@AimalWali ون یونٹ کی بات تو اکتوبر ۱۹۵۵ میں ہوٸ جبکہ تربیلہ ڈیم کی تکمیل ۱۹۷۶ میں ہوٸ اور ریکارڈز کے مطابق ون یونٹ کا اختتام جولاٸ ۱۹۷۰ میں ہو گیا تھا ۔ بات کچھ سمجھ نہیں آٸ
خیبر پختون خواہ میں انسداد دہشت گردی کی پالیسی پر کوئی سمجھوتہ پاکستان کی بقا کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا ��وبائی حکومتیں وفاق سے ہٹ کر سلامتی پالیسی نہیں چلا سکتین۔۔۔۔ان سے مشاورت تو کی جا سکتی ہے لیکن علیحدہ سیکورٹی پالیسی کی کوئی گنجائش نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خصوصی طور پہ ان حالات میں جب دہشت گردی کی حمایت میں دشمن ملک کا کردار واضح طور پہ سب کے علم میں ہو۔۔۔۔
مذاکرات میں ڈیڈ لاک ��ے ایک بات تو ثابت کر دی کے تحریک انصاف اور دہشت گردی ساتھ ساتھ ہیں ۔ آج پورا دن تو بات چیت میں ضائع ہو گیا لیکن یہ بات کھل کر سامنے آ چکی ہے کے تحریک انصاف نا دہشت گردی کے خلاف ریاست کی جنگ میں ساتھ دینا چاہتی ہے اور نا ہی اس کے خلاف کوئی ایکشن لینا چاہتی ہے کیونکہ اسی دہشت گردی کے معاملے پر وہ اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہے
لہذا آج اس ایکسرسائز سے یہ تو ثابت ہوگیا کے پچھلے تین سالوں سے جاری دہشت گردی کی جنگ سے لا تعلقی، بے حسی، اور اس سے بے دلی تحریک انصاف کا پارٹی ایجنڈا ہے اور یہ پارٹی دہشت گردوں اور ان سے جڑے معاملات میں ریاست کے ساتھ نہیں بلکہ دہشت گردوں اور انکے سہولت کاروں کے ساتھ ہیں۔
انڈیا کو افغان طلبہ کو ڈگریاں اور تعلیم کے مواقع فراہم کرنے چاہییں۔ یہ ان افغان طلبہ کا حق بنتا ہے۔
جو افغان میڈیکل طلبہ ملک بدر یا نکالے گئے ہیں، انہیں اپنی تعلیمی اور پیشہ ورانہ کیریئرز بھارت میں جاری رکھنے چاہییں، کیونکہ طالبان کے ایک وزیر کے مطابق وہ "ڈی این اے" کے رشتے میں جڑے ہوئے ہیں۔
یہ ہے پشاور کا وہ غیرت مند پاکستانی بزنس مین نوجوان اختیار حسین خان جس نے پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر زہر اگلنے والے نیپالی نوجوان بھکوان کمار کے خلاف ایسا قدم اٹھایا کہ معاملہ عدالت تک جا پہنچا۔ بتایا جارہا ہے کہ بھکوان کمار ملائیشیا میں رہتے ہوئے روزانہ ٹک ٹاک پر پاکستان کے خلاف ویڈیوز بناتا اور پاکستانی پرچم کی مبینہ بے حرمتی کرتا تھا۔ اختیار حسین خان نے خاموش بیٹھنے کے بجائے دن رات ایک کرکے اس نوجوان کا پتہ معلوم کیا اور اس کے خلاف موجود ثبوت اکٹھے کیے۔ اس کے بعد وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ متعلقہ پولیس کے پاس پہنچ گئے اور تمام شواہد پولیس کے حوالے کردیے۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے بھکوان کمار کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا۔ اطلاعات کے مطابق عدالت نے اسے سات سال قید اور 25 ہزار ملائیشین رنگٹ جرمانے کی سزا سنادی۔ پشاور کے اس نوجوان نے ثابت کردیا کہ ملک سے محبت صرف نعروں کا نام نہیں بلکہ جب اپنے وطن کی عزت پر بات آئے تو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے آواز اٹھانا بھی حب الوطنی ہے۔
#suggestedforyou #cricket #golditalkshok
@_AzeemButt قومی ایشوز پر کوئی بات نہیں، لوگوں کے مسائل اور انکے حل پر کوئی بات نہیں، پاکستان کے لوگوں کی خواہشات، خوشیوں اور اچیومنٹس پر کوئی بات نہیں۔ کیا پاکستان کے میڈیا کا کام صرف سیاستدانوں سے بحث تک محدود ہے حتی کہ اپنی غلط خبر پر معذرت یا شرمندگی تک نہیں ۔ غیر ذمہ دار صحافت
@_AzeemButt سیاستدانوں کا دامن بھی صاف نہیں ہوتا لیکن میڈیا میں رہ کر صحافت صرف حکومت اور سیاستدانوں کے بارے میں چٹ پٹی خبریں دینا اور ان کو سامنے بٹھا کر ان کو آئینہ دکھانے کا نام نہیں۔ ہمارے ہاں جس مرضی کہ تجزیہ کار بنا کر بٹھا دو وہ اپنی خواہشات کو ذرائع کا نام دے کر جو چاہیں کہہ ڈالیں
@KeepsamM یہی اعزاز سید صاحب کچھ عرصہ قبل اپنے ولاگ میں پاکستان میں موجود افغانیوں کو شہریت دلوانے کے لیے مرے جا رہے تھے ۔ غلطی انسان سے ہو جاتی ہے اپنی غلطی کا اعتراف کر کے اور معذرت کر کے انسان آئندہ محتاط ہو جاتا ہے مگر جب آپ میں “میں” ذیادہ ہو جاۓ تو آپ ہمیشہ بونگیاں ہی مارتے ہیں
حماد حسن صاحب، سیکیورٹی، امن اور بارڈر مینجمنٹ کے معاملے پر پنجاب اور خیبر پختونخوا کا موازنہ کرنے کے لیے چند اہم اور بنیادی حقائق کو سمجھنا ضروری ہے۔ پنجاب کی محفوظ صورتحال کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ وہاں کسی بھی غیر ملکی یا مقامی دہشت گرد گروہ کو لاجسٹک سپورٹ، محفوظ پناہ گاہ اور مقامی آبادی سے رہائش یا ریکی کی سہولت میسر نہیں آتی۔ پنجاب میں شہری اور دیہی سطح پر اگر کوئی مشکوک شخص آ کر ٹھہرتے ہیں تو بائیو میٹرک رجسٹریشن، کرایہ داری فارمز اور مقامی انٹیلی جنس کے مضبوط نظام کی وجہ سے وہ فوراً قانون کی گرفت میں آ جاتے ہیں۔ وہاں کا عام شہری یا زمیندار چند ہزار روپے یا سیاسی و مذہبی اثر و رسوخ کی خاطر اپنے علاقے میں بارود یا دہشت گردوں کو پناہ نہیں دیتا۔اس کے برعکس، خیبر پختونخوا کے چند مخصوص علاقوں ، خصوصاً شمالی و جنوبی وزیرستان، بنوں کے مضافاتی دیہات، باجوڑ کی دو تحصیلوں لوئے ماموند اور وڑکے ماموند، اور خیبر کی وادیِ تیراہ میں ہر سطح پر ہونے والی مقامی سہولت کاری ایک ننگا سچ ہے۔ جب تک اندرونی سہولت کار راستہ نہ دکھائے، ریکی نہ کرے، اور اپنے گھر کا دروازہ نہ کھولے، تب تک سرحد پار سے آنے والا کوئی بھی شرپسند اتنی آسانی سے مقامی آبادی میں گھس کر کارروائی نہیں کر سکتا۔ آپ کو سینئر صحافی فخر کاکا خیل کا انٹریو ضرور سننا چاہیے ،فخر کاکا خیل نے جس نقطے کی طرف اشارہ کیا تھا، وہ تاریخ کا ریکارڈ ہے۔ اگر تحریکِ طالبان پاکستان اور دیگر کالعدم تنظیموں کے مرکزی اور علاقائی قوماندانوں کی فہرست دیکھی جائے تو ان کا تعلق انہی مخصوص علاقوں سے رہا ہے، جہاں انہیں نہ صرف مقامی طور پر سیکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیوں کے لیے افرادی قوت ملی بلکہ ہر قسم کا تحفظ بھی فراہم کیا گیا۔ ملا فضل اللہ، مولوی فقیر محمد، عمر خالد خراسانی، طارق آفریدی، منگل باغ، بیت اللہ محسود، عبداللہ محسود، خان سید سجنا، حکیم اللہ محسود، موجودہ سرغنہ مفتی نور ولی محسود، عدنان رشید، حافظ گل بہادر اور شہریار محسود شامل ہیں۔ یہ تمام چہرے ہمارے خیبر پختونخوا سے ابھرے، انہوں نے اپنے ہی لوگوں کے بچوں کے ذہن آلودہ کیے اور انہی علاقوں میں ان کے تر��یتی کیمپ اور سہولت کار موجود رہے۔پنجاب کا امن کوئی اتفاقی معجزہ یا غیب سے نازل شدہ تحفہ نہیں ہے۔ جب پنجاب کے مختلف شہروں میں حملے ہوئے، تو انہوں نے اپنے سیکیورٹی انفراسٹرکچر پر انقلابی کام کیا۔ پنجاب نے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ یعنی سی ٹی ڈی کو روایتی پولیس کے اثر سے آزاد کر کے ایک جدید، ٹیکنالوجی سے لیس اور خود مختار انٹیلی جنس ادارے میں ڈھالا۔ انہوں نے فرقہ وارانہ اور کالعدم تنظیموں کے تمام پرانے نیٹ ورکس کے سلیپر سیلز کو مکمل طور پر نیوٹرلائز کیا۔ تمام بڑے شہروں کو سیف سٹی پروجیکٹس، نائٹ ویژن کیمروں، اور انٹیگریٹڈ کمانڈ سینٹرز سے جوڑا گیا جس سے بارود یا ہتھیاروں کی نقل و حرکت ناممکن بنا دی گئی۔ اس کے مقابلے میں خیبر پختونخوا کے اندر پولیسنگ اور بالخصوص سرحدی و قبائلی اضلاع میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس طرز پر نہ تو ٹیکنالوجی سے لیس کیا گیا اور نہ ہی سیاسی و مقامی مداخلت سے پاک مستقل بااختیار ��ی ٹی ڈی نظام قائم کیا جا سکا۔مشرقی سرحد پر خطرہ بھارت کی باقاعدہ فوج سے ہے جہاں بین الاقوامی سرحد پر دو منظم ریاستوں کی افواج باقاعدہ باڑ، لائٹنگ اور چیک پوسٹوں کے ساتھ آمنے سامنے کھڑی ہیں، اور وہاں بارڈر پار سے غیر ریاستی عناصر کا گوریلا انداز میں گھس آنا ممکن نہیں۔ اس کے برعکس مغربی سرحد 2600 کلومیٹر طویل انتہائی دشوار گزار پہاڑی سلسلے پر مشتمل ہے، جہاں دوسری طرف دہائیوں سے عدم استحکام کا شکار افغانستان ہے جہاں ٹی ٹی پی کے محفوظ ٹھکانے قائم ہیں۔ اس دشوار گزار ماحول میں جب تک اندر سے چند ٹکوں کے عوض سہولت کاری کرنے والی کالی بھیڑیں موجود رہیں گی، تب تک سیکیورٹی فو��سز کے لیے اس فتنے کا مکمل خاتمہ ایک بڑا چیلنج رہے گا۔ پنجاب کا غیور جوان بھی اسی ملک کا بیٹا ہے جو فتنۃ الہندوستان اور خوارج دونوں کے خلاف اگلے مورچوں پر جانوں کا نذرانہ دے رہا ہے۔ امن محض جذباتی تقاریر یا مظلومیت کے بیانیے سے قائم نہیں ہوتا، بلکہ اپنے ��ندر موجود سہولت کاروں کی نشاندہی کرنے، پولیس اور سی ٹی ڈی کو پنجاب کی طرز پر جدید و بااختیار بنانے، اور اندرونی سلیپر سیلز کے خلاف بلاامتیاز آپریشن کرنے سے قائم ہوتا ہے۔
@BBCUrdu ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان میں ہونے والے ہزاروں دہشتگرد حملوں کی تحقیقات تو دور کی بات آج تک مذمت نہیں کی اور افغانستان پر اس حملے کو جنگی جرم بنا کر تحقیقات کی بات کرتے ہیں جہاں طالبان نے کسی میڈیا کو کوئ رسائ تک نہ دی یہ تو ایمنسٹی انٹرنیشنل آف ٹیررزم بن رہا ہے واہ
@ASNsharif کیسا پس منظر جب بھی مدارس کو رجسٹرڈ اور ریگیولرائز کرنے کی بات ہو ، جب بھی دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کی بات ہو ، کسی کرپشن کا کیس ہو فضل الرحمن صاحب ایسا ہی رویہ اختیار کرتے ہیں - آپ یا تو دہشتگردوں کے ساتھ ہیں یا ان کے خلاف - یہ سراسر منافقت اور بدیانتی ہے
@RShahzaddk یا تو آپ دہشتگردوں کے ساتھ ہیں یا ان کے خلاف لڑتے قوم کے جوانوں کے ساتھ - فضل الرحمن منافقت کے اعلی درجے پر فائز ہیں - چالیس ہزار لے کے جان دینے کو چھوڑیں اپنے خاندان کے ساتھ بغیر اسلحے اور گارڈز اپنے شہر میں نکل کر دکھا دیں - شہید اللہ کے لیے اور وطن کے لیے جان دیتا ہے شرمناک