لگتا ہے پاکستان کی ہر حکومت، ہر اسٹیبلشمنٹ۔۔۔ شوگر مافیا کی یا تو غلام ہے یا ساتھی ہے۔ جتنی بے شرمی سے شوگر مافیا اور آئی پی پیز پاکستانی غریب عوام کے ٹیکس سے حرام کے اربوں ڈالرز بناتے ہیں، ایسٹ انڈیا کمپنی کے لواحقین کو پتا چلے وہ بھی شرما جائیں۔ اُنھیں تو جہازوں پر کم از کم ہزاروں کلومیٹر کا مشکل سمندری سفر کر کے آنا پڑتا تھا اور بدلے میں کچھ نہ کچھ ادا بھی کرنا پڑتا تھا۔ لیکن یہاں حال یہ ہے کہ "آئی پی پیز" بجلی پیدا کیے بغیر باقاعدگی سے ملینز آف ڈالرز لینے کے "پابند" ہیں۔ شوگر مافیہ اتنا لاڈلا ہے کہ پہلے انھیں گنا خریدنے سے چینی بنانے تک حکومت سے امداد ملتی ہے، پھر ایکسپورٹ کرنے کی "سہولت" ملتی ہے کہ بیچاروں سے زیادہ چینی بن گئی ہے۔ پھر چینی کی قلت پیدا کرنے کی اجازت ملتی ہے۔ پھر مہنگی کر کے بیچنے کی سہولت دی جاتی ہے۔ پھر ایکسپورٹ کی ہوئی چینی امپورٹ کرنے میں مدد ملتی ہے اور ۔۔۔۔ یہ وہ شوگر ملز ہیں جنھیں لگانے کے لیے بھی حکومتی قرضے اور "امداد" ملی تھی، اُس ملک کی حکومت سے امداد جو خود آئی ایم ایف سے امداد لے رہی ہے۔ آئی ایم ایف تو قرضہ معاف نہیں کرتا البتہ مافیا کے قرضے معاف ہو جاتے ہیں۔ پنجاب اور سندھ کی شوگر ملز اور کے پی کے تمباکو مافیا کو کوئی ہے پوچھنے والا؟
Two of the measures mutually agreed upon between the parties have yet to be implemented: a ceasefire in Lebanon and the release of Iran’s blocked assets prior to the commencement of negotiations.
These two matters must be fulfilled before negotiations begin.
Iran's position is being misrepresented by U.S. media.
We are deeply grateful to Pakistan for its efforts and have never refused to go to Islamabad. What we care about are the terms of a conclusive and lasting END to the illegal war that is imposed on us.
پاکستان زنده باد