“The large turnout of the people at Charsadda, Khyber, and Karak Jalsas indicate an increasing public awareness and a shared commitment to protecting their rights. I extend my appreciation to all the organizers for successfully continuing the public outreach campaign in an exemplary manner.
Pakistan Tehreek-e-Insaf, in collaboration with the Tehreek Tahaffuz-e-Aaeen-e-Pakistan (Movement for the Protection of Pakistan’s Constitution), must now accelerate the struggle for true freedom.
The continued delay in issuing notifications for Mahmood Khan Achakzai and Allama Raja Nasir Abbas as Leaders of the Opposition is deeply concerning. I demand that they be immediately notified as Leaders of the Opposition in the Senate and the National Assembly, respectively.
Today once again, in defiance of Islamabad High Court orders, my lawyers, family, and the Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa were denied permission to meet me and were turned away. This is not only a blatant violation of fundamental human rights but also a clear contempt of court. The hearings of the unfounded cases against me are nearing conclusion, after which I will likely be placed in solitary confinement once again.
I direct all party workers and senior lawyers to immediately approach the superior judiciary and file petitions against this open contempt of court. Likewise, regarding the delaying tactics being used in the Al-Qadir Trust case, I instruct that legal action be taken, and a hearing date must be secured before leaving the court premises.
I direct Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa Sohail Afridi to establish a compact, need-based cabinet. The selection of ministers is entirely his prerogative, as I have proposed no names.
To avoid any confusion or miscommunication, all instructions and correspondence concerning the party matters shall be conveyed solely through the Secretary General, Salman Akram Raja.
Lastly, I wish to make it clear that Ahmad Chattha and Bilal Ejaz are my long-standing and loyal companions. They have stood by me with unwavering loyalty and made tremendous sacrifices. I have not issued any orders for their removal.”
Former Prime Minister Imran Khan’s message from Adiala Jail, conveyed through his sister - October 28, 2025
"چارسدہ، خیبر اور کرک کے جلسوں میں عوام کی بھرپور شرکت قوم کے شعور اور اپنے حقوق کے دفاع کے عزم کی عکاس ہے۔ عوامی رابطہ مہم کو بہترین انداز میں جاری رکھنے پر میں جلسے کے تمام منتظمین کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ تحریک انصاف کو تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ساتھ مل کر حقیقی آزادی کی تحریک کو مزید تیزی سے آگے بڑھانا چاہییے۔
محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کے بطور اپوزیشن لیڈرز تا حال نوٹیفکیشنز جاری نہ ہونا باعثِ تشویش ہے۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ انہیں فوری طور پر سینیٹ اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کے طور پر نوٹیفائی کیا جائے۔
آج ایک بار پھر میرے وکلاء، میری فیملی اور خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے آرڈرز کے باوجود مجھ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی اور انہیں واپس لوٹا دیا گیا جو کہ ناصرف بنیادی انسانی حقوق بلکہ عدالتی احکامات کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ میرے خلاف قائم بے بنیاد مقدمات کی سماعتیں بھی اپنے آخری مراحل میں ہیں، جس کے بعد ممکنہ طور پر مجھے ایک بار پھر قیدِ تنہائی میں ڈال دیا جائے گا۔
میں پارٹی کے تمام کارکنان اور سینئر وکلاء کو ہدایت دیتا ہوں کہ اس کھلی توہینِ عدالت کے خلاف فوری طور پر اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کریں اور پٹیشنز دائر کریں۔ اسی طرح القادر ٹرسٹ کیس میں تاخیری حربوں کے حوالے سے بھی ہدایت کرتا ہوں کہ اس کے خلاف بھی عدالت سے رجوع کیا جائے اور سماعت کی تاریخ لیے بغیر عدالت سے باہر نہ آئیں۔
وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے لیے میری ہدایت ہے کہ صوبے کی ضرورت کے مطابق خود اپنی مختصر کابینہ تشکیل دیں۔ میں نے کابینہ کے لیے کوئی بھی نام تجویز نہیں کیا، سہیل آفریدی کے پاس اپنی مرضی کی ٹیم چننے کا مکمل اختیار ہے۔
پارٹی سے متعلق تمام ہدایات اور پیغامات صرف سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے ذریعے ہی جاری کئے جائیں تاکہ کسی قسم کی کنفیوژن یا غلط فہمی سے بچا جا سکے۔
آخر میں، میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ احمد چھٹہ اور بلال اعجاز میرے پرانے اور وفادار ساتھی ہیں۔ یہ میرے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور انہوں نے بہت قربانیاں دی ہیں، میں نے ان کی برطرفی کے کوئی احکامات جاری نہیں کیے”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنی ہمشیرہ کے ذریعے دیا گیا پیغام (28 اکتوبر، 2025)
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں صحافیوں اور وکلاء سے گفتگو:
“جنگل کے بادشاہ نے خود کو آئین و قانون سے اوپر رکھ لیا ہے۔ چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ سمیت ہر ادارے کو زیر کر کے ایک شخص کی بادشاہت کا تسلسل قائم رکھنے کے لئے دس سال کے لئے ملک میں آمریت نافذ کر دی گئی ہے۔ ریاستی دہشت گردی کے زریعے ملک میں خوف پھیلایا جا رہا ہے۔ ہمیں ڈرا دھمکا کر ناجائز حکومت کو تسلیم کرنے کا کہا جا رہا ہے۔
ایجینسیوں کو ان کے اصل کام سے ہٹا کہ تحریک انصاف کے پیچھے لگا دیا گیا ہے، جس سے قومی ادارے فوج کا تاثر تباہ ہو رہا ہے۔ پورے ملک کو بند کر دیا گیا۔ اسلام آباد سے باقی صوبوں کا راستہ کاٹا گیا، اسلام آباد پہنچنے والی نہتی عوام پہ گولی چلائی گئی۔ ہمارے لوگوں کے ساتھ ظلم کیا گیا، سیدھی گولیاں مار کر شہید کیا گیا۔ ان کے گھروں اور خاندانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کی توہین کی گئی-
ملک میں صوبائیت کی آگ بھڑکائی جا رہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے اسلام آباد میں پختونوں کو نسلی بنیاد پہ نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس کی بھر پور مذمت کرتے ہیں- تحریک انصاف وفاقی جماعت ہے جس نے پورے پاکستان کو جوڑ کر رکھا ہوا ہے- میں اپنی قوم کو ہدایت کرتا ہوں کہ حکومتی شرپسند عناصر کی کسی بھی کوشش کے باوجود آپ نے متحد رہنا ہے۔ ہم سب کسی بھی نسل سے بالاتر ہو کر صرف پاکستانی ہیں!
جب بھی ہماری جماعت احتجاج کرنے کا اعلان کرتی ہے۔ میرے اوپر جیل کے اندر مزید پرچے کر دئیے جاتے ہیں۔
مجھے بتایا گیا ہے کہ ہمارے کئی لوگ اب تک مسنگ ہیں جن کی زندگی کے بارے میں ہمیں شدید تحفظات ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت جلد از جلد گرفتار شہریوں اور ہسپتالوں اور سردخانوں میں لائے گئے زخمی اور شہید افراد کا ڈیٹا شائع کرے اور ہسپتالوں اور سیف سٹی کا CCTV کیمروں کا ڈیٹا بھی محفوظ بنایا جائے تاکہ سچ قوم کے سامنے آئے-
ہمارے دو مطالبات ہیں،
• سپریم کورٹ کے سینئر ترین ججز کے نیچے 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی آزادانہ تحقیقات کے لئے کمیشن بنایا جائے
- ناحق قید سیاسی اسیران کو رہا کیا جائے
مذاکرات کے لئے عمر ایوب کی سربراہی میں کمیٹی بنا دی ہے۔ اگر مطالبات نہ مانے گئے تو سول نافرمانی، ترسیلات زر میں کمی اور بائیکاٹ کی تحریک شروع کی جائے گی۔”
“Every Pakistani should study the Hamood ur Rahman Commission Report and get to know who was the true traitor, General Yahya Khan or Sheikh Mujibur Rahman.” - Founding Chairman PTI Imran Khan
#غدار_کون_تھا
اُس نے اِس ملک پر اپنی کُل کائنات وار دی مگر اس مملکتِ خداداد میں اس کی دہائی سننے والا ایک نہ ملا۔ ایک ماں اپنی اولاد کے لیے انصاف مانگتے مانگتے مر گئی۔
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو:
“حکومت کو اتوار، 22 دسمبر تک کا وقت دیا ہے، اگر کل تک حکومت نے ہمارے مطالبات پر سنجیدگی نہیں دکھائی تو ہماری سول نافرمانی کی تحریک کا پہلا مرحلہ یعنی ترسیلات زر کا بائیکاٹ شروع ہو جائے گا، جس کی اس نااہل حکومت کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ انہیں اندازہ نہیں کہ سول نافرمانی کی تحریک اس جعلی حکومت کے لیے کتنی مہلک ثابت ہو گی۔ اگر حکومت ہمارے مطالبات پر سنجیدہ ہے تو فوری طور پر مذاکرات کا آغاز کرے۔
اسلام آباد قتل عام کو ایک ماہ ہوگیا ہے اور کوئی مہذب معاشرہ ہوتا تو قاتل اپنے انجام کو پہنچ چکے ہوتے جبکہ یہاں ایک جوڈیشل کمیشن تک نہیں بن سکا- ہمارے کئی لوگ گمشدہ ہیں، جب تک ہمارے لاپتہ لوگوں کی تصاویر کے ساتھ تفصیلات نہیں شئیر کی جاتیں کہ وہ کہاں کہاں ہیں تب تک حکومت کی کسی بات پر یقین نہیں کریں گے-
ملٹری کورٹس کے ذریعے سیاسی ورکروں کو سزائیں دینے سے ںہتر ہے کہ ملک میں لگے مارشل لاء کا باقاعدہ اعلان کر دیا جائے- 9 مئی کے ذمہ دار وہ ہیں جنہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیجز چوری کیں- جنہوں نے لوگوں پر گولیاں چلائیں وہی جج جیوری اور جلاد بنے سزائیں بھی سنا رہے ہیں۔ یہ جمہوریت نہیں جنگل کا قانون ہے-
ہمارا دوسرا مطالبہ 9 مئی کی آزادانہ تحقیقات ہیں جس کے لیے ہم بارہا سپریم کورٹ سے بھی مطالبہ کر چکے ہیں- 9 مئی کو بھی ہمارے دو درجن سے زائد کارکنان کو گولیاں برسا کر قتل کر دیا گیا تھا۔ 15 کی تفصیلات ہم نے پبلک کیں۔ مزید براں ہمارے سینکڑوں کارکنان کو اس دن گولیاں ماری گئی تھیں- کسی ایک فوجی یا پولیس والے کی جان نہیں گئی تو دہشتگردی کیسے ہوئی؟ کیا نہتی عوام کا پرامن احتجاج دہشتگردی کے زمرے میں آتا ہے یا ان پر سیدھی گولیاں برسانا؟
مجھے معلوم ہے القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے کیس کا فیصلہ کیا آنا ہے، یہاں سارے فیصلے پہلے سے لکھ کر آتے ہیں- میرے خلاف اڈیالہ جیل میں تین فیصلے سنائے گئے تینوں فیصلے اعلیٰ عدالتوں میں ختم ہوگئے کیونکہ سارے کیسز جھوٹے اور بے بنیاد تھے- حکومت کی غیر سنجیدگی سے میرا نہیں ملک کا نقصان ہورہا ہے-
لوگوں کے گھروں میں ماتم ہورہا ہے، ہمارے لوگوں کی اگر کوئی مجبوری ہو تو بند کمرے میں مذاکرات کریں، 26 نومبر قتل عام کے قاتلوں اور سہولتکاروں کے ساتھ تصاویر نہیں بنانی چاہیں۔
ہمارے جو لوگ گرفتار کئے گئے ہیں انہیں سخت سردی میں اٹک جیل میں تمبووں میں رکھا گیا ہے جو کہ ناصرف قانون بلکہ انسانیت کے بھی خلاف ہے۔ ہمارے ILF وکلأ کی ٹیمز مزید متحرک ہو کر ان کو ریلیف دلوائیں-
ہمیں امید تھی کہ قاضی فائر عیسیٰ کے جانے کے بعد ہمیں سپریم کورٹ سے انصاف ملے گا لیکن مافیا نے ممبران پارلیمنٹ کے اغوا کے ذریعے آئین میں ترمیم کرکے عدلیہ پر قبضہ کرلیا اور اب عدلیہ کو سیاسی انتقامی کاروائی کے لئے استعمال کیا جارہا ہے- پاکستان صرف سرمایہ کاری سے بچ سکتا ہے لیکن پاکستان میں اس وقت قانون کی حکمرانی نہ ہونے کی وجہ سے کوئی سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں اور دن بدن حالات بدتر ہوتے جا رہے ہیں- ملکی مفاد شخصی انا اور ایکسٹینشن کی بھینٹ چڑھ رہا ہے۔ حالات کی بہتری کا صرف ایک ہی ذریعہ ہے کہ اقتدار عوام کی نمائندہ جماعت کو سونپا جائے تاکہ سیاسی اور نتیجتاً معاشی استحکام کی راہ ہموار کی جا سکے۔”
Former Prime Minister Imran Khan's message to the Pakistani nation from Adiala Jail – December 17th, 2024:
Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) has always operated within the constitution and the law, but the mafia that has imposed itself on our country continually violates the law and the constitution. The establishment of judicial commissions to investigate the events of May 9th (2023) and November 26th, and the release of undertrial prisoners are our legitimate demands.
I am postponing the (proposed) civil disobedience movement, during which I will define the framework and timeline of the movement.
There are seven reasons why it has become necessary for us to start a civil disobedience movement:
1- In 2023, under the London Plan, elections to the Punjab and Khyber Pakhtunkhwa provincial assemblies were not held within 90 days, contrary to the constitution, because the aim was to eliminate PTI before holding elections.
2- More than one hundred and forty cases were filed against me before May 9th (2023). Paramilitary Rangers kidnapped me from Islamabad, which the Supreme Court later declared illegal. May 9th was a false-flag operation, the aim of which was to arrest our people. Ten thousand people were arrested and jailed on trumped-up charges. Our party workers and leaders were tortured, their homes were ransacked, their families were harassed. As soon as they obtained bail from the courts, they were rearrested in new false cases. From my abduction to the torture and arrests of party workers, everything was illegal and unconstitutional.
A petition was filed in the Supreme Court against these atrocities, but the Supreme Court did not pay any attention to these horrific violations of human rights. Qazi Faez Isa was in cahoots with the imposed government. No party has ever been subjected to such state oppression since 1971.
3- Because of all the illegal and undemocratic tactics that were employed, they were under the delusion that PTI could not win the February 8th elections. Sikandar Sultan Raja and Qazi Faez Isa worked together to take away our party symbol, which was tantamount to banning the party. Our candidates were targeted. As many as three candidates in a constituency were forced to withdraw from elections.
4- They were so sure of winning the elections through engineering that Nawaz Sharif was even prepared to deliver his victory speech. But before he could, they realized that PTI had won. Then they committed Form-47 election fraud. The testimony of the Commissioner of Rawalpindi confirmed this fraud. But even after that, the justice system remained a silent bystander, and no action was taken.
5- Although every oppressive and immoral tactic to take over the justice system was employed in the two-and-a-half years since regime change, the 26th Constitutional Amendment became the final nail to be hammered into the coffin of the independence of the judiciary. The Constitution was tampered with to pack the courts with hand-picked judges. The tactics used to pass these amendments (through parliament) were a farcical exercise. Despite that, neither the judiciary took any action nor did the media, considered the fourth pillar of the state, have the moral courage to raise its voice.
6- Despite a decision of the full court of the Supreme Court, reserved seats have not yet been allocated to PTI. This is not only contempt of court but also an insult of the public mandate and an assault on democracy.
7. On November 26th, bullets were rained down on our peaceful and unarmed political workers. Our party workers were completely peaceful and did not harm anyone. Their demand was the restoration of democracy and the constitution. There was neither a breakdown in law-and-order, nor was there violence. But, despite this, our people were martyred. 12 people were shot dead before sunset and the rest were gunned down at night in the dark after the electricity was turned off.
1/2
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پاکستانی قوم کے نام پیغام:
“تحریک انصاف نے ہمیشہ آئین اور قانون کے مطابق جدوجہد کی ہے مگر ملک پر مسلط مافیا ہمیشہ آئین و قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے- 9 مئی اور 26 نومبر کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کا قیام اور انڈر ٹرائل اسیران کی رہائی ہمارے جائز مطالبات ہیں-
میں سول نافرمانی کی تحریک چند دنوں کے لیے مؤخر کر رہا ہوں، اس دوران تحریک کے خدوخال اور ٹائم لائن کا فیصلہ کروں گا-
سات ایسی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے ہمارےلیے سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنا ضروری ہو چکا ہے:
۱۔ 2023 میں لندن پلان کے تحت پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے الیکشن آئین کے برخلاف 90 دن کے اندر نہیں کرائے گئے۔ کیونکہ الیکشن سے پہلے تحریک انصاف کو ختم کرنا مقصد تھا۔
۲- نو مئی سے پہلے ہی مجھ پر ایک سو چالیس سے ذائد مقدمات بنا دئیے گئے تھے۔ رینجرز نے مجھے اسلام آباد سے اغواء کیا جس کو سپریم کورٹ نے غیر قانونی قرار دیا۔ نو مئی ایک فالس فلیگ آپریشن تھا جس کے تحت ہمارے لوگوں کو گرفتار کرنا مقصد تھا۔ دس ہزار افراد کو گرفتار کر کے جھوٹے مقدمات میں جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ ہمارے کارکنان اور پارٹی رہنماؤں پہ تشدد کیا گیا ان کے گھروں کو توڑا گیا۔ ان کے خاندانوں کو ہراساں کیا گیا۔ ان کو عدالتوں سے ضمانت ملتے ہی کسی نئے جھوٹے پرچے میں گرفتار کر لیا جاتا۔ میرے اغوا سے لے کر کارکنان پہ تشدد، گرفتاریاں سب کچھ غیر قانونی اور غیر آئینی تھا۔
اس ظلم کے خلاف سپریم کورٹ میں پیٹیشن دائر کی لیکن سپریم کورٹ نے انسانی حقوق کی ان بدترین خلاف ورزیوں کا نوٹس تک نہ لیا۔ قاضی فائز عیسیٰ حکومت کے ساتھ ملا ہوا تھا۔ 1971 کے بعد کبھی کسی پارٹی پر اس طرح کا ریاستی جبر نہیں کیا گیا۔
۳- تمام غیر قانونی و غیر جمہوری حربوں کے بعد ان کو غلط فہمی تھی کہ 8 فروری کو تحریک انصاف الیکشنز نہیں جیت سکتی۔ سکندر سلطان راجہ اور قاضی فائز عیسیٰ نے مل کے پارٹی نشان چھینا جو پارٹی کو بین کرنے کے مترادف تھا۔ ہمارے امیدواروں کو نشانہ بنایا گیا۔ تین تین امیدواروں کو زبردستی الیکشن سے دستبردار کرایا گیا۔
۴-ان کو انجینئرنگ کے ذریعے الیکشن جیتنے کا اس قدر یقین تھا کہ نواز شریف اپنی وکٹری سپیچ بھی کرنے کو تیار تھا لیکن تقریر سے پہلے ان کو پتہ چلا کہ تحریکِ انصاف الیکشن جیت گئی ہے۔ پھر انہوں نے فارم-47 کے زریعے الیکشن فراڈ کیا۔ کمشنر راولپنڈی نے اس فراڈ کو کنفرم کیا اور گواہی دی۔ لیکن اس پر بھی نظام انصاف خاموش رہا اور کوئی نوٹس نہ لیا گیا۔
۵۔ اس رجیم چینج کے بعد کے ڈھائی سالوں میں یوں تو انصاف کے نظام پر قبضے کے لیے ہر جابرانہ اور غیر اخلاقی حربہ استعمال کیا گیا لیکن چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدالتوں کی آزادی کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دیا گیا۔ اپنی مرضی کے جج لگانے کے لیے آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا۔ اس ترمیم کی منظوری کے لیے جو حربے استعمال کئے گئے وہ بھی ایک مضحکہ خیز داستان ہے، لیکن اس سارے معاملے پر بھی نہ عدلیہ نے کوئی نوٹس لیا نہ ریاست کا چوتھا ستون سمجھے جانے والے میڈیا میں اس کےخلاف آواز بلندکرنے کی اخلاقی جرات تھی۔
۶-سپریم کورٹ کے فل کورٹ کے فیصلے کے باوجود تحریکِ انصاف کو آج تک مخصوص نشستیں نہیں دی گئیں۔ یہ نہ صرف توہین عدالت ہے بلکہ عوامی فیصلے کی توہین اور جمہوریت پر شب خون بھی ہے۔
۷۔ 26 نومبر کو ہمارے پرامن اور نہتے سیاسی کارکنان پہ گولیاں برسائی گئیں۔ ہمارے کارکنان مکمل طور پہ پر امن تھے انہوں نے کسی کو نقصان نہیں پہنچایا تھا۔ ان کا مطالبہ آئین اور جمہوریت کی بحالی تھا- نہ تو لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال تھی نہ ہی کوئی اور پر تشدد کاروائی ہوئی لیکن اسکے باوجود ہمارے لوگ شہید کئے گئے۔ 12 لوگ مغرب سے پہلے شہید کئے گئے اور باقیوں کو رات بجلی بند کر کے گولیاں ماری گئیں۔
ان حالات میں جب پاکستانیوں سے تمام آئینی حقوق چھین لیے گئے ہیں، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ پر قبضہ کر لیا گیا ہے، پرامن احتجاج کا حق چھین لیا گیا ہے، قانون اور آئین کی بنیادیں ہلا دی گئی ہیں، اپنے ہی شہریوں پر گولیاں چلائی جا رہی ہیں، اداروں کو عوام کے مقابلے میں لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں تو سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنا قوم کی مجبوری بن چکی ہے-
اس کے علاوہ اپوزیشن لیڈران کو جیل میں ملاقات کے لئے ویلکم کرتا ہوں۔ پر مجھے اس حکومت سے امید نہیں ہے کہ وہ اپوزیشن لیڈران کو مجھ سے ملاقات کی اجازت دیں گے۔ کیونکہ انہوں نے میری پارٹی کے لوگوں سے بھی تین مہینے سے میری ملاقات نہیں کروائی-“
میں یونیورسٹی میں پڑھتا تھا جب ہاسٹل میں ہمارا ایک وزیرستان کا ساتھی پشاور میں ایک بم دھماکے میں اپنی زندگی ہار گیا۔ آنکھوں میں ڈھیروں خواب لیے وہ سی ایس ایس کی تیاری کے لیے مہینوں سے پشاور میں مقیم تھا۔ اپنے وطن جانے کا نا وقت تھا، نہ حالات۔ یہ پہلا موقع تھا جب دہشتگردی کی بھینٹ کوئی ایسا انسان چڑھا تھا جسے میں جانتا تھا، جس کے خوابوں سے میں واقف تھا۔ اس دن کے بعد مجھے گنتی نہیں یاد رہی نا سانسوں کی، نا خوابوں کی۔ رجیم چینج کے بعد پہلے بنی گالہ اور پھر زمان پارک میں کچھ چہکتی آنکھوں سی تعارف ہوا تھا۔ ان کیمپوں میں ایک تو وہ لوگ تھے کہ جن کو اپنے ہاتھوں پروان چڑھایا تھا اور پھر یہ ان کا لگایا ایک پودا تھا، سردی، بارش، دھوپ، عید تہوار۔ ہر وقت موجود۔ اکثر جب راتوں کو مجھے کیمپ میں بیٹھا دیکھتا تو نہایت اپنائیت سے ”مراد بھائی آپ کیوں خوار ہورہے ہیں یہاں، ہم ہیں نہ ہم ڈیوٹی دیں گے۔ آپ آرام کریں“۔ آخری وہ خواب جنہیں میں نے چہکتے سنا تھا، چار دن پہلے کُرم میں ایک انجان گولی کا نشانہ بن کر دفن ہوئے۔ وہ رخمین خان جو امن کے لیے آواز اٹھانے والوں میں پیش پیش تھا اس بدامنی کی بے رحم آگ کی نظر ہوگیا۔
خوابوں کی ایک عجب خصوصیت ہے۔ یہ دفن ہوں تو دگنا ہوکر اگتے ہیں۔ میں نے سمجھائی ہے یہ بات، بہت مرتبہ، بہت سے ایسے لوگوں کو جنہیں اپنی طاقت پر دائمیت اور کاملیت کا گمان ہے، یہ کہ ”خواب مرتے نہیں ہیں“۔ میں نے یہ تب بھی سمجھایا تھا جب وہ میرے سر کی قیمت لگا کر میری زباں بندی کو مسئلے کا حل سمجھ رہے تھے۔ مگر کیا کہیے کہ انسان کی خدائی کے دعوی کی پہلی شرط ہی حقیقت کو جھٹلانا ہے۔ اور جیسے اس کی خدائی کا دعوی محض ایک بیانیہ ہوتا ہے اُس کی سوجھ میں ہر مسئلے کا حل بھی محض بیانیہ ہی ہوتا ہے۔ سڑکوں پر شہر کے شہر امڈ آئیں ہیں۔ کسی کو کسی کی سیاست سے سروکار نہیں۔ شروع فساد کے دنوں میں اپنے لوگوں کو سمجھایا تھا کہ ہماری سیاستیں اور مخالفتیں سب امن کے مرہون ہیں۔ یہ ہوگا تو سب کرلیں گے۔ بھلا ہو میرے لوگوں کا گھٹی سے باندھ لیا ہے۔ اب یک جاں دو قالب ایک ہی پکار، ایک ہی للکار ”امن“
اور یہ ناداں آج بھی یہی سمجھ رہے ہیں کہ جن کی جانب انگلی اٹھائیں گے وہ غدار بھی ٹہریں گے، دہشتگرد بھی اور دہشتگردوں کے سہولتکار بھی۔ بدل چکی ہے یہ قوم۔ گزر چکے وہ دن۔ اب تمہارے دغا کو کوئی دعا نہیں پڑھتا۔ اب مجرم کو مجرم کہتے ہیں، نقطوں سے کنی نہیں کتراتے چاہے تم جتنے بین ڈالو، جھوٹی قسمیں کھالو، تاریخ مسخ کرلو سب جانتے ہیں ان کا محرمِ حال وہ ہی شخص تھا کہ جس کے ہوتے مجال نہ تھی کسی دنیاوی طاقت کی کہ ان کے سروں پر موت کی طرح منڈلاتا۔ وہ نہیں جانتے کہ جب تم ایک ملیشا کے آگے ہتھیار ڈالنے کو تیار تھے تو اُس نے تم سے اپنی قوم کی حمیت کا سوال کیا تھا، ان کے خون کا جواب مانگا تھا۔ (میں جانتا ہوں، میں شاہد ہوں اور تم بھی جانتے ہو کہ تمہارے دعوی معبودیت کیطرح تمہارا بیانیہ بھی جھوٹ ہے) مگر انہیں یقین ہے کہ اُن کے خون کا سودا کرنے والوں میں اُس کا نام کبھی نہیں ہوگا۔ وہ نہیں جانتے کہ تم کیسے بھڑکے تھے، کتنا تلملائے تھے کیسے ہتھیلیاں رگڑتے لوٹے تھے مگر آخری دن تک تمہارے پاس نہ اُس کے سوالوں کا کوئی جواب تھا اور نہ ایسا کوئی ہتھیار کہ جس سے تم اُسے اپنی قوم سے دغا پر قائل کرسکتے۔ مگر کچھ نہ جانتے ہوئے بھی اس کی قوم اس بات پر قسم کھاسکتی ہے۔ وہ اپنے مجرم اور محسن دونوں کو جانتی ہے۔ وہ اپنا امن اور اپنی آزادی دونوں چاہتی ہے۔ اب تم بیانیے بناؤ یا مقتل گاہیں سجاؤ، یہ خواب مرنے نہیں ہیں۔
Former Prime Minister Imran Khan’s Conversation with Lawyers and Journalists in Adiala Jail – January 16th, 2025
"By convicting me in the baseless Al-Qadir (University) Trust case they [installed regime] will make a mockery of themselves all over the world and cause themselves deep embarrassment. My sentencing is being sought in a case where neither have I derived a single penny of personal gain, nor the government has suffered a single penny of financial loss.
If anyone should be punished in this case, it is Nawaz Sharif, who received nine billion rupees in bribes. There are countless (corruption) cases, like the Mayfair Apartments case, against Nawaz Sharif and Zardari. They are the ones who illegally acquired expensive luxury vehicles from the Tosha Khana (state gift repository). All the charges against them are open-and-shut cases, but they were pardoned, and all cases closed only because they accepted a deal. Nawaz Sharif should be held accountable for nine billion rupees in this case, too.
Bushra Bibi is entirely innocent in the Al-Qadir Trust case. The only purpose for including her in the case was to increase pressure on me. Even before this, Bushra Bibi was unjustly jailed for nine months.
Anyone anywhere in the world who is being dishonest would not want neutral umpires to be appointed. I introduced the concept of neutral umpires in cricket, and even today, I still demand that a judicial commission be formed to investigate the incidents of May 9th (2023) and November 26th (2024) that should be completely neutral and transparent in its decision-making. The (illegitimate) government is trying to avoid this because they are dishonest.
We will be writing a letter to Justice Aminuddin Khan [the head of the Supreme Court’s Constitutional Bench] to hear our petition about human rights violations. Our innocent people were subjected to brutal mental and physical torture while in military custody. Hearings on our petitions must be made a top priority. As we are not getting justice from any court in Pakistan, we have completed preparations for sending letters to international human rights organizations and to the United Nations in this regard. Qazi Faez Isa and Aamir Farooq have consistently acted as the establishment's opening batsmen, and the newly formed constitutional bench is merely an extension of this.
There is no pardon for human rights violations anywhere in the world. General Pinochet, a powerful general in the West, was severely punished for his involvement in human rights violations and torture. Our political workers were abducted and tortured, and whoever agreed to forsake Tehreek-e-Insaf (PTI) was acquitted of all charges related to the events of May 9th.
On February 8th (2024), the rights of Pakistanis were shamelessly stolen and they [installed regime] made themselves a laughingstock all over the world. Since that blatant mandate theft, Pakistan has been suffering from instability in every area. On February 8th (2025), the nation will observe a ‘Black Day,’ as the day that democracy and the will of the people were strangled in Pakistan, and an illegitimate government was installed through Form 47 fraud. Since then, neither political stability nor economic stability could be achieved in the country.
Our negotiations are not for personal gain but for the broader national interest. Resolving political crises is essential to addressing Pakistan's political and economic challenges, tackling terrorism, and finding solutions to other serious national issues."
Jews arriving in Palestine from Europe as refugees in 1947.
Shortly after getting off the boat, they began killing and robbing the homes of the Palestinians who welcomed them with open arms.
Now they believe they are indigenous to the land.
بادشاہ ننگا ہے اور اب سب کو نظر آرہا ہے-
رجیم چینج آپریشن کےسازشی ایسے باز نہیں آئیں گے-
اب وقت آگیا ہے اس ننگے بادشاہ کو عوام اس کے گھر سے نکالے-
شاہ پرست اور ننگے بادشاہ کے سازشی حواریوں کے لئے عوامی طبل جنگ کا وقت ہوا چاہتا ہے-پاکستانی قوم زندہ باد۔پاکستان پائندہ باد 🇵🇰🌹
اڈیالہ جیل میں سابق وزیراعظم عمران خان کی وکلاء اور صحافیوں سے گفتگو:
“القادر ٹرسٹ کے بھونڈے کیس میں میرے خلاف فیصلہ دے کر پوری دنیا میں اپنا مذاق بنوائیں گے اور اپنا منہ مزید کالا کریں گے۔ مجھے ایک ایسے مقدمے میں سزا دینے جا رہے ہیں جس سے مجھے ایک ٹکے کا فائدہ نہیں ہوا نہ ہی حکومت کو ایک ٹکے کا کوئی نقصان ہوا۔
اس مقدمے میں اصل سزا تو نواز شریف کی بنتی ہے جس نے 9 ارب روپے رشوت کی مد میں حاصل کیے۔ نواز شریف اور زرادری پر مے فئیر اپارٹمنٹس کی طرز کے بے شمار مقدمات ہیں، یہ وہ افراد ہیں جنہوں نے توشہ خانے سے مہنگی ترین گاڑیاں خلاف قانون حاصل کیں ، ان پر موجود تمام مقدمات open and shut ہیں لیکن ان کو معاف کر کے مقدمات کو صرف اس لیے ختم کر دیا گیا کیونکہ انہوں نے ڈیل قبول کر لی۔ اس کیس میں بھی نواز شریف سے 9 ارب روپے کا حساب مانگنا بنتا ہے ۔
بشریٰ بی بی القادر ٹرسٹ کیس میں بالکل بے قصور ہیں اُن کو کیس میں شامل کرنے کا واحد مقصد مجھ پر دباؤ بڑھانا تھا۔ اِس سے پہلے بھی بشریٰ بی بی کو 9 مہینے بے گناہ جیل میں رکھا گیا ہے۔
دنیا میں کبھی کوئی شخص جسے معلوم ہو کہ وہ بد دیانتی کر رہا ہے نیوٹرل امپائر نہیں لگاتا ۔ میں نے کرکٹ میں نیوٹرل امپائر کا رواج قائم کیا تھا اور اب بھی کہتا ہوں کہ نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر ایک جوڈیشل کمیشن کا قیام کیا جائے جو بالکل نیوٹرل ہو اور شفافیت پر مبنی فیصلہ دے۔ حکومت اس مطالبے سے اسی لیے راہ فرار اختیار کر رہی ہے کیونکہ وہ بد دیانت ہے۔
ہم جسٹس امین الدین ( آئینی بینچ کے سربراہ) کو بھی خط تحریر کریں گے کہ ہمارے خلاف ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی پیٹیشن سنیں۔ ہمارے جو بے قصور لوگ ملٹری تحویل میں ہیں ان کو بدترین ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ہمارے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر سنا جائے ۔ ہم نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور اقوم متحدہ کو بھی اس سلسلے میں خط لکھنے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ کیونکہ پاکستان کی کسی بھی عدالت سے ہمیں انصاف نہیں مل رہا۔ قاضی فائز عیسی اور عامر فاروق تو اسٹیبلشمنٹ کے ہی opening batsman کا کردار ادا کرتے آئے ہیں۔ اب جو آئینی بینچ بنا ہے وہ بھی ان کی ہی extension ہے۔
پوری دنیا میں انسانی حقوق کی پامالی کی کوئی معافی نہیں ملتی۔ جنرل پنوشے مغرب کا طاقتور جنرل تھا لیکن انسانی حقوق کی پامالی اور تشدد کرنے پہ اسکو کڑی سزا دی گئی۔ ہمارے سیاسی ورکروں کو اغوا کر کے تشدد کیا گیا۔ نو مئی میں جس نے تحریکِ انصاف کو خیر آباد کہا اسکو تمام الزامات سے بری الزمہ کر دیا گیا۔
آٹھ فروری کو پاکستانیوں کے حق پر بے شرمی سے ڈاکہ مار کر انتخابات کو چوری کیا گیا اور پوری دنیا میں اپنا مذاق بنوایا گیا۔ کھلی مینڈیٹ چوری کے بعد پاکستان میں ہر جانب عدم استحکام کے سائے ہیں۔ آٹھ فروری کو پوری قوم یوم سیاہ منائے گی۔ اس دن فارم 47 کی جعلی حکومت قائم کر کے پاکستان میں جمہوریت اور جمہور کا گلا گھونٹ دیا گیا تھا جسکے بعد ملک میں نہ تو سیاسی استحکام آ سکا ہے نہ ہی معاشی استحکام-
ہم نے مذاکرات ذاتی مفاد کے لئے نہیں بلکہ ملک کے وسیع تر مفاد میں کرنے ہیں- پاکستان کو درپیش سیاسی و معاشی بحرانوں کے خاتمے، دہشت گردی کے مسئلے پہ قابو پانے اور ملک کو درپیش دوسرے سنجیدہ مسائل کے حل کے لئے سیاسی بحران کا خاتمہ ضروری ہے-“
“سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلا اور میڈیا سے گفتگو:
“مذاکرات کے حوالے سے غیرسنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مذاکراتی کمیٹی سے میری میٹنگ تک نہیں کروائی گئی- ایسا لگتا ہے جیسے مذاکرات کا مقصد صرف اور صرف وقت کا ضیاع ہے تاکہ 26 نومبر کے اسلام آباد قتل عام پر عوامی ری ایکشن کو کم کیا جا سکے -
26 نومبر کو پرامن شہریوں کا قتل عام کیا گیا ، انکو سیدھی گولیاں مار کر ڈی چوک میں خون سے نہلایا گیا، ہمارے کئی افراد اب تک لاپتہ ہیں ۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں ایسا واقعہ ہونے کے بعد گولیاں چلانے والے اپنے انجام کو پہنچ چکے ہوتے لیکن یہ حکومت ابھی تک ایک جوڈیشل کمیشن کی تشکیل نہیں کر پائی- جوڈیشل کمیشن کی حیثیت تھرڈ امپائر کی ہوتی ہے اور صرف ایک غیرجانبدار کمیشن ہی 26 نومبر اور 9 مئی کے شہدا کو انصاف دلوا سکتا ہے اگر اس قتل عام کو دبا دیا گیا تو پاکستان میں کسی کا جان و مال محفوظ نہیں ہو گا-
میرا واضح پیغام ہے کہ اگر مذاکراتی عمل کو لے کر حکومت یونہی غیر سنجیدہ رہی اور جوڈیشل کمیشن نہ بنایا تو مذاکرات کو اگلی میٹنگ کے بعد روک دیا جائے۔
نو مئی کا فالس فلیگ آپریشن بھی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ہی کیا گیا تھا۔ اس روز چوکیوں سے فوج اور پولیس ہٹا کر خود ہی آگ لگائی گئی اور سی سی ٹی وی فوٹیج بھی چرا لی گئی ۔ ہم ان دونوں واقعات کی شفاف تحقیقات چاہتے ہیں ۔ ہم نے اس سلسلے میں بارہا سپریم کورٹ سے بھی مطالبہ کیا ہے۔
تین سال سے اس ملک میں آئین و قانون اور انسانی حقوق کی پامالی جاری ہے ۔ لوگوں کے گھروں کا تقدس پامال کر کہ ان کو اغوا کیا جا رہا ہے ، تشدد اور جبر کیا جا رہا ،انکے گھر اور کاروبار تباہ کیے گئے، ہمارے ہر ٹکٹ ہولڈر کے لیے انکے حلقوں میں زندگی تنگ کر دی گئی ۔ میرا اپنا گھر دو مرتبہ توڑا گیا ۔ ہم نے اس سلسلے میں لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا ۔ یہ کیس جسٹس باقر نجفی کی سربراہی میں پانچ ججز نے سنا مگر ڈیڑھ سال سے اسکا فیصلہ محفوظ ہے اور سنایا نہیں گیا ۔ پھر ہم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس عامر فاروق اور سپریم کورٹ میں قاضی سے بھی رجوع کیا لیکن ان دونوں نے ہی اسٹیبلشمنٹ کے opening batsman کا کردار ادا کیا ۔
ہمارے جو بے قصور لوگ ملٹری تحویل میں رہے ان پر شدید ترین ذہنی اور جسمانی تشدد کیا گیا۔ میری اطلاع کے مطابق 3 لڑکوں نے دوران حراست خود کشی کی کوشش کی ۔ سمیع وزیر کی حالت اس تشدد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اس سے پہلے جو کچھ تحریک انصاف کے رہنماؤں شہباز گل ، اعظم سواتی سیمت دیگر کے ساتھ کیا گیا وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، ظلِ شاہ کو بے دردی سے قتل کیا گیا ، انتظار پنجھوتہ سے جانوروں کی طرح سلوک کیا گیا۔ یہ کونسا اصول ہے کہ جو تحریک انصاف چھوڑ دے وہ 9 مئی کے الزام سے بری ہے اور جو نہ چھوڑے اس پر ہر قسم کا تشدد اور دباو جائز ہے؟
ہمیں پاکستانی نظام عدل سے بار بار رجوع کرنے کے باوجود بھی انصاف نہیں مل سکا جسکے بعد ہمارے پاس بین الاقوامی فورمز پر آواز اٹھانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا ۔ پاکستان کی حکومت انسانی حقوق کو لے کر بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی پابند ہے میں نے وکلا کو ہدایت کی ہے ان معاملات کو عالمی فورمز پر اٹھایا جائے اور پاکستان میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اپنی آواز دنیا تک پہنچائی جائے ۔
میرا اوور سیز پاکستانیوں کو بھی یہی پیغام ہے کہ پاکستان میں جمہوریت اور انسانی حقوق کا خاتمہ کر کہ جنگل کا قانون نافذ کر دیا گیا ہے اسلیے آپ کی جانب سے ترسیلات زر کا بائیکاٹ بہت اہم ہے ۔ پاکستان میں مقیم آپ کے پیاروں کو بھی وہی حقوق حاصل ہونے چاہئیں جو آپ کو بیرون ممالک میں حاصل ہیں-
جب تمام ایجنسیوں کو ایک سیاسی جماعت کو کچلنے پر لگا دیا جائے گا پھر دہشتگردوں سے کون لڑے گا ؟ یہی ریمارکس سپریم کورٹ کے ججز جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس مندوخیل نے بھی دیے کہ خفیہ اداروں کو سیاسی انجینئرنگ پر لگا دیا گیا ہے ۔ جھوٹ بول کر ہماری حکومت پر طالبان کی آبادکاری کا الزام لگایا گیا ۔ ہماری حکومت کے دوران بلکہ حکومت خاتمے کے ایک سال بعد تک بھی دہشتگردی نے سر نہیں اٹھایا تھا یہ سب کچھ انھی کا قصور ہے جو بلوچستان کے حالات کے ذمہ دار ہیں ۔
ان سب تجربات کی بدولت پاکستان میں معیشت کا حال بدترین ہے۔ ورلڈ بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق مزید 1 کروڑ 30 لاکھ افراد غربت کی لکیر سے نیچے جا چکے ہیں ۔ عدلیہ ، نیب ، ایف آئی اے ، پولیس سمیت ہر ادارہ تحریک انصاف کے پیچھے لگا دیا گیا ہے جسکی وجہ سے ملک کا سیاسی اور معاشی نظام درہم برہم ہے اور عدم استحکام عروج پر ہے۔جب تک سیاسی عدم استحکام رہے گا گروتھ ریٹ صفر ہو گا 1/2
اپنی تقرری کے لئے آشیرباد لینے کا سلسلہ شروع ہو گیا-
ایک صاحب کی پچھلے ہفتے لندن میں نواز شریف سے خفیہ مالاقات کی اطلاعات ہیں- دوسرا یہاں چھوٹےکے بیٹے سے جون کے پیلے ہفتے میں ملا -تقرری کے لئے آشیرباد کے عوض باپ بیٹے کی حکومت قائم رکھنے کے لئے مکمل حمایت کا وعدہ-شریف ڈاکٹرائن