بنیادی طور پر پی ٹی آئی پاکستانی معاشرے میں ایک نیا فرقہ ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ ہر وہ شخص جو خان سے متفق نہیں، وہ چور، ڈاکو، بے ایمان اور منافق ہے۔ ہر وہ شخص جو خان کا حامی ہے پاک، پوتر اور پارسا ہے۔
Agreed 💯
ہمارا ملک بھی عجیب ہے یہاں مجرم کے چہرے کو کپڑے سے ڈھانپ دیا جاتا اور مظلوم (وکٹم) کی تصویریں لگا دیں جاتی ہیں
بنا اس بات کا احساس کیے کہ اس سے اہل خانہ کو کتنی تکلیف ہوگی
دوسری جنگِ عظیم میں جو جنگی جہاز واپس لوٹتے، اُن کے پروں اور دُم پر گولیوں کے سب سے زیادہ نشان ہوتے۔ فوج نے فیصلہ کیا: انہی حصوں پر زیادہ حفاظتی لوہا لگاؤ۔ منطقی لگتا ہے، نا؟ ایک ریاضی دان نے کہا: "بالکل غلط۔ لوہا وہاں لگاؤ جہاں ایک بھی نشان نہیں۔"
وہ ریاضی دان تھا ابراہام والڈ۔ اور اُس کی بات نے سوچنے کا ایک پورا انداز بدل دیا۔
والڈ نے ایک ایسی بات کی طرف اشارہ کیا جو سب کی نظروں سے اوجھل تھی۔ یہ نشان صرف اُن جہازوں پر تھے جو واپس لوٹ آئے۔ یعنی پروں اور دُم پر گولی کھا کر بھی جہاز اُڑ سکتا تھا۔ مگر جو جہاز انجن یا کاک پٹ پر گولی کھاتے، وہ کبھی واپس ہی نہیں آتے — اِسی لیے اُن حصوں پر "کوئی نشان نہیں" دکھتا تھا۔ اصل کمزور جگہ وہی تھی جہاں ڈیٹا خاموش تھا۔
اِسے "سروائیورشپ بایس" کہتے ہیں — یعنی صرف کامیاب یا بچ جانے والوں کو دیکھ کر نتیجہ نکالنا، اور اُن سب کو بھول جانا جو ناکام ہو کر منظر سے غائب ہو چکے۔ ہماری سب سے بڑی غلطیاں اکثر اُس ڈیٹا میں چھپی ہوتی ہیں جو ہمیں نظر ہی نہیں آتا۔
یہ فریب ہماری روزمرہ سوچ میں گہرا دھنسا ہوا ہے۔ ہم کہتے ہیں "فلاں ارب پتی نے تو کالج چھوڑ دیا تھا، تو ڈگری بے کار ہے۔" مگر ہم اُن لاکھوں لوگوں کو نہیں دیکھتے جنہوں نے کالج چھوڑا اور کہیں نہ پہنچے — کیونکہ اُن کی کوئی کہانی نہیں چھپتی۔ ہم صرف جیتنے والوں کی سرخیاں پڑھتے ہیں، اور ہارنے والوں کی خاموشی کو "ثبوت کی غیر موجودگی" سمجھ لیتے ہیں۔
یہی بایس ہمیں اپنی زندگی میں بھی دھوکا دیتا ہے۔ ہم کامیاب لوگوں کی عادتیں نقل کرتے ہیں — "وہ صبح 4 بجے اٹھتا تھا، اِس لیے میں بھی اٹھوں گا" — یہ بھولتے ہوئے کہ شاید ہزاروں ناکام لوگ بھی 4 بجے اٹھتے تھے۔ کامیابی کا اصل راز اکثر وہ ہوتا ہے جو کہانی میں نظر نہیں آتا: اتفاق، حالات، مدد، اور وہ بے شمار جو اُسی راستے پر چل کر بھی نہ پہنچ سکے۔
سوچنے کا سمجھدار طریقہ یہ ہے کہ ہر کامیابی کی کہانی کے پیچھے ایک سوال رکھیں: "جو لوگ یہی کر کے ناکام ہوئے، وہ کہاں ہیں — اور کیا میں اُنہیں دیکھ بھی پا رہا ہوں؟" سب سے اہم سچ اکثر وہاں چھپا ہوتا ہے جہاں ڈیٹا خاموش ہے۔
#الف_نگری
فادرز ڈے اُن خوش نصیبوں کو مبارک جن کے والد آج بھی اُن کے سائے کی طرح ساتھ ہیں۔
اور دعا اُن کے لیے, جنکے والد اس دنیا میں نہیں رہے۔ والد چلے جائیں تو عمر چاہے جتنی بھی ہو، انسان کے اندر ایک خلا ہمیشہ باقی رہتا ہے۔
اللہ تعالیٰ تمام مرحوم والدین کی مغفرت فرمائے اور زندہ والدین کو صحت، عزت اور لمبی زندگی عطا کرے۔ آمین ❤
ایک شخص نے اپنے بزرگ دوست سے پوچھا،
"آپ ستر سال سے زیادہ کے ہوگئے ہیں ، اب کیا محسوس کرتے ہیں ؟"
بزرگ مسکرائے، پھر آہستہ آہستہ بولے:
1. ساری زندگی دوسروں سے محبت کرتا رہا—ماں باپ، بہن بھائی، بیوی، بچے، دوست... اب جا کر سیکھا ہے کہ خود سے محبت کرنا بھی ضروری ہے۔
2. اب یقین آ گیا ہے کہ دنیا میرے کندھوں پر نہیں ٹکی ہوئی۔
3. میں سبزی والے سے مول تول نہیں کرتا۔ میرے چند روپے شاید اس کے بچے کی فیس یا دوا بن جائیں۔
4. ہوٹل میں ویٹر کو دل سے ٹِپ دیتا ہوں۔ میرے تھوڑے سے پیسے اس کی دن بھر کی تھکن کم کر سکتے ہیں۔
5. اب جب کوئی بزرگ وہی پرانی کہانی بار بار سنائے، تو میں غور سے سنتا ہوں۔ کیونکہ وہ الفاظ نہیں، یادیں ہوتی ہیں۔
6. جب کوئی غلطی کرے تو اب میں فوراً نہیں ٹوکتا۔ ہر کسی کو ٹھیک کرنا میری ذمےداری نہیں۔ سکون، درستی سے قیمتی ہے۔
7. اب میں دل سے دوسروں کی تعریف کرتا ہوں، اور اگر کوئی میری تعریف کرے تو بس "شکریہ" کہتا ہوں، انکار نہیں کرتا۔
8. قمیص پر شکن یا دھبہ ہو تو پروا نہیں۔ شخصیت بولتی ہے، لباس نہیں۔
9. جو میری قدر نہیں کرتا، میں خود دور ہوجاتا ہوں۔ مجھے معلوم ہے میری اہمیت کیا ہے۔
10. اگر کوئی مجھے دھوکہ دے کر آگے نکل جائے، تو میں مسکرا دیتا ہوں۔ کیونکہ میں نہ چوہا ہوں، نہ ہی کسی دوڑ میں شریک۔
11. میں اپنے جذبات چھپاتا نہیں۔ احساسات انسان ہونے کی پہچان ہیں۔
12. اب میں رشتوں کو انا پر قربان نہیں کرتا۔ کیونکہ تعلق زندہ رکھتے ہیں، انا تنہا کر دیتی ہے۔
13. ہر دن کو ایسے جیتا ہوں جیسے یہ میری زندگی کا آخری دن ہو۔ کیونکہ ہو سکتا ہے، واقعی آخری ہو۔
14. اب وہی کام کرتا ہوں جو میرے دل کو خوشی دے۔ میری خوشی، میری ذمہ داری ہے—اور میں خود کو یہ خوشی دینے سے محروم نہیں رکھ سکتا۔ خوشی ایک فیصلہ ہے، اور ہم جب چاہیں، وہ فیصلہ لے سکتے ہیں۔
.....
سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم ان باتوں کو سمجھنے کے لیے 70 سال انتظار کیوں کریں؟
کیوں نہ ابھی سے جینا سیک
ایک شخص نے اپنے بزرگ دوست سے پوچھا،
"آپ ستر سال سے زیادہ کے ہوگئے ہیں ، اب کیا محسوس کرتے ہیں ؟"
بزرگ مسکرائے، پھر آہستہ آہستہ بولے:
1. ساری زندگی دوسروں سے محبت کرتا رہا—ماں باپ، بہن بھائی، بیوی، بچے، دوست... اب جا کر سیکھا ہے کہ خود سے محبت کرنا بھی ضروری ہے۔
2. اب یقین آ گیا ہے کہ دنیا میرے کندھوں پر نہیں ٹکی ہوئی۔
3. میں سبزی والے سے مول تول نہیں کرتا۔ میرے چند روپے شاید اس کے بچے کی فیس یا دوا بن جائیں۔
4. ہوٹل میں ویٹر کو دل سے ٹِپ دیتا ہوں۔ میرے تھوڑے سے پیسے اس کی دن بھر کی تھکن کم کر سکتے ہیں۔
5. اب جب کوئی بزرگ وہی پرانی کہانی بار بار سنائے، تو میں غور سے سنتا ہوں۔ کیونکہ وہ الفاظ نہیں، یادیں ہوتی ہیں۔
6. جب کوئی غلطی کرے تو اب میں فوراً نہیں ٹوکتا۔ ہر کسی کو ٹھیک کرنا میری ذمےداری نہیں۔ سکون، درستی سے قیمتی ہے۔
7. اب میں دل سے دوسروں کی تعریف کرتا ہوں، اور اگر کوئی میری تعریف کرے تو بس "شکریہ" کہتا ہوں، انکار نہیں کرتا۔
8. قمیص پر شکن یا دھبہ ہو تو پروا نہیں۔ شخصیت بولتی ہے، لباس نہیں۔
9. جو میری قدر نہیں کرتا، میں خود دور ہوجاتا ہوں۔ مجھے معلوم ہے میری اہمیت کیا ہے۔
10. اگر کوئی مجھے دھوکہ دے کر آگے نکل جائے، تو میں مسکرا دیتا ہوں۔ کیونکہ میں نہ چوہا ہوں، نہ ہی کسی دوڑ میں شریک۔
11. میں اپنے جذبات چھپاتا نہیں۔ احساسات انسان ہونے کی پہچان ہیں۔
12. اب میں رشتوں کو انا پر قربان نہیں کرتا۔ کیونکہ تعلق زندہ رکھتے ہیں، انا تنہا کر دیتی ہے۔
13. ہر دن کو ایسے جیتا ہوں جیسے یہ میری زندگی کا آخری دن ہو۔ کیونکہ ہو سکتا ہے، واقعی آخری ہو۔
14. اب وہی کام کرتا ہوں جو میرے دل کو خوشی دے۔ میری خوشی، میری ذمہ داری ہے—اور میں خود کو یہ خوشی دینے سے محروم نہیں رکھ سکتا۔ خوشی ایک فیصلہ ہے، اور ہم جب چاہیں، وہ فیصلہ لے سکتے ہیں۔
.....
سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم ان باتوں کو سمجھنے کے لیے 70 سال انتظار کیوں کریں؟
کیوں نہ ابھی سے جینا سیک
اگر پاکستان کے 50 بڑے اینکرز کالمسٹ اور وی بلاگرز اپنے پچھلے 10 سال قبل کے اثاثہ جات اور اج کے اثاثہ جات کا اعلان کر دیں تو یہ بھی پاکستان کے سماجی ڈھانچے میں ایک بہت بڑی بنیادی تبدیلی کی وجہ بن سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔