48گھنٹے کی غلط فہمی ابیب کو غزا بنا رہی ہے دنیا کا سب سے بڑا دفاعی اتحاد زیرہ ریزہ ہونے کو ہے ابراہم بیڑا دو دفعہ اپنی پوزیشن چھوڑ کر بھاگ چکا ہے یہ صرف ایک اسلامی مُلک کی طاقت ہے سوچیں اگر سب آپس میں اتحاد کرلیں تو ہر روز ایک اسرائیل کا ناشتہ مل کر کریں
آپکا ایک لائک اور ایک ری پوسٹ امریکہ و اسرائیل اور انکے حمایت یافتہ لوگوں کی چیخیں نکلواتا ہیں اس کو فضول نہ سمجھیں
لہذا اس پوسٹ کو لائک اور ری پوسٹ کریں
دنیا نے اسرائیل کا ایسا حشر پہلی مرتبہ دیکھا ہے
آپکا ایک لائک اور ایک ری پوسٹ امریکہ و اسرائیل اور انکے حمایت یافتہ لوگوں کی چیخیں نکلواتا ہیں اس کو فضول نہ سمجھیں
لہذا اس پوسٹ کو لائک اور ری پوسٹ کریں
اج مورخہ 21 ستمبر 2023، بہ وقت شام 05:10pm میرے ساتھ براءراست دیکھیں محترم امان اللہ کنرانی نگران وزیر محکمہ قانون و پارلیمانی امور کو پی ٹی وی بولان کرنٹ افئیرز بلوچی ٹائم میں۔ @PTVNewsOfficial#PTV@amankanrani1
صادق سنجرانی کہودا بابر کو وزیراعلیٰ لانے کی کوشش کرنے کی بجائے خود چارج سنبھال لیں۔ اس سے وہ مزید 5 سال تک بھتہ خوری کا کاروبار جاری رکھنے کے لیے انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لیے اپنی پسند کے عبوری وزراء کا انتخاب کر سکے گا۔
بلینک چیک
تحریر: انور ساجدی
جاتے جاتے پی ڈی ایم کی حکومت کچھ زیادہ حواس باختہ ہو گئی ہے۔آرمی ایکٹ میں پیکا قوانین کو شامل کرنے کے بل کی منظوری کے بعد اتوار کو سینیٹ کا غیر معمولی سیشن بلا کر اس میں ایک عجیب و غریب بل پیش کیا گیا جو دہشت گردی ،اس میں ملوث تنظیموں اور ان کے خلاف سخت ترین کارروائی پر مشتمل تھا۔بل پیش کرنے کا مقصد9مئی جیسے واقعات برپا کرنےوالی سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کو قرار واقعی سزا دینا ہے۔یعنی پی ٹی آئی پر پابندی ۔اس اقدام سے لگتا ہے کہ حکومت میں شامل جماعتیں اور خاص طور پر سرکردہ جماعت ن لیگ آنے والے انتخابات کی صورتحال سے اچھی خاصی پریشان ہے۔ اس نے درپردہ محلاتی سازشوں کے ذریعے جس طرح پیپلز پارٹی کو زک پہنچانے کی کوشش کی ہے یا کر رہی ہے اس سے بھی اسے کافی پریشانی ہے۔ خاص طورپر جب سے ن لیگ کی قیادت نے یہ سنا ہے کہ تحریک انصاف نے ممکنہ تعاون کے لئے پیپلز پارٹی سے جو رابطے کئے ہیں وہ کچھ زیادہ حواس باختہ ہو گئی ہے۔ن لیگ کی قیادت کو سوچنا چاہیے کہ اگر اس نے پنجاب میں پیپلز پارٹی کو ایک بار پھر دیس نکالا دینے کی کوشش کی تو اس کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ ہوگا کہ وہ تحریک انصاف کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کرے۔خود تحریک انصاف کے بطور پارلیمانی پارٹی بقاءکا تقاضہ ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کا ہاتھ پکڑے۔ لیکن یہ موقع آنے کے دروازے بند کئے جا رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق مارچ2022 میں زرداری نے جس طرح تحریک انصاف کو توڑ کر اور دیگر جماعتوں کو یک جا کر کے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کر کے ناممکن کو ممکن بنا کر دکھایا بجائے اس کے کہ ن لیگ شکر گزار ہو وہ آئندہ اقتدار کےلئے ہر حد پار کرنے سے بھی گریزاں نہیں ہے۔حال ہی میں ”خواجہ سیالکوٹی“ نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ نوازشریف نے توسیع کے لئے جنرل باجوہ کو بلینک چیک دیا۔جواب میں باجوہ نے اپنے لائے ہوئے72 سالہ نوجوان کو ہٹا کر ن لیگ کا قرض اتار دیا۔خیر وہ بات تو پرانی ہو گئی لیکن چندماہ قبل نوازشریف نے ایک اور بلینک چیک جاری کر دیا یہ جو چیک ہے اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔نہ صرف قوم و ملک کو بلکہ خود نوازشریف اور ان کی جماعت بھی اس کی زد میں آ جائے گی اور عین ممکن ہے کہ کچھ عرصہ بعد وہ ووٹ کو عزت دو کا ایک اور نوحہ گانا شروع کر دیں۔ پارلیمنٹ کی بے توقیری 1973 کے آئین کے ساتھ کھلواڑ، آمرانہ قوانین کی منظوری اور نگراں حکومت کو وسیع اختیارات دینے کے بل کا پاس کرنا پاکستان کی برائے نام جمہوریت پر شب خون نہیں بلکہ دن دیہاڑے ڈاکہ ہے ۔ یہ جو میں حالات کی تصویر کشی کر رہا ہوں یہ آخری تحریر ہی ہو سکتی ہیں کیونکہ آرمی ایکٹ پلس پیکا قوانین کو پیمرا آرڈیننس میں شامل کرنے کے قانون کی منظوری کے بعد کوئی بھی صحافی، وی بلاگر،سوشل میڈیا کے سرگرم لوگ آزادانہ تحریروں اور تجزیوں کی جرات نہیں کر سکتے۔ بس ترمیم شدہ قانون پر صدر مملکت کے دستخط ثبت کرنے کی دیر ہے جس کے بعد یہ قانون پوری آب و تاب کے ساتھ روبہ عمل آئے گا۔اگر کسی نے غلطی سے بھی کوئی تنقیدی مکالمہ لکھا تو اس پر کروڑوں روپے کا جرمانہ اور 5سال قید بامشقت کی سزا لاگو ہو جائے گی۔کئی مبصرین کا خیال ہے کہ پاکستان جس نئے دور میں داخل ہوا ہے اس میں تمام الیکٹرانک چینل ،پی ٹی وی بن گئے ہیں اور پرنٹ میڈیا جو پہلے سے جدید ٹیکنالوجی کی مار کی وجہ سے جان بلب ہے اپنے نیشنل پریس ٹرسٹ کے اخبارات کی حیثیت اختیار کر لیں گے جبکہ چین،روس ،ایران، سعودی عرب اور ترکی کے تجربات سے فائدہ اٹھا کر سوشل میڈیا کو بھی لگام ڈال دی جائے گی۔ایک بڑی اور بنیادی تبدیلی یہ ہے کہ سول حکومتوں کی ناکامی کے بعد خاص طور پر عمران خان کو لانے کے تباہ کن تجربہ کی روشنی میں ملک کے کلیدی معاملات کو براہ راست کنٹرول میں لے لیا گیا ہے۔ غیرملکی سرمایہ کاری کو لانے کےلئے جو ادارہ بنایا گیا ہے وہ وزیراعظم کی نگرانی میں نہیں ہوگا۔ قدرتی وسائل کو بروئے کار لانے خاص طور پر بلوچستان اور فاٹا میں سونے اور تانبے کے ذخائر تھر کے کوئلہ سمیت گرینائٹ کے وسیع ذخائر کو بھی حکومتوں کی تحویل سے اٹھا لیا گیا ہے۔ساتھ ہی سرسبز پاکستان منصوبہ کے تحت تمام غیر آباد زمینوں کو بھی ڈائریکٹر کنٹرول میں لاکر ملکی پیداوار میں اضافہ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔یہ جو ”مراجعت“ ہے اسے اپنے روحانی گرو امتیاز عالم نے جو ایک نام دیا ہے لیکن ہم ڈاکٹر جبار خٹک کی رائے کے منتظر ہیں کہ وہ اسے کیا نام دیں گے۔اسی طرح کاظم خان بھی اپنی طرحدار اور شاندار شہ سرخیوں کی طرح اسے کوئی بامعنی نام دے سکتے ہیں۔شکر ہے کہ صدر نے نئے آئینی اختیارات کے محضرنامے پر دستخط ثبت نہیں کئے ہیں اس لئے نئی مراجعت کو نام نہاد جمہوری نظام سے مزید کنٹرول اور گماشتہ ڈیموکریسی میں بدل دیا گیا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں پارلیمنٹ کے ادارے موجود
بلوچستان میں حالیہ مون سون بارشوں اور سیلابوں کے پیش نظر حکومت بلوچستان اور محکمہ صحت نے ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔
اس سلسلے میں ایمرجنسی میڈیسن فوکل پرسن، ایم ایس ڈی، ڈاکٹر ذوالفقار مری کی نگرانی میں مختلف اضلاع کو "ایسینشیل ڈرگز" کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔ @cs_balochistan
1/3
وزیر پٹرولیم سینیٹر مصدق ملک کا کہنا ہے کہ پٹرول کی قیمت میں حالیہ اضافے کی وجہ عالمی منڈی میں تیل کا مہنگا ہونا ہے ہمیں امید ہے کہ جب عالمی منڈی میں تیل سستا ہو گا تو پاکستان میں بھی پٹرول سستا کر دیا جائے گا
ضلع کیچ کے سرحدی علاقہ عبدوی سے ایرانی بارڈر جانے والے ان مزدوروں کی زندگی سیلاب کے ہمراہ تاریکیوں میں رواں دواں ہے، اپنی جان و مال کو بچوں کے دو وقت کی روٹی کے عوض رہن رکھے ان حرمان نصیب بے بس بلوچوں کو @SaleemKhanSafi جیسے ہنرمند اسمگلر سمجھتے ہیں۔
@zalmayzia
یہ دنیا کا واحد دریا بولان ہے جو پُل کو بہا کر لے گیا اور یہ دنیا کے واحد انجینئرز ہیں جو پُل کو بہا کر لے جانے والے دریا میں سیمنٹ کے 6 فٹ والے پائپ رکھ کر دریا کو ادب سکھا رہے ہیں کہ دوبارہ آہستہ سے بہنا ہے
@HamidMirPAK@AQuddusBizenjo@cs_balochistan
جہاں لوگ جارہے ہیں وہاں کے لوگ تو خوش ہیں جہاں سے لوگ جارہے ہیں وہاں کے لوگ گلے شکوے کرتے ہیں پھر یہی لوگ کچھ عرصے کے یہ عمل دہراتے ہیں اور مزے کی بات اسی جوڑ توڑ کو ہی جمہوریت کا حصہ سمجھتے ہیں. بی اے پی والوں نے تو بلوچستان کے سیاست کو بدنام کیاہے
@HamidMirPAK@AQuddusBizenjo
بلوچستان عوامی پارٹی کے کچھ اہم لوگوں نے چند ماہ قبل پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا تھا اب انہیں کہا گیا ہے کہ آپ مسلم لیگ ن میں چلے جاؤ، بیچارے پریشان ہیں کہ کدھر جائیں کدھر نہ جائیں 😆