@muzamil_45 بیشک یورپ ہے،شاہی خاندانوں کے پروٹوکول ہوتے ہیں!اگر تو کسی شہزادی سے بات چیت چل رہی ہے ،تو وہ ایسے تھوڑا ہی ڈاؤن ٹاؤن کی گلیوں میں رات گئے گھومے گی،،، بھائی
@Silly_ishti حقیقت میں پاکستان کو اس نشے کی تلقید نے ہی اس حال تک پہنچا دیا ہے،ہر کوئی یہ پروٹوکول حاصل کرنے کے چکر میں اس ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہا ہے،
چند دن سے سابقہ برطانوی و آسٹریلوی کرکٹرز سے عمران خان کی صحت سے متعلق گمراہ کن بیانات دلوائے جا رہے تھے ۔
حکومتی سطح پر روایتی دھنیا نوشی کے بعد خود سے اک کاوش کی ۔ سنجھ آئے تو ریٹویٹ کرکے ان کرکٹرز کو ٹیگ یا انکے بورڈز کی ٹویٹ میں کمنٹ کر یجئے گا اور ہو سکے تو آپ بھی اس طرح چھوٹے چھوٹے پیغام انگریزی میں ریکارڈ کرکے پوسٹ کریں ۔
شلریہ
@shahidawan51@JackThe07417105 بھائی ۸۰،٪ سچی بات ہے،جو تیز ترار تھے،مہاجرین اور مقامی ان لوگوں نے حساب کتاب کے بغیر جاگیریں حاصل کیں اس وقت،اور پیدل سپاہی والی بات بھی بلکل ٹھیک ہے،
ہمارے ساتھ اس دور میں ایک مسئلہ ہوا ہے۔
دنیا تیزی سے اے آئی اور مشین لرننگ اور کمپیوٹنگ کی طرف بڑھی۔
وہاں ہمارا کام تھا کہ یونیورسٹیز میں ہر ڈپارٹمنٹ کے ساتھ اس کو align کرتے۔
اس کی بجائے ٹک ٹاک اور چھوٹے چھوٹے بچوں کی آمدن پر غور ہوا۔
چائلڈ لیبر کی ایک شکل تھی یہ۔ اس نے یونیورسٹی میں داخلوں کی تعداد کم کر دی۔ بیسک سائنسز اور میتھ جو اے آئی کمپیوٹر سے متعلقہ تمام شعبہ جات کی بنیاد تھے وہ ہی اڑا کر رکھ لئے۔
اب ہم کورسز کروا کر کچھ بھی کر لیں۔ آئندہ آنے والے دس سال ہم صرف مزدور پیدا کریں گے۔
اس وقت اگر حکومت کوشش کرے تو جرمنی اور جاپان کی سرحد ملانے کی بجائے یہ مارکیٹ نوجوانوں کے لئے دیکھ لے۔ ہنرمند بنا کر نکالتی جائے 20 سے 30 سال کی عمر کو فوکس کر لیں ۔ 30 سے 40 کو لوکلی فوکس کریں۔
ترقی کرنی پائیدار تو ریاضی اور بنیادی سائنسز کو پڑھانے کے لئے دنیا بھر سے چندہ مانگنا پڑے تو کشکول لے کر کھڑی ہو جائے اور ان مضامین پر فوکس کر لے۔ صرف دس سے بیس سال لگیں گے دنیا پر راج نہ سہی دنیا کے کندھے سے کندھا ملا لیں گے ۔
مجھے لگتا ھے چاچو کو محسن نقوی کے متنازعہ بیانات پر منہ توڑ جواب دیتے ہوئے
اسحاق ڈار کو وزیر خزانہ۔
رانا ثناء اللّٰہ کو وزیر داخلہ۔
مصدق ملک وزیر پیٹرولیم۔
خرم دستگیر کو مشیر بجلی۔
خواجہ سعد رفیق مشیر ریلوے۔
لگا کر باقی نکموں کو فارغ کرنا چاہیے اور چیف منسٹر مریم نواز کو بھی چاہیے کہ
کریں کہ بیوروکریسی کے بجائے اپنے ایم پی ایز پر اعتبار کریں، ان کمشنرز اور ڈی سی وغیرہ کو کنٹرول کریں۔
ورنہ جو ابھی ہو رہا وہ تو صرف ابتدا ہے
آگے آگے دیکھیں ہوتا ہے کیا؟؟