آتےتھےجوعجیب و��ریب برانڈ کی دوائیں اورگولیاں دیتے، جنکے ناکبھی نام سنے نا دیکھیں کبھی۔ ایک قرشی دواخانہ تھا جنکے ہومیوپیتھک دوائیوں سےیقینا ایسی خطرناک بیماریوں کے مریضوں کی تسلی و تشفی نا ہوتی۔ میں نے حاجی کوکہاہمارے پاس پیسےکتنےہیں؟ حاجی نےکہا بیرک میں جاکر چیک کرنا پڑےگا۔ سب سے پوچھوں گا۔ کتنے چاہیے؟ میں نے کہا جتنے ملے سب اٹھاو۔ دوائیں ضروری ہیں اور اس سے پہلے زاد راہ (بخشش)۔
1/2
🚨 پنجاب میں وردی کا رعب یا قانون کی حکمرانی؟
مبینہ طور پر ایک پیرا فورس اہلکار نے سرکاری موٹر سائیکل سروس اسٹیشن پر دھلوائی، لیکن جب مزدوری کے پیسے مانگے گئے تو ادائیگی کرنے کے بجائے دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ اتنا ہی نہیں، الٹا سروس اسٹیشن کی ویڈیو بنا کر اسے سیل کروانے کی دھمکی بھی دی گئی۔
اگر غریب محنت کش اپنی محنت کی اجرت مانگنے پر بھی خوفزدہ ہوں تو یہ صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں، بلکہ پورے نظام پر سوالیہ نشان ہے۔
کیا یہی وہ پنجاب ہے جس کا وعدہ عوام سے کیا گیا تھا؟ غریب آدمی اپنی مزدوری مانگے یا اپنی عزت بچائے؟
جینا علی کو پیسے یا مالی سپورٹ نہیں چاہیے ۔ہارورڈ یونیورسٹی اسے پاکستان کی نمائندگی کے لیے بلا رہی ہے۔ وہ دنیا کے بارہ ذہین ترین طالب علموں میں واحد پاکستانی ہے لیکن ۔۔۔۔۔۔ اس کا المیہ دیکھیں
میرا نام جینا علی ہے اور میں آئی سی ایس پارٹ 1 کی طالب علم ہوں۔ میں نے ہارورڈ، USA میں بین الاقوامی ریسرچ اولمپیاڈ (IRO) فائنل کے لیے کوالیفائی کیا ہے۔
یہ باوقار اور مسابقتی سائنس اور تحقیقی اولمپیاڈ تھا جس میں دنیا بھر سے ہزاروں طلباء نے حصہ لیا۔
ان ہزاروں طلباء میں سے صرف 293 طلباء ہی کوارٹر فائنل میں پہنچنے اور سیمی فائنل میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو سکے۔ میں بھی ان میں شامل تھی۔
پھر دنیا بھر کے ان 293 طلباء میں سے صرف 12 طلباء کو فائنلسٹ نامزد کیا گیا۔ ان 12 طلباء میں سے میں واحد پاکستانی طالبہ ہوں جو عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کروں گی۔ ممکن ہے میں پہلے نمبر پر آوں لیکن پاکستانی طالبہ ہونے کی وجہ سے شاید میں جا ہی نہ سکوں اور میرے خواب ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائیں
مجھے اس کے لیے رقم نہیں چاہیے ۔ میں پنجاب کالج کی سٹوڈنٹ ہوں ۔ مجھے میرے کالج نے سپانسر کر دیا ہے کہ میری ٹکٹ اور ویزہ کے اخراجات کالج کی طرف سے ہوں گے ۔ مڈل کلاس ہونے کے باوجود کچھ اخراجات میرے والدین کر لیں گے ۔ میرا مسئلہ پیسے نہیں ہیں بلکہ اس مقابلے میں شریک ہونا ہے ۔
مجھے ویزہ انٹرویو کے لیے اگلے سال کی تاریخ دی گئی ہے جبکہ یہ مقابلہ اگلے مہینے 19 سے 21 جون کو ہے ۔ میرے پاس ہارورڈ کا لیٹر ہے ۔ اپنے کالج کا لیٹر بھی ہے ۔ میری ٹکٹ کا مسئلہ بھی حل ہو چکا ہے لیکن اگر ویزہ کے لیے انٹرویو ہی اگلے سال ہو گا تو میں اگلے مہینے کیسے جا سکوں گی ؟؟
مجھے حکومت سے صرف اتنی سپورٹ چاہیے کہ مجھے بروقت ویزہ اور ٹکٹ مل جائے ۔ میں اس عالمی سطح کے مقابلے میں پاکستان کی واحد سٹوڈنٹ کے طور پر شرکت کر سکوں اور میری اتنی محنت ضائع نہ ہو ۔ میں اپنے ملک کی نمائندگی کرنا چاہتی ہوں ۔ میں اپنے خواب پورے کرنا چاہتی ہوں ۔
نوٹ :
اس بچی اور اس کے والدین نے مجھ سے رابطہ کیا۔ لوگ سمجھتے ہیں میرے بہت تعلقات ہیں اور میری وجہ سے ان کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے ۔ اللہ نے بھرم رکھا ہوا ہے ورنہ سچ یہ ہے کہ خود مجھے بھی نہیں علم کہ یہ کام کون کر سکتا ہے اور جو کر سکتے ہیں وہ غالبا میرے مہربان نہیں ہیں ۔۔ میں حقیقتا اس بچی کے لیے پریشان ہوں ۔ میں اس سے کبھی نہیں ملا لیکن یہ جانتا ہوں کہ ہمارا ٹیلنٹ اسی طرح ضائع ہوتا ہے ۔ آپ کچھ کر سکتے ہیں تو اس کے لیے لازمی کریں ۔ نہیں کر سکتے تو اس پوسٹ کو اتنا شیئر کر دیں کہ یہ ان تک پہنچ جائے جو اس ذہین بچی کا مسئلہ حل کر دیں (سید بدر سعید )
@MohsinnaqviC42@TararAttaullah
Now that whole nation can see the contents of the Cypher. Here is what I wrote in my statement to the JIT set up to investigate the cypher" when faced with threats from a foreign power and interference in internal affairs of the country, the national leadership taking the nation into confidence, is the right thing to do". Which self respecting man who believes in sovereignty of his nation would think otherwise? The worst comment from one of the members of the JIT was that we have recieved many threats like this in the past. I replied that if we did and stayed quite, that means we had no self respect!
یہ رہا میر جعفر آرٹیکل چھ کا حقدار
اس نے 2 اپریل 2022 میں جب ابھی عمران خان کی حکومت موجود تھی تب فارن آفس سے اور ملک کے سربراہ سے اجازت لئے بغیر روس کی مزمت کردی تھی
یہ ہے وہ غدار جس نے سائفر میں امریکی احکامات پر عمل کیا اور ملک سے غداری کی
This is the condition of the canal siphon in Band-e-Obo village. Dead animals remain inside for days,causing unbearable smell and serious health concerns for residents. Immediate cleaning and maintenance are needed @SohailAfridiISF@IRRIGATION_KPK@PTIKPOfficial@KPChiefMinister
ویسے تو ایک طویل فہرست ہے مگر تین ایسے کارنامے ہیں اگر وہ تحریک ا نصاف کی حکومت نہ کرتی تو عوام کی ہڈیاں اب تک نچوڑ ی جاچکی ہوتی اور ملک کا دوالیہ نکل چکا ہوتا ۔ اور افسوس یہ کہ ا نکی زیادہ تشہر بھی نہیں کی جاتی ۔ اعدادوشمار سے ا ن تین عظیم کاموں کی تفصیل دیکھتے ہیں ۔
1)
سال 2009 میں جب لوڈشیڈ نگ کا بحرا ن شدید تھا تو پیپلزپارٹی حکومت نے ترک کمپنی کارکے سے رینٹل پاور پلا نٹ کا معاہدہ کیا۔ جسے 2012 میں معطل کر دیا گیا ۔ کارکے کمپنی اس فیصلے کے خلاف عالمی عدالت چلی گئی اور 2017 میں عالمی عدالت نے اسکے حق میں فیصلہ دے دیا اور حکومت پاکستان پر 800 ملین ڈالر جرمانہ کردیا جس پر ماہانہ 59 کروڑ سود تھا۔ سال 2019 تک یہ جرمانہ 1.2 ارب ڈالر ہو چکا تھا۔ اس وقت وزیر اعظم عمران خان نے ترک صدر رجب طیب اردگان سے خصوصی درخواست کی اور یہ جرمانہ معاف کروا کر اس مصیبت سے نجات دلوائی ۔ اب اندازہ کریں کہ ایک ڈیڑھ ارب ڈالر کی قسط لینے کے لیے ائی ایم ایف کی کیسی کیسی شرائط ماننی پڑتی ہیں اور عوام پر بھاری ٹیکس لگانے پڑتے ہیں ۔ اگر یہ جرمانہ معاف نہ ہوتا تو یہ پیسے سرکاری خزانے سے جانے تھے اور بوجھ عوام پر ہی پڑنا تھا
2)
سال 1993 میں حک��مت نے ایک اسٹریلین کمپنی کے ساتھ بلوچستان مین سونے کے زخائر نکالنے کا معاہدہ کیا جس کے تحت کمپنی کا حصہ 75 فیصد اور حکومت کا حصہ 25 فیصد تھا۔ سال 2011 میں بلوچستان کی حکومت نے اس کمپنی کی لیز منسوخ کردی جس پر کمپبی ورلڈ بنک عدالت چلی گئی ۔ سال 2017 میں عدالت نے حکومت پاکستان کا موقف مسترد کرتے ہوئے اربوں ڈالر کا جرمانہ کردیا جو بڑھتے بڑھتے 12 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ۔ اس وقت تحریک انصاف کی حکومت نے کامیابی سے مزاکرت کیے اور وہ جرمانہ معاف کروا کر اس کمپنی کے ساتھ دوبارہ معاہدہ کیا جس کے تحت کمپنی کا حصہ کم کر کے 50 فیصد کروایا گیا جبکہ بقیہ میں سے 25 فیصد بلوچستان حکومت اور 25 فیصد وفاق کا حصہ کروایا ۔
یہ یقینا بہت بڑی کامیابی تھی جسے اس لیول کی پزیرائی نہیں مل سکی ۔ پاکستان میں جعلی دانشوروں کے نزدیک پندرہ بیس ارب کے پل سڑکیں بہت بڑا پراجیکٹ تصور ہوتا ہے جبکہ پرانی حکومتوں کی نااہلی کا دس بارہ ارب ڈالر کا جرمانہ معاف کروانا کوئی بات ہی نہیں ۔ تصور کریں اگر حکومت یہ جرمانے ادا کرنے پر مجبورہو جاتی تو مہنگائی کا کیا لیول ہوتا ۔ ڈیفالٹ تو کب کا ہو چکا ہوتا۔ مگر حکومت کو داد دینے کی بجائے اسکے خلاف پراپیگنڈہ کیا گیا۔
3)
تحریک انصاف کی حکومت میں جب ہر چند ماہ بعد بجلی کی قیمتیں بڑھانی پڑتی تو وزیر اعظم عمران خان نے اسکا نوٹس لیا اور ایک اعلی سطح کمیٹی بنائی ۔ پتا چلا کہ پچھلی حکومتیں ائی پی پیز سے ایسے خوفناک معاہدے کر کے گئی ہیں جس کے تحت بجلی مہیا ہو یا نہ ہو انکو ڈالروں میں ادائیگی ہوتی رہے گی ۔ اب یہ معاہدے کینسل تو کر نہیں سکتے تھے کیونکہ پہلے ہی کارکے اور ریکودیک معاہدے منسوخ کرنے پر اربوں ڈالر کے جرمانوں کا سامنا تھا ۔ عمران خان حکومت نے کامیابی کے ساتھ کئی ائی پی پیز کو معاہدوں میں ردوبدل پر راضی کیا اور ادائیگیوں کے لیے ڈالر ریٹ کو 148 پر فکس کروا دیا ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس سے حکومت کو سالانہ 120 ارب روپے کا فائدہ ہوا اور ائندہ چند سالوں تک مجموعی 836 ارب روپے کے فائدہ کا تمخینہ ہے۔ اب اندازہ لگائیں 836 ارب میں کتنے پل سڑکیں بن سکتی ہیں۔ مگر افسوس متعصب میڈیا ا�� عظیم کامیابی کو وہ پزیرائی نہ دے سکا جو اسکا حق تھا۔ افسوس ہماری عوام کو سکھایا گیا کہ صرب پل سڑکیں ہی کامیاب پراجیکٹ ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ نظر اجاتے ہیں چاہے ان میں کرپشن ہو ، یا وہ غیر ضروری ہوں۔ کامیاب سفارتکاری اور حکومتی مداخلت سے جو اربوں ڈالر کا فائدہ کروایا گیا وہ کسی کھاتے میں ہی نہیں اتا۔ اس لیے جعلی دانشور دھڑلے سے ٹی وی پر بیٹھ کر کہہ دیتے ہیں کہ تحریک انصاف حکومت کا کوئی پراجیکٹ ہی نہیں۔
سڑکیں بھی بنی ، پل بھی ، یونیورسٹیاں بھی اور ہسپتال بھی سب تفصیل موجود ہے ۔ لنگر خانے بھی چلے اور پناہ گاہیں بھی کھلیں ۔ ہر پاکستانی کے پاس دس لاکھ روپے کا صحت کارڈ بھی تھا اور نوکریاں بھی اتنی ملی کہ فیصل اباد جیسے شہر میں مزدور ملنا مشکل ہو گیا تھا۔ کئی نئے ڈیموں پر کام شروع ہوا اور اس دھائی کو ڈیموں کی دھائی کہا گیا اگر وہ منصوبے وقت پر مکمل ہو جائیں تو عوام کو سستی بجلی مل سکے گی ۔ کسان نے اتنی ترقی کی کہ تین سال میں وہ سب بنا لیا جو دہایوں میں نہیں بنا سکے تھے ۔ تعمیرات کے شعبے میں انقلاب اگیا تھا غرض یہ کہ ہر شعبہ ترقی پر تھا۔ تھوڑی بہت مہنگائی تھی مگر معشیت بہترین 6 فصد گروتھ پر تھی ۔ 1/2
پی ٹی آئی کارکن افتخار جٹ جب شدید علیل تھا تو ( جج منظر علی گل ) نے ان کی حاضری معافی کی درخواست مسترد کر دی تھی،
افتخار کو ایمبولینس میں جیل لایا گیا اور وہاں سے انہیں Malik Pervaiz Iqbal Ahc کی گاڑی میں ڈال کر جیل کے اندر لے گئے اور انہیں اٹھا کر اندر کمرہ عدالت لایا گیا،
بے ہوشی کی حالت میں فرش پر لٹایا گیا، 3 گھنٹے بعد جج صاحب آئے تو اسی بے ہوشی کی حالت میں انگوٹھا لگوا کر جانے کی اجازت ملی۔
افتخار جٹ نے کم و بیش ایک سال جیل میں گزارا ۔ ۔۔گندا پانی گندی خوراک کی وجہ سے ہیپاٹایٹس ہو گیا اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملا ، ،، یاد رہے Pkli ہسپتال میں زیر علاج تھا 5 لاکھ کا بل بنا تھا ۔۔ہسپتال والے باڈی نہیں دے رہے تھے ، خدیجہ شاہ کو پتا چلا تو فوری ہسپتال پہنچ
کر بل ادا کیا اور باڈی ورثا کے حوالے کی ،
کیسے کیسے نوجوان کھا گیا یہ 9 مئی 💔
Via @ItsMohsin804
بریکنگ نیوز 🚨نو مئ واقعہ سے کچھ دیر قبل خان کا یہ تاریخی پیغام 🔥🔥🔥
میرے پاکستانیو!! جب تک میرے یہ الفاظ آپ تک پہنچیں گے یہ لوگ مجھے ایک بوگس کیس میں گرفتار کرچکے ہونگے۔ خان کے الفاظ وہ کیا تھے سنیئے اس کلپ میں اور ہر جگہ اسے پھیلا دیجئے۔
یہ ہیں سعد اللہ خان ان کا تعلق لاہور سے ہے۔ان کی عمر 83 سال ہے، جیو فینسنگ کی بنیاد پر پہلے ان کو مقدمہ 109 تھانہ سرور روڈ میں ڈالا گیا، اس میں یہ بری ہوئے تو اس کے بعد ان کو مقدمہ 108 تھانہ سرور روڈ میں ڈال دیا گیا۔یہ دونوں مقدمات نو مئی کے ہیں، سب سے اہم بات کہ ان مقدمات کے