سپریم کورٹ کراچی رجسٹری
سینیئر پیونی جج جسٹس منیب اختر کی بطور قائم مقام چیف جسٹس سپریم کورٹ حلف برداری
جسٹس شفیع صدیقی نے قائم مقام چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس منیب اختر سے حلف لیا
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کے بیرون ملک قیام کے دوران جسٹس منیب اختر قائم مقام چیف جسٹس سپریم کورٹ فرائض انجام دینگے، اعلامیہ
The Deal with the Islamic Republic of Iran is now complete. Congratulations to all! I hereby fully authorize the toll free opening of the Strait of Hormuz, and, simultaneously herewith, authorize the immediate removal of the United States Naval blockade. Ships of the World, start your engines. Let the oil flow!
-From President Trump account
بریکنگ نیوز
سیکیورٹی فورسز کا بروقت اقدام، بارود سے بھرا لوڈر رکشہ ڈرون سے نشانہ بنا کر اڑا دیا گیا.
لوڈر رکشہ فتنۃ الخوارج افغانستان کا ایک دہشتگرد چیک پوسٹ پر حملے کے لئے لے کر جانا چاہتا تھا.
ہوشیار، خبردار !!!
⭕️ آزاد کشمیر میں امن و امان تباہ کرنے والے عناصر کیخلاف بڑے کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا گیا
⭕️ آج رات شرپسند عناصر کیخلاف بڑا کریک ڈاؤن کرنے کی تیاری کرلی گئی۔
⭕️ وہ عناصر جو دشمن کی زبان بولتے رہے اور عوامی زندگی مفلوج بناکر رکھ دی اُنکے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔
⭕️ خوف و ہراس پھیلانے اور قانون ہاتھ میں لینے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔
⭕️ فتنہ و فساد اور شرانگیزی پھیلانے والے افراد یا کسی بھی گروہ کیلئے زیرو ٹالرنس کا فارمولہ اپنایا جائے گا۔
⭕️جنہوں نے عوام کی زندگی اجیرن کی، نجی و سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا اور بغاوت کے مرتکب ہوئے اُنہیں کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔
اسلام آباد: آئندہ وفاقی بجٹ میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کا ٹیکس ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے، ذرائع وزارت خزانہ۔
پیٹرولیم سرچارج کی مد میں 1 ہزار 727 ارب روپے وصول کرنے کا پلان بھی بجٹ کا حصہ ہوگا۔
آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سے 72 ارب روپے ونڈ فال منافع واپس لینے کے لیے بھی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں، ذرائع۔
آئی ایم ایف کے ساتھ بجٹ مذاکرات کامیابی سے مکمل ہو چکے ہیں۔
آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے پر اتفاق ہوا ہے، ذرائع۔
ماہانہ 1 لاکھ سے 3 لاکھ روپے آمدن رکھنے والے افراد کے لیے ٹیکس میں ریلیف دیا جائے گا۔
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی بھی تجویز بجٹ کا حصہ ہے۔
ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق بجٹ 2027 کے اہداف بھی آئی ایم ایف کے ساتھ مشاورت سے طے کیے گئے ہیں۔
وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہو سکا۔
ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، امکان ہے کہ وفاقی بجٹ 8 یا 12 جون کو پیش کیا جائے گا۔
قومی اسمبلی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
دوسری جانب قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس ملتوی کر دیا گیا ہے۔
پنجاب اسمبلی کو پیپر لیس کردیا گیا،ایوان میں 371 آئی پیڈ نصب،ارکان اسمبلی اب آئی پیڈ پر ایجنڈا کھولا کرینگے،اس اقدام سے سٹیشنری کی مد میں کروڑوں روپے کی بچت ہوگی،اور احتجاج کے نام پر ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑنے کےلیے بھی دستیاب نہیں ہونگی۔مریم نواز کی نشست پر بھی آئی پیڈ نصب۔
اس شخص کی عمر دیکھیں اور کرتوت دیکھیں، شمالی علاقہ جات جاکر وہاں آئی خواتین سیاحوں کو ہراساں کررہا ہے۔ آئی ڈی سے انفارمیشن اکٹھی کی تو معلوم ہوا ہے کہ چک 236 جپہ، ضلع فیصل آباد کا رہائشی ہے۔ امید ہے اسکا نوٹس لیا جائیگا اور قانونی کاروائی کی جائیگی۔
@OfficialDPRPP@MaryamNSharif
گھوٹکی گاؤں وزیر چاچڑ | میں اپنے کھیتوں میں گھاس کاٹنے کے لیے گئی مجھے چار لوگوں نے شراب کے نشے میں والدین کے سامنے پکڑ کر زبردستی جسمانی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا مجھے دھمکیاں دی گئی تمہارے خاندان کو بھی ختم کردیں گے
بچی حوراں کی سکر میں پریس کانفرنس 💔
ایف بی اۤر نے گزشتہ 23 برس(مالی سال 2003-04 سے لیکر موجودہ مالی سال 2025-26 کے پہلے 10 ماہ) کے عرصے کے دوران عوام کی جیبوں سے تقریباً 84 ہزار ارب روپے مالیت کے بھاری ٹیکسز نکالے ہیں۔۔ مالی سال 2003-04 کے دوران ایف بی آر کا وصول شدہ ٹیکس 521 ارب روپے تھا، جو گزشتہ مالی سال 2024-25 کے دوران بڑھ کر 11744 ارب روپے ہوگیا۔۔یعنی صرف 22 برس کے عرصے میں عوام کی جیبوں سے نکلوایا گیا ٹیکس لگ بھگ 23 گنا بڑھ گیا۔۔۔۔یہ صرف ایف بی اۤر کی جانب سے عوام سے وصول کردہ ٹیکسز کی تفصیلات ہیں، ان میں صوبائی ٹیکسز/وصولیاں اور دیگر وفاقی فیسیں، وصولیاں اور پیٹرولیم لیویز/دیگر کئی قسم کی لیویز وغیرہ(نان ٹیکس ریوینیو) کے اعدادوشمار شامل نہیں۔۔اگر انکو شامل کرلیں تو ان 23 برسوں میں عوام سے وصول شدہ رقوم کی مالیت میں مزید ہزاروں ارب کا اضافہ ہوجاتا ہے۔۔۔دوسری جانب سٹیٹ بینک اۤف پاکستان کے جاری شدہ اعدادوشمار کے مطابق 84 ہزار ارب روپے کے ٹیکس دینے والی عوام کا یہ ملک مارچ 2026 تک 97307 ارب روپے کا مقروض بھی ہو چکا ہے اور صرف گزشتہ ایک برس کے عرصے میں ملک کے قرض میں 7533 ارب روپے کا بھاری اضافہ ہوا ہے۔۔۔