بیگم کلثوم نواز کینسر کے مرض میں مبتلا تھیں اور نواز شریف بھی جیل میں شدید بیمار تھے، حالانکہ انہیں ہسپتال میں رہنا چاہیے تھا۔ اس دوران ان کے ساتھ جو سلوک ہوا، اس پر شرمندگی ہونی چاہیے۔ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ طاقت میں ہونے کے باوجود انسانیت اور ہمدردی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے اور سرکاری ملازمین یا متعلقہ افراد کے رویے پر سوال اٹھانا ضروری ہے
عمران خان حکومت میں راناثنااللہ کیسات�� جیل میں کیا گیا سلوک؛
جیل میں آنکھ میں دو مرتبہ کلاٹ آیا جسکی وجہ سے انکی ایک آنکھ کی بینائی کو نقصان پہنچا انکو دوائی نہیں دی جاتی تھی انکے سیل کے باہرشدید گرمی میں تندور چلا دیا جاتا تھا
آپ نے بھی کل جیل جانا ہے، آپ نے رونا ہے اور آپ کے آنسو پونچ��نے والا کوئی نہیں ہوگا، لیکن ہم پونچھیں گے وہ آنسو
ہم نے ماریں کھائی ہیں، مار کھائے ہوئے لوگ کسی کو تکلیف نہیں دیتے، ان کا کام ہی آنسو پونچھنا ہے!
انک�� مشاہد اللّہ خان
عمران خان کے دور میں یہ نواز شریف کی صحت کے لیے مریم نواز شریف رو رہی تھیں اس وقت کے حکمران عمران نیازی تھا آج علیمہ خان رو رہی تھیں حکمران مریم اور شہباز ہیں
یقین کیجیے کل عمران خان دوبارہ اقتدار میں آ جائیں تو وہ بھی یہی کچھ دوبارہ کریں گے یہاں کوئی سبق نہیں سیکھتا ہے
🚨بیگم کلثوم نواز کینسر کے مرض میں مبتلا تھیں اور نو��ز شریف بھی جیل میں شدید بیمار تھے، حالانکہ انہیں ہسپتال میں رہنا چاہیے تھا۔ اس دوران ان کے ساتھ جو سلوک ہوا، اس پر شرمندگی ہونی چاہیے۔ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ طاقت میں ہونے کے باوجود انسانیت اور ہمدردی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے اور سرکاری ملازمین یا متعلقہ افراد کے رویے پر سوال اٹھانا ضروری ہے۔
گوہر بٹ
عمران کی آنکھ کے معاملے پر آنسو بہانے والوں کی میاں نوازشریف کی بیماری پر فرعونیت سنیں
عمران کی حکومت میں عدالت کے ایک افسر نے فون کیا ایک لاء افسر کو کہ ہم ہفتے کے روز میاں نواز شریف کی ضمانت کا کیس سن رہے ہیں حکومت کا کیا موقف ہے؟ ان صاح�� نے جواب دیا مر جائے ہماری طرف سے ہمارا کیا جاتا ہے اس شخص نے پھر پوچھا انہوں نے کہا میں آپ کا موقف نہیں حکومت کا موقف پوچھ رہا ہوں تو اس لاء افسر نے پھر جواب دیا کہ حکومت کا بھی یہی موقف ہے کہ مر جائے کیا فرق پڑتا ہے۔ یہ رویے میں قسم اٹھا کر کہہ رہا ہوں
علیمہ خان صاحبہ کے آنسووں اور جذبات کا احترام ہے مگر مرحومہ کلثوم نواز اور نواز شریف کی بیماری پر ہم نے مریم نواز کو بھی روتے دیکھا جب پی ٹی آئی ڈرامہ قرار دے کر مذاق اڑاتی تھی
یہ لاہور ہے ایک بچہ پتنگ پکڑنے ہوئے ٹرانسفارمر میں پھنس گیا بجلی بند کر کے اسے نکالانا پڑا
شکر ہے وقت پر نکال لیا و��نہ ایک اور سکینڈل تیار تھا
اس عوام کی سوک سینس کی تربیت دینے کی ضرورت ہے
آج عمران خان کی مبینہ علالت کی وجہ سے سوشل میڈیا پر کہرام مچا ہو ا ہے ۔ لوگ حکومت کو برا بھلا کہہ رہے ہیں لیکن ایک دفعہ یہ سن لیں عمران خان نے اپنے دور میں کیا کیا ظلم ڈھائے تھے ۔ آپ کو حکومت پر غصہ نہیں پیار آنے لگے گا
#pmln#ppp#pti
جھوٹ بولو اتنی بار بولو پھر بار بار بولو اور پھر گٹے جوڑ کر بولو کہ وہ سچ لگنے لگ جاوے
اس تھیوری کا دور حاضر میں استعمال عمرانی یوٹیومرز نے جس خوبصورتی سے کیا ہے یقینا گوئبل بھی حیران ہوگا اور سلام ہے سید عمران شفقت پر جنہوں نے سٹرابری شجاع پاشا کو سامنے بٹھا کر تہہ لگادی ہے