کیا ہمارے علماء گولیوں کا نشانہ نہیں بنے ؟ کتنے علماء شہید ہوئے ؟ ابھی بھی نشانہ بن رہے ہیں۔ صرف باجوڑ میں چھ مہینے، ایک سال میں ایک درجن کے قریب صرف اور صرف جمعیت علمائے اسلام کے کارکن شہید کیے گئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ قاتل کون ہے؟ کون ہے قاتل میرے کارکنوں کا ؟
اس کا جواب دینا ہوگا۔ میں پرامن سیاست کر رہا ہوں، زندہ باد اور مردہ باد کی سیاست کر رہا ہوں۔ تم مجھے سیاست کرنے نہیں دیتے، مجھے گولیوں کا نشانہ بنا دیتے ہو، مجھے دہشتگرد ڈکلیئر کر کے مجھے دشمن کے حوالے کرتے ہو۔
#سالار_امن_مولانا #شہدائےجمعیت_باجوڑ
#پیغام_امن_جمعیت #عوام_کو_جینے_دو
#ابابیلوں_کا_شکریہ
جمعیت علماء اسلام اور قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن صاحب نے اول دن سے ھی ھائبرڈ نظام، ملکی امن وامان اور معیشت کی زبوں حالی پرجو تحریک شروع کی تھی اور جو قصور میں اپنے معراج پر پہنچی اس مین اصلی اور نقلی #نا_اہل_حکمران کو کھل کر للکارا گیا اور ان سے مطالبہ کیا گیا کہ #مہنگائی_کا_حساب_دو ۔ ان سے کھل کر کہا گیا کہ آپ نے ھمیں امن اور تحفظ دینا تھا اور آپ اس کے آئینی و قانونی زمہ دار ھیں آپ کیسے ھم سے لشکر بنا کے لڑنے کا کہہ سکتے ھیں یہ آئینی اور قانونی بات ان کو بہت ناگوار گزری انہوں نے باقاعدہ منظم منصوبے کے تحت پاکستان کے قومی خزانے اور عوام کے ٹیلس کے پیسے سے تنخواہ دار اور غلام سیاستدانوں، صحافیوں درباری صاحبان جبہ ودستاراور اور پیڈ چینلز کو مولانا صاحب کے خلاف میدان میں اتارا، کردار کشی کی گئی گالیاں دی گئیں دشنام طرازی کی گئی لیکن جمعیت علماء اسلام کے کارکنوں بالخصؤص ڈیجیٹل میڈیا کے ابابیل میدان میں آئے #لبیک_مولانا کا نعرہ لگایا میدان میں ڈٹ گئے اور دنیا کو بتادیا کہ ھم #مولانا_کے_سنگ کھڑے ھیں اور کھڑے رہیں ��ے انشاءاللہ، اور اپنے جذبہ ایمانی جرات اور ھمت سے ان تنخواہ داروں کو سر کے بل کھڑا کردیا۔
آپ کی اس ھمت جرات شجاعت کو دونوں ھاتھوں سے سلیوٹ اور خراج تحسین۔ ❤️♥️👏🫡🫡
#ابابیلوں_کا_شکریہ