ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں جی ایم سید کے پیروکاروں میں کبھی کوئئ طالبعلم ایسا دیکھا ھے جسے پڑھا لکھا کہا جاسکے
ڈگریاں تو پورے سندھ میں قدم قدم پر دستیاب ہیں
بات علم کی ھورہی ھے
یہ لمحہ فکریہ کسی اور کے لیۓ نہیں
سندھیوں کے لیۓ ھونا چاھیۓ
“ثبات ایک تغیر کو ھے زمانے میں”
جس بیچاری کو خود نہیں پتہ کہ کس نے اسکے نام سے یہ سب کچھ کیا اور جو عورت خود اپنی بپتا لیکر صحافیوں کے پاس آئی, اسی کے خلاف دھوکہ دہی سے نوکری لینے پر اسے نوکری سے نکالنے کے آرڈر نکال دیے لیکن خود یہ نہیں بتاتے کہ 1995 میں بھرتی ہونے والی اس ٹیچر کے تعلیمی سرٹیفکیٹس اور ڈگریز کیوں چیک نہیں ہوۓ, اس انپڑھ کا انٹرویو کس نے لیا اور سندھ کا محکمہ تعلیم اسکی کہاں کہاں اور کیوں پوسٹنگز کرتا رہا؟
جتنے نوٹسز اور ذاتی شنوائی کے ریفرنسز اس نوٹیفکیشن میں درج ہیں, ان میں سے کوئی خط کبھی اس عورت تک پہنچا ہی نہیں- صرف فائل کا پیٹ بھرنے کیلئے کارروائی کی گئی-
ہم جانتے ہیں کہ یہ تو صرف ایک کیس ہے- ایسی ہزاروں گھوسٹ تقرریوں سے سندھ کے اسکول بھرے پڑے ہیں لیکن جو یہ سب کر کے قومی خزانہ لوٹنے کے ذمہ دار مگر مچھ ہیں, ان پر کبھی کوئی ہاتھ نہیں ڈالے گا-
لعنت سندھ سرکار پر 🖐
پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کے کارنامےایک غیر مقامی کو میرپورخاص کے جعلی ڈومیسائل بناکر سرکاری نوکریاں دے دی گئی یہ ظلم اور نا انصافی کراچی حیدرآباد والوں کے ساتھ بھی سالوں سے جاری ہیں اب بس ایک حل سندھ کی تقسیم انتظامی یونٹس کا قیام
#صوبے_بناو_پاکستان_بچاو#Karachi
ان جیسے بقراطیوں سے کوئی پوچھے کہ 18 سال سے سندھ پر مسلسل حکومت کرنے والی پیپلز پارٹی نے سندھ کے سب سے بڑے شہر کراچی کو کیا دیا؟
کراچی کوئی لاوارث بچہ نہیں کہ جسے کبھی ’’سندھ کا بیٹا‘‘ کہہ کر بہلایا جائے اور جب وہ اپنے حقوق اور اختیار کی بات کرے تو اسے سندھ دشمن قرار دے دیا جائے۔
کراچی سندھ کا دل ہے؟
تو پھر دل کے خون سے پورے جسم کو طاقت مل رہی ہے کراچی کو کیوں نہیں؟
اور ایک بات بالکل واضح کر دیں:
ہم کراچی کو سندھ سے کاٹنے کی بات نہیں کر رہے، ہم کراچی کو صوبائی حکومت کی انتظامی غلامی سے نکال کر بااختیار بنانے کی بات کر رہے ہیں۔
دل ہے تو اختیار دو۔
بیٹا ہے تو حق دو۔
اپنا ہے تو اعتماد کرو۔
ورنہ کراچی کے کروڑوں شہری اتنے بھی معصوم نہیں کہ ’’دل‘‘ اور ’’بیٹے‘‘ کے میٹھے الفاظ میں اختیار کی محرومی بھول جائیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے اس سال کے آغاز میں سندھ کے نظامِ صحت کی شاندار تصویر پیش کی تھی۔ آج تھرپارکر کے سول ہسپتال مٹھی سے رپورٹس آ رہی ہیں کہ صرف آٹھ ماہ میں 480 نوزائیدہ بچے غذائی قلت اور دیگر پیچیدگیوں کے باعث انتقال کر گئے۔ پی پی پی نے پمز سانحے پر فوری احتساب کا مطالبہ کیا تھا، کیا اب سندھ کی اپنی حکومت پر بھی وہی معیار لاگو ہوگا؟
18 سال کی حکمرانی کے بعد بھی صوبے کے دور دراز اضلاع بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گورننس کو مقامی سطح پر لے جانے اور نئے انتظامی یونٹس کے قیام کا مطالبہ محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ عوامی ضرورت ہے، تاکہ فیصلے وہاں ہوں جہاں مسئلہ ہے، اور جوابدہی سے بچنا ممکن نہ رہے۔
#MQM #SindhHealthCrisis #AdministrativeUnits
اس چوں چوں کے مربعے کو، جسے مقدس صحیفوں جیسا قرار دیتے ہوئے پاکستان کا آئین کہا جاتا ہے، اور جس کا کریڈٹ لینے والے اسے عوامی آئین کہتے نہیں تھکتے، صرف ایک سوال کا جواب دیں:
یہ آئین آخر کس کا تحفظ کر رہا ہے؟ عوام کا یا صوبائی اور قومی عصبیتوں کا؟
ماننا پڑے گا کہ ذوالفقار علی بھٹو ایک دور اندیش اور شاطر قوم پرست سیاستدان تھا۔ اسے بخوبی معلوم تھا کہ اپنی قوم کو ایک دوسری قوم کی دشمنی میں جو اختیار ان پر دیا جا رہا ہے، وہ ہمیشہ اسی طرح نہیں چل پائے گا۔ ایک وقت ضرور آئے گا جب اس بندوبست کے خلاف آواز اٹھے گی۔ چنانچہ اس نے اس ممکنہ ردِعمل کی پیش بندی پہلے ہی آئین میں کردی۔
18 سال سے مسلسل اقتدار میں موجود پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کے بادشاہی نظام کا تازہ ترین انکشاف حاضر ہے آج وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کے حکومتی دربار میں 19 وزراء، 5 مشیر، 24 معاونین خصوصی اور 14 ترجمان شاملُ ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سندھ سے دو گنا سے زیادہ آبادی والے پنجاب میں یہ تعداد آدھی سے بھی کم ہے، جبکہ وفاقی حکومت کی کابینہ بھی سندھ کے اس سیاسی لشکر سے پیچھے نظر آتی ہے۔اٹھارویں ترمیم نے اختیارات مرکز سے صوبوں کو دیے تھے، مگر سوال یہ ہے کہ سندھ میں یہ اختیارات شہروں اور اضلاع تک کیوں نہیں پہنچے؟ سیاسی عہدے بڑھتے گئے، مگر پانی، ٹرانسپورٹ، بلدیات اور انتظامی کارکردگی کے مسائل اپنی جگہ موجود ہیں۔آج کے On My Radar میں ہم اسی 18 سالہ حکمرانی کی حقیقت کھول رہے ہیں۔ مکمل شو دیکھنے کے لیے OMR یوٹیوب لنک پر کلک کریں اور پورے پروگرام سے محظوظ ہوں۔ https://t.co/e1EaUKQsUm
تاریخ پڑھنے کا مشورہ دینے سے پہلے پوری تاریخ پڑھ لینا چاہیے۔
یہ درست ہے کہ کراچی 1947ء سے بہت پہلے ایک ترقی یافتہ بندرگاہ اور عالمی تجارتی مرکز بن چکا تھا۔ 1899ء تک کراچی جنوبی ایشیا کی بڑی wheat-exporting ports میں شمار ہوتا تھا اور 1910ء تک کراچی کی بندرگاہ پورے British Empire کی کسی بھی دوسری بندرگاہ سے زیادہ گندم handle کر رہی تھی۔ اس گندم کا بیشتر حصہ کہاں پیدا ہوتا تھا؟
پنجاب کی نہری کالونیوں میں، جہاں سے ریل کے ذریعے کراچی پہنچتا اور پھر دنیا بھر کو برآمد ہوتا تھا۔ اگر پنجاب سندھ کے ساتھ لگا نہ ہوتا تو برٹش کراچی کی بندرگاہ کو کبھی Develop ہی نہیں کرتے۔
ایک اور اہم بات:
کراچی کی pre-1947 development صرف اکیلی مقامی بلوچوں کی کاوش نہیں تھی، جنہیں after Partition سندھی قوم پرست زبردستی سندھی بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ ہاں، سندھی ہندو بنئیوں اور تاجروں کی ایک قابلِ ذکر تعداد بھی اس شہر کی تاریخ کا حصہ تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ کراچی کی تعمیر و ترقی میں مقامی سندھی ہندو، پارسی، مسلمان، بلوچ، گجراتی تاجر، بوہرے، میمن، کھوجے، برطانوی سرکاری ادارے، پنجابی زرعی معیشت، ریل، بندرگاہ اور بین الاقوامی تجارت سب کا حصہ تھا۔ کراچی کی سرکاری بندرگاہی تاریخ بھی بتاتی ہے کہ برطانوی دور میں بندرگاہ کو Indus Basin کی پیداوار کو عالمی منڈیوں تک export کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر develop کیا گیا۔
یہ بھی درست ہے کہ کراچی کا بلدیاتی نظام، ہسپتال اور تعلیمی ادارے 1947ء سے پہلے موجود تھے۔ پارسی، ہندو اور دوسرے مقامی تاجر و philanthropists نے ان اداروں کی تعمیر میں قابلِ احترام کردار ادا کیا۔ اس تاریخی کردار سے انکار نہیں۔
لیکن یہاں سے ’’تم بنے بنائے شہر میں آئے تھے‘‘ نکالنا تاریخ نہیں، سیاسی تعصب ہے۔
1947ء میں جو لوگ ہندوستان سے پاکستان آئے، وہ کسی تفریحی سفر پر کراچی نہیں آئے تھے۔ ان میں سے لاکھوں نے اپنا گھر، جائیداد، کاروبار، زمینیں، خاندان، رشتے اور اپنے پیاروں کی قبریں تک چھوڑیں۔ انہوں نے پاکستان کو محض ہجرت کرکے نہیں اپنایا بلکہ اپنی ہجرت کی قیمت اپنی پوری سابقہ زندگی اور قیام پاکستان کی جدوجہد سے ادا کی۔
اور یہ لوگ خالی ہاتھ نہیں آئے تھے۔ ان میں اساتذہ، سرکاری افسر، ڈاکٹر، وکیل، انجینئر، صحافی، ریلوے اور بندرگاہی ماہرین، تاجر، صنعت کار، کاریگر اور مختلف شعبوں کے تعلیم یافتہ لوگ شامل تھے۔ ان لوگوں نے نئی مملکت کے ابتدائی انتظامی، تعلیمی، تجارتی اور صنعتی ڈھانچے کو چلانے میں اپنا کردار ادا کیا۔
یہی مہاجر قوم تھی جس نے ایک عام بندرگاہی شہر کو پاکستان کے سب سے بڑے معاشی و تجارتی مرکز اور معیشت کی ریڑھ کی ہڈی میں تبدیل کیا۔ ایسا اقتصادی انجن جو آج بھی پاکستان کی معیشت کا تقریباً پورا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہے۔
کراچی کے پہلے سے موجود infrastructure کا کریڈٹ پارسی، ہندو سندھی اور برطانوی دور کے شہری و انتظامی کرداروں کو ضرور دیں، مگر 1947ء کے بعد کراچی کی غیر معمولی آبادیاتی، معاشی اور شہری توسیع میں مہاجرین کے کردار کو مٹا دینا بھی بدترین تاریخی ناانصافی ہے۔
قمر زمان کائرہ صاحب! اگر سندھ کی گورننس واقعی اتنی ہی اچھی ہے جتنی آپ فرما رہے ہیں تو پھر کراچی کے صنعتکار، تاجر، شہری اور خود کراچی سے باہر سے آ کر یہاں بسنے والے لاکھوں لوگ جھوٹ بول رہے ہیں؟ کیا میڈیا بھی جھوٹ بول رہا ہے؟ کیا برسوں سے پانی، سیوریج، کچرے، ٹرانسپورٹ، سڑکوں اور بلدیاتی اختیارات کے لیے آواز اٹھانے والے سب لوگ بھی جھوٹ بول رہے ہیں؟
اور لاہور میں بھی گٹر ابلنے کی مثال دے کر سندھ کی بدانتظامی کا دفاع کرنا تو اس سے بھی عجیب منطق ہے۔ سوال یہ ہے کہ لاہور میں اگر گٹر ابلتا ہے تو کیا اس سے کراچی کے ابلتے گٹر ٹھیک ہوجاتے ہیں؟ اگر ایک صوبے میں کوئی خرابی ہے تو دوسرے صوبے کی خرابی اس کا جواز کیسے بن سکتی ہے؟
اصل سوال میڈیا کیمرہ کہاں لے کر جا رہا ہے، یہ نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ گٹر ابل کیوں رہے ہیں، پانی کیوں نہیں، کچرا کیوں نہیں اٹھ رہا، شہری ادارے بے اختیار کیوں ہیں اور کراچی سے حاصل ہونے والے وسائل کے باوجود کراچی کی حالت ایسی کیوں ہے؟
اور کائرہ صاحب، ہمیں بھی معلوم ہے کہ آپ کی سیاسی روٹیاں پیپلز پارٹی کے تنور سے پکتی ہیں، لیکن اس کے لیے کراچی کے لاکھوں شہریوں، صنعتکاروں، تاجروں اور یہاں آ کر آباد ہونے والے پاکستانیوں کو جھوٹا قرار دینا سیاسی دفاع نہیں، حقیقت سے فرار ہے۔
کراچی کے مسائل کیمرے نے پیدا نہیں کیے؛ کیمرے نے صرف وہ دکھایا ہے جسے برسوں سے اقتدار کی عینک چھپانے کی کوشش کرتی رہی ہے۔
پیپلز پارٹی کا ایک اور کارنامہ میرپورخاص میں مبینہ مالی بے ضابطگی کا انکشاف! کنزا بختاور کو لیٹر نمبر NO:DEO(ES&HS)/1388/2023 کے تحت 14 مئی 2024 کو PST کے عہدے سے ریلیو کیا گیا، مگر مبینہ طور پر اگست 2026 تک محکمہ تعلیم کی تنخواہ جاری رہی۔
اگست 2026 کی سیلری سلپ ملاحظہ فرمائیں
پیپلز پارٹی کا ایک اور کارنامہ میرپورخاص میں مبینہ مالی بے ضابطگی کا انکشاف! کنزا بختاور کو لیٹر نمبر NO:DEO(ES&HS)/1388/2023 کے تحت 14 مئی 2024 کو PST کے عہدے سے ریلیو کیا گیا، مگر مبینہ طور پر اگست 2026 تک محکمہ تعلیم کی تنخواہ جاری رہی۔
اگست 2026 کی سیلری سلپ ملاحظہ فرمائیں
دستاویزات کے مطابق یہ عورت گریجوایٹ ہے اور اسے سندھ میں ٹیچر بھرتی کر لیا گیا حقیقت میں بیچاری انڈر میٹرک ہے اس کے نام پر ناصرف کوئی تنخواہ وصول کرتا رہا بلکہ اسکے نام پر بنک سے قرضہ بھی لے کر غائب ہو گیا اب یہ بیچاری پولیس سے بھاگتی پھر رہی ہے یہ ایک نہیں کئی محکموں کا فراڈ ہے
آپ تو برا مان گئے۔۔
تارگٹ کلر وہاں ہو یہاں ہو لعنت۔
آپ نے اس وقت تک سرکاری پرائیویٹ نوکری نہیں لینی جب تک امریکہ کا ایک بھئ اصلی باشندہ بے روگار ہے۔
امریکیوں کے ٹیکس کے پیسے سے نہ علاج کروانا ہے نہ کوئی اور سہولت لینی ہے۔
آپ کو کوئی امریکی گالیاں دے تو کہنا بھائی تیرا حق ہے میں پناہ گیر ہوں۔
اپنے بتائے سنہری اصولوں پر چلنا ہے۔
یہاں ہم اپنے ساتھ رہنے والے سندھی بھائیوں سے معاملات خوش اسلوبی سے حل کرلیں گی۔
آپ اپنا دیکھیں۔
تجزیہ کار کامران خان نے کہا ہے کہ یہ حقیقت ہے کہ سندھ میں صوبے کی تقسیم کی مخالفت بہت مضبوط ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی یہ رائے بھی موجود ہے کہ پیپلزپارٹی کی اٹھارہ برس کی حکومت کے دوران عوام کو وہ بنیادی حق بھی نہیں مل سکا جو ان کو ملنا چاہیے تھا۔ اے آر وائی نیوزکے پروگرام آن مائی ریڈار میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا مسئلہ سندھ کو توڑنا نہیں بلکہ کراچی، حیدر آباد، لاڑکانہ، سکھر اور دوسرے علاقوں کو اپنے معاملات چلانے کیلئے حقیقی اختیار دینا ہے۔
#TOKAlert #Sindh
یہ چاول کی دیگ کا ایک دانہ ہے۔
پوری دیگ کا حال ہم جانتے ہیں۔
یقین نہ آئےتوآڈٹ پرراضی ہوجائیں ۔
ایک عورت جوبچاری ان پڑھ ہےاسےنوکری پرلگادیا۔ وہ سمجھی باقی سب کی طرح ووٹ چلاجائےگا صرف ۔ ۳ ہزار روپے بھی ملیں گے۔
اگلوں نے الٹا دس لاکھ قرض لے لیا اس کے نام
ووٹ تو پتہ نہیں کس کس کا