”وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے پیٹ میں کل تک مروڑ اٹھ رہے تھے کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان خراب ہے۔ لیکن گورنر راج نافذ کرنے کے بعد کسی حکومتی ایجنڈے میں دہشتگردی دکھائی نہیں دیتی۔ جعلی وزیراعظم شہباز شریف ہو یا گورنر فیصل کنڈی یہ لوگ اب صرف تجاوزات آپریشن جیسے ڈرامے رچاتے دکھائی دیتے ہیں۔ حقیقت کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج صرف معدنیات نکال کر بیچنے کیلئے لگایا گیا۔“ عمران ریاض خان
ایک طرف جیل میں بیٹھا مرشد تیسرا ہسپتال بنا رہا کینسر کا اوپن کر رہا ہے 29 ستمبر کو
اور دوسری طرف 41 ہزار ارب کی معدنیات بیچ کے کھا گئے اور ٹیکس صرف 16 کروڑ دیا
اور جہاز لیے 20 ارب کے اور 11 ارب کا اپنی معشوقہ کو لے کر دیا
اپنی لڑکیوں کو ڈپلومیٹک پاسپورٹ دلوائے
اپنے بھتیجے کو فوج سے نکلوا کر سول آفیسر بنایا
اپنے بھائی کو تعلیم کا آفیسر بنوایا
اپنے سالے کو 3 عہدے دلوائے
ملک میں دہشت گردی پہلے نمبر پر آیا
پاسپورٹ سب سے نیچے
غربت سب سے اوپر
مہنگائی سب سے زیادہ
سود سب سے زیادہ
فرق جانوں کون وفادار ہے اور کون ملک کا غدار
عمران خان زندہ آباد
خیبرپختونخوا میں لاقانونیت اور بربریت کا کھیل جاری۔
ایم این اے مولانا نسیم علی شاہ کو بنوں پولیس نے گرفتار کر لیا۔ گرفتاری کے وقت کی پولیس کی بدتمیزی دیکھیں کیسے ایک عوامی نمائندے کو دھکے مار کر لیجایا جارہا ہے۔
#فوکس_صرف_خان_کی_رہائی
فرانس میں اب تک مظاہرین نے تمام بڑی بلڈنگوں پر قبضہ کرلیا، سٹور لوٹ لیے، پولیس کو سرینڈر تک کرنا پڑا لیکن فرانس کا صدر اسے ٹرمپ کی ایران پر جنگ کو زمہ دار ٹھہرا رہا ہے اپنی عوام کو دہشت گرد نہیں کہہ رہا، فرانس کا آرمی چیف یا فوج میدان میں گولیاں چلاتے نظر نہیں آرہی
ایک تبصرہ ، ایک جائزہ
عاصم منیر کی کامیابیاں اور کارنامے :
پاک-ایران سرحد پر ایرانی ناکہ بندی نے پاکستان کو تمام پڑوسی ممالک سے تقریباً مکمل طور پر الگ تھلگ کر دیا ہے ۔ تجارت ، کاروبار اور سرمایہ کاری (ملکی اور غیر ملکی دونوں) متاثر ہو رہی ہیں ۔
- افغان سرحد بند ہے، بھارتی سرحد خاموش بے ضرر لگتی ہے , ایرانیوں نے کہا ہے کہ اگر ہم یمنیوں کے معاملات میں مداخلت کریں گے تو وہ ہماری سرحد پر جوابی کارروائی کریں گے، چینی سرحد ٹھنڈی ہے اور افغانوں نے واخان کوریڈور میں نئی سڑک کے ذریعے چینیوں کو رسائی دے دی ہے تاکہ وہ اپنا کارگو پاکستان کو بائی پاس کر کے دنیا کو بھیج سکیں ۔
اندرونی طور پر دیکھیں کہ عاصم منیر نے کیا حاصل کیا ہے:
- بلوچستان باغیوں کے کنٹرول میں ہے یا اس کا زیادہ تر حصہ، اور فوج دن کے وقت بھی بھاری حفاظتی دستوں کے بغیر باہر نہیں نکل سکتی؛
- کے پی کے ایک فعال یونٹ تھا مگر اب یہ فوجی کنٹرول میں ہے اور لوگ مزاحمت کی ایک طویل اور ممکنہ طور پر پرتشدد جنگ کی تیاری کر رہے ہیں؛
- پاکستان کی سب سے مقبول سیاسی جماعت اور اس کا لیڈر جیل میں ہیں اور ان پر اس طرح حملے ہو رہے ہیں جیسے وہ پاکستان کے بدترین دشمن ہوں؛
- آزاد کشمیر پاکستان حامی علاقہ تھا مگر اب وہ گولیاں کھا کر اور شہادتیں دے کر فوج اور پاکستان سے نفرت کرتے ہیں اور اگر کبھی حق دیا گیا تو کبھی پاکستان کو ووٹ نہیں دیں گے؛
- گلگت بلتستان قبضے میں ہے مگر یقیناً پاکستان کے ساتھ نہیں؛
- پنجاب ایک نابالغ ، احمق اور بے خبر قیادت کو دے دیا گیا ہے مگر جرنیلوں کے ساتھ اس کا رومانس سب کچھ ہے؛
- سندھ زرداری کے تحت کراہ رہا ہے مگر متبادل لالچی جنرل ہیں اس لیے وہ بے بس ہو کر کچے اور پکے کے ڈاکوؤں کی طرف خوف سے دیکھ رہے ہیں؛
- کراچی، جو کبھی ایک کماؤ بیٹا تھا، اب ملبے کا ڈھیر ہے، جس کی طرف دیکھنے والا کوئی نہیں؛
- لوگ غضبناک ہیں ، وکلاء خوف زدہ ہیں ، کسان برباد ہو چکے ، تاجر چیخ رہے ہیں ، صنعت تقریباً مردہ ہے ، درآمدات بڑھ رہی ہیں ، برآمدات بہت کم ہیں ، قانون و نظم کی حالت خراب ہے ، مجرم حکمران بن کر دندنا رہے ہیں ؛
- فوجی جنتا اپنے زیر قبضہ علاقوں سے نایاب معدنیات نکالنے اور باہر بیچنے میں جلدی میں مصروف ہے، اس بات سے بے خبر کہ ملک کہاں پہنچ چکا ہے اور کہاں جا رہا ہے؛
- زیادہ ترفوجی کیڈرز دل شکستہ ہیں، اعلیٰ معیار کے جنرل سائیڈ لائن یا نکال دیے گئے ہیں ، ادارے یا ملک کے لیے کسی میں کوئی جوش یا خواہش باقی نہیں رہی ، سب کی نظریں صرف پلاٹوں ، ایکڑوں زمین ، غیر ملکی نوکریاں ، پیسہ بنانے کی جگہوں ، غیر ملکی جائیدادوں اور جزائر خریدنے اور آخر میں باہر منتقل ہونے پر ٹکی ہوئی ہیں؛
- خوف زدہ نا مرد سیاسی بونے بڑی کرسیوں پر بٹھا دیے گئے ہیں ، فوج کی طرف سے روبوٹس کی طرح آرڈر اور کنٹرول کیے جا رہے ہیں؛
- اب کوئی بھی ملک کے محفوظ اور کامیاب مستقبل پر یقین نہیں رکھتا ۔ ہر کوئی باہر جانا اور پناہ ڈھونڈنا چاہتا ہے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں ہم عاصم منیر کی 5 سالہ حکمرانی کے بعد کھڑے ہیں۔
اور وہ مزید 10 سال چاہتا ہے۔
کیونکہ اکثر لوگوں کی یاداشت کمزور ہے تویاددہانی ضروری ہے۔ فوج اور ذہنی مریض کے مسلط ہونے سے پہلے عمران خان کی حکومت میں
پاکستان کا گروتھ ریٹ چھ فیصد تھا
پاکستان کی ایکسپورٹس میں نو ارب ڈالرز کا اضافہ ہوا تھا
پاکستان میں ڈرون حملے ختم ہوچکے تھے
پاکستان میں دہشتگردی پچھلی چار حکومتوں میں سب سے کم تھی
پاکستان میں نئی یونیورسٹیز اور نئے ہسپتال بن رہے تھے
ایک قتل ایک اغواء پر ایک زیادتی پر کہرام مچ جاتا تھا
تین سال میں روزگار کے ساٹھ لاکھ مواقع پیدا ہوئے تھے
قبائلی علاقوں کو پختونخواہ میں ضم کیا گیا تھا
آزاد لوگ ججز لگائے جارہے تھے
تاحیات استثنی کی بجائے صحت قانون اور پولیس ایکٹ جیسے قانون بن رہے تھے
سڑکوں کی فی کلومیٹر لاگت کم ہوئی تھی
کرپشن پر اپنی پارٹی کے لوگوں کا احتساب ہورہا تھا
لوگ کہتے ہیں کہ مولانا کے پیچھے سعودی عرب ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ عرب نیوز کی پاکستانی برانچ اردو نیوز الٹی سیدھی خبریں بھی لگا رہا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ عاصم منیر امارات کی طرح سعودی عرب سے بھی کچے وعدے کرکے پھنس گیا ہے اور اب بھاگنا چاہتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ سعودی عرب نے مولانا کی مدد سے زمین تھوڑی سی گرم کی ہے تو ڈی جی آئی ایس پی آر فٹا فٹ عرب نیوز کو انٹرویو دے آیا ہے کہ اگر آپ پر حملہ ہوا تو ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے تاکہ سعودی عرب تسلی میں رہے۔
لوگ کہتے ہیں کہ چین کی خاموشی ، امارات کی سرعام قطع تعلقی کے بعد اب سعودی عرب اس خطے میں عاصم منیر کی آخری پناہ گاہ بچا تھا۔ لوگ کہتے ہیں ہر طرف سے ٹھڈا کھانے کے خطرے کی پیش بندی کے سبب تیزی سے ایران کیساتھ تجارت بند کی اور اس سے زیادہ تیزی کیساتھ پختونخواہ میں معدنیات پر توجہ کرلی ہے تاکہ امریکہ کی حمایت میسر رہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ پر گزرتے دن کیساتھ یہ دھنستا چلا جارہا ہے۔
کچھ تو لوگ کہیں گے
لوگوں کا تو کام ہے کہنا
پختونوں کو پہلے جنگوں سے مارا پھر ڈرون حملوں پھر دہشتگردوں سے اور اب باری ہے نایاب معدنیات کی۔ نہ صرف پختونوں کا سرمایا لوٹنے لگے ہیں بلکہ ان کے بچوں کے لیئے تابکاری، کینسر جیسی بیماریاں ،بھوک اور موت چھوڑ کے جائیں گے۔جو جرنیلوں کی راجدھانی کے لیئے نہایت ضروری ہیں۔
فوجی اور خیبر کی معدنیات :
شہباز گل صاحب نے آج ایک سپر سکینڈل کا قصّہ سنایا جو تانبے کو صوبہ خیبر سے نکانے کے ٹھیکوں کے بارے میں ہے اور اس سکینڈل کی ساری تفصیل عوامی نیشنل پارٹی کے ایک صوبائی اسمبلی کے ممبر نے بتایی - ہوش ربا کہانی ہے اور یہ صرف ایک بڑی ہی عام دھات یعنی تانبے کو نکالنے کی ہے - یہ کوئی وہ والی دھات نہیں جسکی کہانی امریکی سفیر نے سنائی تھی کے یہ خاص دھاتیں 7 کھرب ڈالر سے زیادہ کی ہیں -
تو تانبے نکالنے والی ایک فوجی کمپنی 4 کھرب کا تانبا نکال رہی ہے اور 2024 تک صوبے کو صرف 160 کروڑ دیے گئے باقی سب فوجی ہڑپ کر گئے اور کہتے ہیں ہم نے تو صرف ایک پرمٹ لیا ہوا ہے - ویسے یہ پرمٹ پچاس پرمٹوں سے بڑا ہے -
اب سوچیں صرف تانبا کھربوں کا فائدہ دے رہا ہے اور ISPR کے شریف صاحب کہ رہے تھے یہ کوئی صوبائی حکومت کو جہیز میں ملا ہے، ہمارا پورا حق ہے - تو ابھی تو 7 کھرب ڈالر کے خاص اور نایاب معدنیات نکالنی ہیں -
ذرا اندازہ لگایئں کتنے بڑے ہاتھ یہ لوگ مار رہے ہیں اور ماریں گے اور بدنام چھوٹے چور اچکے سیاست دانوں کو کریں گے ، جو خود بھی کوئی فرشتے تو نہیں مگر ان کے مقابلے میں فرشتے ہی نظر آ رہے ہیں -
کیسے یہ فوجی صوبہ خیبر یا پورے پاکستان سے اپنا قبضہ ختم کریں گے، جان کی ، مال کی، عزت کی، غیرت کی , پاکستان کی, ہر چیز کی بازی لگا دیں گے، مریں گے اور ماریں گے , چھوڑیں گے نہیں - سب سوچ لیں اور تیار رہیں -
”آج ایک ہفتہ ہو گیا، پاکستان میں کسی کو نہیں معلوم خیبرپختونخوا اسمبلی کا اسپیکر کدھر ہے ؟ دو تہائی اکثریت رکھنے والا منتخب وزیرِاعلیٰ کدھر ہے ؟ ایسے حالات میں یہاں حکومتی شخصیات کس منہ سے جمہوریت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہیں ؟ گر جیل میں ویڈیو ریکارڈنگ کی جا سکتی ہے، تو مطلب حکومت جب چاہے ملاقات کروا،سکتی ہے۔ ایسے حالات تو کبھی بدترین مارشل لاء کے ادوار میں بھی دیکھنے کو نہیں ملے تھے۔“ اطہر کاظمی
انڈیا سے تجارت بند ہے۔ افغانستان سے تجارت بند ہے۔ سی پیک کو تقریبا ختم کردیا ہے ایران سے بھی تجارت بند کردی ہے۔ ہمسائے میں ایک بحیرہ عرب بچا ہے اس میں جرنیل شرم سے ڈوب کر مر جائیں۔
اٹھارہ مزدور اغواء ہوئے بیس اہلکار اغواء ہوئے۔ میجر سمیت سات اہلکار جان سے جانے کی خبر ہے ، باجوڑ میں تین بھائی قتل ہوگئے ، وزیرستان میں قبائلی لیڈر۔ سات پولیس اہلکار الگ سے مرے ہیں۔ یہ ملک برباد ہوچکا ہے اور کس نے کیا ہے یہ دو چیزیں سمجھنا کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔
یہ ہے ابوبکر کا بھائ قاری بلال جو دہست گرد ہے جس کو کل کا اٹھایا ہے ابھی تک کوئ پتا نہیں جرم یہ ہے میرا بھائ ہے امام مسجد ہے اس نے کوئ آئن نہیں توڑا کوئ الیکشن نہیں چوری کیا کسی ماں کے بیٹے کو گولیاں نہیں ماری کوئ 53ارب کی کرپشن نہیں کی بلکے بچوں کو اللہ کا کلام سیکھاتا ہے اور گھر سے اغوا کر لیا مدرسہ بند بچوں کی تعلیم بند ہے
"جنگل کا قانون بھی فطرت کے اصولوں اور قواعد کا پابند ہوتا ہے۔ وہاں حیوان بلا وجہ ایک دوسرے کے دشمن نہیں بنتے، نہ ہی وہ حرص، ہوس اور لالچ کے شکار ہوتے ہیں۔ وہاں ہر مخلوق صرف اپنی ضرورت کے مطابق زندگی بسر کرتی ہے۔
مگر افسوس! انسان درند گی اور بے حسی میں جنگل کے قانون سے بھی کہیں آگے نکل چکے ہیں۔"
اس نام نہاد ریاست نے ابوبکر کے خاندان کے بہت سے قرضے واپس واپس کرنے ہیں۔ ابوبکر کے بھائی ، بہنوئی اور رشتہ دار کشمیر میں شہید ہوئے۔ اب اسی ابوبکر کا خاندان اذیت میں ہے۔
میں ابوبکر کو خراج تحسین بھی پیش نہیں کرسکتا کہ میں اسکی جگہ ہوتا تو خاموش ہوجاتا۔ابوبکر کا یہ عزم ظالم کو لے ڈوبے گا۔