خضدار سے جن چار نوجوانوں کو بلوچ خوات��ن کے لباس پہنا کر فوٹوشوٹ کا مقصد زہری میں پاکستانی فورسز کے اہلکاروں کے چھوڑے گئے پتلونوں سے توجہ ہٹانے کے لئے کیا گیا ہے
درحقیقت بلوچ سرمچار گرفتاری سے بچنے کیلئے "فلسفہ امیرلملک" کا انتخاب کرتے ہیں
إنا لله وإنا إليه راجعون
Major Adnan, who was injured during an operation against TTP, has embraced shahadat at CMH. 💔
May Allah grant him the highest place in Jannah and give strength to his family.
#Pakistan#PakistanArmy
Baloch fighters targeted a Pak Army vehicle while it was passing through the mountainous terrain. The fighting capabilities of Baloch fighters have become invincible. This is not good news for the Pak Army.#Balochistan
ظہور صاحب گزشتہ دو روز میں چار بلوچ نوجوانوں کو مسلح افراد نے گولیاں مار ��ر قتل کردیا، آپ نے ان کے بارے میں بات کیوں نہیں کی؟ بلوچ نوجوانوں و ماں بہنوں کو ریاست گھروں میں گھس کر گھسیٹ کر کے لیجاتی ہے آپ بات کیوں نہیں کرتے؟ کیا یہ بلوچی روایات کے خلاف ورزی نہیں ہے؟
کسی عام بلوچ کی چادر و چار دیواری کی پامالی اور ان کی جان و مال کو نقصان پہنچانا نہایت افسوسناک اور قابلِ مذمت عمل ہے۔ یہ اقدام انسانی اور بلوچی روایات کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ حکومت اس واقعے میں ملوث عناصر کی سرکوبی کرے گی اور متاثرین کو ہر صورت انصاف فراہم کرے گی۔
یہ ویڈیو بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں لی گئی ہے، جس میں پاکستانی فورسز کی جانب سے بنائے گئے مسلح گروہ کو دکھایا گیا ہے، جسے مقامی زبان میں "ڈیتھ اسکواڈ" کہا جاتا ہے۔ اس گروہ کے سربراہ غلام نبی شمبانی ہیں، اور ان گروہوں کو پاکستانی فورسز نے "امن فورس" کا نام دیا ہوا ہے۔ ان کا مقصد بلوچستان میں پرامن سیاسی آوازوں کو کچلنا ہے، اور بدلے میں قانون نافذ کرنے والے ادارے انہیں رشوت، چوری، ڈکیتی، اغوا برائے تاوان، منشیات کی فروخت سمیت ہر قسم کی سماجی برائیوں میں ملوث ہونے میں استثناء دیتے ہیں۔
ان کا منظم قیام پندرہ سال پہلے عمل میں آیا تھا، اور ان کی کارروائیوں کا پہلا ہدف بلوچستان کے ضلع خضدار میں تھا۔ وہاں 2 مارچ 2010 کو بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کی جانب سے بلوچ ثقافتی دن کے حوالے سے ایک پروگرام پر دستی بم سے حملہ کیا گیا، جس میں سکندر بلوچ اور جنید بلوچ شہید ہوگئے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما بیبرگ بلوچ اس حملے میں شدید زخمی ہوئے، اور ��ج بھی وہ ویل چیئر پر ہیں۔
دھماکے کی ذمہ داری "مسلح دفاعی تنظیم" نامی ڈیتھ اسکواڈ نے قبول کی، اور جاری کردہ بیان میں بلوچ ریپبلکن پارٹی، بلوچ نیشنل موومنٹ اور بی ایس او کے تینوں دھڑوں کو بلوچستان بھر میں حملے کی دھمکی دی گئی۔ قوم پرست رہنما اکثر اس تنظیم کی سربراہی کا ذمہ دار شفیق مینگل کو ٹھراتے آئے ہیں، جو اکثر پاکستانی فوج کے افسران کے ساتھ بیٹھک کرتے ہوئے دیکھے جاتے ہیں۔
مند میں پاکستانی فورسز کے حمایت یافتہ مسلح گروہ کے فائرنگ سے معراج بلوچ جاں بحق ہو گئے۔ پچھلے دو دنوں میں چار افراد کو مند و گردنواح میں فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا ہے